কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৯১৮৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٣۔۔۔ میرا حوض عدن سے عمان تک ہے اس میں ستاروں کی تعداد جام ہیں جس نے اس سے پیا کبھی پیاسا نہیں ہوگا میرے پاس میری امت کے وہ لوگ آئیں گے جن کے سرپراگندہ کپڑے میلے مالدار عورتوں سے نکاح نہیں کرسکتے جن کے سامنے بند دروازے یعنی بادشاہوں کے نہیں کھولے جاتے ان سے حق وصول تو کیا جاتا ہے لیکن انھیں ان کا حق دیا نہیں جاتا۔ (طبرانی، سعید بن منصور عن ابی امامۃ)
39173- "حوضى كما بين عدن وعمان، فيه الأكاويب عدد نجوم السماء، من شرب منه لم يظمأ بعده أبدا، وإن ممن يرد علي من أمتي الشعثة رؤسهم الدنسة ثيابهم لا ينكحون المتنعمات ولا يحصرون السدد - يعني أبواب السلطان - الذين يعطون كل الذي عليهم ولا يعطون كل الذي لهم." طب، ص - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٤۔۔۔ میرا حوض عدن سے عمان کے درمیان علاقہ جتنا ہے اور اسے زیادہ کشادہ ہے اس میں سونے چاندی کے دوپرنالے ہیں اس کا پانی دودھ سے بڑھ کر سفید شہد سے زیادہ لذیذ اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے جس نے اس سے پیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور نہ اس کا چہرہ سیاہ ہوگا۔ (مسند احمد، بن حبان ، ابن ماجہ وسمویہ عن ابی امامۃ)
39174- "حوضي مثل ما بين عدن وعمان وهو أوسع وأوسع فيه مثعبان من ذهب وفضة، شرابه أبيض من اللبن وأحلى مذاقة من العسل وأطيب ريحا من المسك، من شرب منه لم يظمأ بعدها ولم يسود وجهه أبدا." حم، طب، حب، هـ، وسمويه - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٥۔۔۔ میرے حوض کی (چوڑائی) ایک ماہ کی مسافت ہے اس کے کنارے برابر ہیں اس کے جام ستاروں کی تعداد ہیں اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے جس نے اس کا ایک گھونٹ پی لیا کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عباس)
39175- "حوضي مسيرة شهر، زواياه سواء، أكوابه عدد نجوم السماء، ماؤه أبيض من الثلج وأحلى من العسل وأطيب من المسك، من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا." طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৮৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٦۔۔۔ میرا حوض عدن و عمان کے درمیانی علاقہ جتنا ہے اس کا پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے اس کے جام آسمانی ستاروں کی تعداد میں ہوں گے جس نے اس کا ایک گھونٹ بھی پی لیا کبھی پیاسا نہیں ہوگا سب سے پہلے وہاں مہاجرین کے فقراء لوگ آئیں گے کسی نے کہا : یارسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جن کے سرپراگندہ چہرے پیلے پڑے ہوئے جن کے کپڑے میلے ان کے سامنے بند دروازے نہیں کھولے جاتے اور نہ وہ مالدار عورتوں سے شادی کرسکتے ہیں جو ان کے ذمہ ہے وہ تو وصول کرلیا جاتا ہے لیکن جو ان کا حق بنتا ہے وہ نہیں دیا جاتا۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر عن ابن عمر)
39176- "حوضي كما بين عدن وعمان، أبرد من الثلج وأحلى من العسل وأطيب ريحا من المسك. أكاويبه مثل نجوم السماء، من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا، أول الناس ورودا عليه صعاليك المهاجرين قال قائل منهم: ومن هم يا رسول الله؟ قال الشعثة رؤسهم، الشحبة وجوههم، الدنسة ثيابهم الذين لا تفتح لهم السدد ولا ينكحون المتنعمات، الذين يعطون كل الذي عليهم ولا يأخذون الذي لهم." حم، طب - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٧۔۔۔ میرا حوض بیضاء سے بصری تک ہے مجھے اللہ تعالیٰ ایسے حصہ سے عطا کرے گا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کسی انسان کو اس کے کناروں کا پتہ نہیں۔ (طبرانی عن عتبۃ بن عبدالسلمی) ۔
39177- "حوضي كما بين البيضاء إلى بصرى، يمدني الله فيه بكراع لا يدري إنسان ممن خلق أين طرفاه." طب - عن عتبة بن عبد السلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٨۔۔۔ میرا حوض عمان سے یمن تک ہے اس میں آسمانی ستاروں کی تعداد میں جام ہیں جس نے اس کا ایک گھونٹ ہی پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (ابویعلی عبداللہ بن بریدۃ عن ابیہ)
39178- "حوضي ما بين عمان إلى اليمن، فيه آنية عدد نجوم السماء من شرب منه شربة لم يظمأ بعدها أبدا." ع - عبد الله بن بريدة عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٧٩۔۔۔ قیامت کے روز میں اپنے حوض پر ہوں گا اور وہ لوگ جنہوں نے میری پیروی کی اور جو انبیاء مجھ سے پانی طلب کریں گے اللہ تعالیٰ قوم ثمود کی اونٹنی صالح (علیہ السلام) کے لیے ہے لائے گا چنانچہ وہ اس کا دودھ دوئیں گے خود بھی پئیں گے اور ان کے ساتھ والے ایماندار بھی پئیں گے پھر وہ اس پر اپنی قبر سے سوار ہوں گے یہاں تک کہ محشر تک پہنچ جائیں وہ اونٹنی چلارہی ہوگی کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ اس دن اپنی اونٹنی عضباء پر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں عضباء پر میری بیٹی فاطمہ ہوگی میں براق پر بیٹھ کر میدان محشر کی طرف جاؤں گا یہ صرف انبیاء میں سے میرے ساتھ خاص ہے اور بلال جنتی اونٹنی پر آئے گا صرف اذان کی وجہ سے ہم سے آگے ہوگا جب وہ اشہدان لاالہ الا اللہ کہے گا تو انبیاء اور ان کی امتیں کہیں گی ہم گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جب وہ اشہدان محمدارسول اللہ کہے گا تو انبیاء اور ان کی امتیں کہیں گی ہم بھی اس کی گواہی دیتے ہیں تو کس کی گواہی قبول ہوگی اور کسی کی ناقابل قبول جب بلال وہاں پہنچ جائے گا تو اسے جنت کے جوڑے دئیے جائیں گے جنہیں وہ پہن لے گا قیامت کے روز انبیاء کے بعد جسے پوشاک پہنائی جائے گی وہ بلال اور نیک ایماندار ہیں۔ (حمید بن زنجویہ وابن عساکر عن کثیر بن مرۃ الحضرمی، عقیلی فی الضعفاء، ابن عساکر عن عبدالکریم بن کیسان عن سوید بن عمیر قال : عقیلی : ابن کیسان مجھول وحدیثہ غیر محفوظ واورد دابن الجوزی حدیث سوید فی الموضوعات وافقہ الذھبی وقال غیرہ منکر)

کلام :۔۔۔ ترتیب الموضوعات ١١١٨، التنزیہ ٢ ص ٣٨٠۔
39179- "حوضى أشرب منه يوم القيامة ومن اتبعني ومن استسقاني من الأنبياء، ويبعث الله ناقة ثمود لصالح فيحلبها فيشرب من لبنها هو والذين آمنوا معه من قومه ثم يركبها من قبره حتى يوافي به المحشر ولها رغاء، فقيل: يا رسول الله! وأنت يومئذ على العضباء؟ قال: لا، ابنتي فاطمة على العضباء وأحشر أنا على البراق واختصصت به من دون الأنبياء، ويحشر بلال على ناقة من نوق الجنة يقدمنا بالأذان محضا فإذا قال: اشهد أن لا إله إلا الله، قالت الأنبياء وأممها: ونحن نشهد أن لا إله إلا الله؛ فإذا قال: أشهد أن محمدا رسول الله، قالوا: ونحن نشهد على ذلك، فمن مقبول منه ومن مردود عليه، فإذا وافى بلال استقبل بحلة من حلل الجنة فيلبسها، وأول من يكسى يوم القيامة من حلل الجنة بعد الأنبياء والشهداء بلال وصالح المؤمنين." حميد بن زنجويه وابن عساكر - عن كثير بن مرة الحضرمي؛ عق ابن عساكر - عن عبد الكريم بن كيسان عن سويد بن عمير؛ قال عق: ابن كيسان مجهول وحديثه غير محفوظ؛ وأورد ابن الجوزي حديث سويد في الموضوعات ووافقه الذهبي، وقال غيره: منكر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٠۔۔۔ میرا حوض ایلہ ومصر (کے درمیانی علاقہ) جتناے اس کے جام بہت زیادہ ہیں اور فرمایا : آسمانی ستاروں کی تعداد میں ہیں اس کا پانی شہد سے بڑھ کر میٹھا دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک کی خوشبو سے بڑھ خوشبودار ہے جس نے اسے پی لیا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (مسند احمد عن حذیفۃ)
39180- "حوضي كما بين أيلة ومصر، آنيته أكثر وقال: مثل نجوم السماء، ماؤها أحلى من العسل وأشد بياضا من اللبن وأبرد من الثلج وأطيب من رائحة المسك، من شرب منه لم يظمأ بعد." حم - عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨١۔۔۔ یہ نہر یعنی کوثر اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کی ہے جس کا پانی دودھ سے سفید شہد سے میٹھا ہے اس میں پرندے ہیں جن کی گردنیں اونٹوں کی طرح ہیں حضرت عمر (رض) کہنے لگے : یہ تو بڑے عمدہ ہوں گے آپ نے فرمایا : ان کا کھانا ان سے زیادہ لذیذ ہے۔ (مسند احمد، ترمذی حسن، حاکم عن انس)
39181- "ذلك نهر أعطانيه الله - يعني الكوثر - أشد بياضا من اللبن وأحلى من العسل، فيه طير أعناقها كأعناق الجزر، قال عمر: إن هذه لناعمة! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكلتها منها أنعم." حم، ت: حسن ك - عن أنس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٢۔۔۔ مجھے کوثر عطا کی گئی جو جنت کی ایک نہر ہے اس کی چوڑائی لمبائی مشرق ومغرب جتنی ہے اس سے جو پیئے گا پیاسا نہیں ہوگا اور جو اس سے وضو کرے گا پراگندہ نہیں ہوگا وہ انسان اس سے نہیں پی سکے گا جس نے میری ذمہ داری توڑی یا میرے گھرانے والوں کو قتل کیا۔ (طبرانی فی الکبیر عن انس)
39182- "قد أعطيت الكوثر، نهر في الجنة عرضه وطوله ما بين المشرق والمغرب، لا يشرب منه أحد فيظمأ، ولا يتوضأ منه أحد فيشعث، لا يشربه إنسان أخفر ذمتي ولا قتل أهل بيتي." طب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٣ گویا مجھے اپنی امت کی چھینا جھپٹی حوض اور مقام کے درمیان نظر آرہی ہے ایکدوسرے سے مل کر کہے گا : اے کیا تم نے پانی پیا ؟ وہ کہے گا : ہاں اور دوسرا کہے گا کہ میں نے نہیں پیا میرا چہرہ پھیردیا گیا سو مجھے دسترس نہ ہوئی (الحسن بن سفیان عن جابر)
39183- "كأني أنظر إلى تدافع أمتي بين الحوض والمقام فيلقى الرجل الرجل فيقول: يا فلان! أشربت؟ فيقول: نعم ويلقى الآخر فيقول له: لا، صرف وجهي فما قدرت." الحسن بن سفيان - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٤۔۔۔ کچھ لوگوں کو میں (اپنے ) حوض سے ہٹانے کی وجہ سے ان سے جھگڑوں گا وہ میرے سامنے روک دئیے جائیں گے میں کہوں گا : یہ میرے ساتھی ہیں ! کہا جائے گا : آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کیں۔ (دارقطنی فی الافراد عن ابن مسعود)
39184- "لأنازعن رجالا عن الحوض فيختلجون دوني فأقول: أصحابي! فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك." قط في الأفراد - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٥۔۔۔ میرے پاس حوض پر ضرور بہت سی اقوام آئیں گے یہاں تک کہ جب میں انھیں اور وہ مجھے پہچان لیں گے میرے سامنے روک دئیے جائیں گے میں کہوں گا میرے رب ! میرے ساتھی ہیں ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کیں۔ (نعیم بن حماد فی الفتن عن حذیفۃ)
39185- "ليردن الحوض على أقوام حتى إذا عرفتهم وعرفوني اختلجوا دوني فأقول: يا رب أصحابي! فيقول: إنك لا تدري ما احدثوا بعدك." نعيم بن حماد في الفتن - عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯১৯৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٦۔۔۔ کچھ لوگوں کو کیا ہوا وہ کہتے ہیں : میری رشتہ داری کا کچھ فائدہ نہیں کیوں نہیں اللہ کی قسم میری رشتہ داری جڑی رہے گی اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوں وہاں کچھ لوگ آئیں گے اور آکر کہیں گے یا رسول اللہ ! میں فلاں ہوں میں فلاں ہوں میں کہوں گا میں نے تمہیں پہچان لیا ہے لیکن تم نے میرے بعد بدعات ایجاد کیں اور تم الٹے پاؤں پلٹ گئے۔ (حاکم عن ابی سعید
39186- "ما بال أقوام يقولون: إن رحمى لا تنفع! بلى والله إن رحمى موصولة، وإني فرطكم على الحوض، فإذا رجال جئت قام رجال فقال هذا: يا رسول الله أنا فلان، وقال هذا: أنا فلان، فأقول: قد عرفتكم ولكنكم أحدثتم بعدي ورجعتم القهقرى." ك - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٧۔۔۔ میری امت کے صرف اتنی دنیا باقی ہے جتنی سورج کی مقدار عصر کی نماز پڑھ لینے کے بعد رہتی ہے میرا حوض ایلہ سے مدینہ جتنا ہے اس میں ستاروں کی تعداد سونے چاندی کے جام ہیں۔ (الخطیب عن ابن عمرو)
39187- "ما بقي لأمتي من الدنيا إلا كمقدار الشمس إذا صليت العصر، إن حوضي ما بين أيلة إلى المدينة، فيه عدد النجوم من أقداح الذهب والفضة." الخطيب - عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٨۔۔۔ میرے حوض کی چوڑائی مدینہ اور صنعاء کا درمیانی یا مدینہ اور عمان کا درمیانی علاقہ ہے۔ (عبداللہ بن احمد بن حنبل عن علی)
39188- "مثل ما بين ناحيتي حوضي مثل ما بين المدينة وصنعاء أو مثل ما بين المدينة وعمان." عم - عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٨٩۔۔۔ تمہارے وعدہ کی جگہ میرا حوض ہے اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہے وہ ایلہ سے مکہ تک درمیانی علاقہ سے زیادہ وسیع ہے اور اس کی مسافت ایک مہینہ کی ہے اس میں ستاروں کی طرح جام ہیں اس کا پانی چاندی سے سفید ہے جو وہاں جاکر پیئے گا کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ (حاکم عن ابن عمرو)
39189- "موعدكم حوضي، عرضه مثل طوله، وهو أبعد مما بين أيلة إلى مكة - وذاك مسيرة شهر، فيه أمثال الكواكب أباريق، ماؤه أشد بياضا من الفضة، من ورده وشرب منه لم يظمأ بعده أبدا." ك عن ابن عمرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩٠۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ میں تمہارے وجہ سے حوض پر جھگڑا کروں میں کہا کروں کہ یہ میرے ساتھی ہیں پر کہا جائے گا : آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد کیا بدعات نکالیں۔ طبرانی، ابن عساکر عن ابی الدرداء)
39190- "لا ألفين ما نوزعت أحدا منكم على الحوض فأقول أناس من أصحابي! فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك." طب، كر - عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩١۔۔۔ انس ! اللہ تعالیٰ نے مجھے آج کی رات کوثر عطا کی جس کی لمبائی چھ سو سال کی اور اس کی چوڑائی مشرق سے مغرب کے درمیان علاقہ کی ہے اس سے کوئی مجھ سے پہلے نہیں پی سکے گا اور نہ وہ شخص پی سکے گا جس نے میرا عہد وذمہ توڑا میری اولاد کو تنہا چھوڑا اور میرے گھوڑے کو قتل کیا۔ (ابن عدی عن انس)
39191- "يا أنس! إن الله تعالى أعطاني الكوثر الليلة، طوله ستمائة عام وعرضه ما بين المشرق والمغرب، لا يشرب منه أحد قبلي ولا يطعمه من خفر ذمتي ووتر عترتي وقتل أهل بيتي." عد - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩٢۔۔۔ لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوں اور تم میرے پاس حوض پر آؤگے اس کی چوڑائی صنعاء سے بصری تک کا درمیانی علاقہ ہے اس میں ستاروں کی تعداد جام ہیں جو سونے چاندی کے ہوں گے اور جب تم میرے پاس آؤگے تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں پوچھوں گا کہ میرے بعد تم ان میں کیسا برتاؤ کرتے ہو ایک کتاب اللہ جو ایک رسی ہے جس کا ایک سرا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اور دوسرا تمہارے ہاتھ میں ہے سو اسے مضبوط تھامو اور گمراہ نہ ہو اور نہ اسے تبدیل کرو ! اور میری اولاد میرے گھرانے کے لوگ کیونکہ مجھے لطیف خبیر ذات نے آگاہ کیا کہ میرے حوض پر آنے تک دونوں جدا نہیں ہوں گے۔ (طبرانی حلیۃ الاولیاء والخطیب عن ابی لطفیل عن حذیفہ بن اسید)
39192- "يا أيها الناس! إني فرطكم وإنكم واردون علي الحوض، حوضي عرضه ما بين صنعاء وبصرى، فيه عدد النجوم قدحان1 من ذهب وفضة، وإني سائلكم حين تردون علي عن الثقلين فانظروا كيف تخلفوني فيهما، الثقل الأكبر - كتاب الله سبب طرفه بيد الله وطرفه بأيديكم، فاستمسكوا به ولا تضلوا ولا تبدلوا، وعترتي أهل بيتي فإنه قد نبأني اللطيف الخبير أنهما لن يفترقا حتى يرد علي الحوض." طب، حل والخطيب - عن أبي الطفيل عن حذيفة بن أسيد".
tahqiq

তাহকীক: