কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৯২০৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩٣۔۔۔ لوگو ! جب میں حوض پر ہوں گا تو تم لوگ جماعت درجماعت آؤگے تمہاری ایک جماعت ادھر ادھر چلی جائے گی میں نہیں گا انھیں کیا ہوا ؟ انھیں میرے پاس لاؤ تو ایک شخص چیخ کر کہے گا : انھوں نے آپ کے بعد دین بدل دیا تھا میں کہوں گا۔ دور ہوں دورہوں۔ (مسند احمد، طبرانی عن ام سلمۃ)
39193- "يا أيها الناس! إني بينما أنا على الحوض أتى بكم رفقة رفقة فذهبت طائفة منكم ههنا وههنا فقلت: ما لهم، هلموا إلي! فصرخ صارخ فقال: إنهم قد بدلوا بعدك، فأقول: سحقا سحقا." حم طب - عن أم سلمة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩٤۔۔۔ لوگو ! میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوں اس کی کشادگی کوفہ سے حجراسود تک ہے اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہیں اور میں نے اپنی امت کے کچھ لوگ دیکھے جب وہ میرے قریب ہونے لگے تو ان کے سامنے ایک شخص آکر انھیں مجھ سے دور کردے گا پھر دوسری جماعت آئے گی ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا تو ان میں سے کوئی بھی نہ چھوٹ سکے گا ہاں جانور کی مانند (ایک دور) حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ شاید وہ میں ہوں گا آپ نے فرمایا : نہیں وہ ایک قوم ہوگی جو تمہارے بعد نکلے گی جو دین کو ضائع کرے گی اور الٹے پاؤں لوٹ جائے گی۔ (حاکم عن ابن عمر)
39194- "يا أيها الناس! إني فرطكم على حوض، وإن سعته ما بين الكوفة إلى الحجر الأسود، وآنيته كعدد النجوم، وإني رأيت ناسا من أمتي لما دنوا مني خرج عليهم رجل فمال بهم عني، ثم أقبلت زمرة أخرى ففعل بهم كذلك، فلم يفلت منهم إلا كمثل النعم، قال أبو بكر: لعلي منهم يا نبي الله قال: لا، ولكنهم قوم يخرجون بعدكم يضيعون ويمشون القهقري." ك - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩٥۔۔۔ میرے ساتھ جو لوگ ہیں (وہ) ان میں سے ایک قوم میرے پاس آئے گی جب وہ میرے سامنے ہوں گے تو روک دئیے جائیں گے میں کہوں گا میرے رب ! میرے ساتھی ہیں میرے ساتھ ہیں ! کہا جائے گا : آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد کیا بدعات ایجاد کیں۔ (طبرانی من سمرۃ)
39195- "يرد علي قوم ممن كان معي فإذا رفعوا إلي رايتهم اختلجوا دوني فأقول: يا رب! أصيحابي أصيحابي، فيقال: إنك لا تدري ما أحدثوا بعدك." طب - عن سمرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২০৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩١٩٦۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ مجھے اپنی پہچان کرائے گا تو میں اللہ کے حضور ایسا سجدہ کروں گا جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوگا پھر مجھے گفتگو کی اجازت دی جائے گی پھر امت پل صراط سے گزرے گی جو جہنم کے درمیان رکھا جائے گا تو وہ آنکھ جھپک اور تیر سے تیز گزریں گے اور عمدہ گھوڑوں سے تیز رفتار یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص گھٹنوں پر چلتا نکلے گا یہ (ان کے ) اعمال ہیں اور جہنم مزید کا سوال کرے گی یہاں تک کہ حق تعالیٰ اس میں اپنا پاؤں رکھ دے گا (یعنی حساب وکتاب شروع کردے گا) تو وہ سمٹنا شروع کردے گی اور کہے گی بس بس ! اور میں حوض پر ہوں گا عرض کیا حوض کیا ہے ؟ فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ (اس کا پانی) دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے بڑھ کر ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہوگا اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے اس سے جو انسان پئے گا کبھی پیاسا نہیں ہوگا اور جو اس سے ہٹایا گیا وہ کبھی میرا رب نہیں ہوگا۔ (ابویعلی، دارقطنی فی الافراد عن ابی بن کعب)
39196- "يعرفني الله نفسه يوم القيامة فأسجد سجدة يرضى بها عني، ثم يؤذن لي في الكلام، ثم تمر أمتي على الصراط مضروب بين ظهراني جهنم فيمرون أسرع من الظرف والسهم وأسرع من أجود الخيل حتى يخرج الرجل منهم يحبو، وهي الأعمال، وجهنم تسأل المزيد حتى يضع قدمه فيها فينزوي بعضها إلى بعض وتقول "قط قط" وأنا على الحوض، قال: وما الحوض؟ قال: والذي نفسي بيده! إن شرابه أبيض من اللبن وأحلى من العسل وأبرد من الثلج وأطيب ريحا من المسك، وآنيته أكثر من عدد النجوم، لا يشرب منه إنسان فيظمأ أبدا، ولا يصرف فيروى أبدا." ع، قط في الأفراد - عن أبي بن كعب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩١٩٧۔۔۔ کیا تمہیں چودہویں کے چاند میں شک ہوسکتا ہے جب اس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو ؟ کیا تمہیں سورج کے دیکھنے میں شک ہوتا ہے جب اس کے سامنے کوئی بادل نہ ہو تم اپنے رب کو بھی ایسے ہی دیکھوں گے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع کرکے فرمائے گا : جو جس کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پیچھے چل دے تو سورج کے بچاری سورج کے پیچھے ہوجائیں گے چاند کے چاند کے پیچھے اور جو طاغوتوں (ہر وہ چیز جس کی اللہ کی علاوہ عبادت کی جائے) کے بچاری ہوں گے وہ ان کے پیچھے چل دیں گے اور یہ امت باقی رہ جائے گی اس میں اس کے منافقین بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسی صورت میں ظاہر ہوگا کہ وہ اسے پہچان چل دیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے : ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں یہ ہماری جگہ ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کے پاس پہنچ جائیں جب ہمارا رب آئے گا ہم اسے پہچان لیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے سامنے جانی پہچانی صورت میں آئیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے : آپ ہی ہمارے رب ہیں پھر وہ رب کی پیروی کرنے لگیں گے۔

اس کے بعد صراط جہنم کے درمیان نصب کردیا جائے گا میں پہلا رسول ہوں گا جو اپنی امت کو لیکر گزرے گا اس دن انبیاء کے سوا کوئی نہیں بولے گا انبیاء کی گفتگو بھی اس دن یہ ہوگی : اے اللہ ! سلامت رکھ سلامت رکھ ! اور جہنم میں آنگڑے ہوں گے جیسے کانٹے کیا تم نے سعدان بوٹی کے کاٹنے دیکھے ہیں ؟ وہ سعد ان کے کانٹوں جیسے ہوں گے البتہ ان کی موٹائی صرف اللہ ہی جانتا ہے وہ لوگوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے اچکیں گے کوئی اپنے عمل سے ہلاک ہوگا کوئی خراش پاکر نجات حاصل کرے گا جب اللہ تعالیٰ بندوں فیصلے کرچکے گا اور اپنی رحمت سے جہنمی لوگوں کو نکالنے کا ارادہ کرے گا تو فرشتوں کو حکم دے گا کہ جہنم سے ہر موحدکا نکا ال لوجولاالہ الا اللہ کا اقرار کرتا ہو چنانچہ وہ اس کو نکال لیں گے اور سجدوں کے نشانات کی وجہ سے انھیں پہچانیں گے اور اللہ تعالیٰ نے آگ کے لیے سجدہ کے نشانوں کو جلانا حرام قرار دیا ہے چنانچہ جب وہ جہنم سے نکالے جائیں گے تو وہ جھلس چکے ہوں گے پھر ان پر آب حیات ڈالا جائے گا وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلابی میں کوئی پودا اگتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان بندوں کے درمیان کرچکے گا اور ایک شخص جنت وجہنم کے درمیان رہ جائے گا وہ سب سے آخر میں جہنم سے نکلے گا اور سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا اس کا چہرہ کی طرف ہوگا وہ کہے گا میرے رب ! مجھے جہنم سے بچا مجھے اس کے دھویں سے تکلیف ہورہی ہے اس کی گرمی نے مجھے جلادیا ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تجھ سے یہ امید ہے کہ اگر تیرے ایسا کیا جائے تو کوئی سوال نہیں کرے گا وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم (میں) میں کروں گا اللہ تعالیٰ اس سے عہد و پیمان لے کر جہنم سے اس کا چہرہ پھیردیں گے اور جب جنت اور اس کی تروتازگی دیکھے گا تو جتنا اللہ چاہے گا وہ خاموش ہے رہے گا پھر کہے گا ! اے میرے رب ! مجھے جنت کے دروازے تک آگے لے جا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا تم نے عہد و پیمان نہیں تھا کہ اس کے سوا تم کوئی سوال نہیں کروں گے وہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں تیری مخلوق میں سے سب سے بدبخت نہیں ہونا چاہتا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : تجھ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ تم اس کے سوا کوئی چیز چیز نہیں مانگو گے وہ کہے گا : تیری عزت کی قسم ! میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا پھر اللہ تعالیٰ اس سے عہد و پیمان لیکر اسے جنت کے دروازے کے آگے لے آئیں گے جب وہ اس کے دروازے تک پہنچے گا تو اس کی زیب وزینت اور اس میں تروتازگی دیکھ کر جتنا اللہ چاہے وہ خاموش رہے گا پھر وہ عرض کرے گا میرے رب ! مجھے جنت میں داخل کردے ! اللہ تعالیٰ فرمائیں : ارے انسان ! تو کتنا بدعہد ہے کیا تو نے مجھ سے عہد و پیمان نہیں کیا کہ جو کچھ میں نے تجھے دے دیا اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا۔ وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اپنی مخلوق میں سے بدبخت ترین نہ بناتو اللہ تعالیٰ اس کی بات سے خوش ہوں گے پھر اسے جنت جانے کی اجازت دے دیں گے۔

پھر ! اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کوئی تمنا کر وہ تمنا کرے گا یہاں تک کہ اس کی تمنا ختم ہوجائے گی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اتنی اتنی اور تمنا کر اس کا رب اسے یاد دلاتا رہے گا یہاں تک کہ اس کی تمنائیں ختم ہوجائیں گی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تیرے لیے ہے یہ سب کچھ اور اس کے ساتھ اسی جیسا بہت کچھ ہے۔ (مسند احمد بخاری عن ابوہریرہ ابوداؤد عن ابی سعید لکنہ قال : وعشرۃ امقالہ)
39197- "هل تمارون في القمر ليلة البدر ليس دونه سحاب؟ هل تمارون في رؤية الشمس ليس دونها سحاب؟ فإنكم ترونه كذلك، يحشر الله الناس يوم القيامة فيقول: من كان يعبد شيئا فليتبعه! فيتبع من كان يعبد الشمس الشمس، ويتبع من كان يعبد القمر القمر، ويتبع من كان يعبد الطواغيت الطواغيت، وتبقى هذه الأمة فيها منافقوها فيأتيهم الله في صورة غير صورته التي يعرفون فيقول: أنا ربكم، فيقولون: نعوذ بالله منك! هذا مكاننا حتى يأتينا ربنا، فإذا جاء ربنا عرفناه، فيأتيهم الله في صورته التي يعرفون فيقول: أنا ربكم، فيقولون: أنت ربنا، فيتبعونه، ويضرب الصراط بين ظهراني جهنم، فأكون أول من يجوز من الرسل بأمته، ولا يتكلم يومئذ أحد إلا الرسل، كلام الرسل يومئذ "اللهم! سلم سلم" وفي جهنم كلاليب مثل شوك السعدان، هل رأيتم شوك السعدان؟ فإنها مثل شوك السعدان غير أنه لا يعلم ما قدر عظمها إلا الله، تخطف الناس بأعمالهم، فمنهم من يوبق بعمله ومنهم من يخردل ثم ينجو، حتى إذا فرغ الله من القضاء بين العباد وأراد أن يخرج برحمته من أراد من أهل النار أمر الملائكة أن يخرجوا من النار من كان لا يشرك بالله شيئا ممن يقول: لا إله إلا الله، فيخرجونهم ويعرفونهم بآثار السجود، وحرم الله على النار أن تأكل آثار السجود، فيخرجون من النار قد امتحشوا، فيصب عليهم ماء الحياة فينبتون كما تنبت الحبة في حميل السيل ثم يفرغ الله من القضاء بين العباد ويبقى رجل بين الجنة والنار وهو آخر أهل النار خروجا وآخر أهل الجنة دخولا الجنة مقبلا بوجهه قبل النار فيقول: يا رب! اصرف وجهي عن النار فقد قشبني ريحها وأحرقني ذكاؤها، فيقول: هل عسيت إن فعل ذلك بك أن تسأل غير ذلك؟ فيقول: لا وعزتك! فيعطي الله ما شاء من عهد وميثاق فيصرف الله وجهه عن النار، فإذا أقبل به على الجنة ورأى ببهجتها سكت ما شاء الله أن يسكت ثم قال: يا رب! قدمني عند باب الجنة، فيقول الله له: أليس قد أعطيت العهد والميثاق أن لا تسأل غير الذي كنت سألت؟ فيقول: يا رب! لا أكون أشقى خلقك، فيقول: فما عسيت إن أعطيت ذلك أن تسأل غيره؟ فيقول: لا وعزتك! لا أسألك غير ذلك، فيعطي ربه ما شاء من عهد وميثاق فيقدمه إلى باب الجنة، فإذا بلغ بابها فرأى زهرتها وما فيها من النضرة والسرور فيسكت ما شاء الله أن يسكت فيقول: يا رب! أدخلني الجنة، فيقول الله: ويحك يا ابن آدم! ما أغدرك! أليس قد أعطيت العهد والميثاق أن لا تسأل غير الذي أعطيت؟ فيقول: يا رب! لا تجعلني أشقى خلقك، فيضحك الله منه ثم يأذن له في دخول الجنة فيقول: تمن، فيتمنى حتى إذا انقطعت أمنيته قال الله تعالى: فزد من كذا وكذا - أقبل يذكره ربه حتى إذا انتهت به الأماني قال الله عز وجل: لك ذلك ومثله معه." حم، ق1 - عن أبي هريرة، د - عن أبي سعيد، لكنه قال: وعشرة أمثاله"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩١٩٨۔۔۔ کیا تم دوپہر کے وقت سورج کو صاف دیکھنے میں جب اس کے ساتھ کوئی بادل نہ ہو کوئی تکلیف ہوتی ہے اور کیا چودہویں رات کے چاند کو صاف دیکھنے میں جب اس کے ساتھ کوئی بادل نہ ہو دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے دیدار میں اسی طرح کوئی مشقت نہیں ہوگی جیسے ان دونوں کے دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی قیامت کے روز ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا ہر امت اپنے معبود کے پیچھے چلے تو کوئی نہیں بچے گا اس کے علاوہ جو بتوں اور نصب کی چیزوں کی عبادت کریں گے آگ میں گرنا شروع ہوجائیں گے صرف وہ لوگ بچیں گے جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے چاہے نیک ہوں یا بد اور اہل کتاب کے باقی ماندہ لوگ ہوں گے پھر یہود کو بلایا جائے گا ان سے کہا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے چاہے نیک ہوں یا بد اور اہل کتاب کے باقی ماندہ لوگ ہوں گے پھر یہود کو بلایا جائے گا ان سے کہا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے : ہم اللہ کے بیٹے عزیز کی عبادت کرتے تھے کہا جائے گا جھوٹ بکتے ہو اللہ تعالیٰ نے کوئی بیوی بنائی اور نہ کوئی بیٹا سو تم کسے تلاش کرتے ہو وہ کہیں گے ہمارے رب ! ہمیں پیاس لگی ہے پانی پلا ! انھیں اشارہ کیا جائے گا۔ (جاؤ) گھاٹ کر کیوں نہیں اترتے ! پھر انھیں ایسی آگ کی طرف جمع کیا جائے گا جو چمکتا سراب ہوگا پھر وہ آگ گرنے لگیں گے۔

اس کے بعد عیسائیوں کو بلایا جائے گا کہا جائے گا تم کس کی عبادت کرتے تھے وہ کہیں گے : ہم اللہ کے بیٹے مسیح کی عبادت کرتے تھے کہا جائے گا : جھوٹ بکتے ہو اللہ تعالیٰ کی نہ بیوی ہے اور نہ بیٹا پھر تم کس کی تلاش میں ہو وہ کہیں گے : ہمارے رب ہمیں پیاس لگی ہے ہمیں پانی پلا، انھیں اشارہ کیا جائے گا گھاٹ میں کیوں نہیں اترتے پر انھیں ایسی آگ کی طرف جمع کیا جائے گا جو چمکتا سراب ہوگا اور وہ آگ میں گرنا شروع ہوجائیں گے پھر جب اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک وبدوہ جائیں گے اللہ تعالیٰ اس ہلکی سی جھلک میں ان کے سامنے ظاہر ہوگا جسے وہ دیکھ سکیں اللہ فرمائیں گے تمہیں کس کا انتظار ہے ؟ ہر امت اپنے معبود کے پیچھے چل پڑی وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! لوگوں نے ہمیں دنیا میں جن چیزوں کی ہمیں زیادہ ضرورت تھی چھوڑ دیا اور ہم ان کے ساتھ نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں تمہارا رب ہوں وہ کہیں گے ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ہم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں کرتے دویاتین بار (کہیں گے) اور حالت یہ ہوگی کہ کچھ دائیں پلٹنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا تمہیں اپنے رب کی کوئی نشانی معلوم ہے جس سے اسے پیچان سکو ؟ وہ کہیں گے ہاں پنڈلی بس پنڈلی سے پردہ اٹھایا جائے گا تو جو کوئی اللہ کے لیے اپنی طرف سے یعنی دل سے سجدہ کرتا تھا سے سجدہ کی اجازت دی جائے گی اور جو کوئی (عار سے) بچنے یا نمودونمائش کے لیے سجدہ کیا کرتا تھا اس کی پیٹ تختہ بن جائے گی جب وہ سجدہ کا ارادہ کرے گا گدی کے بل گرجائے گا جب وہ سر اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کو پہلی صورت میں پائیں گے جو انھوں نے پہلی مرتبہ دیکھی تھی۔

پھر وہ کہیں گے تو ہی ہمارا رب ہے اس کے بعد جہنم پر ایک پل بنایا جائے گا اور شفاعت کی اجازت ہوگی (انبیاء) کہیں

گے اے رب ! سلامت رکھ سلامت رکھ کسی نے عرض کیا یارسول اللہ پل کیسا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : انتہائی پھسلن والا اس میں چکے اور آنگڑے ہوں گے اور ایسے خاردار آلات جیسے بخد میں کانٹے دار پودے ہوتے ہیں جنہیں سعدان کہا جاتا ہے ایماندار آنکھ کی جھپک بجلی کی چمک ہوا کے جھونکے پرندے کی پرواز اور عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی رفتار گزریں گے کوئی صحیح سالم نجات پائے گا کوئی خراش کھا کر لڑکھڑائے گا اور کوئی جہنم کی آگ میں گرپڑے گا۔

یہاں تک جب ایمان والے جہنم سے بچ جائیں گے اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قیامت کے روز ایمان والوں سے بڑھ کر کوئی بھی اللہ کی قسم کو اللہ کے لیے پورا کرنے والا نہیں ہوگا جو وہ اپنے ان بھائیوں کے لیے حق وصول کریں گے جو جہنم میں جاچکے ہوں گے وہ کہیں گے : ہمارے رب ! وہ ہمارے بھائی تھے ہمارے ساتھ روزے رکھتے نمازیں پڑھتے حج ادا کرتے تھے کہا جائے گا جسے جانتے ہو اسے نکال لوان کی چہرے آگ پر حرام ہوں گے چنانچہ بہت سے ایسے لوگ نکالے جائیں گے آگ جن کی آدھی پنڈلیوں اور گھٹنوں تک پہنچ چکی ہوگی وہ عرض کریں گے : ہمارے رب جن کا آپ نے ہمیں حکم دیا ان میں سے تو کوئی بھی (جہنم میں) باقی نہیں رہا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے واپس جاؤ جس کے دل میں آدھے دینار جتنا بھی ایمان معلوم ہوا سے نکال لاؤ تو وہ بہت سے لوگ نکالیں گے (آکر) کہیں گے ہمارے رب جس کا آپ نے ہمیں حکم دیا ان میں سے تو کوئی نہ رہا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : جاؤ جس کے دل میں ذرہ بھر بھی خیرو ایمان معلوم ہوا سے نکال لاؤ تو وہ کچھ لوگوں کو نکالیں گے پھر کہیں گے : ہمارے رب ہم نے اس میں کوئی بھلاایمان والا نہیں چھوڑی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے فرشتوں انبیاء اور ایمان والوں نے شفاعت کردی اب صرف ارحم الرحمین رہ گیا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک مٹھی جہنم سے بھرے اور وہ تمام لوگ نکال لے گا جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ہوگی وہ کوئلہ ہوچکے ہوں گے پھر انھیں جنت کے دہانوں سے نکلنے والی نہر میں ڈال دیں گے جسے آب حیات کہا جاتا ہے تو وہ ایسے ہو کر نکلیں گے جیسے سیلاب کی لائی مٹی پر پودا اگتا ہے کیا ہم اسے دیکھتے ہیں کوئی پتھر کی طرف تو کوئی درخت کی طرف ہوتا ہے تو کوئی سورج کی طرف ہوتا ہے وہ ہلکا زرد اور سبز ہوتا ہے اور جو سائے کی جانب وہ سفید ہوتا ہے پھر وہ چمکتے موتی کی طرح نکلیں گے ان کی گردنوں میں مہریں ہوں گی جتنی انھیں پہچان کر (کہیں گے) یہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ ہیں انھیں کسی عمل اور بھلائی کرنے اور آگے بھیجنے کے بغیر ہی جنت میں داخل کردیا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جنت میں داخل ہوجاؤ اور جو چیز تمہیں نظر آئے وہ تمہاری ہے وہ عرض کریں گے : ہمارے رب تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کیا جو اہل عالم میں سے کسی کو عطا نہیں کیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے پاس تمہارے لیے اس سے بھی افضل ہے وہ عرض کریں گے ہمارے رب ! اس سے افضل کیا چیز ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اب میں کبھی تم سے ناراض نہیں ہوں گا۔

(مسند احمد، بخاری عن ابی سعد)
39198- "هل تضارون في رؤية الشمس بالظهيرة صحوا ليس معها سحاب؟ وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر صحوا ليس فيها سحاب؟ ما تضارون في رؤية الله يوم القيامة إلا كما تضارون في رؤية أحدهما، إذا كان يوم القيامة أذن مؤذن: ليتبع كل أمة ما كانت تعبد، فلا يبقى أحد كان يعبد غير الله من الأصنام والأنصاب إلا يتساقطون في النار حتى لم يبق إلا من يعبد الله من بر وفاجر وغبر أهل الكتاب فيدعى اليهود فيقال لهم: ما تعبدون؟ قالوا: كنا عزير ابن الله، فيقال: كذبتم! ما اتخذ الله من صاحبة ولا ولد، فماذا تبغون؟ قالوا عطشنا يا ربنا فاسقنا! فيشار إليهم: ألا تردون! فيحشرون إلى النار كأنها سراب يحطم بعضها بعضا، فيتساقطون في النار. ثم يدعى النصارى فيقال لهم: ما كنتم تعبدون؟ قالوا: كنا نعبد المسيح ابن الله، فيقال لهم: كذبتم! ما اتخذ الله من صاحبة ولا ولد، فيقال لهم: ماذا تبغون؟ فيقولون: عطشنا يا ربنا فاسقنا! فيشار إليهم: ألا تردون! فيحشرون إلى جهنم كأنها سراب يحطم بعضها بعضا، فيتساقطون في النار، حتى إذا لم يبق إلا من كان يعبد الله من بر وفاجر أتاهم رب العالمين في أدنى صورة من التي رأوه فيها، قال: فما تنتظرون؟ تتبع كل أمة ما كانت تعبد، قالوا: يا ربنا! فارقنا الناس في الدنيا أفقر ما كنا إليهم ولم نصاحبهم، فيقول: أنا ربكم، فيقولون: نعوذ بالله منك! ما نشرك بالله شيئا مرتين أو ثلاثا، حتى أن بعضهم ليكاد أن ينقلب فيقول: هل بينكم وبينه آية تعرفونه بها؟ فيقولون: نعم، الساق، فيكشف عن ساق، فلا يبقى من كان يسجد لله من تلقاء نفسه إلا أذن له بالسجود، ولا يبقى من كان يسجد اتقاء أو رياء إلا جعل الله ظهره طبقة واحدة، كلما أراد أن يسجد خر على قفاه، ثم يرفعون رؤسهم وقد يحول في الصورة التي رأوه فيها أول مرة فيقول: أنا ربكم، فيقولون أنت ربنا ثم يضرب الجسر على جهنم وتحل الشفاعة فيقولون: اللهم! سلم سلم، قيل: يا رسول الله وما الجسر؟ قال: دحض مزلة، فيه خطاطيف وكلاليب وحسكة تكون بنجد فيها شويكة يقال لها "السعدان" فيمر المؤمنون كطرفة العين وكالبرق وكالريح وكالطير وكأجاويد الخيل وكالركاب فناج مسلم ومخدوش مرسل، ومكدوش في نار جهنم، حتى إذا خلص المؤمنون من النار فوالذي نفسي بيده ما من أحد منكم بأشد مناشدة لله في استيفاء الحق من المؤمنين لله يوم القيامة لإخوانهم الذين في النار، يقولون: ربنا! كانوا يصومون معنا ويصلون ويحجون! فيقال لهم: أخرجوا من عرفتم، فتحرم صورهم على النار، فيخرجون خلقا كثيرا قد أخذت النار إلى نصف ساقيه وإلى ركبتيه فيقولون: ربنا! ما بقي فيها أحد ممن أمرتنا به، فيقول عز وجل: ارجعوا، فمن وجدتم في قلبه مثقال نصف دينار من خير فأخرجوه، فيخرجون خلقا كثيرا ثم يقولون: ربنا! لم نذر فيها أحدا ممن أمرتنا به، ثم يقول: ارجعوا، فمن وجدتم في قلبه مثقال ذرة من خير فأخرجوه، فيخرجون خلقا ثم يقولون: ربنا! لم نذر فيها خيرا. فيقول الله: شفعت الملائكة وشفع النبيون وشفع المؤمنون ولم يبق إلا أرحم الراحمين، فيقبض قبضة من النار فيخرج منها قوما لم يعملوا خيرا قد عادوا حمما1 فيلقيهم في نهر في أفواه الجنة يقال له "نهر الحياة" فيخرجون كما تخرج الحبة في حميل السيل، ألا ترونها تكون إلى الحجر أو إلى الشجر ما يكون إلى الشمس أصيفر وأخيضر وما يكون منها إلى الظل يكون أبيض فيخرجون كاللؤلؤ في رقابهم الخواتم يعرفهم أهل الجنة هؤلاء عتقاء الله الذين أدخلهم الجنة بغير عمل عملوه ولا خير قدموه، ثم يقول: ادخلوا الجنة فما رأيتموه فهو لكم، فيقولون: ربنا! أعطيتنا ما لم تعط أحدا من العالمين، فيقول: لكم عندي أفضل من هذا، فيقولون: يا ربنا! أي شيء أفضل من هذا؟ فيقول: رضائي فلا أسخط عليكم بعده أبدا" حم، ق عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩١٩٩۔۔۔ کیا تمہیں دوپہر کے وقت جب کوئی بادل بھی نہ ہو سورج دیکھنے میں کوئی دقت ہوتی ہے کیا چودہویں رات کی چاند کو جب کوئی بادل بھی نہ ہو دیکھنے میں کوئی مشکل ہوتی ہے ؟ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! تمہیں اپنے رب کے دیدار میں بھی کوئی مشقت نہیں ہوگی جیسے ان دونوں کو دیکھنے میں کوئی مشکل تمہیں نہیں ہوتی بندہ اللہ سے ملے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے فلاں ! کیا میں نے تجھے عزت نہیں بخشی تجھے سرداری گھر والی دی اور گھوڑے اونٹ تیرے لیے مسخر کرکے کام میں لگادیے اور تجھے سرداری کرنے اور چار دیواری قائم کرنے کے لیے چھوڑ دیا وہ کہے گا کیوں نہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں نے تجھے (بدلہ میں) ایسے ہی فراموش کردیا جیسے تو نے مجھے فراش کردیا تھا۔

پھر دوسرا شخص ملے گا : اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت سرداری گھر والی نہیں بخشی اور تیرے لیے گھوڑے اونٹ مسخر نہیں کیے اور تجھے سرداری کرنے اور چار دیواری بنانے کے لیے نہیں چھوڑا وہ عرض کرے گا۔ کیوں نہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا تیرا یقین تھا کہ تو مجھ سے ملے گا ؟ وہ کہے گا : نہیں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے (بس سمجھ لے) جس طرح تو نے مجھے فراموش کیا میں نے بھی تجھے فراموش کردیا پھر تیسرا شخص ملے گا اللہ تعالیٰ اس سے وہی بات کریں گے وہ کہے گا میرے رب میں تیری کتاب اور تیرے رسول پر ایمان لایا میں نے نمازیں پڑھیں روزے رکھے صدقے کیے اور جتنی اس سے ہوسکے گی اپنی تعریف کرے گا کہا جائے گا ابھی پتہ چل جائے گا پھر اس سے کہا جائے گا ہم تیرے خلاف اپنا گواہ لاتے ہیں وہ دل میں سوچے گا : خلاف کون گواہی دے گا تو اس کا منہ بند کردیا جائے اس کی ران اس کے گوشت اور اس کی ہڈیوں کو بولنے کا حکم دیا جائے گا بولووہ اس کے عمل کی قلعی کھولیں گی یہ اس لے کہ وہ شرمندہ وہ اور یہ شخص منافق ہوگا جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا۔ (مسلم عن ابوہریرہ )
39199- "هل يضارون في رؤية الشمس في الظهيرة ليست في سحابة؟ هل يضارون في رؤية القمر ليلة البدر ليس في سحابة؟ فوالذي نفسي بيده! لا تضارون في رؤية ربكم عز وجل إلا كما تضارون في رؤية أحدهما، فيلقى العبد فيقول أي فل 2! ألم أكرمك وأسودك وأزوجك وأسخر لك الخيل والإبل وأذرك ترأس وتربع؟ فيقول: بلى، فيقول: أظننت أنك ملاقي؟ فيقول: لا فيقول: فإني أنساك كما نسيتني؛ ثم يلقى الثاني فيقول: أي فل! ألم أكرمك وأسودك وأزوجك وأسخر لك الخيل والإبل وأذرك ترأس وتربع؟ فيقول: بلى أي رب! فيقول: أفظننت أنك ملاقي؟ فيقول: لا، فيقول: فإني أنساك كما نسيتني، ثم يلقى الثالث فيقول له مثل ذلك فيقول يا رب! آمنت بك وبكتابك وبرسلك وصليت وصمت وتصدقت - ويثني بخير ما استطاع، فيقال: ههنا إذا، ثم يقال له: الآن نبعث شاهدنا عليك، ويتفكر في نفسه: من ذاك الذي يشهد علي؟ فيختم على فيه ويقال لفخذه ولحمه وعظامه: انطقي، فتنطق فخذه ولحمه وعظامه بعمله، وذلك ليعتذر من نفسه؛ وذلك المنافق وذلك الذي يسخط الله عليه." م - عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٠۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرے گا پھر رب العالمین ان کے سامنے ظہور فرمائے گا ارشاد فرمائے گا : خبردار ! ہر انسان جس کی عبادت کرتا تھ اس کے پیچھے چل دے صلیب والے کے سامنے اس کا صلیب تصاویر والے کے سامنے کی تصاویر اور آگ والے سامنے اس کی آگ آجائے گی تو جس کی وہ پر تش کیا کرتے تھے اس کے پیچھے چل پڑیں گے صرف مسلمان رہ جائیں گے رب العالمین ان کے سامنے ظہور فرماکرارشاد فرمائے گا : کیا تم لوگوں کی پیروی نہیں کرتے ؟ وہ کہیں گے : ہم اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ہم تجھ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں اللہ ہمارا رب ہے یہی ہمارے جگہ ہے یہاں تک کہ ہم اپنے رب کو دیکھیں وہ انھیں حکم دے گا اور ثابت قدم رکھے گا۔

لوگوں نے کیا یارسول اللہ ! کیا ہم اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے آپ نے فرمایا : کیا تمہیں چودہویں کے چاند کو دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ نہیں ! آپ نے فرمایا : اس کے دیدار میں بھی تمہیں کوئی تکلیف نہیں اٹھانا پڑے گی پھر وہ تجلی ہٹالے گا پھر تجلی فرمائے گا اور انھیں اپنا تعارف کر اوئے گا پھر فرمائے گا : میں ہی تمہارا رب ہوں تم میری پیروی کرو ! چنانچہ مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے اس کے بعد پل صراط رکھا جائے گا تو لوگ اس پر عمدہ گھوڑوں اور سواریوں کی طرح گزریں گے وہ کہہ رہے ہوں گے سلامت رکھ سلامت رکھ اب جہنمی رہ جائیں گے چنانچہ ان کی ایک فوج (جہنم میں) پھینکی جائے گی ارشاد ہوگا اے دوزخ تو بھرگئی ہے وہ کہے گی : کچھ اور ہے پھر ایک فوج پھینکی جائے گی ارشاد ہوگا : کیا تو بھرگئی ہے ؟ وہ کہے گی : کچھ اور ہے یہاں تک کہ وہ سب اس میں پڑجائیں گے رحمن تعالیٰ اس میں اپنے دونوں قدم رکھ دے گا تو وہ سکڑنا شروع ہوجائے گئی تو کہے گی : بس ! بس !

جب اللہ تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور جہنمیوں کو جہنم میں داخل کردے گا تو موت کو لایا جائے گا اور اسے اس دیوار پر لاکر کھڑا کردیا جائے جو جنتوں اور دوزخیوں کے درمیان ہوگی پھر اعلان ہوگا۔ جہنمیوں تو وہ خوش ہو کر جھانکیں گے کہ شاید کوئی شفاعت کرے گا اور جنتیوں سے کہا جائے گا : کیا اسے پہچانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہاں ہم نے اسے پہچان لیا یہ وہ موت ہے جسے ہم پر مسلط کیا گیا تھا پھر اسے لٹایا جائے گا اور دیوار پر ذبح کیا جائے گا پھر جنتیوں سے کہا جائے گا : ہمیشگی ہے موت نہیں اور کیا جائے گا : جہنمیو ! ہمیشگی اور موت نہیں۔ (ترمذی عن ابوہریرہ )
39200- "يجمع الله الناس يوم القيامة في صعيد واحد، ثم يطلع عليهم رب العالمين فيقول: ألا! يتبع كل إنسان ما كانوا يعبدون، فيتمثل لصاحب الصليب صليبه ولصاحب التصاوير تصاويره ولصاحب النار ناره؛ فيتبعون ما كانوا يعبدون، ويبقى المسلمون فيطلع عليهم رب العالمين فيقول: ألا تتبعون الناس؟ فيقولون: نعوذ بالله منك ونعوذ بالله منك! الله ربنا: وهذا مكاننا حتى نرى ربنا، وهو يأمرهم ويثبتهم - قالوا وهل نراه يا رسول الله؟ قال: وهل تضارون في رؤية القمر ليلة البدر؟ قالوا: لا يا رسول الله! قال: فإنكم لا تضارون في رؤيته تلك الساعة، ثم يتوارى ثم يطلع فيعرفهم نفسه ثم يقول: أنا ربكم فاتبعوني! فيقوم المسلمون فيوضع الصراط فيمر عليه مثل جياد الخيل والركاب، وقولهم عليه: سلم سلم! ويبقى أهل النار فيطرح منها فوج فيقال: "هل امتلأت"؟ فتقول: "هل من مزيد"! ثم يطرح فيها فوج فيقال: "هل امتلأت"؟ فتقول: "هل من مزيد"! حتى إذا أوعبوا1 فيها وضع الرحمن قدميه فيها وأزوى بعضها إلى بعض ثم قال: "قط"! قالت: "قط قط"، فإذا أدخل الله أهل الجنة الجنة وأهل النار النار أتى بالموت ملبيا فيوقف على السور الذي بين أهل الجنة وأهل النار ثم يقال يا أهل النار! فيطلعون مستبشرين يرجون الشفاعة، فيقال لأهل الجنة ولأهل النار: هل تعرفون هذا؟ فيقولون هؤلاء وهؤلاء: قد عرفناه، هو الموت الذي وكل بنا، فيضجع فيذبح ذبحا على السور، ثم يقال: يا أهل الجنة! خلود لا موت، ويا أهل النار! خلود لا موت." ت عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠١۔۔۔ قیامت کے روز میں جنت کے دروازے پر آؤں گا تو وہ میرے لیے کھول دیا جائے گا میں اپنے رب کو اس کی کرسی پر بیٹھادیکھوں گا وہ میرے سامنے ظہور فرمائے گا تو سجدہ میں گرپڑوں گا۔ (ابن النجار رن ابن عباس)

کلام : ضعیف الجامع الضعینہ ١٥٧٩۔
39201- "آتي يوم القيامة باب الجنة فيفتح بي فأرى ربي وهو على كرسيه فيتجلى لي فأخر ساجدا." ابن النجار - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٢۔۔۔ جان لو ! بن میرے تم میں سے کوئی بھی اپنے رب کو نہیں دیکھ سکے گا۔ (مسلم ترمذی عن رجل)
39202- "تعلموا أنه لن يرى أحد منكم ربه حتى يموت." م، ت عن رجل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٣۔۔۔ ابوزین ! کیا تم سب چودہویں کی رات چاند کو گزرتے نہیں دیکھتے ؟ وہ تو اللہ کیا ایک مخلوق ہے جبکہ اللہ تعالیٰ عظمت والا اور بڑا ہے۔ (مسند احمد، ابوداؤد، ابن ماجہ حاکم عن ابی رزین)
39203- "يا أبا رزين أليس كلكم يرى القمر ليلة البدر مخليا به؟ فإنما هو خلق من خلق الله فالله أجل وأعظم." حم، د3 هـ، ك - عن أبي رزين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٤۔۔۔ جب جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : مزید کوئی چیز چاہتے ہو وہ عرض کریں گے۔ کیا آپ نے ہمارے چہرے سفید نہیں کیے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور جہنم نہیں دی : تو اللہ تعالیٰ پردہ ہٹائے گا تو اپنے رب کے دیدار سے بڑھ کر کوئی چیز انھیں محبوب نہیں ہوگی۔ (مسلم ترمذی عن صفیب)
39204- "إذا دخل أهل الجنة الجنة يقول الله تبارك وتعالى: تريدون شيئا أزيدكم؟ فيقولون: ألم تبيض وجوهنا؟ ألم تدخلنا الجنة وتنجنا من النار؟ فيكشف الحجاب، فما أعطوا شيئا أحب إليهم من النظر إلى ربهم." م ت - عن صهيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٥۔۔۔ جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں پہنچ جائیں گے تو ایک منادی اعلان کرے گا : اے جنتوں ! تمہارا اللہ تعالیٰ سے ایک عہد ہے اللہ چاہتا ہے کہ اسے پورا کرے وہ کہیں گے : ایسا کون ساوعدہ ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ (اعمال کے) وزن کو نہیں بڑھایا ہمارے چہرے سفید نہیں کئے ہمیں جنت میں داخل کرکے جہنم سے نجات نہیں دی ؟ پھر پردہ اٹھایا جائے گا تو وہ اللہ کی طرف دیکھیں گے تو اللہ کی قسم ! انھیں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے عطا کیا ان میں اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے اللہ کے دیدار سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ہوگی۔ (مسند احمد، لسائی ابن ماجہ وابن خزیمہ ابن حباب عن صھیب)
39205- "إذا دخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار نادى مناد: يا أهل الجنة! إن لكم عند الله موعدا يريد أن ينجزكموه، فيقولون: وما هو؟ ألم يثقل الله موازيننا؟ ويبيض وجوهنا؟ ويدخلنا الجنة وينجنا من النار؟ فيكشف الحجاب فينظرون إليه، فوالله ما أعطاهم الله شيئا أحب إليهم من النظر إليه ولا أقر لأعينهم." حم، ن، هـ2 وابن خزيمة، حب - عن صهيب
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২১৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو کلام سے نواز اور مجھے دیدار نصیب فرمایا اور مقام محمود کے اور پیاس بجھانے کے لیے حوض کے ذریعہ مجھے فضلیت بخشی۔ (ابن عساکر عن جابر)

کلام :۔۔۔ ترتیب الموضوعات ١١٩٧ التزیہ ١٢ ص ٣٢٥۔
39206- "إن الله تعالى أعطى موسى الكلام وأعطاني الرؤية، وفضلني بالمقام المحمود والحوض المورود." ابن عساكر - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٧۔۔۔ تم اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی دیکھو گے جیسے چاند کو دیکھ رہے ہو اس کے دیدار میں تمہیں کوئی مشقت اٹھانا نہیں پڑے گی سو اگر تم سے ہوسکے تو سورج طلوع ہونے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز سے مغلوب نہ ہو تو ایسا ہی کرنا (یعنی نماز فجروعصر کو نہ چھوڑنا) ۔ (مسند احمد، بخاری عن جریر)
39207- "إنكم سترون الله كما ترون هذا القمر، لا تضامون في رؤيته، فإن استطعتم أن لا تغلبوا على صلاة قبل طلوع الشمس وصلاة قبل غروبها فافعلوا." حم، ق، - عن جرير" 1
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٨۔۔۔ تم مرنے سے پہلے ہرگز اپنے رب کو نہیں دیکھ سکوگے۔ (طبرانی فی السنۃ عن ابی امامۃ)
39208- "إنكم لن تروا ربكم حتى تموتوا." طب في السنة عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢٠٩۔۔۔ میں نے اپنے رب کو دیکھا۔ (مسند احمد عن ابن عباس)
39209- "رأيت ربي عز وجل." حم - عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢١٠۔۔۔ میں نے جبرائیل سے پوچھا : کیا تم نے اپنے رب کو دیکھا ہے انھوں نے کہا : میرے اور اللہ کے درمیان نوری ستر پردے ہیں اگر ان میں سے (ادنیٰ ) قریبی پردے کو میں دیکھ لوں تو مجھے جلاکر بسم کردے۔ (طبرانی فی الاسط عن انس)

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ٣٢١٩
39210- "سألت جبريل: هل ترى ربك؟ قال: إن بيني وبينه سبعين حجابا من نور! لو رأيت أدناها لاحترقت." طس - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢١١۔۔۔ قیامت کے روز ہمارا سب مسکرا کر ظہور فرمائے گا۔ طبرانی عن ابی موسیٰ
39211- "يتجلى ربنا ضاحكا يوم القيامة." طب - عن أبي موسى".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯২২৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا دیدار
٣٩٢١٢۔۔۔ اگر تم چاہو میں تمہیں بناؤں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ سب سے پہلے مومنین سے اور مومن اس سے کیا کہیں گے اللہ تعالیٰ ایمان والوں سے کہے گا : کیا تمہیں میری ملاقات پسند ہے وہ کہیں گے ہمیں تیری معافی و مغفرت کی امید ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میں نے اپنی معافی اور مغفرت تمہارے لیے لازم کردی۔ (مسند احمد طبرانی عن معاذ)

کلام :۔۔۔ ضعیف الجامع ١١٢٩٤ القدسۃ الضعفۃ ٦٣۔
39212- "إن شئتم أنبأتكم ما أول ما يقول الله تبارك وتعالى للمؤمنين يوم القيامة وما أول ما يقولون له، فإن الله تعالى يقول للمؤمنين: هل أحببتم لقائي؟ فيقولون: نعم يا ربنا! فيقول: لم؟ فيقولون: رجونا عفوك ومغفرتك! فيقول: قد أوجبت لكم عفوي ومغفرتي." حم، طب - عن معاذ".
tahqiq

তাহকীক: