কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৮৯৬২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٤٩۔۔۔ قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا، حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مرد عورتیں ایک دوسرے کو دیکھتی ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا : عائشۃ ! منظر اس سے، ہیبت ناک ہوگا کہ کوئی کسی کی طرف دیکھے۔ (مسلم، نسائی، ابن ماجہ عن عائشۃ)
38949- "يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا، قالت عائشة: يا رسول الله! الرجال والنساء جميعا ينظر بعضهم إلى بعض؟ قال: يا عائشة! الأمر أشد من أن ينظر بعضهم إلى بعض." م، ن،هـ- عن عائشة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥٠۔۔۔ قیامت کے روز لوگوں کو ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بےختنہ کے جمع کیا جائے گا، ایک عورت کہنے لگی : یا رسول اللہ ! ہم ایک دوسرے کو کیسے دیکھ لیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اس دن نظریں جھکی ہوں گی۔ (طبرانی عن السید الحسن)
38950- "يحشر الناس يوم القيامة حفاة عراة غرلا، قالت امرأة: يا رسول الله! فكيف يرى بعضنا بعضا؟ قال: إن الأبصار يومئذ شاخصة." طب - عن السيد الحسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥١۔ قیامت کے روز لوگوں کو ایسا ہی جمع کیا جائے گا جیسا انھیں ان کی ماؤں نے جنا یعنی ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے، حضرت عائشۃ (رض) نے عرض کیا : لوگ ایک دوسرے کو دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا : اس دن لوگ دیکھنے سے غافل ہوں گے، نظریں اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھیں گے بغیر کھائے پیئے چالیس سال گزاردیں گے (ابن مردویہ عن ابن عمر)
38951- "يحشر الناس يوم القيامة كما ولدتهم أمهاتهم حفاة عراة غرلا، قالت عائشة: ينظر بعضهم إلى بعض؟ قال: شغل الناس يومئذ عن النظر وسموا بأبصارهم إلى السماء موقوفون أربعين سنة لا يأكلون ولا يشربون." ابن مردويه - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥٢۔۔۔ ان میں سے ہر ایک کی اس دن ایک کیفیت ہوگی جو اسے لاپرواہ کردے گی، مردعورتوں کو اور نہ عورتیں مردوں کو دیکھیں گی وہ ایک دوسرے غافل ہوں گے۔ (حاکم عن عائشۃ)
38952- {لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ} لا ينظر الرجال إلى النساء والنساء إلى الرجال، أشغل بعضهم عن بعض."ك - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز (لوگوں کو) ننگے بدن، بےختنہ وبے عیب اٹھائے گا، لوگوں نے عرض کیا : بےعیب کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : یعنی ان کے ساتھ کوئی عیب نہیں ہوگا۔ پھر انھیں آواز دے گا تو دور والے ایسے سنیں گے جیسے قریب والے سنیں گے، میں بادشاہ ہوں، میں بدلہ دینے والا ہوں، کوئی جہنمی اس وقت تک جہنم میں نہیں جاسکتا یہاں تک کہ میں اسے جنتی سے اس کا حق نہ دلوادوں، اور نہ کوئی جنتی جنت میں جاسکتا ہے یہاں تک کہ اس سے کسی جہنمی کا حق نہ دلوادوں اگر وہ ایک طمانچہ ہی کیوں نہ ہو، لوگوں نے عرض کیا : کیا ہم اللہ کے حضور ہوں گے بدن، بےختنہ اور بےعیب حاضر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : نیکوں اور گناہوں کے اعتبار سے (مسند احمد، ابویعلی والخرائطی فی مساوی الاخلاق، طبرانی، ضیاء عن عبداللہ بن انیس انصاری
38953- "يحشر الله عز وجل الناس يوم القيامة عراة غرلا بهما2 قالوا: وما بهما؟ قال: ليس معهم شيء. ثم يناديهم بصوت يسمعه من بعد كما يسمعه من قرب: أنا الملك، أنا الديان، لا ينبغي لأحد من أهل النار أن يدخل النار وله عند أحد من أهل الجنة حق حتى أقصه منه، ولا ينبغي لأحد من أهل الجنة أن يدخل الجنة ولأحد من أهل النار عنده حق حتى أقصه منه حتى اللطمة، قالوا: كيف وإنما نأتي الله عز وجل عراة غرلا بهما؟ قال: بالحسنات والسيئات." حم، ع والخرائطي في مساوي الأخلاق، طب ك، ض - عن عبد الله بن أنيس الأنصاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥٤۔۔۔ ہر بندہ کو اسی کیفیت پر اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت ہوئی، ایمان والے کو ایمان پر اور منافق کو اپنے نفاق کی حالت میں اٹھایا جائے گا۔ (ابن حبان عن جابر)
38954- "يبعث كل عبد على ما مات عليه، المؤمن على إيمانه والمنافق على نفاقه." حب - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥٥۔۔۔ سب سے آخر میں اس امت کے دو قریشی شخص محشر میں جمع کئے جائیں گے۔ (ابن ابی شیبہ، عن وکیع عن اسماعیل عن قیس، قال : اخرت ان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قال، فذکرہ وعن وکیع عن المسعودی عن سعید بن خالد عن حذیفۃ بون اسید موقوفا والادل صحیح لان قیس بن ابی حازم سمع من العشرۃ والثانی حسن ولہ حکم الرفع)
38955- "آخر من يحشر من هذه الأمة رجلان من قريش." ش - عن وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: أخبرت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال - فذكره، وعن وكيع عن المسعودي عن سعيد بن خالد عن حذيفة بن أسيد موقوفا، والأول صحيح لأن قيس بن أبي حازم سمع من العشرة، والثاني حسن وله حكم الرفع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৬৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٥٦۔۔۔ مزینہ کے دو شخص جمع کئے جائیں گے ان کا حشر سب سے آخر میں ہوگا۔ وہ پہاڑ سے لوگوں کے گھروں کی جانب آئیں گے تو زمین کو وحشی جانور سے پر پائیں گے، پھر مدینہ آئیں گے وہاں پہنچ کر کہیں گے : لوگ کہاں ہیں ؟ انھیں کوئی نظر نہیں آئے گا، ان میں سے ایک اپنے ساتھ والے سے کہے گا : لوگ گھروں میں ہوں گے گھروں میں داخل ہوں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا اور بچھونوں بستروں پر لومڑیاں اور بلیاں ہوں گی، کہیں گے : لوگ کہاں گئے ؟ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہے گا : لوگ مسجد میں ہوں گے ؟ مسجد میں آئیں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ملے گا، ان میں سے ایک کہے گا : مجھے لگتا ہے لوگ بازاروں میں ہیں بازاروں کی مشغولی نے انھیں روک رکھا ہوگا، وہاں سے نکل کر بازار آئیں گے تو وہاں بھی کوئی نہیں ہوگا، پھر وہ چلتے چلتے مدینہ آئیں گے تو وہاں دو فرشتے ہوں گے جو انھیں ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے محشر کی زمین پر لے جائیں گے تو یہ سب سے آخر میں جمع ہوں گے۔ (حاکم وابن مردویہ وابن عساکر عن ابی سریحۃ الغفاری)
38956- "يحشر رجلان من مزينة، هما آخر من يحشر، يقبلان من جبل حتى يأتيا معالم الناس فيجدان الأرض وحوشا حتى يأتيا المدينة فإذا جاءا قالا: أين الناس؟ فلا يريان أحدا فيقول أحدهما لصاحبه: الناس في دورهم! فيدخلان الدور فإذا ليس فيها أحد وإذا على الفراش الثعالب والسنانير فيقولون: أين الناس؟ فيقول أحدهما لصاحبه: الناس في المسجد! فيأتيا المسجد فلا يجدان فيه أحدا فيقولان: أين الناس؟ فيقول أحدهما لصاحبه: أراهم في السوق شغلتهم الأسواق! فيخرجان حتى يأتيا السوق فلا يجدان فيها أحدا فينطلقان حتى يأتيا المدينة فإذا عليها ملكان فيأخذان بأرجلهما فيسحبانهما إلى أرض المحشر، فهما آخر الناس حشرا." ك وابن مردويه وابن عساكر عن أبي سريحة الغفاري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٠۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ تمام امتوں کو جمع کرے گا، اور اپنی شان کے مطابق عرش سے کرسی پر نزول فرمائے گا، ” اس کی کرسی کی وسعت آسمانوں و زمین سے زیادہ ہے۔ “ (طبرانی عن ابن مسعود)
38960- "إن الله عز وجل يجمع الأمم يوم القيامة ثم ينزل من عرشه إلى كرسيه "وسع كرسيه السماوات والأرض". "طب - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦١۔۔۔ تمہیں بیت المقدس کی طرف جمع کیا جائے گا، پھر قیامت کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ (طبرانی فی الکبیر عن سمرۃ)
38961- "إنكم تحشرون إلى بيت المقدس ثم تجمعون إلى يوم القيامة." طب عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٢۔۔ قیامت کی تاریکی میں قیامت کے دن لوگوں کا مختصر سلام، ” لاالٰہ الا اللہ “ ہوگا (الخطیب فی المتفق والمفترق عن ابی عمرو
38962- "شعار الناس يوم القيامة في ظلمة يوم القيامة: لا إله إلا الله." الخطيب في المتفق والمفترق - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٣۔۔۔ مومن جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل اچھی صورت میں سامنے آئے گا، مومن اس سے کہے گا، تو کون ہے ؟ اللہ کی قسم تو مجھے تو نیک شخص لگتا ہے وہ کہے گا : میں تیرا عمل ہوں، تو وہ اس کے لیے جنت تک جانے کے واسطے نور اور راہنما ہوگا۔ اور کافر جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اس کا عمل بری صورت اور بری نوید میں ظاہر ہوگا وہ کہے گا : اے تو کون ہے ؟ اللہ کی قسم ! تو مجھے برا آدمی معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہے گا : میں تیرا عمل ہوں، پھر اسے لے چلے گا یہاں تک کہ جہنم میں داخل کرکے چھوڑدے گا۔ ابن جریر عن قتادہ مرسلاً )
38963- "إن المؤمن إذا خرج من قبره صور له عمله في صورة حسنة فيقول له: ما أنت؟ فوالله! إني لأراك امرأ الصدق فيقول له: أنا عملك، فيكون له نور أو قائد إلى الجنة، وإن الكافر إذا خرج من قبره صور له عمله في صورة سيئة وبشارة سيئة فيقول: من أنت؟ فوالله! إني لأراك امرأ السوء، فيقول: أنا عملك، فينطلق به حتى يدخل النار." ابن جرير - عن قتادة مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٤۔۔۔ مٹی انسان (کے جسم) کی ہر چیز کھاجائے گی صرف اس کی دمچی کی ہڈی جو رائی کے دانہ کی طرح ہے اسے نہیں کھائے گی اسی سے تم اگائے (زندہ کئے) جاؤگے۔ (مسند احمد، ابویعلی ابن حبان، حاکم، سعید بن منصور عن ابی سعید)
38964- "يأكل التراب كل شيء من الإنسان إلا عجب ذنبه مثل حبة خردل، منه تنبتون." حم، ع، حب، ك، ص - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٥۔۔۔ قیامت کے روز سورج ایک میل کے فاصلہ پر ہوگا، اور اس کی حرارت و گرمی میں اتنی اتنی زیادتی کردی جائے گی، جس سے کھوپڑیاں ایسے کھولیں گی جیسے چولہے پر ہنڈیاں جوش مارتی ہیں، انھیں ان کے گناہوں کی مقدار سے پہچانا جائے گا، بعض کا پسینہ ٹخنوں تک ہوگا، بعض کا پنڈلیوں تک بعض کا کمر تک اور بعض کو پسینہ کا نقاب بنا ہوگا۔ (مسند احمد، طبرانی عن ابی امامۃ
38965- "تدنو الشمس يوم القيامة على قدر ميل ويزاد في حرها كذا وكذا، يغلي منه الهوام كما تغلي القدور على الأثافي يعرفون منها على قدر خطاياهم، منهم من يبلغ إلى كعبيه، ومنهم من يبلغ إلى ساقيه، ومنهم من يبلغ إلى وسطه، ومنهم من يلجمه العرق." حم، طب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৭৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٦۔۔۔ قیامت کے روز سورج زمین کے (اتنا) قریب ہوگا کہ لوگ پسینے سے شرابور ہوں گے، بعض کا پسینہ ٹخنوں تک، بعض کا آدھی پنڈلی تک، بعض کا گھٹنوں تک، بعض کا کمر تک، بعض کا کوکھ تک بعض کا کندھوں تک، بعض کا حلق تک، بعض کو گویا پسینے کی لگام پڑی ہوگی اور بعض پسینے میں غرق ہوں گے۔ (مسند احمد، طبرانی، حاکم عن عقبۃ بن عامر)
38966- "تدنو الشمس من الأرض يوم القيامة فيعرق الناس، فمن الناس من يبلغ عرقه كعبيه، ومنهم من يبلغ إلى نصف الساق ومنهم من يبلغ إلى ركبتيه، ومنهم من يبلغ العجز، ومنهم من يبلغ الخاصرة، ومنهم من يبلغ منكبيه، ومنهم من يبلغ حلقه، ومنهم من يلجمه، ومنهم من يغمره." حم، طب، ك - عن عقبة بن عامر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৮০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٧۔۔۔ لوگوں کو کانوں کی لوتک پسینے کی لگام پڑی ہوگی۔ (حاکم عن ابن عمر)
38967- "يلجم الناس العرق إلى شحمة أذنيه." ك - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৮১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٨۔۔۔ قیامت کے روز سورج لوگوں کے اتنا قریب ہوگا یہاں تک دومیل کے فاصلے پر ہوگا اس کی حرارت میں اضافہ کردیا جائے گا، پھر انھیں گرمائے گا، تو لوگ اپنے اعمال کے لحاظ سے پسینے میں ڈوبے ہوں گے، کسی کا پسینہ ٹخنوں تک، کسی کا گھٹنوں تک، کسی کا کمر تک اور کسی کو پسینے کی لگام پڑی ہوگی۔ (طبرانی فی الکبیر عن مقدام بن معدی کرب)
38968- "تدنو الشمس من الناس يوم القيامة حتى تكون! من الناس على قدر ميلين ويزاد في حرها فتصهرهم فيكونون في العرق بقدر أعمالهم، فمنهم من يأخذه العرق إلى كعبيه، ومنهم من يأخذه إلى ركبتيه ومنهم يأخذه إلى حقويه، ومنهم من يلجمه إلجاما." طب عن مقدام بن معدي كرب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৮২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٦٩۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : لوگو ! کیا تم اپنے اس رب سے راضی نہیں جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہیں صورتیں بخشیں تمہیں رزق دیا، کہ ہر انسان کو اس کے حوالے کردیا جائے جس کی وہ دنیا میں عبادت (تعظیم پکارنذرو نیازدیا) کرتا تھا اور جس سے محبت کرتا تھا ؟ کیا یہ تمہارے رب کی طرف سے انصاف نہیں ؟ لوگ کہیں گے : کیوں نہیں ! پھر تم میں سے ہر انسان (اپنے معبود کے پیچھے) چل پڑے گا۔
38969- "يجمع الله الناس يوم القيامة فينادي مناد: يا أيها الناس! ألم ترضوا بربكم الذي خلقكم وصوركم ورزقكم أن يولى كل إنسان ما كان يعبد في الدنيا ويتولى؟ أليس ذلك عدلا من ربكم؟ قالوا: بلى، فينطلق كل إنسان منكم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৮৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٨٩٧٠۔۔۔ لوگوں کو جمع کیا جائے گا، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : کیا یہ میری طرف سے انصاف نہیں کہ میں ہر قوم کو اس کے حوالے کردوں جس کی وہ عبادت کیا کرتی تھی ! پھر ان کے معبود ان کے سامنے بلند کئے جائیں گے تو وہ ان کے پیچھے چل پڑیں گے اور اس امت کے سوا کوئی نہیں بچے گا، ان سے کہا جائے گا : تمہارا الٰہ و معبود کوئی نہیں ؟ یہ کہیں گے ہمارا (اللہ کے سوا) کوئی معبود نہیں جس کی ہم عبادت کرتے ہوں، پھر اللہ تعالیٰ ان کے سامنے تجلی کا ظہور فرمائے گا (طبرانی عن ابی موسیٰ
38970- "يحشر الناس فينادي مناد: أليس عدلا مني أن أولي كل قوم ما كانوا يعبدون! ثم ترفع لهم آلهتهم فيتبعونها حتى لا يبقى أحد غير هذه الأمة فيقال لهم: ما لكم؟ قالوا: ما نرى إلهنا الذي كنا نعبد، فيتجلى لهم تبارك وتعالى." طب - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৮৯৮৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حساب
٣٨٩٧١۔۔۔ قیامت کے روز مومن کے اعمال نامے کا عنوان (ٹائٹل ) ہوگا، لوگوں کی طرف سے اس کی اچھی تعریف۔

(فردوس عن ابوہریرہ )

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٨٢٢۔
38971- "عنوان كتاب المؤمن يوم القيامة حسن ثناء الناس عليه." فر - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক: