কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩৯০৮৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٣۔۔۔ (ام سلمہ ! ) عمل کرتی رہو اور (شفاعت پر) بھروسا نہ کرو کیونکہ میری شفاعت میری امت کے ہلاک ہونے والوں کے لیے ہے۔ (یعنی گنہگاروں کے لیے ) ۔ (ابن عدی عن ام سلمہ)
کلام :۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٥٦٨، ضعیف الجامع ٩٧١۔
کلام :۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٥٦٨، ضعیف الجامع ٩٧١۔
39073- "اعملي ولا تتكلي، فإن شفاعتي للهالكين من أمتي." عد - عن أم سلمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٤۔۔۔ تم جانتے ہو آج کی رات مجھے میرے رب نے کس بات کو پسند کرنے کا کہا ؟ مجھے اختیار دیا کہ یا تو میری آدھی امت جنت میں چلی جائے یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت اختیار کرلی اور وہ ہر مسلمان کے لیے ہوگی۔ (ابن ماجہ، حاکم عن عوف بن مالک الاشجعی)
39074- "أتدرون ما خيرني ربي الليل! فإنه خيرني أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة، هي لكل مسلم". هـ، ك - عن عوف بن مالك الأشجعي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٥۔۔۔ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ ابھی مجھے میرے رب نے کیا اختیار کرنے کو کہا ؟ مجھے اختیار دیا کہ یا تو میری امت کا دوتہائی بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل کردے یا میں شفاعت کروں تو میں نے شفاعت اختیار کی جو ہر مسلمان کے لیے ہوگی۔ (طبرانی عن عوف بن مالک)
39075- "ألا أخبركم بما خيرني ربي آنفا؟ خيرني أن يدخل ثلثي أمتي الجنة بغير حساب ولا عذاب وبين الشفاعة، فاخترت الشفاعة، إن شفاعتي لكل مسلم." طب - عن عوف بن مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৮৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٦۔۔۔ مجھے اپنی امت کے (وہ اہم) اعمال دکھائے گئے جو وہ میرے بعد کرے گی تو میں نے قیامت کے روزان کے لیے شفاعت کو اختیار کرلیا۔ (ابن النجار عن انس عن ام سلمۃ)
39076- "أريت ما تعمل أمتي من بعدي فاخترت لهم الشفاعة يوم القيامة." ابن النجار - عن أنس عن أم سليم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا کہ یا میری آدھی امت کو بخش دے یا میں شفاعت کروں تو میں نے اپنی شفاعت پسند کرلی، مجھے امید ہے کہ وہ میری امت کے لیے عام ہوگی اگر مجھ سے پہلے نیک بندے نے پہلی نہ کی ہوئی تو میں اپنی دعا جلد کرلیتا، اللہ تعالیٰ نے جب اسحاق (علیہ السلام) سے ذبح کی آزمائش دور کی، تو ان سے کہا گیا : اسحاق مانگو تمہیں دیا جائے گا تو انھوں نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! ہم شیطان کی جھپٹ سے پہلے جلدی مانگ لیں گے، اے اللہ ! جو تیرے ساتھ کسی کو شریک کرکے نہیں کیا اور اس نے اچھے عمل کئے تو اس کی مغفرت کر اور اسے جنت میں داخل کر ! (طبرانی، حاکم عن ابوہریرہ )
کلام :۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٩٥٠۔
اس حدیث میں اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کی آزمائش میں مبتلا بتایا گیا، اس روایت کو ضعیف کہا گیا کیونکہ یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
کلام :۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٩٥٠۔
اس حدیث میں اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کی آزمائش میں مبتلا بتایا گیا، اس روایت کو ضعیف کہا گیا کیونکہ یہ صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
39077- "إن الله عز وجل خيرني بين أن يغفر لنصف أمتي أو شفاعتي، فاخترت شفاعتي ورجوت أن تكون أعم لأمتي، ولولا الذي سبقني إليه العبد الصالح لعجلت دعوتي، إن الله لما فرج عن إسحاق كرب الذبح قيل له: يا إسحاق سل تعطه، قال: أما والله لأتعجلنها قبل نزغات الشيطان، اللهم! من مات لا يشرك بك شيئا وأحسن فاغفر له وأدخله الجنة." طب، ك - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٨۔۔۔ مجھے میرے رب نے دو باتوں میں اختیار دیا، یا میری آدھی امت کو جنت میں داخل کرے یا شفاعت۔ (طبرانی عن عوف بن مالک)
39078- "إن ربي تبارك وتعالى خيرني بين خصلتين: أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة." طب - عن عوف بن مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٧٩۔۔۔ میرے پاس میرے رب کا قاصد آیا کہ مجھے اس کا اختیار دیا کہ میری آدھی امت کو جنت میں داخل کرے یا شفاعت ، تو میں نے شفاعت اختیار کی، میں اپنی شفاعت میں ہر اس شخص کو شامل کروں گا جو میری امت میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو۔ (طبرانی عن معاذ)
39079- "جاءني رسول من ربي فخيرني بين أن أدخل نصف أمتي الجنة أو الشفاعة، فاخترت الشفاعة - إني جاعل في شفاعتي من مات من أمتي لا يشرك بالله شيئا." طب - عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٠۔۔۔ جانتے ہو میں کہاں تھا اور کس کام میں مصروف تھا ؟ میرے پاس میرے رب کا قاصد آیا مجھے اس کا اختیار دیا کہ میری آدھی امت کو جنت میں داخل کرے، اور شفاعت کا، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا تم لوگ اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے میری شفاعت میں داخل ہے۔ (مسند احمد، طبرانی عن ابی موسیٰ )
39080- "هل تدرون أين كنت وفيم كنت؟ إني أتاني آت من ربي فخيرني بين أن يدخل نصف أمتي الجنة وبين الشفاعة فاخترت الشفاعة، أنتم ومن مات لا يشرك بالله شيئا في شفاعتي." حم، طب عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨١۔۔۔ ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے دنیا میں جلدی مانگ لی، میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کے گنہگاروں اور خطاکاروں کے لیے چھپا رکھی ہے۔ (الخطیب عن ابن مسعود)
39081- "إن لكل نبي دعوة تعجلها في الدنيا وإني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة للمذنبين المتلطخين." الخطيب - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٢۔۔۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی شفاعت کے لیے مخفی رکھی ہے۔ (حاکم عن ابوہریرہ )
39082- "إني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." ك - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٣۔۔۔ ہر نبی کو ایک دعادی گئی جو اس نے جلد مانگ لی، میں نے اپنے عطیہ کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے موخر کردیا۔ صرف امت کا ایک شخص شفاعت کرے۔ اس کی شفاعت لوگوں کی بڑی تعداد کے بارے میں قبول ہوگی۔ پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔ ایک شخص قبیلہ کے لیے شفاعت کرے گا، ایک شخص ایک جماعت کے لیے شفاعت کرے گا۔ ایک شخص تین مرد اور ایک آدمی کی شفاعت کرے گا۔ (ابن عدی فی الکامل عن ابی سعید)
39083- "قد أعطي كل نبي عطية وكل قد تعجلها وإني أخرت عطيتي شفاعة لأمتي، وإن الرجل من أمتي ليشفع فيشفع لفئام من الناس فيدخلون الجنة، وإن الرجل ليشفع للقبيلة، وإن
الرجل ليشفع للعصبة، وإن الرجل ليشفع للثلاثة وللرجلين وللرجل." عد - عن أبي سعيد".
الرجل ليشفع للعصبة، وإن الرجل ليشفع للثلاثة وللرجلين وللرجل." عد - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٤۔۔۔ ہر نبی کو ایک عطیہ دیا گیا جو اس نے لے لیا اور میں نے قیامت کے روز اپنی امت کے لیے اپنا عطیہ چھپا کر رکھالیا۔ (عبد بن حمید، ابو یعلی وابن عساکر عن ابی سعید)
39084- "كل نبي قد أعطي عطية فتنجزها وإني اختبأت عطيتي شفاعة لأمتي يوم القيامة." عبد بن حميد، ع وابن عساكر - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٥۔۔۔ خبردار ! ہر نبی کی دعاقبول ہوگئی، صرف میری دعارہتی ہے۔ میں نے اسے قیامت کے روز اپنے رب کے پاس ذخیرہ رکھ لیا ہے۔ حمد وصلوٰۃ کے بعد انبیاء اپنی امتوں پر فخر کریں گے کہ ان کی تعداد زیادہ ہے تو مجھے رسوانہ کرنا، اس واسطے کہ میں تمہارے لیے حوض پر بیٹھا ہوں گا۔ (ابن حبان عن انس)
39085- "ألا! كل نبي قد مضت دعوته إلا دعوتي فإني قد ذخرتها عند ربي إلى يوم القيامة، أما بعد فإن الأنبياء مكاثرون فلا تخزوني فإني جالس لكم على الحوض." طب - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯০৯৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٦۔۔۔ قیامت کے روز ہر نبی کے لیے ایک نور کا منبر ہوگا۔ مکمل حدیث شفاعت کے بارے میں۔ (ابن حبان عن انس)
39086- "إن لكل نبي يوم القيامة منبرا من نور - الحديث بطوله في الشفاعة." حب - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٧۔۔۔ شفاعت و کبیرہ گناہوں والوں کے بارے میں ہوگی۔ (ھناد عن انس)
39087- "إنما الشفاعة لأهل الكبائر." هناد - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٨۔۔۔ میں نے اپنے رب سے اپنی امت کے بارے میں شفاعت کا سوال کیا تو مجھے عطا کردی، یہ انشاء اللہ ہر اس شخص کے بارے میں ہوگی جو اللہ کے ساتھ کو کسی کو شریک نہ کرتا ہو۔ (مسند احمد، ابن خزیمہ والطحاوی والرویانی، ھاکم، سعید بن منصور عن ابی ذر)
39088- "إني سألت ربي عز وجل الشفاعة لأمتي فأعطانيها وهي نائلة إن شاء الله تعالى من لا يشرك بالله شيئا." حم وابن خزيمة والطحاوي والروياني، ك، ص - عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٨٩۔۔۔ قیامت کے روز سب سے پہلے میری قبر کھلے گی مجھے اس پر کوئی فخر نہیں اور مجھے حمد کا جھنڈا دیا جائے گا تو بھی مجھے فخر نہیں، اور قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوں گا مجھے اس پر پھر بھی فخر نہیں، اور میں قیامت کے روز سب سے پہلے جنت میں جاؤں گا اس پر بھی مجھے فخر نہیں، میں جنت کے دروازے پر آؤں گا تو جبار تعالیٰ میرے سامنے ہوگا میں اس کے حضور سجدہ ریز ہوں گا، وہ فرمائے گا، اپنا سراٹھاؤ جب میری امت کے وہ لوگ جو جہنم میں رہ جائیں گے تو جہنمی (ان سے) کہیں گے تم اللہ تعالیٰ عبادت کرتے تھے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے تھے، تمہیں اس کا کیا فائدہ ہوا ؟ تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ مجھے اپنی عزت کی قسم ! میں انھیں جہنم سے ضرور آزاد کروں گا۔ چنانچہ وہ جہنم سے نکلیں گے اور ان کی کھالیں اور ہڈیاں جھلس گئی ہوں گی، انھیں نہر حیات میں ڈالا جائے گا تو وہ اس میں ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے کوڑے میں کوئی بیچ اگتا ہے۔ ان کی پیشانیوں پر لکھا جائے گا اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں۔ پھر جنتی انھیں جہنمی کہیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ یہ جبار کے آزاد کردہ ہیں۔ (مسند احمد، نسائی، والدارمی وابن خزیمہ سعید بن منصور عن انس)
39089- "إني لأول الناس تنشق الأرض عن جمجمتي يوم القيامة ولا فخر، وأعطى لواء الحمد ولا فخر، وأنا سيد الناس يوم القيامة ولا فخر، وأنا أول من يدخل الجنة يوم القيامة ولا فخر، وآتي باب الجنة فإذا الجبار عز وجل مستقبلي فأسجد له فيقول: ارفع رأسك، فإذا بقي من بقي من أمتي في النار قال أهل النار: ما أغنى عنكم كنتم تعبدون الله ولا تشركون به شيئا! فيقول الجبار: فبعزتي لأعتقنهم من النار، فيخرجون وقد امتحشوا 1ويدخلون في نهر الحياة فينبتون فيه كما تنبت الحبة في غثاء السيل ويكتب بين أعينهم: هؤلاء عتقاء الله عز وجل، فيقول أهل الجنة هؤلاء الجهنميون، فيقول الجبار: بل هؤلاء عتقاء الجبار." حم، ن والدارمي وابن خزيمة، ص - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٩٠۔۔۔ میں کھڑا اپنی امت کا انتظار کررہاں ہوں گا کہ وہ پل صراط پارکرے، اتنے میں میرے پاس عیسیٰ (علیہ السلام) آکر کہیں گے : جناب محمد ! یہ انبیاء آپ کے پاس شکایت کررہے ہیں۔ یا فرمائیں گے۔ یہ جمع ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں کہ وہ امتوں کے اجتماع کو جہاں چاہے منتشر کرے۔ اس غم کی وجہ سے جس میں وہ مبتلا ہیں اور مخلوق منہ تک پسینے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ مومن تو وہ ان کے لیے زکام کی مانند ہوگا اور کافر تو اس پر موت (کی سی حالت) طاری ہوگی۔ وہ فرمائیں گے ٹھہرو میں ابھی آپ کے پاس آتا ہوں، اس کے بعد اللہ کے نبی جاکر عرش کے نیچے کھڑے ہوجائیں گے۔ اس وقت ان پر ایسا القاء ہوگا جو کسی برگزیدہ فرشتے اور نہ کسی بھیجے ہوئے رسول کی طرف ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجے گا کہ محمد کے پاس جا کر ان سے کہو ! اپنا سر اٹھائیے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کریں، آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ چنانچہ میں اپنی امت کے بارے میں شفاعت کروں گا کہ ہرننانوے میں سے ایک انسان نکال دیں۔ پھر میں اپنے رب سے اصرار کرتا رہوں گا۔ شفاعت کیے بغیر میں اس جگہ سے نہیں اٹھوں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہ عطاکرکے فرمائے گا۔ اے محمد، اپنی امت میں سے اس مخلوق خدا کو جنت میں داخل کردو جس نے لاالٰہ الا اللہ کی گواہی صرف اخلاص کے ساتھ ایک دن دی اور اسی پر فوت ہوا۔ (مسند احمد، ابن خزیمہ، سعید بن منصور عن انس)
39090- "إني لقائم انتظر أمتي تعبر على الصراط إذ جاءني عيسى فقال: هذه الأنبياء قد جاءتك يا محمد يشتكون - أو قال: يجتمعون - ويدعون الله أن يفرق جمع الأمم إلى حيث شاء الله لغم ما هم فيه والخلق ملجمون في العرق فأما المؤمن فهو عليه كالزكمة وأما الكافر فيغشاه الموت، قال: انتظر حتى أرجع إليك، فذهب نبي الله فقام تحت العرش فلقي ما لم يلقى ملك مصطفى ولا نبي مرسل فأوحى الله إلى جبريل أن: اذهب إلى محمد فقل له: ارفع رأسك سل تعطه واشفع تشفع، فشفعت في أمتي أن أخرج من كل تسعة وتسعين إنسانا واحدا، فما زلت أتردد إلى ربي عز وجل فلا أقوم منه مقاما إلا شفعت حتى أعطاني الله من ذلك أن قال: يا محمد! أدخل من أمتك من خلق الله عز وجل من شهد أن لا إله إلا الله يوما واحدا مخلصا ومات على ذلك." حم وابن خزيمة، ص - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٩١۔۔۔ تم دنیاوآخرت میں میرے ساتھی ہو، اللہ تعالیٰ نے مجھے بیدار کیا اور فرمایا : اے محمد ! میں نے جو نبی ورسول بھیجا اس نے مجھ سے ایک سوال کیا جو میں نے اسی عطا کیا، تو اے محمد ! تم مانگو تمہیں بھی دیا جائے گا، میں نے عرض کیا : میرا سوال قیامت کے روز اپنی امت کے لیے شفاعت ہے، حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! شفاعت کیا ہے ؟ میں عرض کروں گا، اے میرے رب ! میں شفاعت جسے میں نے آپ کے پاس چھپا رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہاں ، پھر اللہ تعالیٰ میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال دے گا اور انھیں جنت میں ڈال دے گا (مسند احمد، طبرانی والشیرازی فی الالقاب عن عبادۃ بن الصامت
39091- "أنتم أصحابي في الدنيا والآخرة، إن الله تعالى أيقظني فقال: يا محمد! إني لم أبعث نبيا ولا رسولا إلا وقد سألني مسألة أعطيتها إياه فسل يا محمد تعطه! فقلت: مسألتي شفاعة لأمتي يوم القيامة. قال أبو بكر: يا رسول الله! وما الشفاعة؟ قال: أقول: يا رب! شفاعتي التي اختبأت عندك، فيقول الرب تبارك وتعالى: نعم، فيخرج ربي عز وجل بقية أمتي من النار فينبذهم في الجنة." حم، طب والشيرازي في الألقاب - عن عبادة بن الصامت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯১০৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٠٩٢۔۔۔ لوگو ! کیا بات ہے کہ مجھے گھر والوں کے بارے میں اذیت دی جاتی ہے۔ اللہ کی قسم ! میری شفاعت ملے گی یہاں تک کہ وہ آجائے بنی حکم اور صداء سلہب قیامت کے دن آجائیں ۔ (طبرانی وابن مندہ عن ابوہریرہ وابن عمر وعمار معاً ؟
39092- "يا أيها الناس! ما لي أوذي في أهلي! فوالله إن شفاعتي لتنال حتى جاء وحكم وصداء وسلهب يوم القيامة." طب وابن منده - عن أبي هريرة وابن عمر وعمار معا".
তাহকীক: