কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৭১ টি
হাদীস নং: ৩৯৪২৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
٣٩٤١٣۔۔۔ اے عائشہ ! اگر تم چاہو تو میں تمہیں ان بچوں کی جہنم میں چیخ و پکار سناتا۔ یعنی مشرکین کے بچوں کی۔ (الدیلمی عن عائشہ)
39413- "يا عائشة! لو شئت لأسمعتك تضاغيهم1 في النار - يعني أطفال المشركين." الديلمي - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪২৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
٣٩٤١٤۔۔۔ مومنین اور ان کے بچے جنت میں ہیں جبکہ مشرکین اور ان کی اولاد جہنم میں۔ (عبداللہ بن احمد بن حنبل عن علی)
39414- "إن المؤمنين وأولادهم في الجنة، وإن المشركين وأولادهم في النار." عم - عن علي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪২৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
٣٩٤١٥۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں پوچھا کیا : آپ نے فرمایا : جو وہ عمل کرتے تھے اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (ابوداؤد طیالسی عن ابن عن ابی بن کعب بخاری مسلم ابوداؤد نسائی عن ابوہریرہ ابوداؤد والحکیم عن عائشۃ عبدبن حسید عن ابی سعید)
39415- "الله أعلم بما كانوا عاملين." ط، خ، د، ن - عن ابن عباس، قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أولاد المشركين فقال فذكره؛ ط - عن ابن عباس عن أبي بن كعب؛ خ، م،2 د، ن - عن أبي هريرة؛ د والحكيم عن عائشة؛ عبد بن حميد - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪২৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
٣٩٤١٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے جب انھیں پیدا کیا اس وقت سے خوب جانتا ہے انھوں نے کیا عمل کیے۔ (مسند احمد عن ابی عباس)
39416- "الله أعلم بما كانوا عاملين إذ خلقهم." حم - عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشرکین کے بچے
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
ان کا ذکر بھی اہل جنت میں گزرچکا ہے۔ الاکمال
٣٩٤١٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب جنتیوں اور جہنمیوں میں فیصلہ کردے اور انھیں ممتاز وجدا کردے گا تو وہ چیخ کر کہیں کے : اے اللہ ! ہمارے پاس تیرا کوئی رسول نہیں آیا ہمیں کسی چیز کا علم نہیں اللہ تعالیٰ ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجے گا : جب کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے عمل کا خوب علم ہوگا وہ کہے گا میں تمہاری طرف تمہارے رب کا رسول ہوں چلو ! چنانچہ وہ اس کے پیچھے چل پڑیں گے اور آگ کے قریب پہنچ جائیں گے ان سے کہے گا : اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے اس میں کود پڑو ! چنانچہ وہ ان کی ایک جماعت میں کود پڑے گی پھر انھیں نکال لیا جائے گا اسی طرح کہ ان کے ساتھیوں کو پتہ بھی نہیں ہوگا اور سابقین مقربین میں شامل کرلیا جائے گا پھر ان کے پاس وہ رسول آکر کہے گا : اللہ تعالیٰ تمہیں آگ میں کودنے کا حکم دیتا ہے تو دوسری جماعت بھی کود پڑے گی انھیں بھی ایسے انداز سے نکال لیا جائے گا کہ ان کے ساتھیوں کو خبر نہیں ہوگی اور انھیں اصحاب الیمین میں شامل کردیا جائے گا پھر ان کے باقی ماندہ کے پاس وہ رسول آکر کہے گا : اللہ تعالیٰ تمہیں آگ میں کودنے کا حکم دیتا ہے وہ کہیں گے ہمارے رب ! تیرے عذاب کو برداشت کرنے کی ہم میں سکت نہیں چنانچہ ان کے بارے حکم ہوگا تو ان کی پیشانیوں اور قدموں سے پکڑ کہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحکیم عن عبداللہ بن شداد کہ مشرکین کے چھوٹے بچوں کے بارے میں ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا جو بچپن میں مرگئے تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا)
39417- "إن الله تبارك وتعالى إذا قضى بين أهل الجنة وأهل النار ثم ميزهم عجوا3 فقالوا: اللهم؟ ربنا لم يأتنا رسولك ولم نعلم شيئا، فأرسل إليهم ملكا - والله أعلم بما كانوا عاملين - فقال: إني رسول ربكم إليكم فانطلقوا، فاتبعوا حتى أتوا النار، قال لهم: إن الله يأمركم أن تقتحموا فيها، فاقتحمت طائفة منهم، ثم أخرجوا من حيث لا يشعر أصحابهم فجعلوا في السابقين المقربين ثم جاءهم الرسول فقال: إن الله يأمركم أن تقتحموا في النار، فاقتحمت طائفة أخرى ثم أخرجوا من حيث لا يشعر أصحابهم فجعلوا في أصحاب اليمين ثم جاءهم الرسول فقال: إن الله يأمركم أن تقتحموا في النار، فقالوا: ربنا! لا طاقة لنا بعذابك، فأمر بهم فجمعت نواصيهم وأقدامهم ثم ألقوا في النار." الحكيم - عن عبد الله بن شداد أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذراري المشركين الذين هلكوا صغارا قال - فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤١٨۔۔۔ سب سے اخیر میں جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ پل صراط پر چل رہا ہوگا کبھی چلے گا اور کبھی ٹھوک رکھا کر گرپڑے گا کبھی اسے آگ کی لپیٹ چھوئے گی جب وہ اس سے گزر جائے گا تو مڑکردیکھے گا اور کہے گا : وہ ذات بابرکت ہے جس نے مجھے اس سے نچات بخشی اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ چیز دی ہے جو اولین آخرین کو نہیں عطا کی، پھر اس کے سامنے ایک درخت بلند ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت کے نزدیک کردے تاکہ اس کا سایہ حاصل کروں اور اس کا پانی پیوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ابن آدم ! ، میں نے اگر تجھے یہ دیدیا تو مجھ سے اس کے علاوہ کا سوال کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں میرے رب ! اور عہد و پیمان کرلے گا کہ وہ سوال نہیں کرے گا اور اس کا رب اس کی بےصبری کی وجہ سے اسے معذور رکھے گا اسے اس درخت کے قریب کردے گا چنانچہ اس کے سائے تلے بیٹھ کر اس کا پانی پیئے گا۔
پھر اس کے سامنے پہلے سے زیادہ اچھا درخت بلند ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس کے نزدیک تاکہ اس کے سائے میں بیٹھوں اور اس کا پانی پیوں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ مجھ سے مزید کچھ نہیں مانگے گا میں نے تمہیں اگر اس کے نزدیک کردیا تو مجھ سے اور سوال کرنا شروع کردو گے چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کو عہد و پیمان دے گا کہ وہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا اور اس کا رب اس کی بےصبری دیکھ کرا سے معذور رکھے گا اور اس کے قریب کردے گا، وہ اس کے سائے سے مستفید ہونے لگے اور اس کا پانی پینے لگے گا۔
پھر جنت کے دروازے کے پاس اس کے سامنے ایک درخت بلند ہوگا جو پہلے دونوں سے زیادہ اچھا ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس سے نزدیک کردے تاکہ اس کے سائے سے لطف اندوز ہوں اور اس کے (چشمہ سے) پانی پیوں میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں کا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا کہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا وہ عرض کرے گا : کیوں نہیں میرے رب ! مجھے بس اس کے نزدیک کردے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اگر میں نے تجھے اس کے قریب دیا تو تو مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا وہ عہد و پیمان کرے گا کہ اس کی علاوہ کچھ نہیں مانگے گا اور اس کا رب اس کی بےصبری کی وجہ سے اسے معذور رکھے گا اور اس کے قریب کردے گا جب اسے اس کے قریب کردے گا تو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا (تو پھر کہنے کو جی للچائے گا) اللہ تعالیٰ فرمائیں : ابن آدم ! تو کیسے میرا پیچھا چھوڑے گا ؟ اگر میں تجھے پوری دنیا اور اس جیسی اس کے ساتھ عطا کردوں تو تو راضی ہوجائے گا ؟ وہ عرض کرے گا : میرے رب ! آپ رب العالمین ہو کر مجھے سے مذاق کریں ( مجھے نہیں لگتا) اللہ تعالیٰ فرمائیں : میں تجھ سے مذاق کیا کروں بلکہ میں تو ہر چیز ہر قادر ہوں۔ (مسند احمد مسلم کتاب الایمان دارقم ٣١٠ عن ابی مسعود)
پھر اس کے سامنے پہلے سے زیادہ اچھا درخت بلند ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس کے نزدیک تاکہ اس کے سائے میں بیٹھوں اور اس کا پانی پیوں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگتا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا ہے کہ مجھ سے مزید کچھ نہیں مانگے گا میں نے تمہیں اگر اس کے نزدیک کردیا تو مجھ سے اور سوال کرنا شروع کردو گے چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کو عہد و پیمان دے گا کہ وہ اس کے سوا کچھ نہیں مانگے گا اور اس کا رب اس کی بےصبری دیکھ کرا سے معذور رکھے گا اور اس کے قریب کردے گا، وہ اس کے سائے سے مستفید ہونے لگے اور اس کا پانی پینے لگے گا۔
پھر جنت کے دروازے کے پاس اس کے سامنے ایک درخت بلند ہوگا جو پہلے دونوں سے زیادہ اچھا ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس سے نزدیک کردے تاکہ اس کے سائے سے لطف اندوز ہوں اور اس کے (چشمہ سے) پانی پیوں میں اس کے علاوہ تجھ سے کچھ نہیں مانگوں کا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا کہ مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا وہ عرض کرے گا : کیوں نہیں میرے رب ! مجھے بس اس کے نزدیک کردے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اگر میں نے تجھے اس کے قریب دیا تو تو مجھ سے کچھ نہیں مانگے گا وہ عہد و پیمان کرے گا کہ اس کی علاوہ کچھ نہیں مانگے گا اور اس کا رب اس کی بےصبری کی وجہ سے اسے معذور رکھے گا اور اس کے قریب کردے گا جب اسے اس کے قریب کردے گا تو وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا (تو پھر کہنے کو جی للچائے گا) اللہ تعالیٰ فرمائیں : ابن آدم ! تو کیسے میرا پیچھا چھوڑے گا ؟ اگر میں تجھے پوری دنیا اور اس جیسی اس کے ساتھ عطا کردوں تو تو راضی ہوجائے گا ؟ وہ عرض کرے گا : میرے رب ! آپ رب العالمین ہو کر مجھے سے مذاق کریں ( مجھے نہیں لگتا) اللہ تعالیٰ فرمائیں : میں تجھ سے مذاق کیا کروں بلکہ میں تو ہر چیز ہر قادر ہوں۔ (مسند احمد مسلم کتاب الایمان دارقم ٣١٠ عن ابی مسعود)
39418- "آخر من يدخل الجنة رجل "يمشي على الصراط" فهو يمشي مرة ويكبو مرة وتسفعه النار مرة، فإذا جاوزها التفت إليها فقال: تبارك الذي نجاني منك! لقد أعطاني الله شيئا ما أعطاه أحدا من الأولين والآخرين، فترفع له شجرة فيقول: أي رب أدننى من هذه الشجرة فلأستظل بظلها وأشرب من مائها، فيقول الله يا ابن آدم! لعلى إن أعطيتكها سألتني غيرها فيقول لا يا رب ويعاهده أن لا يسأله غيرها وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه فيدنيه منها، فيستظل بظلها ويشرب من مائها، ثم ترفع له شجرة أخرى هي أحسن من الأولى فيقول: أي رب أدننى من هذه لأشرب من مائها وأستظل بظلها لا أسألك غيرها، فيقول: يا ابن آدم! ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها فيقول: لعلي إن أدنيتك منها تسألني غيرها! فيعاهده أن لا يسأله غيرها وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه فيدنيه منها، فيستظل بظلها ويشرب من مائها، ثم ترفع له شجرة عند باب الجنة هي أحسن من الأوليين فيقول: أي رب أدنني من هذه فلأستظل بظلها وأشرب من مائها لا أسألك غيرها، فيقول: يا ابن آدم! ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها؟ قال: بلى يا رب أدنني من هذه لا أسألك غيرها فيقول: لعلى إن أدنيتك منها تسألني غيرها فيعاهده أن لا يسأله غيرها وربه يعذره لأنه يرى ما لا صبر له عليه فيدنيه منها، فإذا أدناه منها سمع أصوات أهل الجنة فيقول: يا ابن آدم! ما يصريني منك أيرضيك أن أعطيك الدنيا ومثلها معها؟ فيقول: أي رب! أتستهزيء مني وأنت رب العالمين؟ فيقول: إني لا أستهزيء منك ولكني على ما أشاء قدير." حم، م كتاب الإيمان رقم 310 - عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤١٩۔۔۔ سب سے ادنیٰ درجہ جنتی وہ شخص ہوگا جس کا چہرہ اللہ تعالیٰ جہنم سے ہٹا کر جنت کی طرف کردے گا اس کے سامنے سایہ داردرخت نمودار ہوگا وہ عرض کریں گا : میرے رب ! مجھے اس درخت تک پہنچادے تاکہ اس کے سائے میں بیٹھوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : کیا تجھ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر میں ایسا کردوں تو تم اس کے علاوہ مجھ سے کچھ نہیں مانگو گے وہ عرض کرے گا : میں تیری عزت کی قسم ! تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نزدیک کردے گا پھر اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایک سائے دار اور پھلدار درخت کرین گے وہ عرض کرے گا : میرے رب مجھے اس درخت کے نزدیک کردے تاکہ اس کے سائے تلے بیٹھوں اور اس کا پھل کھاؤں اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کیا تم سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اگر تجھے یہ عطا کردوں تو مجھ سے مزید کچھ نہیں مانگو گے وہ عرض کرے گا : نہیں تیری ذات کی قسم ! چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نزدیک کردے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایک سائے دار پھلدار اور چشمہ والا درخت پیش کردے گا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ اس کا سایہ حاصل کروں اس کا پھل کھاؤں اور اس کا پانی پیوں اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : کیا تجھ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے وہ عرض کرے گا : میں تیری عزت کی قسم ! میں تجھ سے کچھ نہ مانگو گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نزدیک کردے گا اس کے سامنے کا دروازہ ہوگا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت کے دروازے کے پاس کردے تاکہ جنت کی چوکھٹ کے نیچے ہو کر جنتی لوگوں کو دیکھوں اللہ تعالیٰ اسے جنت کے نزدیک کردے گا وہ جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھے گا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت میں (ہی) داخل کردے چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کردے گا جب جنت میں داخل ہوجائے گا عرض کرے گا : یہ میرے لیے ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اور مانگو وہ تمنا کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے یاددلائیں گے یہ مانگو یہ مانگو ! جب اس کی تمنائیں ختم ہوجائیں گی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ تیرے لیے اور اب جیسا دس گنا مزید تیرے لیے اور ہے پھر اسے جنت میں داخل کرے گا اس کے پاس اس کی دوبیویاں حورعین آئیں گی وہ دونوں کہیں گی : تمام تعریفیں اس کے اللہ کے لیے جس نے تجھے مرے لیے اور ہمیں تمہارے لیے زندگی بخشی ! وہ کہے گا : جو کچھ مجھے ملا کسی کو نہیں ملا اور سب سے کم درجہ عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جیسے آگ کے جوتے پہنچائے جائیں گے جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔ (مسند احمد مسلم عن ابی سعید)
پھر اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ایک سائے دار پھلدار اور چشمہ والا درخت پیش کردے گا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت کے قریب کردے تاکہ اس کا سایہ حاصل کروں اس کا پھل کھاؤں اور اس کا پانی پیوں اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : کیا تجھ سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے وہ عرض کرے گا : میں تیری عزت کی قسم ! میں تجھ سے کچھ نہ مانگو گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نزدیک کردے گا اس کے سامنے کا دروازہ ہوگا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت کے دروازے کے پاس کردے تاکہ جنت کی چوکھٹ کے نیچے ہو کر جنتی لوگوں کو دیکھوں اللہ تعالیٰ اسے جنت کے نزدیک کردے گا وہ جنت اور اس کی نعمتوں کو دیکھے گا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت میں (ہی) داخل کردے چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کردے گا جب جنت میں داخل ہوجائے گا عرض کرے گا : یہ میرے لیے ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اور مانگو وہ تمنا کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے یاددلائیں گے یہ مانگو یہ مانگو ! جب اس کی تمنائیں ختم ہوجائیں گی اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ تیرے لیے اور اب جیسا دس گنا مزید تیرے لیے اور ہے پھر اسے جنت میں داخل کرے گا اس کے پاس اس کی دوبیویاں حورعین آئیں گی وہ دونوں کہیں گی : تمام تعریفیں اس کے اللہ کے لیے جس نے تجھے مرے لیے اور ہمیں تمہارے لیے زندگی بخشی ! وہ کہے گا : جو کچھ مجھے ملا کسی کو نہیں ملا اور سب سے کم درجہ عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جیسے آگ کے جوتے پہنچائے جائیں گے جس سے اس کا دماغ کھولے گا۔ (مسند احمد مسلم عن ابی سعید)
39419- "إن أدنى أهل الجنة منزلة رجل صرف الله وجهه عن النار قبل الجنة ومثل له شجرة ذات ظل فقال: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة أكون في ظلها، فقال الله تعالى: هل عسيت إن فعلت أن تسألني غيره؟ قال: لا وعزتك! فقدمه الله إليها، ومثل له شجرة ذات ظل وثمر، فقال: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة فأكون في ظلها وآكل من ثمرها، فقال الله تعالى له: هل عسيت إن أعطيتك ذلك أن تسألني غيره؟ فيقول: لا وعزتك! فيقدمه الله إليها، فيمثل الله تعالى له شجرة أخرى ذات ظل وثمر وماء، فيقول: أي رب! قدمني إلى هذه الشجرة أكون في ظلها وآكل من ثمرها وأشرب من مائها! فيقول له: هل عسيت إن فعلت أن تسألني غيره؟ فيقول: لا وعزتك لا أسألك غيره، فيقدمه الله إليها، فيبرز له باب الجنة فيقول: أي رب! قدمني إلى باب الجنة فأكون تحت نجاف 1الجنة فأرى أهلها، فيقدمه الله إليها فيرى الجنة وما فيها فيقول: أي رب أدخلني الجنة! فيدخله الجنة، فإذا دخل الجنة قال: هذا لي؟ فيقول الله تعالى له: تمن! فيتمنى، ويذكره الله عز وجل: سل من كذا وكذا، حتى إذا انقطعت به الأماني قال الله تعالى: هو لك وعشرة أمثاله، ثم يدخله الجنة فتدخل عليه زوجتاه من الحور العين فتقولان: الحمد لله الذي أحياك لنا وأحيانا لك! فيقول: ما أعطي أحد مثل ما أعطيت. وأدنى أهل النار عذابا ينعل من نار بنعلين يغلي دماغه من حرارة نعليه." حم، م عن أبي سعيد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٠۔۔۔ ایک قوم جہنم سے نکالی جائے گی جو اس میں جل رہے ہوں گے صرف ان کے سجدوں کے نشان نہیں جلیں گے۔ یہاں تک کہ زمین جنت میں داخل کر یا جائے گا۔ (مسند احمد مسلم عن جابر)
39420- "إن قوما يخرجون من النار يحترقون فيها إلا دارات2 وجوههم، حتى يدخلون الجنة." حم، م، عن جابر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢١۔۔۔ دوجہنمی جہنم میں بہت زیادہ چیخیں چلائیں گے رب فرمائیں گے : طرف دونوں کو نکال لو ! جب انھیں نکالا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم دونوں کیوں زور سے چلا رہے تھے ؟ وہ عرض کریں گے ہم نے ایسا اس لیے کیا تاکہ آپ ہم پر رحم کریں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تمہارے لیے میری رحمت یہ ہے کہ تم دونوں واپس اپنی جگہ جہنم میں چلے جاؤ اور وہاں اپنے آپ کو گرادو ! چنانچہ دونوں چل دیں گے ایک اپنے آپ کو گرادے گا تو وہ اس کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی کا سامان بن جائے گی اور دوسرا کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو نہیں گرائے گا رب تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : تمہیں کس نے روکا کہ اپنے آپ کو گراتے جیسا تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو آگ میں گرادیا ؟ وہ عرض کرے گا ؟ میرے رب ! مجھے یقین ہے کہ آپ نے جہاں سے مجھے نکالا وہاں دربارہ نہیں بھیجیں گے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیری امید تجھے کام دے گئی پھر دونوں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے جنت میں داخل کردیئے جائیں گے۔ (ترمذی عن ابوہریرہ )
کلام :۔۔۔ ضعیف التزمذی ٤٨٧ ضعیف الجامع ١٨٥٩
کلام :۔۔۔ ضعیف التزمذی ٤٨٧ ضعیف الجامع ١٨٥٩
39421- "إن رجلين ممن دخل اشتد صياحهما فقال الرب تبارك وتعالى: أخرجوهما! فلما أخرجا قال لهما: لأي شيء اشتد صياحكما؟ قال: فعلنا ذلك لترحمنا، قال: رحمتي لكما أن تنطلقا فتلقيا أنفسكما حيث كنتما من النار، فينطلقان فيلقي أحدهما نفسه فيجعلها عليه بردا وسلاما، ويقوم الآخر فلا يلقي نفسه، فيقول له الرب تبارك وتعالى: ما منعك أن تلقي نفسك كما ألقى صاحبك؟ فيقول: يا رب! إني لأرجو أن لا تعيدني فيها بعد ما أخرجتني، فيقول له الرب: لك رجاؤك، فيدخلا الجنة جميعا برحمة الله." ت - أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٢۔۔۔ مجھے سب سے آخری جہنمی اور سب سے آخری جنتی کا پتہ ہے ایک آدمی گھٹنوں کے بل چلتا ہوا جہنم سے نکلے گا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ تمہارے لیے دنیا جیسی وار اس کے ساتھ کی دس جنتیں ہیں وہ عرض کرے گا : کیا آپ بادشاہ ہو کر مجھ سے مذاق کرتے ہیں۔ (مسند احمد مسلم ترمذی ابن ماجہ عن ابن مسعود)
39422- "إني لأعلم آخر أهل النار خروجا منها وأخر أهل الجنة دخولا الجنة، رجل يخرج من النار حبوا فيقول الله له: اذهب فادخل الجنة! فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى فيرجع فيقول: يا رب وجدتها ملأى! فيقول الله له: اذهب فادخل الجنة فإن لك مثل الدنيا وعشرة أمثالها، فيقول: أتسخر بي وأنت الملك." حم، ق، ت، هـ- عن ابن مسعود"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٣۔۔۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے رب سے سوال کیا عرض کیا : میرے رب ! سب سے کم درجہ جنتی کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ شخص رب ! اللہ (میں ) کیسے (جاؤں) جب کہ لوگ اپنی منزلوں اور نشتوں ہر پہنچ چکے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے : کیا تمہیں یہ بات منظور ہے کہ تمہیں دنیا کے کسی بادشاہ کی بادشاہت مل جائے وہ وعرض کرے گا : میرے رب ! مجھے منظور ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تمہارے لیے یہ بھی ہے اور اس جیسی اس جیسی اور اجیسی ہے وہ پانچ بار عرض کرے گا : میرے رب میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ بھی تیرے لیے اور اس جیسی دس اور جو ترادل چاہے اور تیری آنکھ کو بھائے وہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں راضی ہوں۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا : رب تعالیٰ ! سب سے اعلیٰ درجہ جنتی کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ لوگ جنہیں میں نے چاہا اور ہاتھ سے ان کی عزت کے پودے لگائے اور ان پر مہر لگادی (کوئی اسے کھول نہ سکے) نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال آیا۔ (مسند احمد مسلم ترمذی عن المغیرۃ ابن شعبۃ)
موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا : رب تعالیٰ ! سب سے اعلیٰ درجہ جنتی کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ لوگ جنہیں میں نے چاہا اور ہاتھ سے ان کی عزت کے پودے لگائے اور ان پر مہر لگادی (کوئی اسے کھول نہ سکے) نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے دل میں ان کا خیال آیا۔ (مسند احمد مسلم ترمذی عن المغیرۃ ابن شعبۃ)
39423- "سأل موسى ربه فقال: يا رب! ما أدنى أهل الجنة منزلة؟ فقال: هو رجل يجيء بعد ما يدخل أهل الجنة الجنة فيقال له: ادخل الجنة! فيقول: أي رب كيف وقد نزل الناس منازلهم وأخذوا أخذاتهم؟ فقال له: أترضى أن يكون لك مثل ملك ملك من ملوك الدنيا؟ فيقول: رضيت رب، فيقول: لك ذلك ومثله ومثله ومثله ومثله ومثله، فقال في الخامسة: رضيت رب! فيقول: هذا لك ولك عشرة أمثاله ولك ما اشتهت نفسك ولذت عينك، فيقول: رضيت رب: قال: رب فأعلاهم منزلة؟ قال: أولئك الذين أردت غرست كرامتهم بيدي وختمت عليها فلم تر عين ولم تسمع أذن ولم يخطر على قلب بشر." حم، م ت عن المغيرة ابن شعبة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٤۔۔۔ جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں داخل ہوجائیں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس کے دل میں رائی برابر بھی ایمان ہو اسے (جہنم سے) نکال لو چنانچہ انھیں نکالا جائے گا جبکہ وہ سیاہ ہوچکے ہوں گے پھر انھیں نہر حیات میں ڈال جائے گا تو وہ ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کی جانب کوئی بیچ اگتا ہے تم نے دیکھا نہیں وہ زرد لپٹا ہوا نکلتا ہے۔ (مسلم عن ابی سعید)
39424- "يدخل أهل الجنة الجنة وأهل النار النار ثم يقول الله عز وجل: أخرجوا من كان في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان فيخرجون منها قد اسودوا فيلقون في نهر الحياة فينبتون كما تنبت الحبة في جانب السيل، ألم تر أنها تخرج صفراء ملتوية." ق عن أبي سعيد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٥۔۔۔ اہل توحید کے کچھ لوگوں کو جہنم کا عذاب دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ کوئلہ ہوجائیں گے تو پھر انھیں رحمت آگھیرے گی چنانچہ انھیں نکالا جائے گا اور جنت کے دروازوں پر پھینک دیا جائے گا پھر جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے تو ( ان کے گوشت) ایسے اگیں گے جیسے سیلاب کے پہاؤ (والی مٹی) پر رائی اگتی ہے اور انھیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ (مسند احمد ترمذی عن جابر)
39425- "يعذب ناس من أهل التوحيد في النار حتى يكونوا حمما ثم تدركهم الرحمة فيخرجون ويطرحون على أبواب الجنة فيرش عليهم أهل الجنة الماء فينبتون كما ينبت الثغاء في حمالة السيل ثم يدخلون الجنة." حم، ت - عن جابر"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٦۔۔۔ کچھ لوگوں کو اپنے کیے گناہوں کی وجہ سے ضرور آگ چھوئے گی پھر اللہ تعالیٰ انھیں اپنی رحمت کے طفیل جنت میں داخل کردے گا انھیں جہنمی کہا جائے گا۔ (مسند احمد بخاری عن انس)
39426- "ليصيبن ناسا سفع من النار عقوبة بذنوب عملوها ثم يدخلهم الله الجنة بفضل رحمته فيقال لهم الجهنميون." حم خ - عن أنس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٧۔ ایک قوم جل چکنے کی بعد جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کی جائے گی جنتی انھیں جہنمی کہیں گے (بخاری عن انس)
39427- "يخرج من النار قوم بعد ما احترقوا فيدخلون الجنة فيسميهم أهل الجنة الجهنميون." خ - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٨۔۔۔ ایک قوم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شفاعت کی وجہ سے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کی جائے گی جن کا نام جہنمی ہوگا۔ (مسند احمد بخاری ابوداؤد عن عمران بن حصین)
39428- "يخرج قوم من النار بشفاعة محمد صلى الله عليه وسلم فيدخلون الجنة ويسمون الجهنميين." حم، خ، د - عن عمران بن حصين"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٢٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ ایک قوم کو جہنم سے نکالے جب کہ صرف ان کی چہرے رہ گئے ہوں گے پھر انھیں جنت میں داخل کردے گا۔ (عبدبن حمید عن ابی سعید)
39429- "إن الله يخرج قوما من النار بعد ما لا يبقى منهم إلا الوجوه فيدخلهم الجنة." عبد بن حميد - عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٣٠۔۔۔ سب سے آخر میں جس شخص کو جنت میں داخل کیا جائے گا اس کا نام جہنمی ہوگا جنتی کہیں گے جہنمی کے پاس یقینی بات ہے۔ (خطیب فی رواۃ مالک عن ابن عمر)
39430- "آخر من يدخل الجنة رجل يقال له "جهينة" فيقول أهل الجنة: عند جهينة الخبر اليقين." خط في رواة مالك عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا
٣٩٤٣١۔۔۔ سب سے آخر میں جو شخص جنت میں جائے گا وہ ہوگا جو بل صراط پر پیٹ سے پیٹھ کے بل گرے گا جیسے کسی بچہ کو اس کا باپ مارے پیٹے اور وہ اس سے (جان چھڑانے کے لیے) بھاگے اس کا عمل اسے چلانے سے عاجزہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت میں پہنچا اور جہنم سے نجات دے اللہ تعالیٰ اس کی طرف پیام بھیجے گا : میرے بندے میں تجھے جہنم سے نجات دے کر جنت میں داخل کردوں پر تو میرے لیے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کردے بندہ عرض کرے گا : ٹھیک ہے میرے رب ! تیری عزت و جلال کی قسم ! اگر آپ نے مجھے جہنم سے نجات دی تو میں آپ کے لیے ضرور اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کروں گا چنانچہ وہ پل پار کرجائے گا اور دل ہی دل میں کہے گا : اگر میں نے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف پیام بھیجے گا : میرے بندے ! اگر تو نے میرے لیے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کرلیا تو میں انھیں معاف کرکے تجھے جنت میں داخل کردوں گا بندہ عرض کرے گا : تیر عزت و جلال کی قسم ! میں نے کوئی گناہ نہیں اور نہ کبھی کوئی خطا کی اللہ تعالیٰ اس کی طرف پیام بھیجے گا : اے میرے بندے ! میرے پاس تیرے خلاف گواہ ہے بندہ دائیں بائیں دیکھے گا تو دنیا میں موجود اسے کوئی نظر نہیں آئے گا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اپنا گواہ دکھا ! اللہ تعالیٰ اس کی کھال کو چھوٹے گناہوں کے بارے میں بولنے کا حکم دے گا : بندہ جب یہ کیفیت دیکھے گا تو عرض کرے گا : میرے رب ! میرے تو بڑے اور پوشیدہ گناہ ہیں اللہ تعالیٰ اس کی طرف پیام بھیجے گا : میرے بندے ! میں انھیں تجھ سے زیادہ جانتا ہوں میرے لیے ان کا اعتراف کردے میں انھیں معاف کرکے تجھے جنت میں داخل کردوں کا چنانچہ بندہ ان کا اعتراف کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کردے گا یہ کم سے کم درجہ جنتی کا حال ہے اس سے اوپر والے کا کیا حال ہوگا (طبرانی عن ابی امامۃ وحسن)
39431- "آخر رجل يدخل الجنة رجل يتقلب على الصراط ظهرا لبطن كالغلام يضربه أبوه وهو يفر منه، يعجز عنه عمله أن يسعى فيقول: يا رب بلغ بي الجنة ونجني من النار! فيوحي الله إليه: عبدي أنجيتك من النار وأدخلتك الجنة تعترف لي بذنوبك وخطاياك؟ فيقول: العبد: نعم يا رب وعزتك وجلالك لئن نجيتني من النار لأعترفن لك بذنوبي وخطاياي! فيجوز الجسر ويقول فيما بينه وبين نفسه: لئن اعترفت له بذنوبي وخطاياي ليردني إلى النار! فيوحي الله إليه: عبدي اعترف لي بذنوبك وخطاياك أغفرها لك وأدخلك الجنة فيقول العبد: وعزتك وجلالك ما أذنبت ذنبا قط ولا أخطأت خطيئة قط! فيوحي الله إليه: عبدي إن لي عليك بينة فيلتفت العبد يمينا وشمالا فلا يرى أحدا ممن كان يشهده في الدنيا فيقول: يا رب أرني بينتك! فيستنطق الله تعالى جلده بالمحقرات فإذا رأى ذلك العبد يقول: يا رب عندي - وعزتك - العظائم المضمرات! فيوحي الله إليه: عبدي! أنا أعرف بها منك، اعترف لي بها أغفرها لك وأدخلك الجنة، فيعترف العبد بذنوبه فيدخل الجنة، هذا أدنى أهل الجنة منزلة فكيف بالذي فوقه." طب - عن أبي أمامة وحسن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٣٢۔۔۔ سب سے آخر میں جہنم سے دو آدمی نکلیں گے اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک سے فرمائیں گے ابن آدم ! تو نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی کیا تو نے کبھی کوئی نیکی کی کیا تجھے مجھ سے امید تھی ؟ وہ عرض کرے گا : نہیں میرے رب اسے جہنم بھیجنے کا حکم ہوگا جہنمیوں میں سے اس سب سے زیادہ حسرت ہوگی اور دوسرے سے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : ابن آدم ! تو نے دن کے لیے کیا تیاری کی کیا تو نے کبھی کوئی نیکی کی کیا تجھے مجھ سے ملنے کی امید تھی ؟ وہ عرض کرے گا : نہیں میرے رب ! البتہ مجھے تجھ سے ملنے کی امید تھی تو اس کے سامنے ایک درخت بلند ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت کے نیچے ٹھہرادے تاکہ اس کا سایہ حاصل کروں اس کا پھل کھاؤں اور اس کا پانی پیوں اور یہ عہد کرے گا کہ اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے نیچے ٹھہرادے گا۔
پھر اس کے سامنے دوسرا درخت بلند ہوگا جو پہلے سے زیادہ اچھا اور زیادہ پانی والا ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت تلے ٹھہرادے اس کے سوا کوئی سوال نہیں کروں گا تاکہ اس کا سایہ حاصل کروں اس کا پھل کھاؤ اور اس کا پانی پیوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا کہ اس کے سوا کوئی سوال نہیں کرے گا : وہ عرض کرے گا : کیوں نہیں میرے رب ! بس یہ دیدے اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نیچے ٹھہرادے گا پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت بلند ہوگا جو پہلے دونوں سے اچھا اور زیادہ پانی والا ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس کے نیچے ٹھہرادے اللہ تعالیٰ اسے کے نیچے ٹھہرادے گا اوعر عہد کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کرے گا وہاں وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا اور اس سے صبر نہ ہوسکے گا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت میں داخل کردے ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : مانگو اور تمنا کرو ! چنانچہ وہ دنیا کے تین دن کے برابر مانگے گا اور تمنا کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسے ایسی باتوں کی تلقین کرے جن کا اسے علم نہیں ہوگا پھر وہ مانگے اور تمنا کرے گا جب فارغ ہوجائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرے لیے یہ سب کچھ اور اس جیسا اور حضرت ابو ہریرہ (رض) نے فرمایا : اس جیسا دس گنا اور۔ (مسند احمد عبدبن حمید عن ابی سعید وابل ھرمرۃ)
پھر اس کے سامنے دوسرا درخت بلند ہوگا جو پہلے سے زیادہ اچھا اور زیادہ پانی والا ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس درخت تلے ٹھہرادے اس کے سوا کوئی سوال نہیں کروں گا تاکہ اس کا سایہ حاصل کروں اس کا پھل کھاؤ اور اس کا پانی پیوں اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ابن آدم ! کیا تو نے مجھ سے عہد نہیں کیا کہ اس کے سوا کوئی سوال نہیں کرے گا : وہ عرض کرے گا : کیوں نہیں میرے رب ! بس یہ دیدے اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کروں گا چنانچہ اللہ تعالیٰ اسے اس کے نیچے ٹھہرادے گا پھر اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت بلند ہوگا جو پہلے دونوں سے اچھا اور زیادہ پانی والا ہوگا وہ عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے اس کے نیچے ٹھہرادے اللہ تعالیٰ اسے کے نیچے ٹھہرادے گا اوعر عہد کرے گا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی سوال نہیں کرے گا وہاں وہ جنتیوں کی آوازیں سنے گا اور اس سے صبر نہ ہوسکے گا عرض کرے گا : میرے رب ! مجھے جنت میں داخل کردے ! اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : مانگو اور تمنا کرو ! چنانچہ وہ دنیا کے تین دن کے برابر مانگے گا اور تمنا کرے گا اور اللہ تعالیٰ اسے ایسی باتوں کی تلقین کرے جن کا اسے علم نہیں ہوگا پھر وہ مانگے اور تمنا کرے گا جب فارغ ہوجائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تیرے لیے یہ سب کچھ اور اس جیسا اور حضرت ابو ہریرہ (رض) نے فرمایا : اس جیسا دس گنا اور۔ (مسند احمد عبدبن حمید عن ابی سعید وابل ھرمرۃ)
39432- "آخر من يخرج من النار رجلان، يقول الله عز وجل لأحدهما: يا ابن آدم ما أعددت لهذا اليوم؟ هل عملت خيرا قط؟ هل رجوتني؟ فيقول: لا يا رب! فيؤمر به إلى النار فهو أشد أهل النار حسرة، ويقول للآخر: يا ابن آدم! ما أعددت لهذا اليوم؟ هل عملت خيرا قط أو رجوتني؟ فيقول: لا أي رب إلا أني كنت أرجوك، فترفع له شجرة فيقول: أي رب أقرني تحت هذه الشجرة فأستظل بظلها وآكل من ثمرها وأشرب من مائها ويعاهده أن لا يسأله غيرها فيقره تحتها، ثم ترفع له شجرة أخرى أحسن من الأولى وأغدق ماء فيقول: أي ربي أقرني تحتها لا أسألك غيرها فأستظل بظلها وآكل من ثمرها وأشرب من مائها، فيقول: يا ابن آدم! ألم تعاهدني أن لا تسألني غيرها؟ فيقول: أي رب هذه لا أسألك غيرها فيقره تحتها، ثم ترفع له شجرة عند باب الجنة هي أحسن من الأوليين وأغدق ماء فيقول: أي رب! هذه أقرني تحتها، فيدنيه منها ويعاهده أن لا يسأله غيرها فيسمع أصوات أهل الجنة فلا يتمالك فيقول: أي رب! أدخلني الجنة، فيقول الله عز وجل، سل وتمن! فيسأل ويتمنى مقدار ثلاثة أيام من أيام الدنيا، ويلقنه الله ما لا علم له به فيسأل ويتمنى، فإذا فرغ قال: لك ما سألت ومثله معه - قال أبو هريرة وعشرة أمثاله." حم وعبد بن حميد - عن أبي سعيد وأبي هريرة".
তাহকীক: