কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৯০৪৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پل صراط
٣٩٠٣٣۔۔۔ قیامت کے روز، قیامت کی تاریکی میں ایمان والوں کا شعار ” لاالٰہ الا انت “ ہوگا۔ (الشیرازی عن ابن عمرو)
39033- "شعار المؤمنين يوم القيامة في ظلم القيامة: لا إله إلا أنت." الشيرازي - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৪৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پل صراط
٣٩٠٣٤۔۔۔ صراط جہنم کے درمیان پر پھسلن کی جگہ ہے انبیاء اس پر پکار رہے ہوں گے : اے رب سلامتی دے، سلامتی دے، لوگ اس پر بجلی، آنکھ کی جھپک، عمدہ گھوڑوں سواریوں کی طرح اور پیدل گزرتے ہوں گے، کوئی سلامتی سے پار ہوگا کوئی خراش کھا کر لڑکھڑائے گا اور کوئی اس میں گرجائے گا جہنم کے ساتھ دروازے ہیں ہر دروازے کی آگ کی کئی قسمیں ہیں۔ الرامھر فری فیالا مثال عن ابوہریرہ )
39034- "إن الصراط بين أظهر جهنم دحض مزلة والأنبياء عليه يقولون: رب سلم سلم! والناس عليه كالبرق وكطرفة العين وكأجاود الخيل والركاب وشدا على الأقدام، فناج مسلم ومخدوش مرسل ومطروح فيها، ولها سبعة أبواب لكل باب منهم جزء مقسوم." الرامهرمزي في الأمثال - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৪৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٣٥۔۔۔ جہنم کے پل کے سامنے ایک پھسلن ولغزش کا راستہ ہے اور ہم وہاں سے گزریں اور ہمارے سامان میں دوسرے پرانے کپڑے ہوں اور ہم نجات پاجائیں یہ اس سے بہتر ہے کہ ہم اس پر آئیں اور پوجھل ہوں۔ (مسند احمد، حاکم عن ابی ذر)

یعنی جیسے ہلکی سوار سبک رفتار اور تیزگام ہوتی ہے ایسے ہی م بھی وہاں سے گزرجائیں یہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ گراں بار اور بوجھل ہوں۔
39035- "إن دون جسر جهنم طريقا ذا دحض ومزلة وإنا أن نأتي عليه وفي أحمالنا أطمار أخرى أن ننجو من أن نأتي عليه ونحن مواقير." حم، ك - عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৪৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٣٦۔۔۔ جہنم پر ایک پل ہے جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز، اس کا بالائی حصہ جنت کی طرف پھسلن والا ہے جس پر دونوں جانب آنگڑے اور آگ کے کانٹے ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے گا جمع کرے اس دن پھسلنے والے مرد اور عورتیں بیشمار ہوں گے اور اس کے دونوں جانب فرشتے کھڑے پکار رہے ہوں گے : اے اللہ سلامت رکھ ! سلامت رکھ ! جو حق (توحید) لایا وہ گزر جائے گا اس دن لوگوں کو ان کے ایمان و اعمال کے بقدر نور دیا جائے گا ان میں سے کوئی تو بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا کوئی ہوا کے جھونکے کی طرح اور کسی کو پاؤں دھرنے کی جگہ نور دیا جائے گا، کوئی گھٹنے ٹیک کر چلے گا، لوگوں نے جو گناہ کئے ہوں گے ان کی وجہ سے آگ انھیں پکڑے گی، وہ لوگوں ک و ان کے گناہوں کے بقدر جسے اللہ چاہے گا جلائے گی یہاں تک کہ وہ نجات پالیں گے، پہلی جماعت سے ستر ہزار بغیر حساب و عذاب کے بچ نکلیں گے ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح ہوں گے اور ان کے قریب والے لوگ ستاروں کی طرح یہاں تک کہ وہ جنت تک اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ذریعہ پہنچ جائیں گے۔ (بیھقی وضعف عن انس)
39036- "إن على جهنم جسرا أدق من الشعر وأحد من السيف، أعلاه نحو الجنة دحض مزلة بجنبيه كلاليب وحسك النار، يحشر الله به من يشاء من عباده، الزالون والزلات يومئذ كثير، والملائكة بجانبيه قيام ينادون: اللهم: سلم سلم، فمن جاء بالحق جاز، ويعطون النور يومئذ على قدر إيمانهم وأعمالهم، فمنهم من يمضي عليه كلمح البرق، ومنهم من يمضي عليه كمر الريح، ومنهم من يعطى نورا إلى موضع قدميه، ومنهم من يحبو حبوا، وتأخذ النار منه بذنوب أصابها وهي تحرق من يشاء الله منهم على قدر ذنوبهم حتى ينجو، وينجو أول زمرة سبعون ألفا لا حساب عليهم ولا عذاب، وكأن وجوههم القمر ليلة البدر، والذين يلونهم كأضواء نجم في السماء حتى يبلغوا إلى الجنة برحمة الله تعالى." هب وضعف - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٣٧۔۔۔ قیامت کے روز لوگوں کو پل صراط پر اٹھایا جائے گا تو اس کے دونوں پہلوؤں سے لوگ ایسے جہنم میں گریں گے جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے جسے چاہے گا نجات دے گا اس کے بعد فرشتوں، انبیاء صدیقین اور شہدا کو سفارش کی اجازت دی جائے گی چنانچہ وہ سفارش کریں گے اور لوگوں کو نکالیں گے اور سفارش کریں اور لوگوں کو نکالیں گے، یہاں تک کہ جہنم میں کوئی ایسا باقی نہیں رہے گا جسکے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو (مسند احمد، طبرانی عن ابی بکرۃ)
39037- "يحمل الناس يوم القيامة على الصراط فتقادع بها جنبتا الصراط تقادع الفراش في النار، ثم ينجي الله برحمته من يشاء ثم يؤذن للملائكة والنبين والصديقين والشهداء أن يشفعوا فيشفعون ويخرجون حتى لا يبقى في النار أحد في قلبه مثقال ذرة من الإيمان." حم طب - عن أبي بكرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٣٨۔۔۔ جبار تعالیٰ متوجہ ہوگا، اور پل پر اپنا پاؤں دوہراکرے گا اور کہے گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ! آج کوئی ظلم مجھ سے تجاوز نہیں کرے گا۔ پھر مخلوق ایک دوسرے سے انصاف لے گی یہاں تک کہ بےسینگ بکری سینگ والی سے اس چوٹ کا بدلہ لے گی جو اس نے ماری ہوگی۔ (طبرانی عن ثوبان وضعف)

کلام :۔۔۔ الضعیفہ ١٤٠١، القدسیۃ الضعیفۃ ٧٩۔
39038- "يقبل الجبار عز وجل فيثني رجله على الجسر ويقول: وعزتي وجلالي لا يتجاوزني اليوم ظلم! فينصف الخلق من بعضهم بعضا حتى أنه ينصف الشاة الجماء من العضباء بنطحة نطحتها." طب عن ثوبان، وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٣٩۔۔۔ لوگ جہنم کے پل سے گزریں گے اور اس پر کانٹے، آنکڑے اور آچکے ہوں گے جو لوگوں کو دائیں بائیں سے اچک لیں گے، اور دونوں طرف فرشتے کہتے ہوں گے اے اللہ ! سلامت رکھ، سلامت رکھ تو کچھ بجلی کی طرح گزرجائیں گے، کچھ ہوا کی طرح، کچھ گھوڑے کی طرح کچھ دوڑ کر، کچھ چل کر، کچھ گھٹنوں کے بل اور کچھ گھسٹ کر گزریں گے۔

رہے وہ جہنمی جو جہنم کے رہنے والے ہیں سو وہ نہ تو مریں گے اور نہ جی سکیں گے اور وہ لوگ جن کی ان کے گناہوں اور خطاؤں کی وجہ سے پکڑ ہوگی تو وہ جلتے جلتے سیاہ کوئلہ ہوجائیں گے، پھر سفارش کی اجازت ہوگی چنانچہ انھیں جمع کرکے نکالا جائے گا اور جنت کی کسی نہر میں پھینکا جائے گا، اور وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے بناؤ کی مٹی پر کوئی بیج اگتا ہے کیا تم نے بڑے سیلاب میں کوڑے میں کسی درخت کو اگتے نہیں دیکھا ؟ سب سے آخر میں ایک شخص کو نکالا جائے گا وہ اس کے کنارے پر ہوگا وہ کہے گا : اے میرے رب ! میرا چہرہ اس سے ہٹا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تیرا وعدہ اور ذمہ ہے اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ مانگ، پل صراط پر تین درخت ہیں، وہ کہے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت تک پہنچادے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں، اور اس کے سائے تلے بسیرا کروں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تیرا وعدہ اور ذمہ ہے اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہ مانگ۔ پھر اسے اس سے اچھے درخت دکھائی دیں گے وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت پر پہنچا دے تاکہ اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے تلے ٹھہروں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تیرا عہد وذمہ ہے مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہ مانگ، پھر اسے دوسرا درخت دکھائی دے گا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت تک پہنچادے اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے تلے ٹھہروں، پھر اسے لوگوں کی بھیڑ نظر آئے گی ان کی گفتگو سنے گا تو کہے گا : اے میرے رب ! مجھے جنت میں داخل کردے تو اسے جنت میں داخل کردیا جائے گا اور دنیا اور اس جیسی جنت عطا کی جائے گی۔ (مسند احمد، ابویعلی ابن حبان، حاکم عن ابی سعید)
39039- "يمر الناس على جسر جهنم وعليه حسك وكلاليب وخطاطيف تخطف الناس يمينا وشمالا، وجنبتيه ملائكة يقولون: اللهم! سلم سلم، فمن الناس من يمر مثل البرق، ومنهم من يمر مثل الريح، ومنهم من يمر مثل الفرس، ومنهم من يسعى سعيا، ومنهم من يمشي مشيا، ومنهم من يحبو حبوا، ومنهم من يزحف زحفا، فأما أهل النار الذين هم أهلها فلا يموتون ولا يحيون، وأما أناس يؤخذون بذنوب وخطايا فيحترقون فيكونون فحما، ثم يؤذن في الشفاعة فيؤخذون ضبارات1 ضبارات فيقذفون على نهر من أنهار الجنة فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل، أما رأيتم الصبغاء شجرة تنبت في الغثاء؟ فيكون من آخر من أخرج من النار رجل على شفتها فيقول: يا رب! اصرف وجهي عنها، فيقول: عهدك وذمتك لا تسألني غيرها، وعلى الصراط ثلاث شجرات، فيقول: يا رب! حولني إلى هذه الشجرة آكل من ثمرها وأكون في ظلها، فيقول: عهدك وذمتك لا تسألني غيرها، ثم يرى أخرى هي أحسن منها، فيقول: يا رب! حولني إلى هذه آكل من ثمرها وأكون في ظلها، فيقول: عهدك وذمتك لا تسألني غيرها، ثم يرى أخرى فيقول: يا رب! حولني إلى هذه آكل من ثمرها وأكون في ظلها، ثم يرى سواد الناس ويسمع كلامهم فيقول: يا رب أدخلني الجنة، فيدخل الجنة فيعطى الدنيا ومثلها." حم، ع، حب، ك - عن أبي سعيد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٠۔۔۔ اے عائشہ ! تین مقامات پر تو کوئی کسی کو یاد نہیں آئے گا، ترازو کے وقت یہاں تک کہ وہ بوجھل ہوتا ہے یا ہلکا، اعمال ناموں کے اڑنے کے وقت، دائیں ہاتھ میں ملتا ہے یا بائیں ہاتھ میں، اور جب گردن نکلے گی جو ان پر چھا جائے گی ان سے غضب ناک ہو کر کہے گا : مجھے تین طرح کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، جس نے اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود (کسی بھی صورت میں) بنایا، جس کا آخرت کے دن پر ایمان نہیں، اور مجھے ہر متکبر اور ضدی پر مسلط کیا گیا ہے پھر وہ ان پر غالب آجائے گی اور انھیں سختیوں میں پھینک دیا جائے گا۔

جہنم کا پل بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہوگا اس پر آنگڑے اور کانٹے ہوں گے، جسے اللہ تعالیٰ چاہے گا اسے پکڑ لیں گے، لوگ اس پر، آنکھ کی جھپک بجلی کی چمک ، ہوا کے جھونکے، عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزریں گے فرشتے کہہ رہے ہوں گے : اے رب سلامت رکھ، سلامت رکھ، کوئی تو سالم پار ہوجائے گا کوئی خراش کھاکر پار ہوگا کوئی منہ کے بل جہنم میں جاگرے گا۔ (مسند احمد عن عائشۃ)
39040- "يا عائشة! أما عند ثلاثة فلا يذكر أحد أحدا: عند الميزان حتى يثقل أو يخف، وعند تطاير الكتب فأما أن يعطى بيمينه أو يعطى بشماله، وحين يخرج عنق من النار فينطوي عليهم ويتغيظ عليهم ويقول ذلك العنق: وكلت بثلاثة، وكلت بمن دعا مع الله إلها آخر، ووكلت بمن لا يؤمن بيوم الحساب، ووكلت بكل جبار عنيد، فينطوي عليهم ويرمي بهم في غمرات، ولجهنم جسر أدق من الشعر وأحد من السيف، عليه كلاليب وحسك، يأخذان من شاء الله، والناس عليه كالطرف وكالبرق وكالريح وكأجاويد الخيل والركاب، والملائكة يقولون: رب! سلم، سلم فناج مسلم ومخدوش مسلم ومكور في النار على وجهه." حم - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤١۔۔۔ پانچ سفارشی ہوں گے : قرآن، رشتہ داری، امانت، تمہارے نبی اور ان کے گھرانے والے۔ (فردوس عن ابوہریرہ کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٣٧۔
39041- "الشفعاء خمسة: القرآن، والرحم، والأمانة، ونبيكم، وأهل بيته." فر - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٢۔۔۔ قیامت کے روز لوگ مختلف جماعتیں ہوں گے، ہر امت اپنے نبی کے پیچھے ہوگی وہ کہیں گے : اے فلاں ! سفارش کر، اے فلاں سفارش کر، یہاں تک کہ شفاعت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچ جائے گی، اس دن اللہ انھیں مقام محمود پر فائز فرمائے گا۔ (بخاری عن ابن عمر)
39042- "إن الناس يصيرون يوم القيامة جثى ، كل أمة تتبع نبيها، يقولون: يا فلان! أشفع، يا فلان! اشفع، حتى تنتهي الشفاعة إلى محمد، فذلك يوم يبعثه الله المقام المحمود." خ - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٣۔ جس کے دل میں مچھر کے پر جتنا بھی ایمان ہوگا میں قیامت کے دن اس کی ضرور شفاعت کروں گا (خطیب عن انس
39043- "لأشفعن يوم القيامة لمن كان في قلبه جناح بعوضة إيمان." خط - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٤۔۔۔ ایک قوم شفاعت کے ذریعہ سے جہنم سے نکالی جائے گی وہ ایسے ہوں گے جیسے ککڑی، (بخاری عن جابر)
39044- "يخرج من النار قوم بالشفاعة كأنهم الثعارير ق عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٥۔۔۔ میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے بنی تمیم سے زیادہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ (ترمذی حاکم عن عبداللہ بن ابی الجدعاء)
39045- "يدخل الجنة بشفاعة رجل من أمتي أكثر من بني تميم." ت 1ك - عن عبد الله بن أبي الجدعاء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৫৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٦۔۔۔ ہر نبی کی اپنی امت کے بارے میں ایک دعا ہے جو وہ کرچکا اور میں نے قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنی دعا چھپا رکھی ہے۔ (مسند احمد، مسلم عن جابر)
39046- "لكل نبي دعوة قد دعا بها في أمته وإني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." حم، م - عن جابر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٧۔۔۔ ہر نبی کی ایک دعا ہے جو وہ کرتا ہے میں چاہتا ہوں کہ قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنی دعا چھپا رکھوں۔ (مسند احمد، مسلم عن ابوہریرہ )
39047- "لكل نبي دعوة يدعو بها فأريد أن أختبئ دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." حم، ق - عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٨۔۔۔ ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہے جو وہ کرتا ہے تو قبول ہوتی ہے اور اسے وہ عطا کی جاتی ہے۔ اور میں نے قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنی دعا پوشیدہ رکھی ہے۔ (مسلم عن ابوہریرہ )
39048- "لكل نبي دعوة مستجابة يدعو بها فيستجاب له فيؤتاها، وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." م - عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٤٩۔۔۔ ہر نبی کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگی اور قبول کی گئی میں چاہتاہوں کہ انشاء اللہ اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے ذخیرہ کرلوں۔ (بیھقی عن ابوہریرہ )
39049- "لكل نبي دعوة مستجابة دعا بها في أمته فاستجيب له، وإني أريد إن شاء الله تعالى أن أدخر دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." ق - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٠۔۔۔ قیامت کے روز لوگ صفوں میں کھڑے ہوں گے، ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس سے گزرے گا : اے فلاں ! کیا تجھے یاد نہیں کہ فلاں دن تو نے مجھ سے پانی مانگا تھا اور میں نے تجھے پانی پلایا تھا، تو وہ اس کی شفاعت کرے گا (اسی طرح) ایک شخص، کسی شخص کے پاس سے گزرے گا تو اسے کہے گا : کیا تجھے یاد نہیں کہ میں نے تجھے وضو کے لیے پانی دیا تھا ؟ چنانچہ وہ اس کی شفاعت کرے گا، اور کہے گا : اے فلاں ! کیا تجھے یاد نہیں کہ تو نے فلاں دن مجھے فلاں کام سے بھیجا تھا اور میں چلا گیا تھا ؟ تو وہ اس کے لیے شفاعت کرے گا۔ (ابن ماجہ عن انس)

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٦٤٣٠۔
39050- "يصف الناس يوم القيامة صفوفا فيمر الرجل من أهل النار على الرجل من أهل الجنة فيقول: يا فلان: أما تذكر يوم استسقيت فسقيتك شربة؟ فيشفع له، ويمر الرجل على الرجل فيقول: أما تذكر يوم ناولتك طهورا؟ فيشفع له، ويقول: يا فلان! أما تذكر يوم بعثتني في حاجة كذا وكذا فذهبت لك؟ فيشفع له." هـ - عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥١۔۔۔ قیامت کے دن میں انسانوں کا سردار ہوں گا، جانتے ہو ایسا کیوں ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ اولین آخرین کو ایک کھلے میدان میں جمع کرے گا ایک بلانے والا انھیں اپنی آواز سنائے گا اور ایک آنکھ انھیں دیکھ سکے گی، سورج ان کے قریب ہوگا اور لوگ ناقابل برداشت غم و پریشانی میں مبتلا ہوں گے، کچھ لوگ دوسرے سے کہیں گے : اپنی حالت دیکھتے نہیں ؟ کیا تم اپنے بارے میں اپنے رب کے ہاں کسی کی شفاعت کے منتظر ہو ؟ تو کچھ لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے چلو آدم (علیہ السلام ) کے پاس چلتے ہیں، وہ آدم (علیہ السلام) سے کہیں گے : آدم ! آپ ہمارے باپ اور انسانیت کے والد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور آپ میں اپنی (پیدا کردہ مخلوق) روح پھونکی، اور فرشتوں کو حکم دیا اور انھوں نے آپ کو سجدہ کیا ! اپنے رب سے ہمارے بارے میں شفاعت کریں، آپ ہماری کیفیت نہیں دیکھ رہے ؟ ہمارے بےچینی آپ کے سامنے ہے ؟ آدم (علیہ السلام) ان سے کہیں گے : میرا رب آج ایسا غضبناک ہوا ہے کہ اس سے پہلے ایسا ناراض نہیں ہوا، اور نہ ہرگز کبھی ایسا ناراض ہوگا، اس نے مجھے درخت سے روکا تھا لیکن مجھ سے غلطی ہوگئی۔ مجھے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے میرے علاوہ کسی کے پاس جاؤ، نوح کے پاس جاؤ ! وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آکر کہیں گے : اے نوح ! آپ اہل زمین کی طرف اللہ تعالیٰ کے پہلے رسول ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شکرگزاربندہ رکھا ہے ہمارے لیے اپنے رب سے شفاعت کریں، آپ ہماری کیفیت نہیں دیکھ رہے، ہماری حالت آپ کے سامنے نہیں ؟ تو نوح (علیہ السلام) ان سے کہیں گے : میرا رب آج ایسا غضبناک ہوا کہ اس سے پہلے ایسا ناراض نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا غضبناک ہوگا میری ایک دعا تھی جو میں نے اپنی قوم کے لیے (بددعا کے طور) مانگ لی، مجھے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ ابراہیم کے پاس جاؤ ! چنانچہ وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آکر کہیں گے : اے ابراہیم ! آپ اہل زمین میں سے اللہ کے نبی اور خلیل ہیں ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، آپ کو ہماری کیفیت نظر نہیں آرہی اور ہماری حالت آپ کے سامنے نہیں ؟ تو ابراہیم (علیہ السلام) ان سے فرمائیں گے میرا رب آج ایسا غضبناک ہوا کہ اس سے پہلے ایسا غصہ نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ایسا غضبناک ہوگا میں نے تین جگہ توریہ (بظاہر جھوٹ) کہا ہے مجھے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے میرے علاوہ کسی کے پاس جاؤ، موسیٰ کے پاس جاؤ !

چنانچہ یہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاکر کہیں گے : اے موسیٰ ! آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے آپ کو اپنی رسالت اور اپنے کلام کے ذریعہ لوگوں پر فضیلت دی، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، آپ ہماری کیفیت نہیں دیکھ رہے اور ہماری حالت آپ کے سامنے نہیں ؟ تو موسیٰ (علیہ السلام) ان سے فرمائیں گے : میرا رب آج ایسا غضبناک ہوا کہ اس سے پہلے ایسا غصہ نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ہوگا۔ مجھ سے ایک قتل ہوگیا تھا جسے قتل کرنے کا مجھے حکم نہیں تھا مجھے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے۔ میرے علاوہ کسی اور کے پاس جاؤ ! عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ ! چنانچہ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر کہیں گے : آپ اللہ کے رسول اور اس کے کلمہ ہیں جسے اس نے مریم کی طرف ڈالا اور اس کی روح (مخلوق) ہیں آپ نے پنگھوڑے میں لوگوں سے کلام کیا، ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ کو ہماری کیفیت نظر نہیں آرہی ہماری حالت آپ کے سامنے نہیں ؟ عیسیٰ (علیہ السلام) ان سے فرمائیں گے : میرا رب آج ایسا غضبناک ہوا کہ ایسا پہلے نہیں ہوا اور نہ کبھی اس کے بعد ہوگا، مجھے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے اپنی فکر ہے میرے علاوہ کسی کے پاس جاؤ ! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ، چنانچہ وہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہیں گے : اے محمد ! آپ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی اگلی پچھلی خطائیں بخش دی ہیں۔ ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، کیا آپ ہماری کیفیت اور ہم جس حالت میں ہیں نہیں دیکھ رہے ؟

چنانچہ میں چل کر عرش کے نیچے آؤں گا اور سجدہ میں گرپڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ میرا سینہ کھول دے گا اور مجھے ایسی محامد (اپنی تعریفیں) الہام کرے گا جو مجھ سے پہلے کسی کو الہام نہیں کی ہوں گی، پھر کہا جائے گا : اے محمد ! اپنا سراٹھاؤ ! مانگو تمہیں دیا جائے گا، سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی، میں اپنا سراٹھاؤں گا اور عرض کروں گا، اے رب ! میری امت میری امت کو بخش دیجئے ! کہا جائے گا : اے محمد ! اپنی امت میں سے ان لوگوں کو جنت کے دروازوں میں سے داہنے دروازے سے داخل کردو جن پر کوئی حساب نہیں اور وہ دوسرے دروازوں میں لوگوں کے شریک ہیں۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! جنت کے دو چوکھٹوں کے درمیانی فاصلہ ایسا ہے جیسے مکہ اور ہجر کے درمیان ہے یا جیسے مکہ اور بصری کے درمیان ہے۔ (مسند احمد ، بخاری، ترمذی عن ابوہریرہ )
39051- "أنا سيد الناس يوم القيامة! وهل تدرون مم ذاك؟ يجمع الله الأولين والآخرين في صعيد واحد يسمعهم الداعي وينفذهم 2البصر وتدنو الشمس منهم فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون فيقول بعض الناس لبعض: ألا ترون إلى ما قد بلغكم؟ أتنتظرون من يشفع لكم إلى ربكم؟ فيقول بعض الناس لبعض: ائتوا آدم، فيقولون: يا آدم! أنت أبونا أنت أبو البشر! خلقك الله تعالى بيده ونفخ فيك من روحه وأمر الملائكة فسجدوا لك! اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى إلى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم آدم: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإنه نهاني عن الشجرة فعصيته، نفسي نفسي نفسي! اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى نوح؛ فيأتون نوحا فيقولون: يا نوح! أنت أول الرسل إلى أهل الأرض وسماك الله عبدا شكورا! اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى ما نحن فيه! ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم نوح: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإنه قد كانت لي دعوة دعوت بها على قومي، نفسي نفسي نفسي اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى إبراهيم. فيأتون إبراهيم فيقولون يا إبراهيم! أنت نبي الله وخليل الله من أهل الأرضّ! اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم إبراهيم: إن ربي تعالى قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإني قد كنت كذبت ثلاث كذبات، نفسي نفسي نفسي! اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى موسى، فيأتون موسى فيقولون: يا موسى! أنت رسول الله فضلك الله برسالاته وبتكليمه على الناس! اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى إلى ما نحن فيه؟ ألا ترى إلى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم موسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله وإني قد قتلت نفسا لم أومر بقتلها، نفسي نفسي نفسي! اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى عيسى، فيأتون عيسى فيقولون: يا عيسى! أنت رسول الله وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه وكلمت الناس في المهد! اشفع لنا إلى ربك! ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى ما قد بلغنا؟ فيقول لهم عيسى: إن ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله، نفسي نفسي نفسي! اذهبوا إلى غيري اذهبوا إلى محمد، فيأتون محمدا فيقولون: يا محمد! أنت رسول الله وخاتم الأنبياء وغفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر! اشفع لنا إلى ربك، ألا ترى ما نحن فيه؟ ألا ترى إلى ما قد بلغنا فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجدا لربي، ثم يفتح الله علي ويلهمني من محامده وحسن الثناء عليه شيئا لم يفتحه لأحد قبلي، ثم يقال: يا محمد! ارفع رأسك، سل تعطه، واشفع تشفع، فأرفع رأسي فأقول: يا رب أمتي أمتي! فيقال: يا محمد! أدخل الجنة من أمتك من لا حساب عليه من الباب الايمن من أبواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الأبواب، والذي نفسي بيده! إن ما بين المصراعين من مصاريع الجنة لكما بين مكة وهجر، أو كما بين مكة وبصرى." حم، ق، ت - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯০৬৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٢۔۔۔ میں قیامت کے روز اولاد آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ میرے ہاتھ حمد کا جھنڈا ہوگا اور مجھے اس پر کوئی فخر نہیں، اس روز ہر نبی آدم (علیہ السلام) اور ان کے علاوہ (سب) میرے جھنڈے تلے ہوں گے۔ اور سب سے پہلے میری قبر کھلے گی اور مجھے کوئی فخر نہیں۔ لوگ تین مرتبہ گھبرائیں گے پھر وہ آدم (علیہ السلام) کے پاس آکر کہیں گے : آپ ہمارے باپ آدم ہیں ہمارے لیے اپنے رب سے سفارش کریں، وہ فرمائیں گے : مجھ سے ایک خطا ہوگئی جس کی وجہ سے مجھے زمین پر اتار دیا گیا البتہ تم نوح کے پاس جاؤ وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے وہ فرمائیں گے : میں نے اہل زمین کے لیے بددعا کی تو وہ ہلاک کردئیے گئے البتہ تم ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ، وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے، فرمائیں گے : میں نے تین بارتوریہ کیا (جو بظاہر جھوٹ تھا) جو اللہ تعالیٰ کے دین میں حلال نہیں، البتہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ چنانچہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے : وہ فرمائیں گے : میں نے ایک شخص قتل کردیا تھا البتہ تم عیسیٰ کے پاس جاؤ تو وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں، وہ فرمائیں گے : میں نے ایک شخص قتل کردیا تھا البتہ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ تو وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں، وہ فرمائیں گے : میری اللہ کے سوا عبادت کی گئی ہے البتہ تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ۔ چنانچہ وہ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور جنت کے دروازے کے حلقہ کو پکڑ کر کھٹکھٹاؤں گا، کہا جائے گا : کون ہے ؟ میں کہوں گا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)، تو وہ میرے لیے دروازہ کھول کر مجھے خوش آمدید کہیں گے، تو میں سجدے میں پڑجاؤں گا اللہ تعالیٰ مجھے حمدوثناء کا الہام کرے گا پھر مجھے کہا جائے گا : اپنا سراٹھاؤ، مانگو تمہیں دیا جائے گا شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی کہو تمہاری بات سنی جائے گی وہ مقام محمود ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” عنقریب تجھے تیرا رب مقام محمود پر مبعوث فرمائے “ (ترمذی وابن خزیمہ عن ابی سعید الاقولہ فاخذ بحلقۃ باب الجنۃ فاقعقعھا فرانھا عن انس)

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ١٣١٦۔
39052- أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر، وبيدي لواء الحمد ولا فخر، وما نبي يومئذ آدم فمن سواه إلا تحت لوائي، وأنا أول من تنشق عنه الأرض ولا فخر، فيفزع الناس ثلاث فزعات فيأتون آدم فيقولون: أنت أبونا آدم فاشفع لنا إلى ربك، فيقول: إني أذنبت ذنبا أهبطت منه إلى الأرض ولكن ائتوا نوحا فيأتون نوحا فيقول: إني دعوت على أهل الأرض دعوة فأهلكوا ولكن اذهبوا إلى إبراهيم، فيأتون إبراهيم فيقول: إني كذبت ثلاث كذبات ما منها كذبة إلا ما حل بها عن دين الله تعالى ولكن ائتوا موسى، فيأتون موسى فيقول: إني قد قتلت نفسا ولكن ائتوا عيسى فيأتون عيسى فيقول: إني عبدت من دون الله ولكن ائتوا محمدا، فيأتوني فأنطلق معهم فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها فيقال: من هذا؟ فأقول: محمد، فيفتحون لي ويرحبون فيقولون: مرحبا! فأخر ساجدا فيلهمني الله من الثناء والحمد فيقال لي: ارفع رأسك، سل تعطه واشفع تشفع، وقل يسمع لقولك، وهو المقام المحمود الذي قال الله تعالى {عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَحْمُوداً} . "ت وابن خزيمة - عن أبي سعيد، إلا قوله "فآخذ بحلقة باب الجنة فأقعقعها، فإنها عن أنس".
tahqiq

তাহকীক: