কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২১৭৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21781 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے سورج ابھی صاف ستھرا ہوتا پھر میں اپنے اہل خانہ کے پاس آتا تاہم انھوں نے نماز نہ پڑھی ہوتی ۔ میں کہتا تمہیں کس چیز نے روک رکھا ہے حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ چکے ہیں۔ (سعید بن منصور ابن ابی شیبہ)
21779- عن علي قال: "كانت أول صلاة ركعنا فيها العصر فقلت: يا رسول الله ما هذا؟ قال: بهذا أمرت". "البزار، طس: وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21782 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے سورج ابھی بلند اور صاف و شفاف ہوتا اور اگر کوئی کہیں جانا چاہتا تو جاسکتا اور عوالی مدینہ بھی آسکتا تھا سورج جوں کا توں بلند ہوتا ۔ (عبدالرزاق ابن ابی شیبہ)
21780- عن أبي عون قال: "كان علي يؤخر العصر حتى ترتفع الشمس عن الحيطان". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21783 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے پھر اگر کوئی انسان قبیلہ بنی عمرو بن عوف کی طرف آتا تو انھیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پا لیتا تھا ۔ (مالک عبدالرزاق بخاری مسلم نسائی ابو عوانہ)
21781- عن أنس كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر والشمس بيضاء محلقة، ثم آتي عشيرتي في جانب المدينة لم يصلوا فأقول: ما يحبسكم؟ صلوا فقد صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ص ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21784 ۔۔۔ علاء بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں حضرت انس بن مالک (رض) کے پاس ظہر کے بعد آیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور عصر کی نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے ہم نے نماز جلدی پڑھنے کی شکایت کی انھوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے یہ منافقین کی نماز ہے۔ (تین مرتبہ یہ کلمات دہرائے) چنانچہ منافق بیٹھا رہتا ہے جب سورج زرد پڑجاتا ہے اور شیطان کے سینگوں کے درمیان آجاتا ہے پھر وہ شیطان کے سینگ پر کھڑے ہو کر چار ٹھونگیں مار لیتا ہے اور اس میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا ذکر بہت قلیل ہی کرتا ہے۔ (رواہ مالک)
21782- وعنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس مرتفعة حية فيذهب الذاهب، فيأتي العوالي، والشمس مرتفعة. "عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21785 ۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی غزوہ کے موقع پر ارشاد فرمایا کہ بارش والے دن جلدی سے نماز پڑھ لیا کرو چونکہ جس نے عصر کی نماز چھوڑی اس کا عمل ضائع ہوگیا ۔ (رواہ نسائی)
21783- عن أنس كنا نصلي العصر ثم يخرج الإنسان إلى بني عمرو بن عوف فيجدهم يصلون العصر. "مالك، عب، خ، م، ن وأبو عوانة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21786 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) آئے اور کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی ، حتی کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوچکا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بخدا میں نے بھی نماز نہیں پڑھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نیچے اترے وضو کیا اور عصر کی نماز پڑھی سورج غروب ہوچکا تھا اور پھر عصر کے بعد مغرب کی نماز پڑھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21784- عن العلاء بن عبد الرحمن أنه قال: "دخلنا على أنس بن مالك بعد الظهر فقام يصلي العصر، فلما فرغ ذكرنا تعجيل الصلاة أو ذكرها فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تلك صلاة المنافقين - ثلاث مرات - يجلس أحدهم حتى إذا اصفرت الشمس وكانت بين قرني الشيطان أو على قرني الشيطان قام فنقر أربعا لا يذكر الله فيها إلا قليلا". "مالك"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21787 ۔۔۔ حضرت رافع بن خدیج (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے پھر ہم اونٹ ذبح کرتے پھر دس حصوں میں تقسیم کرتے اور پکا کر کھالیتے ہم یہ سارے کام مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کرلیتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ) فائدہ : ۔۔۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یہ سارے کام ڈیڑھ دو گھنٹوں میں انجام دے دیتے تھے اور عصر کے بعد کا وقت تقریبا اتنا ہی ہوتا ہے اونٹ ذبح کرنا اور پھر اس کے تکے بنانا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے لیے دو گھنٹے کا کام ہوتا تھا ۔
21785- عن بريدة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض غزواته فقال: "بكروا بالصلاة في يوم الغيم، فإنه من ترك العصر حبط عمله". "ن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21788 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دن کے وقت عصر کی نماز پڑھائی ۔ (رواہ عبدالرزاق) یہ حدیث حسن ہے۔
21786- عن جابر قال: جاء عمر يوم الخندق فجعل يسب كفار قريش ويقول: "يا رسول الله ما صليت العصر حتى كادت الشمس أن تغيب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "وأنا والله ما صليت بعد" فنزل فتوضأ ثم صلى العصر بعد ما غربت الشمس ثم صلى المغرب بعد ما صلى العصر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21789 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں دن کے وقت عصر کی نماز پڑھائی پھر سورج غروب ہونے تک خطاب ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کوئی ایسی چیز نہیں تھی جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان نہ کیا ہو ، سو جس نے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور بھولنے والا بھول گیا ۔ (ترمذی ونعیم بن حماد)
21787- عن رافع بن خديج "كنا نصلي العصر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم ننحر الجزور فنقسم عشرة أجزاء ثم نطبخ فنأكل لحما نضيجا قبل أن نصلي المغرب". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21790 ۔۔۔ حضرت ابو اروی (رض) کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتا اور پھر میں ذوالحلیفہ آجاتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21788- عن أبي سعيد "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر يوما بنهار". "عب: وهو حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21791 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ ہم عمر بن عبدالعزیز (رح) کے ساتھ رہا کرتے تھے ایک مرتبہ عصر کی نماز میں تاخیر ہوگئی تو عمر بن عبدالعزیز (رح) سے عروہ کہنے لگے : مجھے بشیر بن ابی مسعود انصاری نے انصاری نے حدیث سنائی ہے کہ ایک مرتبہ مغیرہ (رض) نے عصر کی نماز تاخیر سے پڑھی مغیرہ اس وقت کوفہ کے گورنر تھے ان کے پاس ابو مسعود انصاری (رح) داخل ہوئے اور کہا اے مغیرہ بخدا ! مجھے علم ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور نماز پڑھی ان کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں نے بھی نماز پڑھی پھر جبرائیل تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ نماز پڑھی بشیر بن ابو مسعود (رض) نے پانچ نمازوں کا ذکر کیا پھر کہا کہ مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز (رح) نے کیا : اے عروہ ! ذرا غور کرو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ کیا جبرائیل (علیہ السلام) نے ہی نماز کا وقت مقرر کیا ہے ؟ عروہ کہنے لگے بشیر بن ابی مسعود اپنے والد سے مروی حدیث یوں ہی سناتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق) ۔
21789- وعنه "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر بنهار ثم خطب إلى أن غابت الشمس فلم يدع شيئا هو كائن إلى يوم القيامة إلا حدثنا به حفظه من حفظه ونسيه من نسيه". "ت ونعيم بن حماد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21792 ۔۔۔ صفوان بن محرزمازنی کی روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) نے ہمیں بارش کے دن عصر کی نماز پڑھائی چنانچہ جب بادل چھٹ گئے اور آسمان صاف ہوگیا تو معلوم ہوا کہ نماز کا وقت ابھی نہیں ہوا حضرت ابو موسیٰ (رض) نے نماز لوٹائی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21790- عن أبي أروى "كنت أصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العصر ثم آتي الشجرة يعني ذا الحليفة قبل أن تغيب الشمس". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21793 ۔۔۔ عروہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی مغیرہ (رض) کے پاس گیا مغیرہ (رض) اس وقت کوفہ کے گورنر تھے اس نے مغیرہ (رض) کو دیکھا کہ عصر کی نماز میں تاخیر کر رہے ہیں وہ آدمی بولا آپ عصر کی نماز تاخیر سے کیوں پڑھتے ہیں۔ حالانکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتا تھا اور پھر میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں اپنے اہل خانہ کے پاس جاتا جب کہ سورج بدستور چمک رہا ہوتا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21791- عن الزهري قال: "كنا مع عمر بن عبد العزيز فأخر صلاة العصر مرة فقال له عروة: حدثني بشير بن أبي مسعود أن المغيرة ابن شعبة أخر الصلاة مرة يعني العصر وهو على الكوفة، فدخل عليه أبو مسعود الأنصاري فقال: أما والله يا مغيرة لقد علمت أن جبريل نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى الناس معه، ثم نزل فصلى فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلى الناس معه، حتى عد خمس صلوات ثم قال: هكذا أمرت فقال له عمر: انظر ما تقول يا عروة أو أن جبريل هو أقام وقت الصلاة؟ فقال عروة: كذلك كان بشير بن أبي مسعود يحدث عن أبيه". "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21794 ۔۔۔ اوس بن ضمحج کہتے ہیں مجھے خبر دی گئی کہ جس کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کے اہل ومال سب ہلاک ہوگئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)
21792- عن صفوان بن محرز المازني قال: "صلى بنا أبو موسى الأشعري صلاة العصر في يوم دجن فلما أصحت السماء إذا هو قد صلاها لغير وقتها فأعاد الصلاة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21795 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کہتی ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے جبکہ سورج میرے حجرے سے نکل چکا ہوتا تھا ۔ میرا حجرہ قدرے وسیع تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21793- عن عروة قال قدم رجل على المغيرة بن شعبة وهو على الكوفة فرآه يؤخر العصر فقال له: لم تؤخر العصر؟ فقد كنت أصليها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم أرجع إلى أهلي إلى بني عمرو بن عوف والشمس مرتفعة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21796 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھتے سورج ابھی میرے حجرے میں لگ رہا ہوتا تھا اور بعد میں سایہ ظاہر نہیں ہوتا تھا ۔ (عبدالرزاق ، سعید بن منصور ابن ابی شیبہ)
21794- عن أوس بن ضمعج فقال: "أخبرت أنه من أخطأته العصر فكأنما وتر أهله وماله". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21797 ۔۔۔ مسند عمر (رض) ربیعہ بن درج کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے عصر کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھیں تو ان پر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) غصہ ہوگئے اور فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے منع کیا ہے۔ (عبدالرزاق احمد بن حنبل)
21795- عن عائشة قالت: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي العصر حين تخرج الشمس من حجرتي، وكان قدر حجرتي بسطة" "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی تفصیلی وقت کے بیان میں :
21798 ۔۔۔ فرات بن سلمان کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : کیا تم میں سے کوئی آدمی ہے جو اٹھے اور عصر سے پہلے چار رکعات پڑھے اور ان میں وہ تسبیحات پڑھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھا کرتے تھے ، وہ تسبیح یہ ہے۔ ” تم نورک فھدیت ، فلک الحمد وعظم حلمک فعفوت فلک الحمد بسطت یدک فاعطیت فلک الحمد ربنا وجھک اکرم الوجوہ وجاھک اعظم الجاہ ، وعطیتک افضل العطیۃ اوھناھا تطاع دینا فتشکر وتعضی ربنا فتغفر وتجیب المضطر وتکشف الضر وتشفی السقیم وتغفر الذنب وتقبل التوبہ ولا یجزی بالائک احد ولا یبلغ مدحتک قول وقائل : (اے ہمارے رب) تیرا نور کامل ومکمل ہے اور تو ہدایت دینے والا ہے ، تمام نعمتیں تیرے ہی لیے ہیں ، تیری بردباری عظیم الشان ہے تو معاف کردیتا ہے اور تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے ، تو نے اپنے ہاتھ کو پھیلا رکھا ہے تو ہی عطا کرتا ہے اور تو ہی قابل ستائش ہے، اے ہمارے رب ! تو سراپا بخشش ہے اور تو عظیم تر شان و شوکت والا ہے۔ تیرا عطیہ سب سب افضل اور بہت ہی مزیدار ہے ، اے ہمارے رب تیری اطاعت کی جاتی ہے اور تو اس کی پاسداری بھی کرتا ہے ، اے ہمارے رب ! تیری نافرمانی کی جاتی ہے اور تو بخش دیتا ہے ، بےچین کی سنتا ہے اور پریشانی کو دور کرتا ہے ، بیمار کو شفاء عطا کرتا ہے اور تو گناہوں کو معاف کرتا ہے ، تو توبہ بھی قبول کرتا ہے اور تیری نعمتوں کا کوئی بھی بدلہ نہیں دے سکتا اور تیری تعریف کا احاطہ کسی قائل کا قول نہیں کرسکتا ۔ (ابویعلی)
21796- وعنها قالت: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يظهر الفيء بعد". "عب ص ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21799 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر سے پہلے دو رکعات پڑھتے تھے ۔ (ابو داؤد و سعید بن منصور)
21797- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ربيعة بن دراج أن عليا صلى بعد العصر ركعتين فتغيظ عليه عمر وقال: "أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنهما". "عب حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২১৭৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21800 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا فرمان ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جس نے عصر سے پہلے چار رکعات پڑھیں ۔ (رواہ ابن جریر)
21798- عن الفرات بن سلمان قال: "قال علي ألا يقوم أحدكم فيصلي أربع ركعات قبل العصر ويقول فيهن ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تم نورك فهديت، فلك الحمد، وعظم حلمك فعفوت فلك الحمد وبسطت يدك فأعطيت فلك الحمد، ربنا وجهك أكرم الوجوه، وجاهك أعظم الجاه، وعطيتك أفضل العطية وأهنأنها، تطاع ربنا فتشكر وتعصى ربنا فتغفر، وتجيب المضطر وتكشف الضر، وتشفي السقيم وتغفر الذنب، وتقبل التوبة ولا يجزي بآلائك أحد ولا يبلغ مدحتك قول قائل". "ع".
tahqiq

তাহকীক: