কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩৯২৬৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٣۔۔۔ جنت کے سو درجات ہیں اگر تمام عالم جمع ہو کر ایک میں پہنچے تو سما جائے۔ (ترمذی عن ابی سعید)
کلام :۔۔۔ ضعیف الترمذی ٤٥٥ ضعف الجامع : ١٩٠١
کلام :۔۔۔ ضعیف الترمذی ٤٥٥ ضعف الجامع : ١٩٠١
39253- "إن في الجنة مائة درجة، لو أن العالمين اجتمعوا في إحداهن لوسعتهم." ت - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৬৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٤۔۔۔ جنت میں سو درجات ہیں دو درجوں میں سو سال کا فاصلہ ہے۔ (ترمذی عن ابوہریرہ )
39254- "في الجنة مائة درجة، ما بين كل درجتين مائة عام." ت - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৬৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٥۔۔۔ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ایک دروازے کا نام ریان ہے جس سے صرف روزے دار ہی داخل ہوں گے۔
(بخاری عن سھل بن سعد)
(بخاری عن سھل بن سعد)
39255- " في الجنة ثمانية أبواب فيها باب يسمى "الريان" لا يدخله إلا الصائمون." خ - عن سهل بن سعد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৬৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٦۔۔۔ جنت کے ایک دروازے کو ریان کہتے ہیں جس سے روزہ داروں کو بلایا جائے گا جو روزہ دار ہوگا وہ اس سے داخل ہوگا اور جو اس سے داخل ہوا وہ کبھی بیاسا نہیں ہوگا۔ (ترمذی ابن ماجہ عن سھل بن سعد)
39256- "في الجنة باب يدعى "الريان" يدعى له الصائمون فمن كان من الصائمين دخله، ومن دخله لا يظمأ أبدا." ت، هـ- عنه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٧۔۔۔ جنت میں ایک خول دار موتیوں کا خیمہ ہے جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہے اس کے ہر کونے والے دوسروں کو دیکھتے ہیں مومن وہاں سے گزرے گا۔ (مسند احمد، مسلم ترعن ابی موسیٰ )
39257- "في الجنة خيمة من لؤلؤة مجوفة عرضها ستون ميلا في كل زاوية منها أهل ما يرون الآخرين، يطوف عليهم المؤمن." حم م 3، ت - عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٨۔۔۔ جنت کے سو درجات ہیں ہر دو درجوں میں زمین و آسمان جتنا فاصلہ ہے جنت کا اعلیٰ درجہ ہے جس سے جنت کی چاروں نہریں نکلتی ہیں اس کے اوپر عرش ہے تو جب بھی اللہ تعالیٰ سے (جنت) مانگو تو جنت الفردوس مانگو۔ (مسند احمد، مسلم، ترمذی، مسند احمد، مسلم ترمذی، حاکم عن عبادۃ ابن الصامت)
39258- " في الجنة مائة درجة، ما بين درجتين كما بين السماء والأرض، والفردوس أعلاها درجة، ومنها تفجر أنهار الجنة الأربعة ومن فوقها يكون العرش؛ فإذا سألتم الله فاسألوه الفردوس." حم، م، ت، ك - عن عبادة بن الصامت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت اور اس کی خوبیوں کا ذکر
٣٩٢٥٩۔۔۔ جنت وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی مخلوق کے دل میں اس کا خیال آیا۔ (البزار، طبرانی فی الاوسط عن ابی سعید)
39259- "في الجنة ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر." البزار، طس - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٠۔۔۔ جنت آسمان میں اور جہنم زمین میں ہے۔ (الدیلمی عن عبداللہ بن سلام)
39260- "الجنة في السماء، والنار في الأرض." الديلمي - عن عبد الله بن سلام".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦١۔۔۔ سورج جنت میں اور جنت مشرق میں ہے۔ (حاکم فی تاریخہ عن انس)
39261- "الشمس بالجنة، والجنة بالمشرق." ك في تاريخه - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٢۔۔۔ فردوس جنت کی ناف ہے۔ (عن الحارث الازدی)
39262- "الفردوس سرة الجنة.".... عن الحارث الأزدي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور اس میں ایسی نعمتیں پیدا کیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی دل میں ان کا خیال آیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا بول : تو اس نے کہا : ایمان والے کامیاب ہوگئے اللہ نے فرمایا : مجھے اپنی عزت کی قسم ! کوئی بخیل میرے پاس سے گزرکر تجھ تک نہیں پہنچے گا (طبرانی فی التندوتمام وابن عساکر عن ابن عباس
39263- "خلق الله جنة عدن بيده، خلق فيها ما لا عين رأت ولا خطر على قلب بشر، ثم قال لها تكلمي، قالت: {قد أفلح المؤمنون} فقال: وعزتي! لا يجاوزني فيك بخيل." طب في السنة وتمام وابن عساكر - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٤۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ابن صیاد نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنت کی مٹی کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : سفید میدہ اور خالص مشک۔ (مسند احمد، مسلم عن ابی سعید)
39264- "درمكة بيضاء مسك خالص." حم، م - عن أبي سعيد أن ابن صياد سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن تربة الجنة قال - فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٥۔۔۔ میرے سامنے جنت پیش کی گئی تو اس کا ایک خوشہ لینے کہ تمہیں دکھاؤں تو میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! انگور کا ایک دنیا کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : اتنی بڑی دیگ جو کبھی تمہاری والدہ نے ابالی ہو۔ (ابویعلی سعید بن منصور عن ابی سعید)
39265- "عرضت علي الجنة فذهبت أتناول منها قطفا أريكموه فحيل بيني وبينه، قيل: يا رسول الله! مثل ما الحبة من العنب؟ قال: كأعظم دلو فرت أمك قط." ع، ص - عن أبي سعيد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৭৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٦۔۔۔ میں نے جنت کی طرف دیکھا تو اس کے اناروں میں سے ایک انار اونٹ کی اتری ہوئی کھال کی طرح تھا اور اس کے پرندے جیسے بختی اونٹ ہوتے ہیں میں ایک لڑکی تھی میں نے کہا : اے لڑکی ! تو کس کے لیے ہے وہ کہنے لگی : زیدبن حارثہ کے لیے اور جنت میں ایسی نعمتیں ہیں جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھانہ کسی کان سے سنا اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال آیا۔ (ابن عساکر عن ابی سعید)
39266- "نظرت إلى الجنة فإذا الرمانة من رمانها كجلد البعير المقتب! وإذا طيرها كالبخت وإذا فيها جارية! فقلت: يا جارية! لمن أنت؟ قالت: لزيد بن حارثة، وإذا في الجنة ما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر." ابن عساكر عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٧۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنت کے دانے کا ذکر کرکے فرمایا : اس کے مشابہ کوئی چیز نہیں رب کی قسم (وہاں) تازے پھول چمکتا نور بہتی نہریں نہ مرنے والی بیویاں ہمیشگی اور امن وامان کی جگہ نعمتیں ہیں۔ (الخطیب عن ابن عباس وقال : غریب)
39267- "لا مشبه لها، هي ورب الكعبة ريحانة تهتز، ونور يتلألأ، ونهر مطرد، وزوجة لا تموت، وخلود ونعمة في مقام أمين." الخطيب - عن ابن عباس قال: ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الجنة قال - فذكره، وقال: غريب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٨۔۔۔ سنو ! جنت کے لیے کوئی تیاری کرنے والا ہے ؟ کیونکہ جنت کے لیے کوئی خطرہ نہیں رب کعبہ قسم ! وہ سارا چمکتا نور ہے تازے پھول ہیں مضبوط محل ہیں پھیلی ہوئی نہریں ہیں اور بہت زیادہ پکے پھل ہیں خوبصورت حسین بیویاں اور بہت زیادہ کپڑے محفوظ جگہ میں تروتازگی میں اور بلندشان محفوظ شاندار گھر میں لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! ہم تیار ہیں آپ نے فرمایا : کہو ! انشاء اللہ۔ (ابن ماجہ : ابویعلی ، نسائی ، ابن جان ابوبکرین داؤد فی البعث والرویانی والرامھرمزی، طبرانی ، بیھقی، فی البعث، سعید بن منصور عن اسامۃ بن زید)
39268- "ألا! هل مشمر للجنة؟ فإن الجنة لا خطر لها، هي ورب الكعبة نور يتلألأ كلها، وريحانة تهتز، وقصر مشيد، ونهر مطرد، وفاكهة كثيرة نضيجة، وزوجة حسناء جميلة، وحلل كثيرة، في مقام أبدا، في حبرة ونضرة في دار عالية سليمة بهية، قالوا: نحن المشمرون يا رسول الله! قال: قولوا: إن شاء الله". هـ، ع، ن، حب، أبو بكر بن داود في البعث والروياني والرامهرمزي طب، ق في البعث، ص - عن أسامة بن زيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٦٩۔۔۔ جب اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں ٹھرائے گا وہ ایک کھلی جگہ میں باقی رہ جائیں گے جس میں اللہ تعالیٰ تین سو ساٹھ جہانوں کو ٹھہرائے گا ہر عالم دنیا سے بڑا ہے جب سے دنیا نبی اس دن سے لیکر اس کے ختم ہونے تک (الدیلمی عن ابی سعید)
39269- "إذا سكن الله أهل الجنة الجنة بقي في مكان فسيح فيسكنها الله ستين وثلاثمائة عالم، كل عالم أكبر من الدنيا منذ خلقت إلى يوم تنقطع." الديلمي - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٧٠۔۔۔ جنت میں ایک تنے پر قائم ایک درخت ہے اس کے تنے کی چوڑائی ستر سال کی مسافت ہے (طبرانی فی الکبیر عن سمرۃ)
39270- "إن في الجنة شجرة مستقلة على ساق واحد، عرض ساقها سير سبعين سنة." طب - عن سمرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٧١۔۔۔ (جنت کے درخت) کی ایک شاخ تلے سوار سو سال چلتا رہے اس میں سونے کا بہتر ہے گویا اس کے پھل مٹکے ہیں یعنی (سدرۃ المنتہیٰ ) (ترمذی حسن صحیح طبرانی فی الکبیر حاکم عن اسماء بنت ابی بکر)
39271- "يسير الراكب في ظل1 الفنن منها مائة سنة فيها فراش2 الذهب، كأن ثمرها القلال - يعني سدرة المنتهى." ت، حسن صحيح، طب، ك عن أسماء بنت أبي بكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৮৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٢٧٢۔۔۔ جنت کی کھجور کے تنے سرخ سونے کے ہیں اور اس کی شاخیں سبززمرد کی ہیں اس کی شاخیں جوڑے ہیں اور اس کا پھل مٹکوں کی طرح ہے جو مکھن سے زیادہ نرم اس میں کھٹلی نہیں ہوگی۔ (الدیلمی عن ابن عباس)
39272- "نخل الجنة جذوعها ذهب أحمر، وكرنفها3 زمرد أخضر، وسعفها الحلل. وثمرها مثال القلل، ألين من الزبد، ليس له عجم5" الديلمي - عن ابن عباس".
তাহকীক: