কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২০৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22080 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتے : وجھت وجھی للذی فطرالسموت والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی ونس کہ ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین اللھم انت الملک لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی واعترفت نذ نبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لا حسن الا خلاق لا یھدی لا حسنھا الا انت واصرف عنی سینھا لا یصرف عنی سینھا الا انت لبیک وسعدیک والحیر کلہ بیدیک والمھدی من ھدیت انا بک والیک تبارکت وتعالیت استغفرک واتوب الیک : میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا سیدھی طرح سے اور میں مشرک نہیں ہوں میری نماز میری قربانی میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا صرف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالن ہار ہے اس کا کوئی شیریک نہیں مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں یا اللہ ! تو ہی بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں تو میرا رب ہے میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں میرے گناہوں کا بخش دے اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے مجھے عمدہ اخلاق کی راہ دکھلا اور عمدہ اخلاق کی راہ تیرے سوا کوئی نہیں دکھاتا برے اخلاق کو مجھے سے دور رکھ اور برے اخلاق سے تیرے سوا کوئی نہیں پھیرنے والا میں تیرے دربار میں بار بار حاضری دیتا ہوں ۔ تمام تر بھلائی تیرے قبضہ میں ہے ہدایت یافتہ صرف وہی ہے جسے تو ہدایت دے میں تجھی پر بھروسہ کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں تیری ذات برکت والی ہے اور تیرا رتبہ بلند ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ ور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع کرتے تو کہتے : للھم لک رکعت وبک امنت والیک اسلمت انت ربی خشع سمعی وبصری ومحنی وعظامی وما استقلت بہ قدمی للہ رب العالمین : یا اللہ میں تیرے ہی لیے رکوع کرتا ہوں اور تجھ پر ایمان لاتا ہوں اور تیرے حضور سر تسلیم خم کرتا ہوں تو میرا رب ہے میرے کان میری آنکھیں میرا دماغ اور میری ہڈیاں تیرے تابع فرمان ہیں اور اسی چیز کے ساتھ میرے قدموں میں استقلال ہے یہ سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے (رواہ بیھقی)
22079- عن علي قال: "سمعت النبي صلى الله عليه وسلم حين كبر في الصلاة قال: لا إله إلا أنت سبحانك إني ظلمت نفسي فاغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت". "الشاشي ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22081 ۔۔۔ اسی طرح حضرت علی (رض) کی روایت ہے ک رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تکبیر کہتے اور ہاتھوں کو کاندھوں تک لے جاتے اور نماز کے شروع میں تکبیر کے بعد کہتے : وجھت وجھی للذٰ فطر السموات والارض حنیفا مسلما وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول المسلمین اللھم انت الملک لا الہ الا انت سبحانک وبحمدک انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی واعترفت بذ نبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا لا یغفر الذنوب الا انت لبیک وسعدیک انابک والیک لا منجا منک الا الیک استغفرک ثم اتوب الیک : میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس حال میں کہ میں یک رخ سیدھا مسلمان ہوں اور میں مشرک نہیں ہوں بلاشبہ میری نماز میری قربانی میرا زندہ رہنا میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ۔ بس مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں اول مسلمان ہوں یا اللہ تو ہی بادشاہ ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے اور تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنی ذات پر ظلم کیا ہے اور میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں میرے سارے گناہ بخش دے اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ہے میں تیرے حضور بار بار حاضری دیتا ہوں میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ اور پناہ تیرے ہی پاس ہے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں ۔ (رواہ بیھقی)
22080- عن علي ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما انا من المشركين، إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين، لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك أنت ربي، وأنا عبدك ظلمت نفسي، واعترفت بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعا لا يغفر الذنوب إلا أنت، وأهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت، واصرف عني سيئها، لا يصرف عني سيئها إلا أنت، لبيك وسعديك والخير كله بيديك، والمهدي من هديت أنا بك وإليك، تباركت وتعاليت، أستغفرك وأتوب إليك" قال: وكان إذا ركع قال: "اللهم لك ركعت وبك آمنت وإليك أسلمت أنت ربي، خشع سمعي وبصري ومخي وعظامي، وما استقلت به قدمي لله رب العالمين". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22082 ۔۔۔ اسی طرح حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو کہتے ۔ لا الہ الا انت سبحانک ظلمت نفسی وعملت سوء فاغفرلی انہ لا یغفر الذنوب الا انت وجھت وجھی للذی فطر السموت والارض حنیفا مسلما وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لا شریک لہ وبذلک امرت وانا من المسلمین : یعنی تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور برے اعمال کئے ہیں پس میری مغفرت فرما اور گناہوں کو تیرے سوا کوئی نہیں بخشنے والا سب نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں سیدھا مسلمان ہوں اور میں مشرک نہیں ہوں ۔ بیشک میرے نماز میری قربانی میرا زندہ رہنا اور مرنا اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں (رواہ بیھقی)
22081- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة المكتوبة كبر، ورفع يديه حذو منكبيه ويقول حين يفتتح الصلاة بعد التكبير: "وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين، اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت سبحانك وبحمدك أنت ربي، وأنا عبدك ظلمت نفسي، واعترفت بذنبي، فاغفر لي ذنوبي جميعا، لا يغفر الذنوب إلا أنت لبيك وسعديك أنا بك وإليك لا منجأ منك إلا إليك أستغفرك ثم أتوب إليك". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22083 ۔۔۔ بریدہ بن حصیب کی روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ کے پاس کہنے لگا (الحمدللہ کثیر اطیبا مبارکا فیہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ کلمات کس نے کہے ہیں چنانچہ وہ آدمی خاموش رہا اور وہ سمجھا ممکن ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا عمل ناپسند گزرا ہو۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا ! یہ کلمات کس نے کہے ہیں سو درست وصواب کہے ہیں وہ آدمی بولا : یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے کہے ہیں اور بھلائی کی نیت سے کہے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں نے تیرہ فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں کہ کون ان کلمات کو لے کر اللہ کے حضور حاضر ہو ۔ (رواہ ابن ابی شیہ)
22082- "أيضا" كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا استفتح الصلاة قال: "لا إله إلا أنت سبحانك ظلمت نفسي وعملت سوء، فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا مسلما وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا من المسلمين". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22084 ۔۔۔ ابو سعید خدری (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو کہتے ۔ سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدل ولا الہ غیرک (ابن ابی شیبہ)
22083- "مسند بريدة بن الحصيب" قال: قال "رجل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: الحمد لله كثيرا طيبا مباركا فيه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من صاحب الكلمة؟ " فسكت الرجل، ورأى أنه قد هجم من رسول الله صلى الله عليه وسلم على شيء كرهه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من هو فإنه لم يقل إلا صوابا؟ " فقال الرجل: "أنا قلتها يا رسول الله أرجو بها الخير، قال: "والذي نفسي بيده لقد رأيت ثلاثة عشر ملكا يبتدرون كلمتك أيهم يرفع بها إلى الله". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22085 ۔۔۔ اسی طرح ابو سعید خدری (رض) کی روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رات کو اٹھتے نماز شروع کرتے اور تکبیر کے بعد پھر کہتے : سبحانک وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا الہ غیرک “۔ پھر تین بار تہلیل کہتے اور تین بار تکبیر کہتے اور پھر کہتے اعوذباللہ السمیع العلیم من الشیطان الرجیم (رواہ عبدالرزاق)
22084- "مسند أبي سعيد" كان النبي صلى الله عليه وسلم يستفتح الصلاة يقول: " سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك ". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22086 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اتنے میں ایک آدمی آیا اور صف میں داخل ہوگیا اور کہا : للہ اکبر اللہ اکبر والحمدللہ کبیرا سبحان اللہ بکرۃ واصیلا :
22085- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل فاستفتح صلاته كبر ثم قال: "سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك، ثم يهلل ثلاثا، ويكبر ثلاثا، ثم يقول: أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے اس کی بلند آوازی کو ناپسند کیا اور کہنے لگے یہ بلند آواز والا کون ہے ؟ جب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو فرمایا کس نے بلند آواز سے کلمات پڑھے تھے ؟ اس آدمی نے جواب دیا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! میں نے تیرے کلام کو آسمان کی طرف چڑھتے ہوئے دیکھا ہے حتی کہ ایک دروازہ کھلا تو یہ کلام اس میں داخل ہوگیا ۔ (سعید بن منصور) بیثمی نے ( مجمع الزوائد 02 ا ج 2) میں لکھا ہے کہ یہ حدیث احمد اور طبرانی نے کبیر میں روایت کی ہے اور اس کے رجال ثقہ راوی ہیں
22086- عن عبد الله بن أبي أوفى قال: "كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء رجل حتى دخل في الصف فقال: الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا وسبحان الله بكرة وأصيلا، فاستنكر القوم رفع صوته، فقالوا: من هذا العالي الصوت؟ فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته قال: " أيكم العالي الصوت" فقال الرجل: أنا، فقال: "لقد رأيت كلامك يصعد إلى السماء حتى فتح
بابا منها فدخل فيه". "ص"
بابا منها فدخل فيه". "ص"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ثناء کے بیان میں :
22087 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی آیا اور لوگ نماز میں کھڑے تھے چنانچہ وہ جب صف کے قریب پہنچا تو اس نے کہا : (اللہ اکبر کبیرا والحمدللہ کثیرا و سبحان اللہ بکرۃ واصیلا) جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : کلمات کس نے کہے ہیں وہ آدمی بولا : یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے کہے ہیں۔ بخدا میں نے ان سے محض بھلائی کا ارادہ کیا ہے ارشاد فرمایا بخدا ! میں نے آسمان کے دروازوں کو ان کلمات کے لیے کھلتے ہوئے دیکھا ہے (رواہ عبدالرزاق) کلام :۔۔۔ اس حدیث کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام نہیں لیا گیا ۔ گویا مجہول راوی ہے۔
22087- "مسند عبد الله بن عمر" أتى رجل والناس في الصلاة فقال حين وصل إلى الصف: "الله أكبر كبيرا، والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة وأصيلا فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال: "من صاحب الكلمات؟ " قال الرجل: أنا يا رسول الله، والله ما أردت بهن إلا الخير، قال "لقد رأيت أبواب السماء تفتح لهن". "عب وفيه رجل لم يسم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22088 ۔۔۔ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : فرض نماز میں سنت یہ ہے کہ جب کوئی آدمی پہلی دو رکعتوں میں کھڑا ہو تو اسے زمین پر (ہاتھ ٹیک کر) سہارا نہیں لینا چاہے الایہ کہ کوئی آدمی بوڑھا ہو اور وہ سیدھا کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھتا ہو (رواہ عدنی بیھقی) کلام :۔۔۔ امام بیہقی نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے۔
22088- عن علي قال: "إن من السنة في الصلاة المكتوبة إذا نهض الرجل في الركعتين الأوليين أن لا يعتمد على الأرض إلا أن يكون شيخا كبيرا لا يستطيع". "العدني ق وضعفه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22089 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قیام کی جستجو میں رہتے تھے اور خصوصا ظہر اور عصر کی نماز میں اس کا انتظار کرتے چنانچہ ہم نے ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ تیس آیات کے بقدر لگایا جب کہ دوسری دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ پہلی دو رکعتوں کے نصف کے برابر لگایا ۔ عصر کی پہلی دو رکعتوں کا اندازہ ظہر کی پچھلی دو رکعتوں میں قیام کے برابر لگایا اور عصر کی آخری دو رکعتوں میں قیام کا اندازہ عصر کی پہلی دو رکعتوں کے برابر لگایا : (ابن ابی شیبۃ)
22089- "مسند أبي سعيد" كنا نحرز قيام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر، فحرزنا قيامه في الظهر في الركعتين الأوليين بقدر ثلاثين آية وحرزنا قيامه في الركعتين الأخريين على النصف من ذلك، وحرزنا قيامه في الركعتين الأوليين في العصر على قدر الأخريين من الظهر، وحرزنا قيامه في الأخريين من العصر على النصف من ذلك. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22090 ۔۔۔ صبیح حنفی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی چنانچہ میں نے اپنے دونوں ہاتھ کوکھ پر رکھ لیے جب حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : نماز میں ایسا کرنا سولی کے مترادف ہے چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22090- عن صبيح الحنفي قال: "صليت إلى جنب ابن عمر، فوضعت يدي على خاصرتي فلما قضى" قال: "هذا الصلب في الصلاة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عنه". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22091 ۔۔۔ روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) ایک آدمی کے پاس سے گزرے جس نے اپنے قدموں کو ملایا ہوا تھا ، اس کو دیکھ کر فرمایا : اس آدمی نے سنت کا خیال نہیں رکھا ۔ اگر دونوں قدموں میں تھوڑا فاصلہ رکھ لیتا مجھے بہت پسند تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22091- "مسند ابن مسعود" مر ابن مسعود برجل صاف بين قدميه فقال: أما هذا فقد أخطأ السنة لو راوح بينهما كان أحب إلي. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قیام اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22092 ۔۔۔ ابوعبیدہ (رض) سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ سنت یہ ہے کہ جب تم دو رکعتوں میں قعدہ کے بعد کھڑے ہونا چاہو تو اپنے ہاتھوں پر سہارا مت لو ۔ (ابن عدی فی الکامل و بیہقی) فائدہ : ۔۔۔ ہاتھوں پر سہارا نہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی پنجوں کے بل سیدھا کھڑا ہوجائے اور ہاتھوں کو زمین پر نہ ٹیکے ۔
22092- عن أبي عبيدة عن علي قال: "من السنة أن لا تعتمد بيديك حين تريد أن تقوم بعد القعود في الركعتين". "عد، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22093 ۔۔۔ آل دراج کے آزاد کردہ غلام ابو زیادہ کہتے ہیں میں نے کوئی ایسی بات نہیں دیکھی جسے بھول گیا ہوں بلاشبہ میں نہیں بھولا ہوں کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) جب نماز میں کھڑے ہوتے تویوں کھڑے ہوتے چنانچہ انھوں نے داہنی ہتھیلی سے بائیں بازو کو پکڑا اور پہنچے سے ہتھیلی کو چمٹا لیا ۔ (رواہ مسدد)
22093- "مسند الصديق" عن أبي زياد مولى آل دراج قال: "ما رأيت فنسيت فإني لم أنس أن أبا بكر الصديق إذا قام في الصلاة قام هكذا وأخذ بكفه اليمنى على ذراعه اليسرى لازقا بالكوع". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22094 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نماز میں سنت یہ ہے کہ ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھا جائے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نماز میں سنت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھا جائے ۔ (العدنی ، ابو داؤد ، عبداللہ بن احمد بن حنبل وابن شاھین فی السنہ و بیہقی) کلام : ۔۔۔ امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22094- عن علي أن من السنة في الصلاة وضع الأكف على الأكف - وفي لفظ: وضع اليمين على الشمال تحت السرة. "العدني د عم قط وابن شاهين في السنة هق وضعفه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22095 ۔۔۔ جریر ضبی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے پہنچے سے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑا ہوا ہے اور ہاتھ ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ (رواہ ابوداؤد)
22095- "مسند علي" عن جرير الضبي قال: رأيت عليا يمسك شماله بيمينه على الرسغ فوق السرة. "د"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22096 ۔۔۔ غزوان بن جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ ہمہ وقت سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ساتھ چمٹے رہتے تھے کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تکبیر کہتے اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کے پہنچے کو پکڑ لیتے اور پھر رکوع تک یہی کیفیت رہی ۔ الا یہ کہ بدن کو خارش کرنا مقصود ہوتا یا کپڑے کو کہیں سے درست کرنے کی نوبت آتی جب سلام پھیرتے تو دائیں جانب سلام پھیرتے اور کہتے سلام علیکم پھر بائیں جانب سلام پھیرتے صرف اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے ہمیں معلوم نہ ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ پھر کہتے : ” لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ لا نعبد الا ایاہ “۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور انھیں اس کی پروا نہ ہوتی کہ آیا دائیں طرف سے مڑے ہیں یا بائیں طرف سے ۔ (ابوالحسن فی فوائدہ بیہقی) امام بیہقی نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔
22096- عن غزوان بن جرير عن أبيه أنه كان شديد اللزوم لعلي بن أبي طالب قال: "كان علي إذا قام إلى الصلاة فكبر ضرب بيده اليمنى على رسغه اليسرى فلا يزال كذلك حتى يركع إلا أن يحك جلدا أو يصلح ثوبه، فإذا سلم سلم عن يمينه، سلام عليكم ثم يلتفت عن شماله، فيحرك شفتيه فلا ندري ما يقول، ثم يقول: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، ولا حول ولا قوة إلا بالله لا نعبد إلا إياه، ثم يقبل على القوم بوجهه ولا يبالي عن يمينه انصرف أو عن شماله". "أبو الحسن بن بشران في فوائده، هق وحسنه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22097 ۔۔۔ یونس بن سیف عبسی نے حارث بن غطیف یا غطیف بن حارث کندی (معاوی کو ان راویوں میں شک ہے) سے روایت کیا ہے کہ بسا اوقات مجھے باتیں بھول جاتی ہیں تاہم مجھے یہ نہیں بھولا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ انھوں نے دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا تھا یعنی نماز میں ۔ (ابن ابی شیبہ ، بخاری فی تاریخہ وابو نعیم وابن عساکر )
22097- "مسند الحارث بن غطيف السكوني" عن يونس بن سيف العبسي عن الحارث بن غطيف أو غطيف بن الحارث الكندي شك معاوية قال: مهما نسيت لم أنس أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع يده اليمنى على اليسرى يعني في الصلاة. "ش خ في تاريخه وأبو نعيم كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২০৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22098 ۔۔۔ حضرت وائل (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکبیر کہتے تو بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پکڑتے ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22098- "مسند وائل" رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم حين كبر أخذ شماله بيمينه. "ش".
তাহকীক: