কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২১৬৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21659 ۔۔۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) کہتی ہیں میں نے اپنے والد کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے عرض کیا : اے ابا جان ! کیا آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ آپ کے کپڑے قریب ہی رکھے ہوئے ہیں ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا پیاری بیٹی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آکری نماز جو میرے پیچھے پڑھی تھی وہ ایک ہی کپڑے میں پڑھی تھی ۔ (ابن ابی شیبہ ابو یعلی) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعف سے خالی نہیں چونکہ اس کی سند میں واقدی ہیں جو حدیث میں ضعیف سمجھے گئے ہیں۔
21659- "مسند الصديق" عن أسماء بنت أبي بكر قالت: "رأيت أبي يصلي في ثوب فقلت: يا أبت أتصلي في ثوب واحد وثيابك موضوعة؟ فقال: يا بنية إن آخر صلاة صلاها رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفي في ثوب واحد". "ش ع وفيه الواقدي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21660 ۔۔۔ مسند عمر (رض) ہے کہ آپ (رض) نے فرمایا مرد کی ران ستر ہے۔ (رواہ ابنابی شیبہ) فائدہ : ۔۔۔ یعنی ران کا ستر کرنا ضروری ہے یہ حکم عام ہے خواہ آدمی نماز میں ہو یا نماز سے باہر ۔
21660- "مسند عمر" عن عمر قال: "فخذ الرجل من العورة". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21661 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں ایک آدمی نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : جب اللہ تبارک وتعالیٰ تمہیں وسعت عطا فرمائے تو اپنی جانوں پر بھی وسعت کرو ، چنانچہ کوئی آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے اوپر کپڑوں کو جمع کرلیتا ہے کوئی ازار اور چادر میں نماز پڑھتا ہے کوئی ازار اور قمیص میں ، کوئی ازار اور قبا میں کوئی شلوار اور چادر میں ، کوئی شلوار اور قبا میں کوئی شلوار اور قمیص میں ، کوئی جان گیا اور چادر میں ، کوئی جان گیا اور قمیص میں ، کوئی جان گیا اور قبا میں نماز پڑھتا ہے۔ (مالک عبدالرزاق ابن عیینہ فی جامعہ البخاری والبیھقی فی الکبیر) فائدہ : ۔۔۔ حدیث میں لباس کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں ، یعنی ہر آدمی اپنی وسعت کے مطابق کپڑا پہنتا ہے گو کہ بعض صورتیں کفایتی درجہ کی ہیں نہایہ میں ہے کہ جان گیا سے مراد ہمارے زمانے کے مروجہ جانگیے نہیں ہیں بلکہ چھوٹی شلوار مراد ہے جو ستر عورت کے لیے کافی ہو۔
21661- عن أبي هريرة قال: "قام رجل إلى عمر فسأله عن الصلاة في الثوب الواحد، فقال: إذا وسع الله عليكم فأوسعوا على أنفسكم، جمع رجل عليه ثيابه، صلى رجل في إزار ورداء، في إزار وقميص، في إزار وقباء، في سراويل ورداء، في سراويل وقباء، في سراويل وقميص، في تبان ورداء، في تبان وقميص، في تبان وقباء". "مالك عب وابن عيينة في جامعه خ هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21662 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں ! مرد دوسرے مرد کی عورت (بدن کا وہ حصہ جس کا ستر کرنا ضروری ہو) کو نہیں دیکھ سکتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21662- عن عمر قال: "لا يرى الرجل عورة الرجل". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21663 ۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) میں اختلاف ہو کیا کہ آیا ایک کپڑے میں نماز جائز ہے یا نہیں حضرت ابی (رض) کہتے ہیں کہ ایک کپڑے میں نماز ہوجاتی ہے جب کہ عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک میں نہیں بلکہ دو کپڑوں میں نماز ہوتی ہے۔ تنے میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا گذر ہوا انھوں نے دونوں حضرات کو برا بھلا کہا اور فرمایا : بلاشبہ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وہ صحابی کسی بات میں اختلاف کریں سو بتلاؤ تمہارے کس فتوی پر لوگ عمل کریں گے رہی بات ابن مسعود (رض) کی سو وہ کوتاہی نہیں کرتے ورنہ صحیح قول ابی بن کعب کا ہے۔ (رواہ البیہقی)
21663- عن أبي سعيد قال: "اختلف أبي بن كعب وابن مسعود في الصلاة في ثوب واحد فقال أبي: ثوب واحد،" وقال ابن مسعود: ثوبين، فجاز عليهم عمر بن الخطاب فلامهما وقال: إنه ليسوءني أن يختلف اثنان من أصحاب محمد في شيء واحد فعن أي فتياكما يصدر الناس؟ أما ابن مسعود فلم يأل، والقول ما قال أبي". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21664 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی اسی طرح کی ایک روایت مروی ہے۔ (ابن منیع)
21664- عن جابر بن عبد الله مثله. "ابن منيع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21665 ۔۔۔ مسعود بن خراش روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ایک چادر لپیٹ کر امامت کرائی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21665- عن مسعود بن خراش أن عمر بن الخطاب أمهم في ثوب واحد متوشحا به. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21666 ۔۔۔ زہری روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ ایک کپڑا اپنے اوپر ڈالے ہوئے نماز پڑھ رہا ہے آپ (رض) نے فرمایا : یہودیوں کے ساتھ مشابہت مت کرو سو جب کسی کو ایک ہی کپڑا میسر ہو تو اسے ازار بنا لے ۔ (راوہ عبدالرزاق)
21666- عن الزهري أن عمر بن الخطاب رأى رجلا يصلي في ثوب واحد ملتحفا به، فقال: "لا تشبهوا باليهود، وإذا لم يجد أحدكم إلا ثوبا واحدا فليتزره". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21667 ۔۔۔ حسن بصری (رح) روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابی بن کعب (رض) اور ابن مسعود (رض) کا اختلاف ہوگیا کہ آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھ سکتا ہے کہ نہیں ابی بن کعب (رض) کا موقف تھا کہ ایک کپڑے میں نماز ہو جاتی ہے جب کہ ابن مسعود (رض) کا کہنا تھا کہ دو کپڑوں میں نماز ہوتی ہے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو پتہ چلا تو ان دونوں حضرات کو اپنے پاس بلوایا اور فرمایا تم نے ایک مسئلہ میں اختلاف کیا اور بغیر کسی فیصلہ کے جدا ہوگئے لوگوں کو پتہ نہیں چلے گا کہ تم میں سے کس کے قول کو اختیار کریں اگر تم میرے پاس آتے تو ضرور عملی بات حاصل کرتے قول تو ابی ابن کعب کا ہے اور ابن مسعود (رض) بھی کوتاہی نہیں کرتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21667- عن الحسن قال: "اختلف أبي بن كعب وابن مسعود في الرجل يصلي في الثوب الواحد، فقال أبي: يصلى في ثوب واحد، وقال ابن مسعود: في ثوبين فبلغ ذلك عمر فأرسل إليهما فقال: اختلفتما في أمر ثم تفرقتما فلم يدر الناس بأي ذلك يأخذون، لو أتيتماني لوجودتما؟؟ عندي علما القول ما قال أبي، ولم يأل ابن مسعود". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21668 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں ران بھی ان اعضاء میں سے ہے جن کا ستر کرنا ضروری ہے۔ رواہ بن جریر)
21668- عن عمر قال: "الفخذ من العورة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21669 ۔۔۔ ابو علاء مولی سلمیہ کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے ازار ناف کے اوپر باندھ رکھا تھا ۔ (رواہ ابن سعد ، بیہقی)
21669- عن أبي العلاء مولى الأسلمية قال: "رأيت عليا يتزر فوق السرة". "ابن سعد، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21670 ۔۔۔ محمد بن حنیفہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی ایک کپڑے میں نماز پڑھے چنانچہ آپ (رض) ایک کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے اور کپڑے کی اطراف کو دائیں بائیں پھیر کر ڈال لیتے تھے ۔ (رواہ مسدد)
21670- عن محمد بن الحنفية أن عليا "كان لا يرى بأسا أن يصلي الرجل في الثوب الواحد، وكان يصلي في الثوب الواحد وقد خالف بين طرفيه". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21671 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) لومڑیوں کے چمڑے میں نماز پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21671- عن علي أنه كره الصلاة في جلود الثعالب. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21672 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میری ران ننگی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی اپنی ران کو کپڑے سے ڈھانپ لو چونکہ ران ان اعضاء میں سے ہے جن کاستر ضروری ہوتا ہے۔ (الشاشی وابن ماجہ) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس کی سند میں اسماعیل صفار ہے جو حدیث میں ضعیف ہے۔
21672- عن علي قال: "دخل علي النبي صلى الله عليه وسلم وأنا كاشف عن فخذي، فقال: يا علي غط فخذك فإنها من العورة". "الشاشي وإسماعيل الصفار في حديثه". 1
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21673 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ وہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور ان کی رانوں سے کپڑا ہٹا ہوا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن ابی طالب اپنی ران کو ننگا مت کرو چونکہ ران بھی عورت میں سے ہے ، زندہ آدمی کی ران کی طرف سے نہ دیکھو اور تم مردوں کو غسل دیتے ہو لہٰذا مردہ کی ران کی طرف بھی مت دیکھو (ابن راھویہ ابن جریر ابن جریر نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے)
21673- عن علي أنه كان يدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فدخل عليه يوما وقد كشف عن فخذيه فقال: "يا ابن أبي طالب لا تكشف عن فخذك فإنها عورة، ولا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت فإنك تغسل الموتى". "ابن راهويه وابن جرير: وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21674 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اپنی ران کو ننگا مت کرو اور زندہ آدمی کی ران کی طرف دیکھو اور نہ ہی مردہ کی طرف ۔ (رواہ الیہقی)
21674- عن علي قال: "قال لي النبي صلى الله عليه وسلم: "لا تبرز فخذك، ولا تنظر إلى فخذ حي ولا ميت". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21675 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کہتے ہیں : ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں نماز پڑھ لیتے تھے حالانکہ ہمارے پاس دو کپڑے موجود ہوتے تھے ۔ (رواہ ابن خزیمہ)
21675- عن أبي "كنا نصلي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في الثوب الواحد ولنا ثوبان". "ابن خزيمة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21676 ۔۔۔ حضرت ابی (رض) کہتے ہیں : ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت ہے چنانچہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک کپڑے میں نماز پڑھتے تھے اور ہمیں اس پر ٹوکا نہیں جاتا تھا حضرت ابن مسعود (رض) بولے یہ امر اس وقت تھا جب کپڑے قلیل پائے جاتے تھے اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے وسعت دے دی تودو کپڑوں میں نماز زیادہ بہتر اور تقوی کے زیادہ لائق ہے۔ (عبداللہ بن احمد)
21676- عن أبي قال: "الصلاة في الثوب الواحد سنة كنا نفعله مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يعاب علينا"، فقال ابن مسعود: "إنما كان ذلك وفي الثياب قلة، فأما إذا وسع الله فالصلاة في الثوبين أزكى". "عم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21677 ۔۔۔ حضرت حسن بصری (رح) کہتے ہیں ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) کا ایک کپڑے میں نماز کے جواز یا عدم جواز میں اختلاف ہوگیا حضرت ابی (رض) کا موقف تھا کہ ایک کپڑے میں نہیں نماز ہوجاتی ہے چونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی ہے جب کہ ابن مسعود (رض) کہتے تھے کہ یہ حکم اس وقت تھا جب کپڑے بہت کم پائے جاتے تھے اور جب کپڑوں میں بہتات آگئی تو دو کپڑوں میں نماز ہوگی اتنے میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کھڑے ہوئے اور فرمایا : ابی (رض) کا قول صحیح ہے اور ابن مسعود (رض) کوتاہی نہیں کرتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21677- عن الحسن أن أبي بن كعب وعبد الله بن مسعود اختلفا في الصلاة في الثوب الواحد، فقال أبي: "لا بأس به قد صلى النبي صلى الله عليه وسلم في ثوب واحد فالصلاة فيه جائزة، وقال ابن مسعود: إنما كان ذلك إذا كان الناس لا يجدون الثياب، وأما إذا وجدوها فالصلاة في ثوبين فقام عمر على المنبر فقال: القول ما قال أبي ولم يأل ابن مسعود". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৬৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ستر عورت :
21678 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور کپڑے کی دونوں طرفوں کو دائیں بائیں ڈال لیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21678- عن أنس صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثوب واحد خالف بين طرفيه. "ش".
তাহকীক: