কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৯১৬৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحوض
٣٩١٥٣۔۔۔ میں جنت میں داخل ہوا تو ایک نہر دیکھی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے ہیں میں نے اس کے بہتے پانی میں ہاتھ ڈالا تو وہ خوشبو دار مشک تھا میں نے کہا : جبرائیل یہ کیا ہے انھوں نے کہا : یہ وہ کوثر ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا۔ (مسند احمد، بخاری ترمذی نسائی عن انس)
39153- "دخلت الجنة فإذا أنا بنهر حافتاه خيام اللؤلؤ! فضربت بيدي إلى ما يجري فيه من الماء فإذا هو مسك أذفر فقلت: ما هذا يا جبريل؟ قال: هذا الكوثر الذي أعطاك الله." حم، خ، ت، ن - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৬৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحوض
٣٩١٥٤۔۔۔ حوض کے برتنوں کی تعداد آسمانی ستاروں جتنی ہے۔ (ابوبکر بن ابی داؤد فی البعث عن انس)
39154- "عدد آنية الحوض كعدد نجوم السماء." أبو بكر بن أبي داود في البعث - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৬৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحوض
٣٩١٥٥۔۔۔ یہ امت حوض پر ضرور ایسا اژدھام بنائے گی جیسے پانچ دن سے پیاسے اونٹ پانی کے گھاٹ پر بناتے ہیں۔ (طبرانی عن العرباض)
39155- "لتزدحمن هذه الأمة على الحوض إزدحام الإبل وردت لخمس." طب - عن العرباض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৬৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الحوض
٣٩١٥٦۔۔۔ جب دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں ڈالو گے تو کوثر کے بہاؤ کی آواز سنو گے۔ (دارقطنی عن عائشۃ)

کلام :۔۔۔ تکمیل النفع ضعیف الجامع ٤٥٤۔
39156- "إذا جعلت أصبعيك في أذنيك سمعت خرير الكوثر." قط - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٥٧۔۔۔ مجھے اپنا حوض دکھایا گیا تو اس کے کناروں پر آسمانی ستاروں کی طرح جام پڑے تھے میں نے جب اس میں اپنا ہاتھ ڈالا تو خوشبودار تھا۔ ابن النجار عن انس)
39157- "أريت حوضي فإذا على حافتيه آنية مثل نجوم السماء فأدخلت يدي فيه فإذا عنبر أذفر." ابن النجار - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٥٨۔۔۔ مجھے جنت کی ایک نہر دی گئی جس کا نام کوثر ہے اس کے درمیان میں یاقوت، مرجان، زبرجد اور موتی ہیں وہ اللہ کی قسم ! صنعاء اور ایلہ جتنی (چوڑی) ہے اس میں رکھے جام آسمانی ستاروں کی طرح ہیں اے فہد کی بیٹی مجھے وہاں آنے والوں میں تیری قوم سب سے زیادہ محبوب ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن اسامۃ بن زید)
39158- "أعطيت نهرا في الجنة يدعى "الكوثر" وعرضه ياقوت ومرجان وزبرجد ولؤلؤ، هو والله مثل ما بين صنعاء وأيلة فيه أباريق مثل عدد نجوم السماء، وأحب واردها إلى قومك يا ابنة فهد." طب - عن أسامة بن زيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٥٩۔۔۔ مجھے جنت میں ایک نہر کوثر دی گئی جس کی لمبائی چوڑائی مشرق ومغرب جتنی ہے اس سے جو بھی پی لے گا پیاسا نہیں ہوگا اور جو اس سے وضو کرے گا اس کے بال پراگندہ نہیں ہوں گے اس سے وہ شخص نہیں پی سکے گا جس نے میرا ذمہ کا انکار کیا میرے اہل بیت کو قتل کیا۔ (ابن مردویہ عن انس)
39159- "أعطيت الكوثر نهرا في الجنة، عرضه وطوله ما بين المشرق والمغرب، لا يشرب أحدا فيظمأ، ولا يتوضأ أحد فيتشعث أبدا، لا يشربه إنسان أخفر ذمتي ولا قتل أهل بيتي." ابن مردويه - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٠۔۔۔ مجھے جنت کی ایک نہر عطا کی گئی جسے کوثر کہتے ہیں اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا اور مکھن سے زیادہ نرم ہوگا اس میں پرندے ہوں گے جس کی گردنیں جانور کی طرح ہوں گی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ تو بڑے عمدہ ہوں گے آپ نے فرمایا : ان کا گوشت ان سے زیادہ نرم وملائم ہوگا۔ (ابن مردویہ عن انس)
39160- "أعطيت نهرا في الجنة يقال له "الكوثر" ماؤه أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل وألين من الزبد، فيه طيور أعناقها كالجزر، قال عمر: إنها لناعمة! قال: أكلها أنعم منها." ابن مردويه - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦١۔۔۔ مجھے کوثر عطا کی گئی میں نے اس کی مٹی میں ہاتھ مارا تو وہ خوشبودار مشک تھا اور اس کے کنکر موتی تھے اور اس کے کنارے پر چمکتے موتی ہوں گے۔ (ابویعلی عن انس)
39161- "أعطيت الكوثر فضربت بيدي إلى تربته فإذا مسك أذفر، وإذا حصاه اللؤلؤ، وإذا حافتاه قباب الدر." ع - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٢۔۔۔ میرا حوض ایلہ وضعاء جتنا چوڑا ہے اور اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جیسی ہے اس میں جنت کے دوپرنالے گرتے ہیں ایک چاندی کا اور دوسرا سونے کا اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے میٹھا ہے برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مکھن سے زیادہ نرم وملائم ہوگا اس کے جام ستاروں کی تعداد میں ہیں جس نے اس سے پیا وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہیں ہوگا۔ (مسند احمد، حاکم عن ابی برزہ )
39162- "إن حوضي ما بين أيلة وصنعاء، عرضه كطوله، يصب فيه ميزابان من الجنة: أحدهما من ورق والآخر من ذهب وهو أبيض من اللبن وأحلى من العسل وأبرد من الثلج وألين من

الزبد، أباريقه كعدد نجوم السماء، فمن شرب منه لم يظمأ حتى يدخل الجنة." حم، طب، ك - عن أبي برزة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٣۔۔۔ میرا حوض اتنا اتنا ہے اس میں آسمانی ستاروں جتنے برتن ہوں گے اس کا پانی مشک سے زیادہ خوشبودار شہد سے زیادہ میٹھا برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگا جس نے اس کا ایک گھونٹ پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور جس نے اس سے نہ پیا وہ کبھی سیراب نہیں ہوگا۔ (طبرانی عن انس)
39163- "إن حوضي من كذا إلى كذا، فيه من الآنية عدد نجوم السماء، أطيب ريحا من المسك وأحلى من العسل وأبرد من الثلج وأبيض من اللبن، من شرب منه شربة لم يظمأ أبدا، ومن لم يشرب منه لم يرو أبدا." طب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٤۔۔۔ میرا حوض (اتنا چوڑا ) ہے (جتنا) ایلہ وعمان کے درمیان فاصلہ ہے۔ (ابن عساکر عن الفرزدق عن ابوہریرہ )
39164- "إن لي حوضا كما بين أيلة وعمان." ابن عساكر - عن الفرزدق عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٥۔۔۔ میں حوض پر تمہارا پیشروہوں گا اس کی چوڑائی اتنی ہے جتنی صنعاء اور ایلہ کے درمیان ہے گویا اس کے جام (کثرت میں ) ستارے ہیں۔ (طبرانی عن جابر ابن سمرب)
39165- "أنا فرطكم على الحوض، وإن بعد ما بين طرفيه كما بين صنعاء وأيلة كأن الأباريق فيه النجوم." طب - عن جابر ابن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৭৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٦۔۔۔ میں تم سے پہلی تمہارا پیشرو ہوں تو جب مجھے نہ دیکھ پاؤ تو حوض پر ہوں گا جس کی چوڑائی ایلہ اور مکہ کے درمیان والے علاقہ جتنی ہے بہت سے مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لائیں گے لیکن اس سے نہیں پی سکیں گے۔ (مسند احمد وابن ابی عاصم وابو عوانہ ابن حبان، سعید بن منصور عن جابر)
39166- "أنا فرطكم بين أيديكم، فإذا لم تروني فأنا على الحوض قدر ما بين أيلة إلى مكة، وسيأتي رجال ونساء بقرب وآنية فلا يطعمون منه شيئا." حم وابن أبي عاصم وأبو عوانة، حب، ص - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٧۔۔۔ قیامت کے دن مجھے سب سے پہلے بلایا جائے گا میں کھڑے ہو کر آؤں گا پھر مجھے سجدہ کی اجازت دی جائے گی میں ایسا سجدہ کروں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ خوش ہوگا پھر مجھے اجازت ہوگی میں سراٹھاؤں گا اور میں اللہ تعالیٰ سے ایسی دعا مانگوں گا جس سے اللہ تعالیٰ خوش ہوگا کل (بروز قیامت وضو کی علامات کی وجہ سے چہروں اور پاؤں سے چمکتے کھڑے ہوں گے پھر لوگوں کو حوض پر لایا جائے گا جو بصری سے ضعاء تک چوڑا ہوگا۔ (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید شہد سے میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگا اس میں ستاروں کی تعداد میں جام ہوں گے جس نے وہاں جاکر پیادہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا، پھر لوگوں کے سامنے پل صراط رکھا جائے گا تو پہلے لوگ بجلی کی طرح (گزرتے) دکھائی دیں گے پھر وہ ایک طرح پھر پلک جھپکنے کی طرح پھر عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح ہر حال میں یہ اعمال کے لحاظ سے ہوگا فرشتے پل صراط کے دونوں جانب کہہ رہے ہوں گے : اے رب ! سلامت رکھ سلامت رکھ ! تو کوئی سلامتی سے نجات پاجائے گا کوئی خراش کھا کر پار ہوگا اور کوئی آگ میں گرپڑے گا جہنم اس دن کہے گی : کیا اور کچھ ہے یہاں تک کہ رب تعالیٰ اسمیں رکھ دیں گے جو چاہیں گے اور وہ سکڑنا اور سمٹنا شروع ہوجائے گا اور اس سے ایسے آواز آئے گی جیسے نئے توشہ دان سے آتی ہے (جب آدمی اسے بھردے) تو وہ کہے گا بس بس بس (الحکیم عن ابی بن کعب
39167- "أول من يدعى يوم القيامة أنا فأقوم فآتي، ثم يؤذن لي في السجود فأسجد له سجدة يرضى بها عني ثم يأذن لي فأرفع فأدعوه بدعاء يرضى به عني، يقومون غدا غرا محجلين من آثار الوضوء فيوردون على الحوض ما بين بصرى إلى الصنعاء، أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل وأطيب ريحا من المسك، فيه من الآنية عدد نجوم السماء، من ورده فشرب منه لم يظمأ بعده أبدا، ثم يعرض الناس على الصراط فيرى أوائلهم كالبرق، ثم يمرون كالريح، ثم يمرون كالظرف، ثم يمرون كأجاويد الخيل والركاب على كل حال وهي الأعمال، والملائكة جانبي الصراط يقولون "رب! سلم، سلم" فسالم ناج ومخدوش ناج، وترمل في النار، وجهنم تقول: "هل من مزيد"! حتى يضع فيها رب العالمين ما شاء أن يضع فتزوى وتنقبض وتغرغر كما تغرغر المزادة الجديدة إذا ملئت وتقول: قط قط قط الحكيم - عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٨۔۔۔ آگاہ رہو ! میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوں اس کی چوڑائی صنعاء سے ایلہ تک ہے اس کے جام ستاروں کی مقدار ہیں۔ (مسند احمد، مسلم وابو عوانۃ عن جابر بن سمرۃ)
39168- "ألا! إني فرطكم على الحوض، إن بعد ما بين طرفيه مثل ما بين صنعاء وأيلة، كأن الأباريق فيه النجوم." حم م وأبو عوانة - عن جابر بن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٦٩۔۔۔ لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوں اور تم میرے حوض پر آؤگے جس کی چوڑائی بصری سے صنعاء تک ہے اس میں ستاروں کی تعداد (جام) ہیں۔ (سمویہ عن حذیفہ ابن امید)
39169- "أيها الناس! إني فرطكم وإنكم واردون على حوضي، عرضه ما بين بصرى وصنعاء، فيه عدد النجوم." سمويه - عن حذيفة ابن أسيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٠۔۔۔ حوض کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہے اس کا پانی چاندی سے بڑھ کر سفید اور شہد سے میٹھا ہے جس نے ایک گھونٹ پیاوہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (دارقطنی فی الافراد عن ابن عمرو)
39170- "الحوض عرضه مثل طوله، أبيض من الفضة وأحلى من العسل من شرب منه شربة لم يظمأ آخر ما عليه." قط في الأفراد - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧١۔۔۔ کوثر صنعاء سے ایلہ تک کے شامی علاقی جتنی نہ رہے اس کے برتن ستاروں کی تعداد کی اس پر ایسے پرندے آتے ہیں جن کی گردنیں بختی اونٹوں جیسی کی ان کا کھانا ان سے بھی لذیذ ہے۔ (ھناد عن انس)
39171- "الكوثر نهر كما بين صنعاء إلى أيلة من أرض الشام آنيته عدد نجوم السماء، يرده طير لها أعناق كأعناق البخت أكلها أنعم منها." هناد - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٢۔۔۔ کو ثروہ نہر ہے جس کا میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے اس پر بڑی بھلائی ہے وہ میرا حوض ہے قیامت کے روز اس پر میری امت آئے گی اس کے برتن ستاروں کی تعداد ہیں ان میں سے ایک شخص روک دیا جائے گا۔ میں کہوں گا : اے میرے رب ! یہ میرا امتی ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : آپ کو معلوم نہیں اس نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کیں۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ)
39172- "الكوثر نهر وعدني ربي، عليه خير كثير، هو حوضي، ترد عليه أمتي يوم القيامة، آنيته عدد النجوم، فيختلج العبد منهم فأقول: يا رب! إنه من أمتي، فيقول: لا تدري ما أحدث بعدك." ش ... ".
tahqiq

তাহকীক: