কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২০৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں ہاتھوں کی وضع کے بیان میں :
22099 ۔۔۔ اسی طرح وائل (رض) کہتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ انھوں نے نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھا تھا ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22099- "أيضا" رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وضع يمينه على شماله في الصلاة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22100 ۔۔۔ عبداللہ بن علیم کہتے ہیں : میں نے ایک مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی جب آپ (رض) دوسری رکعت میں بیٹھے یوں لگتا تھا گویا آپ (رض) انگاروں پر بیٹھے ہیں۔ پھر کہنے لگے ۔ ” ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنامن لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “۔ ے ہمارے پروردگار ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈالنا اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرمانا بیشک تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
22100- عن عبد الله بن عكيم قال: "صليت خلف أبي بكر المغرب فلما قعد في الركعة الثانية كأنما كان على الجمر حتى قام فقرأ الفاتحة"، ثم قال: "ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة إنك أنت الوهاب". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22101 ۔۔۔ سائب بن یزید کہتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مرتبہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پیچھے صبح کی نماز پڑھی چنانچہ انھوں نے سورت بقرہ پڑھی جب لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج کی طرف دیکھنے لگے آیا کہیں طلوع تو نہیں ہوچکا ۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا اگر طلوع ہوچکا ہوتا تو تم ہمیں غافل نہ پاتے ۔ (رواہ طحاوی ، بیہقی)
22101- عن السائب بن يزيد قال: "صليت خلف عمر الصبح، فقرأ بالبقرة، فلما انصرفوا استعرفوا الشمس فقالوا: طلعت، فقال: لو طلعت لم تجدنا غافلين". "الطحاوي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22102 ۔۔۔ ابو وائل (رض) کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ تعوذ اور آمین جہرا نہیں کہتے تھے۔ (ابن جریر ، طحاوی ، ابن شاھین فی السنۃ)
22102- عن أبي وائل قال: "كان عمر وعلي لا يجهران ببسم الله الرحمن الرحيم، ولا بالتعوذ، ولا بآمين". "ابن جرير والطحاوي وابن شاهين في السنة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22103 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ابزی کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پیچھے نماز پڑھی بسم اللہ الرحمن الرحیم جہرا پڑھی ۔ چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم کو جہرا پڑھتے تھے ۔
22103- عن عبد الرحمن بن أبزى قال: "صليت خلف عمر فجهرت ببسم الله الرحمن الرحيم، وكان يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم. "الطحاوي عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22104 ۔۔۔ ابو وائل (رض) کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ” الحمد للہ رب العالمین “ سے نماز کی ابتداء کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22104- عن أبي وائل أنه سمع عمر بن الخطاب يفتتح بالحمد لله رب العالمين. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22105 ۔۔۔ حسن وغیرہ کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف خط لکھا کہ مغرب میں قصار مفصل (سورتیں) پڑھا کرو عشاء میں اوساط مفصل پڑھو اور صبح کی نماز میں طوال مفصل پڑھو۔ (عبدالرزاق ، وابن ابی داؤد فی المصاحف)
22105- عن الحسن وغيره قال: "كتب عمر إلى أبي موسى الأشعري أن اقرأ في المغرب بقصار المفصل، وفي العشاء بوسط المفصل، وفي الصبح بطوال المفصل". "عب وابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22106 ۔۔۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے ساتھ ذوالحلیفہ میں فجر کی نماز پڑھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی نماز میں قل یا ایھا الکافرون اور باللہ الواحد الصمد پڑھا یعنی سورت اخلاص ۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی قرات میں اسی طرح ہے۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
22106- عن عمرو بن ميمون قال: "صليت مع عمر بذي الحليفة صلاة الفجر فقرأ بقل يا أيها الكافرون وبالله الواحد الصمد وهكذا هي في قراءة ابن مسعود". "هق وابن الأنباري في المصاحف والبغوي في الجعديات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22107 ۔۔۔ عبایہ بن رداد کہتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ نماز سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور پڑھے بغیر نہیں ہوتی ۔ میں نے عرض کیا اگر میں امام کے پیچھے ہوں ؟ فرمایا : اپنے دل میں پڑھ لیا کرو ۔ (ابن سعد وابن ابی شیبہ)
22107- عن عباية بن الرداد قال: "سمعت عمر بن الخطاب يقول: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب ومعها شيء، قلت: أرأيت إن كنت خلف الإمام"؟ قال: "اقرأ في نفسك". "ابن سعد ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22108 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ وہ نماز نہیں ہوتی جس میں سورت فاتحہ اور دو آیتیں یا اس سے زائد نہ پڑھی جائیں ۔ (رواہ بیہقی)
22108- عن عمر لا تجزئ صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب وآيتين فصاعدا. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22109 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کہتے ہیں نماز سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کچھ اور پڑھنے کے سوا نہیں ہوتی ۔
22109- عن عمر قال: "لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب ومعها شيء". "ابن خسرو".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22110 ۔۔۔ عبداللہ بن عامر (رض) کی روایت ہے کہ ہم نے ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی چنانچہ آپ (رض) نے اس میں سورت یوسف اور سورت حج پڑھی اور قرات آہستہ آہستہ کی ۔ (مالک ، عبدالرزاق ، بیہقی)
22110- عن عبد الله بن عامر قال: "صلينا وراء عمر الصبح، فقرأ فيها بسورة يوسف وسورة الحج، قراءة بطيئة". "مالك، عب ق"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22111 ۔۔۔ خرشہ بن حر کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فجر کی نماز کبھی تاریی میں پڑھ لیتے اور کبھی روشنی پھیل جانیکے بعد آپ (رض) سورت یوسف ، سورت یونس ، قصار مثانی اور قصار مفصل پڑھتے ۔ (ابن ابی داؤد فی المصاحف) فائدہ : ۔۔۔ قصار مثانی سے مراد ابتدائی لمبی سورتیں ہیں۔
22111- عن خرشة بن الحر قال: "كان عمر يغلس بالفجر، وينور ويقرأ بسورة يوسف ويونس، ومن قصار المثاني والمفصل". "ابن أبي داود في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22112 ۔۔۔ عبدالرحمن بن خاطب (رض) کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پیچھے عشاء کی نماز پڑھی چنانچہ آپ (رض) نے دو رکعتوں میں سورت آل عمران پڑھی بخدا میں آپ (رض) کی قرات نہیں بھولا ۔ چنانچہ آپ (رض) نے قرات اس آیت سے شروع کی : (آیت)” الم اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم “۔ (شعب الایمان للبیہقی)
22112- عن عبد الرحمن بن حاطب قال: "صليت خلف عمر بن الخطاب العتمة فقرأ بنا آل عمران في الركعتين، فوالله ما أنسى قراءتهَ ألم الله لا إله إلا هو الحي القيوم". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22113 ۔۔۔ سلیمان بن عتیق کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) (بسا اوقات) فجر کی نماز میں سورت آل عمران پڑھ لیتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22113- عن سليمان بن عتيق أن عمر بن الخطاب قرأ في الصبح بسورة آل عمران. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
فجر کی پہلی رکعت میں سورة یوسف :
22114- عن ربيعة بن عبد الله بن الهدير قال: "كان عمر يقرأ في الفجر بيوسف، ثم يقرأ في الثانية بالنجم، فسجد، فقام فقرأ إذا زلزلت". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22114 ۔۔۔ ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر کہتے ہیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں سورت یوسف پڑھتے اور دوسری رکعت میں سورت نجم پڑھتے چنانچہ آپ (رض) نے سجدہ تلاوت کیا اور پھر کھڑے ہو کر سورت اذا ذلزلت الارض پڑھی۔۔ (رواہ عبدالرزاق)
22115- عن أبي المنهال سيار بن سلامة أن عمر بن الخطاب سقط عليه رجل من المهاجرين وعمر يتهجد في الليل يقرأ بفاتحة الكتاب لا يزيد عليها، ويكبر ويسبح، ثم يركع ويسجد، فلما أصبح الرجل ذكر ذلك لعمر" فقال عمر: "لأمك الويل أليست تلك صلاة الملائكة". "أبو عبيد في فضائله - وله حكم المرفوع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22115 ۔۔۔ ابو منھال سیار بن سلامہ (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رات کو تہجد پڑھ رہے تھے چنانچہ آپ پر ایک مہاجر صحابی (رض) گرپڑے آپ (رض) نے سورت فاتحہ سے زیادہ کچھ نہیں پڑھا تھا ۔ آپ (رض) تکبیر اور تسبیح کہتے پھر رکوع اور سجدہ کرتے جب اس آدمی نے صبح کی اور اس کا تذکرہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے کیا تو آپ (رض) نے فرمایا ! تیری ماں کے لیے ہلاکت کیا یہ فرشتوں کی نماز نہیں ہے۔ (ابو عبد فی فضائلہ) یہ حدیث مرتبہ میں مرفوع کے حکم میں ہے۔
22116- عن عمرو بن ميمون قال: "صلى بنا عمر بن الخطاب صلاة المغرب فقرأ في الركعة الأولى بالتين والزيتون، وفي الركعة الأخرى ألم تر ولإيلاف قريش جميعا". "عب وابن الأنباري في المصاحف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22116 ۔۔۔ عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی چنانچہ آپ (رض) نے پہلی رکعت میں سورت تین اور دوسری رکعت میں ” سورت فیل اور سورت قریش پڑھی ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن انباری فی المصاحف)
22117- عن صفية بنت أبي عبيد أن عمر قرأ في صلاة الفجر بالكهف أو يوسف وهود، فتردد في يوسف، فلما تردد رجع إلى أول السورة، فقرأ ثم مضى فيها كلها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22117 ۔۔۔ صفیہ بنت ابی عبید سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فجر کی نماز میں سورت کہف یا سورت یوسف اور دوسری رکعت میں سورت ھود پڑھی پڑھی راوی کو سورت یوسف میں شک ہے جب اس میں تردد ہے تو پہلی سورت کی طرف رجوع ہوگا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22118- عن أبي عثمان النهدي عن عمر بن الخطاب أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقطع قراءته بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين إلى آخرها. "السلفي في انتخاب حديث الفراء - ورجاله ثقات".
tahqiq

তাহকীক: