কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

قیامت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৪৭১ টি

হাদীস নং: ৩৯৫০৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٩٤۔۔۔ اگر سات اونٹیناں اپنی چربیاں کے ساتھ لی جائیں اور انھیں جہنم کے کنارے سے گرایا جائے تو ستر سالوں میں بھی انتہاء تک نہ پہنچ جائیں۔ (حاکم عن ابوہریرہ )
39494- "لو أخذ سبع خلفات بشحومهن فألقين من شفير جهنم ما انتهين إلى آخرها سبعين عاما." ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫০৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٩٥۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے جہنم کے دونوں کناروں میں اور اس کی تہہ میں اتنا فاصلہ ہے جیسے کوئی چٹان ہو جس کا وزن سات اونٹنیوں کا ان (کے کوہانوں) کی چربی گوشت اور پیٹ کے بچوں سمیت ہو اور اسے کنارے سے تہہ کی طرف گرایا جائے تو ستر سالوں میں پہنچے۔ (طبرانی فی الکبیر عن معاذ حاکم عن ابوہریرہ )
39495- "والذي نفس محمد بيده! إن قدر ما بين شفير النار وقعرها كصخرة زنتها سبع خلفات بشحومهن ولحومهن وأولادهن يهوي في ما بين شفير النار وقعرها إلى أن تبلغ قعرها سبعين خريفا." طب - عن معاذ، ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫০৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٩٦۔۔۔ تمہاری یہ آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے اگر اسے سمندر میں نہ بجھایا گیا تو انسان اس سے فائدہ نہ اٹھاسکتے۔ (ابن مردویہ عن ابوہریرہ )
39496- "إن ناركم هذه جزء من سبعين جزءا من نار جهنم ولولا أنها ضربت في اليم سبع مرار لما انتفع بها بنو آدم." ابن مردويه - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٩٧۔۔۔ تمہاری آگ جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے اگر اسے پانی میں دو مرتبہ نہ بجھایا گیا ہوتا تو تم اس سے مستفید نہ ہوسکتے اللہ کی قسم ! وہ کافی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتی ہے کہ کبھی بھی جہنم کی طرف نہ لوٹائی جائے۔ (حاکم وتعقب عن انس)
39497- "ناركم هذه جزء من سبعين جزءا من نار جهنم، ولولا أنها غمست في الماء مرتين ما استمعتم بها، وايم الله! إن كانت لكافية، وإنها لتدعو الله أن لا يعيدها في النار أبدا." ك، وتعقب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٩٨۔۔۔ اسے ہزارسال جلایا گیا یہاں تک کہ وہ سرخ ہوگئی پھر ہزار سال یہاں تک کہ سفید ہوگئی پھر ہزار سال یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی تو وہ سیاہ کالی ہے اس کی لپیٹ بجھتی نہیں۔ (بیھقی فی شعب الایمان عن انس)
39498- "أوقد عليها ألف سنة حتى احمرت، وألف عام حتى ابيضت، وألف عام حتى اسودت، فهي سوداء مظلمة لا يطفى لهبها." هب - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٤٩٩۔۔۔ جہنم کی ایک وادی کو لمسلم “ کہا جاتا ہے جہنم کی (باقی) وادیاں اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتی ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ )
39499- "إن في جهنم لواديا يقال له "لملم" إن أودية جهنم لتستعيذ بالله من حره." حل - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠٠۔۔۔ تیل کی تلچھٹ کی طرح جب اس کے چہرے کے قریب کیا جائے گا تو اس کی چہرے کی کھال اس میں گرجائے گی۔ (مسند احمد عبدبن حمید بیھقی ابویعلی ابن حبان حاکم بیھقی فی البعث عن ابی سعید فی قولہ لمھل قال فذکرہ)
39500- "كعكر الزيت فإذا قربه إلى وجهه سقطت فروة وجهه فيه." حم وعبد بن حميد، ق، ع، حب،1 ك، ق في البعث عن أبي سعيد في قوله "لمهل" قال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠١۔۔۔ اگر جہنم کا ایک شرارہ زمین کے درمیان میں گرجائے تو اس کی بدبو اور حرارت مشرق ومغرب کے درمیان میں لینے والی ہر چیز فنا ہوجائے۔ (ابن مردویہ عن انس)
39501- "لو أن شررة من شرر جهنم وقعت في وسط الأرض لأفنى ريحه وشدة حره ما بين المشرق والمغرب." ابن مردويه - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠٢۔۔۔ اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تھوہر کا ایک قطرہ زمین کے سمندروں میں ڈال دیا جائے تو خراب ہوجائیں تو جس کا کھانا ہوگا اس کا کیا بنے گا۔ (حاکم عن ابن عساکر)
39502- "والذي نفسي بيده! لو أن قطرة من الزقوم قطرت في بحار الأرض لفسدت، فكيف بمن يكون طعامه." ك - عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠٣۔۔۔ جہنم میں حاملہ اونٹنیوں کی گردنوں کی طرح سانپ ہیں ان میں اسے جب ایک ڈنک مارے گا تو (مجرم) اس کی شدت چالیس سال تک محسوس کرے گا اور جہنم کے بچھوموٹے خچروں کی گردنوں جیسے ہوں گے ان میں ایک ڈنک مارے تو چالیس سال تک اس کا درد محسوس کرے اگا۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر ، ابن حبان ، حاکم ، سعید بن منصور عن عبداللہ بن الحارث بن جزء الزبیدی)
39503- "إن في النار حيات كأمثال أعناق البخت الموكفة تلسع إحداهن اللسعة فيجد حموتها أربعين خريفا، وإن في النار عقارب كأمثال البغال الموكفة تلسع إحداهن اللسعة فيجد حموتها أربعين سنة." حم، طب، حب، ك، ص - عن عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৭
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠٤۔۔۔ جہنم کو ستر ہزار لگاموں سے پکڑکرلائے گا ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھنچ رہے ہوں گے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود)
39504- "يجاء بجهنم، تقاد بسبعين ألف زمام، مع كل زمام سبعون ألف ملك يجرونها." طب - عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৮
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠٥۔۔۔ جہنم پر ایک دن ایسا ضرور آئے گا گویا وہ پکی ہوئی سرخ فصل ہے اس کے دروازے چرچرا رہے ہوں گے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ)

کلام :۔۔۔ الضعیفۃ ٦٠٧
39505- "ليأتين على جهنم يوم كأنها زرع هاج واحمر تخفق أبوابها." طب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫১৯
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٣٩٥٠٦۔۔۔ جہنم پر ایسا دن آتا ہے جب کہ اس میں کوئی انسان نہیں ہوگا تو اس کے دروازے چرچرائیں گے (الخطیب عن ابی امامۃ) کلام :۔۔۔ ترتیب الموضوعات ١١٥٦
39506- "يأتي على جهنم يوم ما فيها من بني آدم أحد تخفق أبوابها." الخطيب - عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২০
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٠٧۔۔۔ سب سے کم درجہ عذاب والاوہ جہنمی ہوگا جسے آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے جن کی گرمی سے اس کا دماغ کھولے گا۔ (مسلم عن ابی سعید)
39507- "أدنى أهل النار عذابا ينتعل بنعلين من نار يغلي دماغه من حرارة نعليه." م - عن أبي سعيد"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২১
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٠٨۔۔۔ قیامت کے روز سب سے کم درجہ عذاب والا وہ شخص ہوگا جس کے قدموں کے تلووں کے نیچے دوانگارے رکھے جائیں گے جس سے اس کا دماغ ایسے کھولے گا جیسے ہنڈیا یاشیشے کا برتن کھولتا ہے (مسند احمد بخاری ترمذی عن النعمان بن بشیر)
39508- "إن أهون أهل النار عذابا يوم القيامة لرجل يوضع في أخمص قدميه جمرتان يغلي منهما دماغه كما يغلي المرجل بالقمقم." حم، خ2 ت - عن النعمان بن بشير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২২
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥٠٩۔۔۔ سب سے کم درجہ والا وہ جہنمی ہوگا جس کے آگ کے دوجوتے اور دو تسمے ہوں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ ہنڈیا کی طرح کھولے گا اس سے زیادہ عذاب والا کوئی نہیں سمجھا جائے گا حالانکہ وہ سب سے کم درجہ عذاب والاہوگا (مسلم عنہ)
39509- "إن أهون أهل النار عذابا من له نعلان وشراكان من نار، يغلى منهما دماغه كما يغلى المرجل، ما يرى أن أحدا أشد منه عذابا وإنه لأهونهم عذابا." م - عنه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২৩
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥١٠۔۔۔ قیامت کے روز وہ شخص سب سے کم عذاب والا ہوگا جس کے آگ والے دوجوتے ہوں گے جن کی وجہ سے اس کا دماغ کھولے گا۔ (حاکم عن ابوہریرہ )
39510- "إن أهون أهل النار عذابا يوم القيامة رجل يحذي له نعلان من نار يغلى منهما دماغه يوم القيامة." ك - عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২৪
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥١١۔۔۔ سب سے کم درجہ عذاب والا وہ شخص ہوگا جس کے قدموں تلے دو انگارے رکھے جائیں گے جن سے اس کا دماغ کھولے گا۔ (مسلم عن النعمان بن بشیر)
39511- "أهون أهل النار عذابا يوم القيامة رجل يوضع في أخمص قدميه جمرتان يغلى منهما دماغه." م - عن النعمان بن بشير"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২৫
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥١٢۔۔۔ سب سے کم درجہ عذاب ابوطالب کو ہوگا، انھوں نے آگ کے جوتے پہن رکھے ہوں گے جن سے ان کا دماغ کھولے گا۔ (مسلم عن العمان بن بشر)
39512- "أهون أهل النار عذابا أبو طالب وهو منتعل بنعلين من نار يغلى منهما دماغه." حم م - عن ابن عباس"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩৯৫২৬
قیامت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہنمیوں کی خصوصیات کا ذکر
٣٩٥١٣۔۔۔ قیامت کے روز اس جہنمی کو لایا جائے گا جو دنیا کا سب سے خوش عیش شخص ہوگا پھر اسے جہنم میں غوطہ دیا جائے گا اس کے بعد اسے کہا جائے گا : اے ابن آدم ! کیا تو نے کوئی بھلائی کبھی پائی ہے تجھ ہر کوئی نعمت کبھی ہوئی ؟ وہ عرض کرے گا : نہیں میرے رب پھر اس جنتی کو لایا جائے گا جو دنیا کا سب سے بدحال شخص تھا اسے جنت میں غوطہ دیا جائے گا اس سے کہا جائے گا : ابن آدم ! کیا تو نے کبھی کوئی پریشانی دیکھی کیا تجھ پر کبھی کوئی تنگی آئی وہ عرض کرے گا : نہیں میرے رب ! مجھ پر کوئی سخت نہیں آئی اور نہ میں نے کوئی مصیبت دیکھی۔ (مسند احمد، مسلم نسائی ابن ماجہ عن انس)
39513- "يؤتي بأنعم أهل الدنيا من أهل النار يوم القيامة فيصبغ في النار صبغة ثم يقال له: يا ابن آدم! هل رأيت خيرا قط هل مر بك نعيم قط؟ فيقول: لا والله يا رب! ويؤتي بأشد الناس بؤسا في الدنيا من أهل الجنة فيصبغ في الجنة صبغة فيقال له: يا ابن آدم! هل رأيت بؤسا قط؟ هل مر بك شدة قط؟ فيقول: لا والله يا رب ما مر بي بؤس قط ولا رأيت شدة قط." حم، م،3 ن، هـ- عن أنس".
tahqiq

তাহকীক: