কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯১৮ টি
হাদীস নং: ৪২৪০৭
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٣٩٤۔۔۔ سر اور پاؤں کی جانب سے قبر کشادہ رکھو اس کے لیے جنت میں کئی شاخیں ہوں گی۔ مسنداحمد عن رجل من الانصار
42394- أوسع من قبل الرأس، وأوسع من قبل الرجلين، لرب عذق له في الجنة."حم - عن رجل من الأنصار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪০৮
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٣٩٥۔۔۔ اے اللہ ! فلاں کا بیٹافلاں آپ کی ذمہ داری اور آپ کے پڑوس کے عہد میں ہے اسے قبر کے فتنہ اور جہنم کے عذاب سے مچانا آپ ہی وفا اور تعریف کے اہل ہیں اے اللہ اس کی مغفرت فرما اور اس پر رحم کر بیشک تو ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مسنداحمد، ابوداؤد، ابن ماجۃ عن واثلۃ
42395- اللهم! إن فلان ابن فلان في ذمتك وحبل جوارك فقه من فتنة القبر وعذاب النار، وأنت أهل الوفاء والحمد، اللهم! فاغفر له وارحمه، إنك أنت الغفور الرحيم."حم، د، هـ - عن واثلة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪০৯
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٣٩٦۔۔۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا کیا اور اسی میں تمہیں لوٹائیں گے اور اسی سے تمہین دوبارہ نکالیں گے، بسم اللہ فی سبیل اللہ وعلی ملۃ رسول اللہ، حاکم عن ابی امامۃ فرماتے ہیں کہ جب ام کلثوم بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر میں رکھی گئیں تو آپ نے یوں فرمایا۔
42396- {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} بسم الله وفي سبيل الله وعلى ملة رسول الله."ك - عن أبي أمامة قال: لما وضعت أم كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في القبر قال - فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১০
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٣٩٧۔۔۔ قبر جہنم کا ایک گڑھا ہے یا جنت کا ایک باغ ہے۔ بیہقی فی کتاب عذاب القبرعن ابن عمر
42397- القبر حفرة من حفر النار أو روضة من رياض الجنة."ق في كتاب عذاب القبر - عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১১
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٣٩٨۔۔۔ انتہائی مجبوری کے علاوہ اپنے مردوں کو رات میں دفن نہ کرو اور جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں تم میں سے کوئی کسی کی نماز جنازہ نہ پڑھے اور جب کسی کا بھائی فوت ہوجائے تو اس کے لیے اچھے کفن کا بند و بست کرے۔ حاکم فی تاریخہ عن جابر
42398- لا تدفنوا موتاكم في الليل إلا أن تضطروا، ولا يصلين على أحدكم ما دمت بين ظهرانيكم غيري، فإذا مات أخو أحدكم فليحسن كفنه."ك في تاريخه - عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১২
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٣٩٩۔۔۔ وہ شخص قبر میں داخل نہ ہو جو آج کی رات اپنی اہلیہ سے ہمسبتر ہواہو۔ مسنداحمد، والطحاوی، حاکم عن انس
42399- لا يدخل القبر رجل قارف أهله الليلة."حم والطحاوي ك - عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৩
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٤٠٠۔۔۔ قبروں میں نہ جھانکو کیونکہ وہ امانت ہیں اور قبر میں حوصلے والا شخص ہی داخل ہوسکتا ہے کہ گرہ کھل جائے اور اسے سیاہ چہرہ نظر آجائے اور گرہ کھل جائے اور اسے میت کی گردن کے ساتھ لپٹا ہواسیاہ نپ دکھائی دے ہوسکتا ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھ دیا جائے اور وہ شخص زنجیروں کی آوازسنے ہوسکتا ہے کہ وہ اسے پہلو پر کروٹ دے اور نیچے سے دھواں اٹھتا معلوم ہو تو یہ قبریں امانت ہیں۔ الدیلمی عن ابن ابرھیم بن ھدبۃ عن انس
42400- لا تطلعوا في القبورا، فإنها أمانة، ولا يدخل القبر إلا ذو أناة فعسى أله يحل العقد فيتجلى له وجه أسود، وعسى أن يحل العقد فيرى حية سوداء مطوقة في عنقه، وعسى أن يسويه في لحده فيسمع أصوات السلاسل، وعسى أن يقلبه فيتصور له دخان من تحته؛ فإنها أمانة."الديلمي - عن ابن إبراهيم بن هدبة عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৪
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٤٠١۔۔۔ عبدالرحمن بن حسان اپنی والدہ سرین سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابراہیم قبر میں دفن کئے گئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اینٹوں میں کشادگی دیکھی توا سے بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : آگاہ رہو ! اس سے نقصان ہوتا ہے نہ فائدہ البتہ اس سے زندہ کی آنکھ ٹھنڈی ہوتی ہے کیو کہ بندہ جب کوئی عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ وہ اسے مضبوط کرتا ہے۔ ابن سعد وزبیر بن بکار، طبرانی فی الکبیر ابن عساکر عن عبدالرحمن بن حسان عن امہ سیرین
42401- أما! إنها لا تضر ولا ينفع ولكنها تقر بعين الحي فإن العبد إذا عمل عملا أحب الله أن يتقنه. "ابن سعد وزبير بن بكار، طب، كر - عن عبد الرحمن بن حسان عن أمه سيرين قالت:لما دفن إبراهيم رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجة في اللبن فأمر بها أن تسد وقال - فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৫
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٤٠٢۔۔۔ ام سیرین خبردار ! اس سے میت کو فائد ہے نہ نقصان لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ جب کوئی کام کرے تو اسے اچھے طریقہ سے کرے۔ بیہقی عن کلیب الجری
42402- أما! إن هذا لا ينفع الميت ولا يضره ولكن الله يحب من العامل إذا عمله أن يحسن."هب - عن كليب الجري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৬
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٤٠٣۔۔۔ مکحول سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے فرزند کی قبر کے کنارے تھے آپ کو ایک سوراخ نظر آیا تو گورکن کو ایک ڈھیلہ دیا کہ اسے بند کردے اور فرمایا : اس سے نفع ہوتا ہے نہ نقصان البتہ زندہ کو اطمینان ہوتا ہے۔ ابن سعد عن مکحول
42403- إنها لا تضر ولا تنفع ولكنها تقر عين الحي."ابن سعد - عن مكحول أن النبي صلى الله عليه وسلم كان على شفير قبر ابنه فرأى فرجة في اللحد فناول الحفار مدرة وقال - فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৭
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٤٢٤٠٤۔۔۔ کچی اینٹوں کے روزن بند کردیا کرو خبردار، اس کا میت کو کچھ فائدہ نہیں البتہ زندہ کو اطمینان ہوتا ہے۔ الحسن بن سفیان، حاکم، ابن عساکر عن ابی امامۃ کہ جب ام کلثوم بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبر میں رکھی گئیں تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا۔
42404- سدوا خلال اللبن، أما! إن هذا ليس بشيء ولكنه يطيب بنفس الحي."الحسن بن سفيان، ك وابن عساكر - عن أبي أمامة! لما وضعت أم كلثوم بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم في القبر قال - فذكره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৮
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تلقین۔۔۔ ازاکمال
٤٢٤٠٥۔۔۔ جب آدمی مرجائے اور تم لوگ اسے دفن کردو تو اس کے سرہانے کھڑے ہو کر ایک شخص کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! کیونکہ وہ سن رہا ہوتا ہے پس وہ کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں، کیونکہ وہ تھوری دیر میں اٹھ بیٹھے گا پھر وہ کہے اے فلانی کے بیٹے فلاں ! کیونکہ عنقریب وہ اسے کہے گا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے میری رہنمائی کر ! پس وہ کہے : یار کر جس پر تو دنیا سے نکلا اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی قابل دعاو عبادت نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھائے کا منکرنکیر اس کے پاس ہر ایک کا ہاتھ پکڑکرکہتے ہیں اٹھو ! اس شخص کے پاس کیا کرتے ہوج سے اس کی حجت کی تلقین کردی گئی ہے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے اس کے سامنے حجت پیش کرتے ہیں۔ ابن عساکر عن ابی امامۃ
42405- إذا مات الرجل فدفنتموه فليقم أحدكم عند رأسه فليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه سيسمع، فليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه سيستوي قاعدا، فليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه سيقول له:أرشدني رحمك الله! فليقل اذكر: ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، وأن الساعة آتية لا ريب فيها، وأن الله يبعث من في القبور. وإن منكرا ونكيرا عند ذلك كل واحد يأخذ بيد صاحبه ويقول: قم، ما تصنع عند رجل لقن حجته! فيكون الله حجيجهما دونه."كر - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪১৯
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دفن کے بعد تلقین
٤٢٤٠٦۔۔۔ جب تمہارا کوئی بھائی مرجائے اور تم اس پر مٹی ڈال چکوتوتم میں سے ایک شخص اس کے سرہا نے کھڑے ہو کر کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! کیونکہ وہ سن رہا ہوتا ہے لیکن جواب نہیں دے سکتا پھر کہے اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو وہ سیدھا ہوکر بیٹھ جائے گا پھر کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو وہ کہے گا : اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے ہماری رہنمائی کر لیکن تمہیں اس کا شعور وعلم نہیں پھر کہے : اس بات کو دیاکر جس پر تو دنیا سے رخصت ہوا یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں اور تو اللہ تعالیٰ کو رب ماننے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی ماننے اسلام کو دین اور قرآن کو امام ماننے پر راضی ہے۔ کیونکہ جب وہ ایسا کرے گا کہ تو منکرنکیر ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کہیں گے ہمیں اس کے پاس سے لے چلوہم اس کے پاس کیا کریں گے اسے اس کی دلیل سمجھادی گئی لیکن اللہ تعالیٰ ان دونوں کے سامنے اسے دلیل کی تلقین کرے گا۔ ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! اگر مجھے اس کی ماں کا پتہ نہ ہو آپ نے فرمایا : اسے حضرت حوا علیہماالسلام کی طرف منسوب کردو۔ طبرانی فی الکبیر، ابن عساکر ، الدیلمی عن ابی امامۃ، کلام۔۔۔ الاتقان ٥٧٣۔
42406- إذا مات أحد من إخوانكم فنثرتم عليه التراب فليقم رجل منكم عند رأسه ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه يسمع ولكن لا يجيب، ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه يستوي جالسا، ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! فإنه يقول: أرشدنا رحمك الله! ولكن لا تشعرون، ثم ليقل: اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، وأنك رضيت بالله ربا وبمحمد نبيا وبالإسلام دينا وبالقرآن إماما. فإنه إذا فعل ذلك أخذ منكر ونكير أحدهما بيد صاحبه ثم يقول له: اخرج بنا من عند هذا، ما نصنع به فقد لقن حجته! ولكن الله عز وجل لقنه حجته دونهم قال رجل: يا رسول الله! فإن لم أعرف أمه! قال: انسبه إلى حواء."طب، كر، الديلمي - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২০
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دفن کے بعد تلقین
٤٢٤٠٧۔۔۔ اے ابو امامۃ ! کیا میں تمہیں اسے کلمات نہ سکھاؤں جو میت کے لیے دنیا اور اس کی چیزوں سے بہتر ہوں جب تمہارا مؤمن بھائی فوت ہوجائے اور تم اس کے دفن سے فارغ ہوجاؤ تو تمہارا ایک اس کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے کا پھر ضرور کہے : اے فلانی کے بیٹے فلاں ! تو وہ کہے کا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے جو باتیں تیرے پاس ہیں مجھے ان کی رہنمائی کر پس وہ کہے : اس بات کو یاد کر جس پر تو دنیا سے نکلا یعنی لاالہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی گواہی اور تو اللہ تعالیٰ کے رب ہونے اسلام کے دین ہونے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رسول ہونے پر راضی ہے۔ پھر منکراٹھ کر نکیر کا ہاتھ پکڑ کرک ہے گا : ہمیں لے چلواس کے پاس بیٹھنے سے ہمیں کیا مطلب جب کہ اسے اس کی دلیل کی تلقین کردی گئی اور اللہ تعالیٰ ان دونوں کا اس کے سامنے حجت سمجھانے والا ہوگا کسی نے کہا : اگر مجھے اس کی ماں کا نام یادنہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : اسے حوا (علیھا السلام) کی طرف منسوب کردو۔ ابن النجار عن ابی امامۃ
42407- يا أبا أمامة! ألا أدلك على كلمات هن خير للميت من الدنيا وما فيها وما غابت عليه الشمس وطلعت! إذا مات أخوكم المؤمن وفرغتم من دفنه فليقم أحدكم عند قبره ثم ليقل: يا فلان ابن فلانة! والذي نفس محمد بيده إنه ليستوي قاعدا! ثم ليقولن: يا فلان ابن فلانة! فيقول: أرشدني إلى ما عندك يرحمك الله! فليقل: اذكر ما خرجت عليه من الدنيا شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله، وقد كنت رضيت بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا، فيقوم منكر فيأخذ بيد نكير فيقول: قم بنا، ما يقعدنا عند هذا وقد لقن حجته! ويكون الله حجيجهما دونه. قيل: إن كنت لا أحفظ اسم أمه. قال: فانسبه إلى حواء."ابن النجار - عن أبي أمامة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২১
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل دفن ۔۔۔ ازاکمال
٤٢٤٠٨۔۔۔ تمہارے والد حضرت آدم (علیہ السلام) طبی کھجور کی طرح ساٹھ گزلمبے تھے زیادہ بالوں والے اور شرم گاہ کو چھپاتے تھے جب ان سے بھول ہوئی تو جنت سے بھاگ کر نکلے تو انھیں ایک درخت ملاجس نے ان کی پیشانی پکڑ کرا نہیں روک لیا پھر ان کے رب نے انھیں آوازدی، اے آدم مجھ سے بھاگے ہو ؟ آپ نے عرض کیا : نہیں بلکہ آپ سے شرم کی وجہ سے اے میرے رب ! جو خطا مجھ سے سرزد ہوگئی اس کے بعد انھیں زمین پر اتاردیا گیا جب ان کی وفات کا وقت آیا تو جنت سے ان کے لیے ان کا کفن اور خوشبو فرشتوں کے ساتھ بھیجی جب حضرت حوا (علیھا السلام) نے انھیں دیکھا تو وہ ان کے درمیان حائل ہوگئیں آپ نے فرمایا : میرے اور میرے رب کے فرستادوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ کیونکہ مجھ سے جو کچھ سرزد ہوا اور اس کا جو نتیجہ مجھے بھگتنا پرا صرف تمہاری وجہ سے ہوا۔ پھر جب ان کی وفات ہوگئی تو فرشتوں نے پانی اوبیری کے پتوں سے انھیں طاق بارغسل دیا اور طاق کپڑوں میں کفن دیا ان کے لیے لحد کھودی اور اس میں دفن کردیا اور کہا : ان کے بعد ان کی اولا دمیں یہی طریقہ تدفین رہے گا۔ عبدبن حمید فی تفسیر وابو الشیخ فی العظمۃ والخرانطی فی مکارم الا خلاق عنا بی بن کعب
42408- إن أباكم آدم كان طوالا كالنخلة السحوق " ستين ذراعا كثير الشعر وارى " العورة، فلما أصاب الخطيئة في الجنة خرج منها هاربا، فلقيته شجرة فأخذت بناصيته فحبسته؛ وناداه ربه: أفرارا مني يا آدم! قال: لا بل حياء منك يا رب مما جنيت فأهبط إلى الأرض؛ فلما حضرته الوفاة بعث إليه من الجنة مع الملائكة بكفنه وحنوطه، فلما رأتهم حواء ذهبت لتدخل دونهم، قال: خلي بيني وبين رسل ربي، فما أصابني الذي أصابني إلا فيك ولا لقيت الذي لقيت إلا منك، فلما توفي غسلوه بالماء والسدر وترا وكفنوه في وتر من الثياب، ثم لحدوا له ودفنوه، وقالوا: هذه سنة ولد آدم من بعده."عبد بن حميد في تفسيره وأبو الشيخ في العظمة والخرائطي في مكارم الأخلاق - عن أبي بن كعب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২২
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل دفن ۔۔۔ ازاکمال
٤٢٤٠٩۔۔۔ اے اللہ ! ہمارے زندوں اور مردوں کی بخشش فرماء اور ہمارے باہمی تعلقات درست فرماہمارے دلوں میں آپس کی محبت پیدا فرما، اے اللہ ! یہ آپ کا فلاں بندہ ہے جس کے بارے میں ہمیں اچھائی ہی کا علم ہے اور آپ اس سے بخوبی واقف ہیں سو ہماری اور اس کی بخشش فرما دیجئے کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر مجھے کسی بھلائی کا علم نہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : تو اتنا کہو جتنا تمہیں علم ہے۔ ابن سعد والبعوی والباوردی طبرانی فی الکبیر و ابونعیم عن عبداللہ بن الحارث نوفل بن الحارث بن عبدالمطلب عن ابیہ
42409- اللهم! اغفر لأحيائنا وأمواتنا، وأصلح ذات بيننا، وألف بين قلوبنا، اللهم! هذا عبدك فلان ولا نعلم إلا خيرا وأنت أعلم به فاغفر لنا وله؛ قيل: يا رسول الله! فإن لم أعلم خيرا؟ قال: لا تقل إلا ما تعلم."ابن سعد والبغوي والباوردي، طب وأبو نعيم - عن عبد الله بن الحارث بن نوفل بن الحارث بن عبد المطلب عن أبيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২৩
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل دفن ۔۔۔ ازاکمال
٤٢٤١٠۔۔۔ جو کسی کی قبر پر ایک مٹھی مٹی ڈالے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر منی کے بدلہ ایک نیکی لکھے گا۔ زکریا الساحی فی اخبار الاصعی عن ابوہریرہ
42410- من حثا على ميت حثوة كتب الله له بكل ثراة حسنة."زكريا الساجي في أخبار الأصمعي - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২৪
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل دفن ۔۔۔ ازاکمال
٤٢٤١١۔۔۔ جس نے کسی مسلمان مردیا عورت کی قبر پر ثواب کی نیت سے مٹھی بھر مٹی ڈالی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر منی کے بدلہ ایک نیکی لکھے کا۔ ابوالسیخ عن بی ہریرہ
42411- من حثا على مسلم أو مسلمة احتسابا كتب الله له بكل ثراة حسنة."أبو الشيخ - عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২৫
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل دفن ۔۔۔ ازاکمال
٤٢٤١٢۔۔۔ جس نے ثواب کی نیت سے کوئی قبر کھودی تو اس کے لیے اتنااجر ہے جیسے کوئی قیامت تک کسی مسکین کو گھر میں جگہ دے دے۔
42412- من حفر قبرا احتسابا كان له من الأجر كأنما أسكن مسكينا في بيت إلى يوم القيامة."الديلمي - عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২৪২৬
موت اور اس کے متعلق اور زیارت قبور کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ہفتم۔۔۔ میت پر نوحہ کی مذمت
٤٢٤١٣۔۔۔ جو بھی نوحہ کرنے والی عورت بغیر توبہ مرگئی تو اللہ تعالیٰ اسے آگ کی شلوار پہنائیں گے اور قیامت کے روز لوگوں کے سامنے کھڑا کریں گے۔ ابویعلی، ابن عدی عن ابوہریرہ ، کلام۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ ٢٢٧٠، ضعیف الجامع ٢٢٥١۔
42413- أيما نائحة ماتت قبل أن تتوب ألبسها الله سربالا من نار وأقامها للناس يوم القيامة."ع، عد - عن أبي هريرة".
তাহকীক: