কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২১৭৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21801 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تین چیزوں کی وصیت کی ہے کہ جب تک میں زندہ رہوں ان کو نہ چھوڑوں ان میں سے ایک یہ ہے کہ عصر سے پہلے چار رکعات پڑھتا رہوں سو جب تک میں زندہ ہوں ان کو نہیں چھوڑوں گا ۔ (رواہ ابن نجار)
21799- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قبل العصر ركعتين". "د، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21802 ۔۔۔ جبیر بن نضیر کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے عمیر بن سعد کو خط لکھا کہ عصر کے بعد دو رکعتوں سے رک جاؤ حضرت ابو درداء (رض) کہنے لگے ، رہی بات میری سو میں تو ان کو نہیں چھوڑوں گا ۔ (رواہ ابن جریر)
21800- عن علي قال: "رحم الله من صلى قبل العصر أربعا". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21803 ۔۔۔ سعید بن جبیر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد جو نماز پڑھی تھی وہ اس لیے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال تقسیم کرنے میں مشغول ہوگئے تھے اور ظہر کے بعد کی دو رکعتیں آپ سے چھوٹ گئی تھیں تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد وہ دو رکعتیں پڑھی تھیں پھر بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا نہیں کیا ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) تو قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نہ عصر سے پہلے نماز پڑھی ہے اور نہ اس کے بعد۔ (رواہ ابن جریر) کلام : ۔۔۔ حدیث کا ابتدائی حصہ تو ثابت ہے لیکن دوسرا حصہ ضعف سے خالی نہیں دیکھئے ۔ ضعیف الترمذی صفحہ 27 ۔
21801- عن علي قال: "أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بثلاث لا أدعهن ما حييت: أن أصلي قبل العصر أربعا فلست بتاركهن ما حييت". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21804 ۔۔۔ ابو اسود عبداللہ بن قیس کی روایت ہے کہ عطیۃ بن نماز نے انھیں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے ہاں بھیجا تاکہ ان سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صوم وصال کے متعلق سوال کریں ۔ چنانچہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن اور ایک رات روزہ رکھتے تھے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روزہ کے بارے میں پوچھا : فرمایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعبان کو رمضان کے ساتھ ملا لیتے تھے انھوں نے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ سے دریافت کیا تو انھوں نے ان سے منع کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
21802- عن جبير بن نفير أن عمر بن الخطاب كتب إلى عمير بن سعد: إنه من قبلك عن الركعتين بعد العصر، فقال أبو الدرداء: "أما أنا فما كنت لأدعهما". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21805 ۔۔۔ ابو اسود عبداللہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے مؤمینن اولاد اور مشرکین کی اولاد کے بارے میں اور عصر کی دو رکعتوں کے بارے میں دریافت کیا حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ نے فرمایا یہ اولاد اپنے آباء و اجداد کے ساتھ ہوگی میں نے پوچھا کیا بلا عمل کے ؟ فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ان کے عمل سے خوب واقف ہے۔ رہی بات عصر کی دو رکعتوں کی سو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان رکعات سے مشغول کردیا تھا ، تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز کے بعد پڑھیں حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ رکعات عصر سے پہلے پڑھتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صوم وصال سے منع فرماتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر)
21803- عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: "إنما صلى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة بعد العصر لأنه أتاه مال فقسمه فشغله عن الركعتين بعد الظهر فصلاهما بعد العصر، ثم لم يعد، وكان ابن عباس يحلف بالله أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يصلها قبلها ولا بعدها". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21806 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو نمازیں میرے گھر میں کبھی نہیں چھوڑیں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
21804- عن أبي الأسود عبد الله بن قيس أن عطية بن عازب أرسله إلى عائشة فسألها عن وصال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: "كان يصوم يوما وليلة، وسألها عن صيامه فقالت: كان يصل شعبان برمضان، وسألها عن ركعتين بعد العصر فنهت عنهما". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21807 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کے آزاد کردہ غلام ذکوان حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد دو رکعات پڑھ لیتے تھے جب کہ دوسروں کو اس سے روکتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
21805- عن أبي الأسود عبد الله بن قيس قال: "سألت عائشة عن ذرية المؤمنين، وذرية المشركين، وعن ركعتي العصر؟ قالت: مع آبائهم، قلت بلا عمل؟ قالت: الله أعلم بما كانوا عاملين، وأما ركعتا العصر، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم شغلوه عن ركعتين كان يصليهما قبل العصر فركعهما بعد العصر، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن الوصال". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21808 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں برابر عصر کے بعد دو رکعات پڑھتی رہی حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوئے ۔
21806- عن عائشة قالت: "صلاتان ما تركهما النبي صلى الله عليه وسلم في بيتي قط ركعتين قبل الفجر وركعتين بعد العصر". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21809 ۔۔۔ اسود (رض) کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھنے پر مارتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
21807- عن ذكوان مولى عائشة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم "أنه كان يصلي بعد العصر وينهى عنها". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21810 ۔۔۔ وبرہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حضرت تمیم داری (رض) کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے انھیں درے کے ساتھ مارا اس پر تمیم (رض) کہنے لگے اے عمر ! آپ مجھے اس نماز پر کیوں مار رہے ہیں جسے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تو پڑھ چکا ہوں ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے تمیم ! جو کچھ تم جانتے ہو وہ سارے لوگ نہیں جانتے ۔ (حارث وابویعلی)
21808- عن عائشة قالت: "ما زلت أصلي بعد العصر ركعتين حتى مات النبي صلى الله عليه وسلم". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21811 ۔۔۔ فارسیوں کے آزاد کردہ غلام سائب زید بن خالد جہنمی سے روایت کرتے ہیں کہ خلیفہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ان کو عصر کے بعد پڑھتے ہوئے دیکھا چنانچہ آپ (رض) چل کر زید (رض) کے پاس آئے اور انھیں درہ کے ساتھ مارا۔ لیکن وہ برابر نماز پڑھتے رہے چنانچہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا اے عمر آپ مجھے مار رہے ہیں بخدا میں اس نماز کو نہیں چھوڑوں گا چونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس پر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے زید بن خالد ! اگر مجھے خوف نہ ہوتا کہ لوگ ان دو رکعتوں کو رات تک نماز کے لیے سیڑھی بنالیں گے تو میں نہ مارتا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21809- عن الأسود أن عمر كان يضرب على الركعتين بعد العصر. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21812 ۔۔۔ طاوؤس کی روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری (رض) سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی خلافت سے پہلے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے جب سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو خلیفہ بنادیا گیا تو انھوں نے یہ رکعات چھوڑ دیں پھر جب سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی وفات ہوگئی ۔ ابو ایوب (رض) پھر پڑھنے لگے لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو کہنے لگے : سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ان پر مارتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21810- عن وبرة قال: "رأى عمر تميما الداري يصلي بعد العصر فضربه بالدرة، فقال تميم: لم يا عمر تضربني على صلاة صليتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فقال عمر: يا تميم ليس كل الناس يعلم ما تعلم". "الحارث، ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21813 ۔۔۔ مقدام بن شریح (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی کیفیت کیا تھی حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز پڑھتے اور پھر ان کے بعد دو رکعتیں پڑھتے پھر عصر کی نماز پڑھتے اور اس کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھتے میں نے عرض کیا کہ عمر (رض) تو عصر کے بعد کی رکعتوں سے منع کرتے تھے اور مارتے بھی تھے ؟ ـحضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کہنے لگیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) پڑھتے تھے انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دو رکعتیں پڑھتے تھے لیکن تمہاری قوم یعنی اہل یمن کمینے لوگ ہیں چنانچہ وہ ظہر کی نماز پڑھتے ہیں اور پھر ظہر اور عصر کے درمیان بھی پڑھتے رہتے ہیں ، پھر عصر کی نماز پڑھتے ہیں اور پھر عصر اور مغرب کے درمیان بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں سو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بہت اچھا کرتے تھے ۔ (ابو العباس فی مسندہ)
21811- عن السائب مولى الفارسيين عن زيد بن خالد الجهني أنه رآه عمر بن الخطاب وهو خليفة يركع بعد العصر ركعتين فمشى إليه فضربه بالدرة وهو يصلي كما هو، فلما انصرف قال زيد: "أضرب يا أمير المؤمنين فوالله لا أدعها أبدا إذ رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليهما، فجلس إليه عمر وقال: يا زيد بن خالد لولا أني أخشى أن يتخذهما الناس سلما إلى الصلاة حتى الليل لم أضرب فيهما". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21814 ۔۔۔” مسند صدیق (رض) “۔ منصور اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مغرب سے پہلے نہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے دو رکعتیں پڑھیں نہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اور نہ ہی سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
21812- عن طاووس أن أبا أيوب الأنصاري "كان يصلي قبل خلافة عمر ركعتين بعد العصر، فلما استخلف عمر تركهما، فلما توفي عمر ركعهما فقيل له ما هذا؟ فقال: إن عمر كان يضرب عليهما". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عصر کی سنتوں کے بیان میں :
21815 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ شفق سرخی کا نام ہے۔ (سمویہ وابن مردویہ) فائدہ : ۔۔۔ سورج غروب ہونے کے بعد مغرب کی طرف افق پر سرخی سی چھا جاتی ہے حدیث بالا کی رو سے اسی کو شفق کہا جائے گا ۔
21813- عن المقدام بن شريح عن أبيه قال: "سألت عائشة عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف كان يصلي؟ قالت: كان يصلي الهجير، ثم يصلي بعدها ركعتين، ثم يصلي العصر، ثم يصلي بعدها ركعتين، قلت: فقد كان عمر يضرب عليهما وينهى عنهما؟ فقالت: قد كان يصليهما وقد علم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصليهما ولكن قومك أهل اليمن قوم طغام يصلون الظهر، ثم يصلون ما بين الظهر والعصر، ويصلون العصر، ثم يصلون ما بين العصر والمغرب، وقد أحسن. "أبو العباس في مسنده".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
21816 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا کہ ستاروں کے ظہور سے پہلے پہلے مغرب کی نماز پڑھ لو ۔ (طحاوی)
21814- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن منصور عن أبيه قال: "ما صلى أبو بكر ولا عمر ولا عثمان الركعتين قبل المغرب". "عب ومسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
21817 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا کہ مغرب کی نماز پڑھو درآں حالیکہ دروں میں ابھی روشنی (سفیدی) ہو ۔ (عبدالرزاق ابن ابی شیبہ ، سعید بن منصور وطحاوی)
21815- عن عمر قال: "الشفق الحمرة". "سمويه وابن مردويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
21818 ۔۔۔ ابو بردہ (رض) کی روایت ہے کہ میں حبان سے آیا اور یہ کہہ سکتا تھا کہ سورج ابھی ابھی غروب ہوا ہے اور میں سوید بن غفلہ کی پاس سے گزرا تو میں نے کہا : کیا تم نماز پڑھ چکے ہو ؟ انھوں نے اثبات میں جواب دیا میں نے کہا : میرے خیال میں تم نے جلدی کردی ہے انھوں نے جواب دیا : عمر بن خطاب (رض) اسی طرح نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ البیہقی)
21816- عن عمر قال: "صلوا المغرب قبل أن تبدو النجوم". "الطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
21821 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے مغرب کی نماز پڑھنی چاہی لیکن کسی اہم کام کی وجہ سے رک گئے حتی کہ دو ستارے طلوع ہوگئے ۔ چنانچہ پھر نماز پڑھی اور جب فارغ ہوئے تو (اس کمی کو پورا کرنے کے لیے) دو غلام آزاد کیے (ابن مبارک فی الزھد)
21817- عن عمر قال: "صلوا المغرب والفجاج مسفرة". "عب ش ص والطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২১৮১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مغرب اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
21821 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھتے اور پھر قبیلہ بنو سلمہ میں واپس آتے حتی کہ ہم تیروں کے نشانات کو دیکھ سکتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ) مغرب کی نماز میں جلدی کرنا : فائدہ : ۔۔۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مغروب کی نماز جلدی پڑھ لیتے تھے اور جب گھروں کو واپس جاتے تو اچھی خاصی روشنی ہوتی تھی ۔
21818- عن أبي بردة قال: "أتيت من الجبان وأنا أقول: الآن وجبت الشمس، فمررت بسويد بن غفلة عند مسجدهم فقلت: أصليتم؟ قال: نعم، فقلت ما أراكم إلا قد عجلتم، قال: كذلك كان عمر بن الخطاب يصليها". "ق".
তাহকীক: