কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩৯০৬৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٣۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جمع فرمائے تو وہ اس کا اہتمام کریں گے اور کہیں گے : اگر ہم اپنے رب سے سفارش کریں تو ہمیں اس جگہ سے نجات دے ، تو آدم (علیہ السلام) ان سے فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں اور آپ کو اپنی وہ لغزش یاد آجائے گی جس کی وجہ سے وہ اپنے رب سے شرمائیں گے۔ اور وہ فرمائیں گے : البتہ تم نوح کے پاس جاؤ کیونکہ وہ زمین والوں کی طرف بھیجے ہوئے پہلے رسول ہیں، پھر وہ نوح (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں، انھیں اپنی لغزش یاد آئے گی کہ انھوں نے ایسی چیز کا سوال اپنے رب سے کیا تھا جس کا انھیں علم نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے رب سے شرمائیں گے۔ البتہ تم لوگ رحمن کے خلیل ابراہیم کے پاس جاؤ وہ ان کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں البتہ تم موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ ایسا بندہ ہے جس سے اللہ نے کلام کیا اور اسے توراۃ دی، چنانچہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں، اس شخص کا قتل یاد آجائے گا جسے انھوں نے ناحق قتل کردیا تھا تو وہ اپنے رب سے شرمائیں گے، البتہ تم عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ وہ اللہ کا بندہ، اس کا کلمہ اور اس کی روح (مخلوق) ہے چنانچہ وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں، البتہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ وہ ایسے بندے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اگلے پچھلے گناہ معاف کردئیے ہیں چنانچہ میں اٹھوں گا اور مومنوں کی دوصفتوں میں چل کر اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کی اجازت طلب کروں گا مجھے اجازت مل جائے گی جب میں اپنے رب کا دیدار کروں گا تو اپنے رب کے لیے سجدہ میں پڑجاؤں گا پھر وہ جتنا چاہے گا مجھے سجدہ میں رکھے گا، پھر فرمائے گا : محمد ! سراٹھاؤ ! کہو تمہاری بات سنی جائے گی مانگو تمہیں دیا جائے گا شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی میں اپنا سراٹھاکر اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد کروں گا جو وہ مجھے سکھائے گا اس کے بعد میں شفاعت کروں گا، پھر میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی جنہیں میں جنت میں داخل کروں گا پھر میں دوسری مرتبہ آؤں گا، اپنے رب کو دیکھ کر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاؤں گا اور جتنی دیر اللہ چاہے گا مجھے سجدہ میں رکھے پھر فرمائے گا؛محمد ! سراٹھاؤ کہو تمہاری بات سنی جائے گی، مانگو تمہیں عطا کیا جائے گا شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی پھر میرے لیے حدبندی کی جائے گی اور میں ان لوگوں کو جنت میں داخل کردوں گا۔
پھر میں چوتھی مرتبہ آؤں گا میں کہوں گا اے میرے رب ! صرف وہ رہ گیا ہے (جسے جس کو ) قرآن نے روک رکھا ہے پھر ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جس نے لا الہٰ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو برابر بھی خیر ہوئی، پھر ان لوگوں کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جنہوں نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور ان کے دلوں میں گندم برابر بھی خیر ہوئی پھر ہر شخص کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی خیر ہوئی۔ (مسند احمد، بخاری، ترمذی، ابن ماجہ عن انس)
پھر میں چوتھی مرتبہ آؤں گا میں کہوں گا اے میرے رب ! صرف وہ رہ گیا ہے (جسے جس کو ) قرآن نے روک رکھا ہے پھر ہر اس شخص کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جس نے لا الہٰ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں جو برابر بھی خیر ہوئی، پھر ان لوگوں کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جنہوں نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور ان کے دلوں میں گندم برابر بھی خیر ہوئی پھر ہر شخص کو جہنم سے نکال لیا جائے گا جس نے لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر بھی خیر ہوئی۔ (مسند احمد، بخاری، ترمذی، ابن ماجہ عن انس)
39053- "يجمع الله المؤمنين يوم القيامة فيهتمون لذلك فيقولون: لو استشفعنا إلى ربنا فأراحنا من مكاننا هذا! فيأتون آدم فيقولون: يا آدم! أنت أبو البشر، خلقك الله بيده وأسجد لك ملائكته وعلمك أسماء كل شيء فاشفع لنا إلى ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول لهم آدم: لست هناكم ويذكر ذنبه الذي أصابه فيستحيي ربه من ذلك ويقول: ولكن ائتوا نوحا فإنه أول رسول بعثه الله إلى أهل الأرض، فيأتون نوحا فيقول: لست هناكم - ويذكر لهم خطيئته سؤاله ربه ما ليس له به علم فيستحيي ربه من ذلك - ولكن ائتوا إبراهيم خليل الرحمن، فيأتونه فيقول: لست هناكم ولكن ائتوا موسى عبدا كلمه الله تعالى وأعطاه التوراة، فيأتون موسى فيقول: لست هناكم - ويذكر لهم النفس التي قتل بغير نفس فيستحيي ربه من ذلك - لكن ائتوا عيسى عبد الله وكلمته وروحه، فيأتون عيسى فيقول: لست هناكم ولكن ائتوا محمدا عبدا قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر. فأقوم فأمشي بين سماطين من المؤمنين حتى استأذن على ربي فيؤذن لي، فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا لربي تبارك وتعالى، فيدعني ما شاء أن يدعني ثم يقول: ارفع محمد! قل تسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فأرفع رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيهثم أشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة، ثم أعود إليه الثانية فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا لربي، فيدعني ما شاء أن يدعني ثم يقول: ارفع محمد! وقل يسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فأرفع رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة، ثم أعود الثالثة فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا لربي، فيدعني ما شاء أن يدعني ثم يقول: ارفع محمد! وقد يسمع وسل تعطه واشفع تشفع، فأرفع رأسي فأحمده بتحميد يعلمنيه ثم أشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة، ثم أعود الرابعة فأقول: يا رب! ما بقي إلا من حبسه القرآن فيخرج من النار من قال: لا إله إلا الله، وكان في قلبه من الخير ما يزن شعيرة، ثم يخرج من النار من قال: لا إله إلا الله، وكان في قلبه من الخير ما يزن برة ثم يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وكان في قلبه من الخير ما يزن ذرة." حم، ق، ت، هـ- عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৬৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٤۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرے گا تو ایمان والے اس وقت کھڑے ہوجائیں گے جب جنت ان کے نزدیک کی جائے گی، اس کے بعد وہ آدم (علیہ السلام) سے آکر کہیں گے : اے ہمارے باپ ہمارے لیے جنت کھلوائیے، وہ فرمائیں گے، میرے بیٹے ابراہیم خلیل اللہ کے پاس جاؤ، ابراہیم (علیہ السلام) فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں، میں اس کے علاوہ کا خلیل ہوں، موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جس سے اللہ نے کلام کیا، وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ فرمائیں گے : میں اس کا اہل نہیں، تم لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ جو اللہ کا کلمہ اور اس کی (مخلوق) روح ہے عیسیٰ (علیہ السلام) فرمائیں گے میں اس کا اہل نہیں محمد کے پاس جاؤ چنانچہ وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں گے وہ اٹھیں گے اور انھیں اجازت مل جائے گی پھر
امانت اور رشتہ داری کو چھوڑا جائے گا وہ دونوں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑی ہوجائیں گی۔ اس کے بعد تمہارا پہلا گروہ بجلی کی طرح گزرے گا پھر ہوا کے جھونکے کی طرح پھر پرندے اور سواری کی طرح گزریں گے۔ لوگوں کو ان کے اعمال چلائیں گے تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے کہہ رہے ہوں گے : اے رب سلامت رکھ، سلامت رکھو ! یہاں تک کہ لوگوں کے اعمال عاجز پڑجائیں گے پھر ایک شخص کو لایا جائے گا تو وہ سوائے گھٹنے کے کسی طرح نہ چل سکے گا، اور پل صراط کے دونوں پہلوؤں پر حکم کے پابند آنگڑے ہوں گے جنہیں جس کے بارے پکڑنے کا حکم ہوگا اسے پکڑلیں گے کوئی خراش کھاکر نجات پائے گا اور کوئی آگ میں گرجائے گا۔ (مسلم عن ابوہریرہ وحذیفۃ)
امانت اور رشتہ داری کو چھوڑا جائے گا وہ دونوں پل صراط کے دائیں بائیں کھڑی ہوجائیں گی۔ اس کے بعد تمہارا پہلا گروہ بجلی کی طرح گزرے گا پھر ہوا کے جھونکے کی طرح پھر پرندے اور سواری کی طرح گزریں گے۔ لوگوں کو ان کے اعمال چلائیں گے تمہارے نبی پل صراط پر کھڑے کہہ رہے ہوں گے : اے رب سلامت رکھ، سلامت رکھو ! یہاں تک کہ لوگوں کے اعمال عاجز پڑجائیں گے پھر ایک شخص کو لایا جائے گا تو وہ سوائے گھٹنے کے کسی طرح نہ چل سکے گا، اور پل صراط کے دونوں پہلوؤں پر حکم کے پابند آنگڑے ہوں گے جنہیں جس کے بارے پکڑنے کا حکم ہوگا اسے پکڑلیں گے کوئی خراش کھاکر نجات پائے گا اور کوئی آگ میں گرجائے گا۔ (مسلم عن ابوہریرہ وحذیفۃ)
39054- "يجمع الله الناس يوم القيامة فيقوم المؤمنون حين تزلف لهم الجنة فيأتون آدم فيقولون: يا أبانا استفتح لنا الجنة، فيقول: وهل أخرجكم من الجنة إلا خطيئة أبيكم آدم، لست بصاحب ذلك، اذهبوا إلى ابني إبراهيم خليل الله، فيقول إبراهيم: لست بصاحب ذلك إنما كنت خليلا من وراء وراء اعمدوا إلى موسى الذي كلمه الله تكليما، فيأتون موسى فيقول: لست بصاحب ذلك، اذهبوا إلى عيسى كلمة الله وروحه، فيقول عيسى لست بصاحب ذلك اذهبوا إلى محمد فيأتون محمدا فيقوم فيؤذن له، وترسل الأمانة والرحم فتقومان جنبتي الصراط يمينا وشمالا فيمر أولكم كالبرق ثم كمر الريح ثم كمر الطير وشد الرحال، تجري بهم أعمالهم ونبيكم قائم على الصراط يقول: رب سلم سلم، حتى تعجز أعمال العباد، حتى يجيء الرجل فلا يستطيع السير إلا زحفا وفي حافتي الصراط كلاليب معلقه مأمورة تأخذ من أمرت بأخذه فمخدوش ناج ومكدوس في النار." م - عن أبي هريرة وحذيفة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৬৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٥۔۔۔ میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہوگی۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن حبان، حاکم عن انس، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم عن جابر ، طبرانی عن ابن عباس، خطیب عن ابی عمر عن کعب بن عجرۃ)
کلام :۔۔۔ اسنی المطالب ٧٩٠، الجامع المصنف ٥٠۔
کلام :۔۔۔ اسنی المطالب ٧٩٠، الجامع المصنف ٥٠۔
39055- "شفاعتي لأهل الكبائر من أمتي." حم، د، ت، حب، ك - عن أنس، ن، هـ، حب، ك - عن جابر، طب - عن ابن عباس، خط - عن ابن عمر عن كعب بن عجرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৬৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٦۔۔۔ میری شفاعت میری امت کے گناہ گار لوگوں کے لیے ہوگی، حضرت ابودرداء (رض) نے پوچھا : اگرچہ زنا وچوری کرے ! ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ زناوچوری اس سے ہوجائے، ابودرداء کی ناک خاک آلود ہونے کے ساتھ۔ (خطیب عن ابی الدرداء)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٠٤۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٠٤۔
39056- "شفاعتي لأهل الذنوب من أمتي قال أبو الدرداء: وإن زنى وإن سرق! قال: نعم وإن زنى وإن سرق على رغم أنف أبي الدرداء." خط - عن أبي الدرداء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٧۔۔۔ میری شفاعت میری امت کے ان لوگوں کے لیے ہوگی جو میرے گھرانے سے محبت رکھتے ہوں گے۔ (خطیب عن علی)
39057- "شفاعتي لأمتي من أحب أهل بيتي." خط - عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٨۔۔۔ میری شفاعت (میری امت کے ہر فرد کے لئے) مباح ہے صرف اس کے لیے نہیں جس نے میرے صحابہ (رض) کو برا بھلا کہا۔ (حلیۃ الاولیاء عن عبدالرحمن بن عوف)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٠٥۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٠٥۔
39058- "شفاعتي مباحة إلا لمن سب أصحابي." حل - عن عبد الرحمن بن عوف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٥٩۔۔۔ قیامت کے روز میری شفاعت برحق ہے جس کا اس پر یقین نہیں وہ شفاعت والوں میں نہیں ہوگا۔ (ابن منیع عن زید بن ارقم وبضعۃ عشر من الصحابہ)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٠٦۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٤٠٦۔
39059- "شفاعتي يوم القيامة حق فمن لم يؤمن بها لم يكن من أهلها." ابن منيع - عن زيد بن أرقم وبضعة عشر من الصحابة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٠۔۔۔ میری امت کے ساتھ جو کچھ پیش ہوگا وہ مجھے (اہم واقعات کی صورت میں) دکھایا گیا، آپس کی خونریزی، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے ہے جیسا پہلی امتوں کے لیے طے تھا تو میں نے سوال کیا کہ مجھے اپنی امت کی شفاعت سونپ دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول کرلی۔ (مسند احمد، طبرانی فی الاوسط، حاکم عن ام حبیبہ)
39060- "أريت ما تلقى أمتي من بعدي وسفك بعضهم دماء بعض وكان ذلك سابقا من الله كما سبق في الأمم قبلهم فسألته أن يوليني شفاعة فيهم يوم القيامة ففعل." حم، طس، ك - عن أم حبيبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦١۔۔۔ ہر نبی کی ایک دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں مانگتا ہے اور جو قبول کرلی گئی اور میں نے قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنی دعا چھپالی۔ (مسند احمد، بیھقی عن انس)
39061- "إن لكل نبي دعوة قد دعا بها في أمته فاستجيب له وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." حم، ق - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٢۔۔۔ زمین پر جتنے درخت، پتھر اور ڈھیلے ہیں ان سے بڑھ کر میں قیامت کے روز (لوگوں کی) شفاعت کروں گا۔ (مسند
احمد عن بریدۃ)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢٠٩٥۔
احمد عن بریدۃ)
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢٠٩٥۔
39062- "إني لأشفع يوم القيامة لأكثر مما على وجه الأرض من حجر وشجر ومدر." حم - عن بريدة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٣ میں اپنی امت میں سے سب سے پہلے، مدینہ مکہ اور طائف والوں کے لیے شفاعت کروں گا (طبرانی عن عبداللہ بن جعفر
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢١٣٢، الضعیفہ ٦٨٢۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢١٣٢، الضعیفہ ٦٨٢۔
39063- "أول من أشفع له من أمتي أهل المدينة وأهل مكة وأهل الطائف." طب - عن عبد الله بن جعفر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٤۔۔۔ مجھے اختیار دیا گیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں چلی جائے یا میں شفاعت کروں، میں نے شفاعت کو چن لیا، کیونکہ وہ عام اور کافیے کیا تم اسے مومنین متقین کے لیے سمجھتے ہو حالانکہ وہ ان گنہگاروں کے لیے ہ جو خطاکار اور گناہوں میں ملوث ہوں گے۔ (مسند احمد عن ابن عمر ابن ماجہ عن ابی موسیٰ )
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢٩٣٢، ضعیف ابن ماجہ ٩٣٨۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٢٩٣٢، ضعیف ابن ماجہ ٩٣٨۔
39064- "خيرت بين الشفاعة وبين أن يدخل نصف أمتي الجنة فاخترت الشفاعة لأنها أعم وأكفى، أترونها للمؤمنين المتقين لا ولكنها للمذنبين الملوثين الخطائين".
"حم - عن ابن عمر، هـ- عن أبي موسى"
"حم - عن ابن عمر، هـ- عن أبي موسى"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٥۔۔۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے بیس سالہ لوگوں کے بارے میں سوال کیا تو انھیں مجھے دے دیا۔ (ابن ابی الدنیا عن ابوہریرہ )
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٢٢٠، الضعیفۃ ١٤٧٣۔
کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٢٢٠، الضعیفۃ ١٤٧٣۔
39065- "سألت ربي أبناء العشرين من أمتي فوهبهم لي." ابن أبي الدنيا - عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৭৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٦۔۔۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے چالیس سالہ لوگوں کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا : اے محمد ! میں نے ان کی بخشش کردی ہے، میں نے عرض کیا : پچاس سالہ فرمایا : میں نے ان کی مغفرت بھی کردی ہے میں نے عرض کیا : سترسالہ فرمایا : اے محمد ! اپنے بندے سے حیا آتی ہے کہ اسے ستر سال کی عمر دوں، جب کہ وہ میری عبادت کرتا ہو میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، اور میں اسے جہنم کا عذاب دوں۔ رہے لمبے سالوں والے یعنی اسی اور نوے سال والے تو میں قیامت کے روز ان سے کہوں گا : جن لوگوں کو چاہو جنت میں داخل کرلو ! (ابوالشیخ عن عائشۃ)
39066- "سألت ربي في أبناء الأربعين من أمتي فقال: يا محمد! قد غفرت لهم، قلت: فأبناء الخمسين! قال: إني قد غفرت لهم، قلت: فأبناء الستين! قال: قد غفرت لهم، قلت: فأبناء السبعين! قال: يا محمد! إني لأستحيي من عبدي أن أعمره سبعين سنة يعبدني لا يشرك بي شيئا أن أعذبه بالنار، فأما أبناء الأحقاب أبناء الثمانين والتسعين فإني واقف يوم القيامة فقائل لهم: أدخلوا من أحببتم الجنة من الناس." أبو الشيخ - عن عائشة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٧۔۔۔ میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے شفاعت کا سوال کیا : فرمایا : تمہارے ستر ہزار ہیں جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے، میں نے عرض کیا : میرے رب ! مجھے بڑھا کردیں فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اتنی مخلوق دی گویا اپنے دائیں بائیں سے دو مٹھیاں بھر کردیں ۔ (ھناد عن ابوہریرہ )
39067- "سألت الله الشفاعة لأمتي فقال: لك سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب، قلت: رب زدني! فحثا لي بيديه مرتين وعن يمينه وعن شماله." هناد - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٨۔۔۔ میری امت کی ایک قوم میری شفاعت کہ وجہ سے جہنم سے ضرور نکلے گی جن کا نام ” جہنمی “ پڑچکا ہوگا۔ (نسائی، ترمذی ، ابن ماجہ عن عمران بن حصین)
39068- "ليخرجن قوم من أمتي من النار بشفاعتي يسمون "الجهنميون". "ن، ت، هـ- عن عمران بن حصين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٦٩۔۔۔ میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت کی وجہ سے جنت میں ضرور داخل ہوں گے جن کی تعداد بنی تمیم سے زیادہ ہوگی۔ (مسند احمد، ابن ماجہ، ابن حبان، حاکم عبداللہ بن ابی الجدعاء)
39069- "ليدخلن الجنة بشفاعتي رجل من أمتي أكثر من بني تميم." حم، هـ، حب، ك - عن عبد الله بن أبي الجدعاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٠۔۔۔ ایک آدمی کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہوگا دوقبیلوں، ربیعہ ومضر جتنے لوگ جنت میں ضرور جائیں گے (اور) میں جو کہتا ہوں وہی کہتا ہوں۔ (مسند احمد طبرانی عن ابی امامۃ)
39070- "ليدخلن الجنة بشفاعة رجل ليس بنبي مثل الحيين ربيعة ومضر، إنما أقول ما أقول." حم، طب - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧١۔۔۔ وسیلہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا درجہ اور مقام ہے کہ اس سے اوپر (مخلوق کے لئے) کوئی درجہ نہیں تو اللہ تعالیٰ سے دعاکرو کہ مجھے وسیلہ عطاکرے۔ (مسند احمد عن ابی سعید)
39071- "الوسيلة درجة عند الله ليس فوقها درجة فسلوا الله أن يؤتيني الوسيلة." حم - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٢۔۔۔ قیامت کے روز تین طرح کے لوگ شفاعت کریں گے، انبیاء علماء اور شہداء ۔ (ابن ماجہ عن عثمان)
کلام :۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ ٩٣٩، ضعیف الجامع ٦٤٢٨۔
کلام :۔۔۔ ضعیف ابن ماجہ ٩٣٩، ضعیف الجامع ٦٤٢٨۔
39072- "يشفع يوم القيامة ثلاثة: الأنبياء، ثم العلماء، ثم الشهداء". هـ - عن عثمان".
তাহকীক: