কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২১১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22118 ۔۔۔ ابوعثمان نہدی سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرات کی ابتداء ” بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمدللہ رب العالمین “۔ سے کرتے تھے ۔ (السلفی فی انتخاب حدیث الفرار) اس حدیث کے روای ثقہ ہیں۔
22119- عن الفرافصة بن عمير الحنفي قال: "ما أخذت سورة يوسف إلا من قراءة عثمان بن عفان إياها في الصبح من كثرة ما كان يرددها لنا". "مالك والشافعي ق"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22119 ۔۔۔ فرافصہ بن عمیر حنفی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے سورت یوسف سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) سے یاد کی ہے چونکہ آپ (رض) صبح کی نماز میں سورت یوسف پڑھتے تھے ۔ (مالک ومشافی و بیہقی)
22120- عن علي أن رجلا جاءه فقال: "إني صليت ولم أقرأ" فقال: "أتممت الركوع والسجود"؟ قال: "نعم"، قال: "تمت صلاتك"، ثم قال: "ما كل أحد يحسن القراءة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22122 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا میں نے نماز پڑھ لی ہے اور قرات نہیں کی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : کیا تم نے رکوع اور سجدہ کیا ہے ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا ۔ آپ (رض) نے فرمایا تمہاری نماز مکمل ہوگئی پھر فرمایا : ہر آدمی اچھی قرات نہیں کرسکتا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22121- عن علي قال: "لا تقرأ وأنت راكع ولا ساجد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22122 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا فرمان ہے کہ رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرات مت کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22122- "مسند جابر بن سمرة" قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في الفجر بقاف والقرآن المجيد ونحوها، وكان يقرأ في الظهر بسبح اسم ربك الأعلى وفي الصبح أطول من ذلك". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22122 ۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں سورت ق والقرآن المجید اور اس جیسی دوسری سورتیں پڑھتے تھے ظہر کی نماز میں ” سبح اسم ربک الاعلی “۔ پڑھتے جب کہ فجر کی نماز میں اس سے لمبی سورتیں پڑھتے تھے (ابن ابی شیبۃ)
22123- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الظهر والعصر بالسماء والطارق والسماء ذات البروج. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22123 ۔۔۔ اسی طرح جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورت طارق اور سورت بروج پڑھتے تھے (ابن ابی شیبۃ)
22124- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي كنحو من صلاتكم التي تصلون اليوم، ولكنه كان يخفف، كانت صلاته أخف من صلاتكم، كان يقرأ في الفجر الواقعة ونحوها من السور. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22124 ۔۔۔ اسی طرح حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ اسی طرح نماز پڑھتے تھے جس طرح تم لوگ آج کل پڑھتے ہو لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز تمہاری نماز سے خفیف (ذرہ ہلکی) ہوتی تھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر میں سورت واقعہ اور اس جیسی دیگر سورتیں پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22125- عن جابر قال: "أما أنا فأقرأ في الركعتين الأوليين من الظهر والعصر بفاتحة الكتاب وسورة، وفي الأخريين بفاتحة الكتاب". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22125 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : میں ظہر اور عصر کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھتا ہوں جبکہ تیسری اور چوتھی رکعت میں صرف سورت فاتحہ پڑھتا ہوں۔ (رواہ عبدالرزاق)
22126- عن عمرو بن حريث أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ في الفجر والليل إذا عسعس. "عب ش م ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22126 ۔۔۔ عمرو بن حریث (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں ” واللیل اذا عسعس “۔ پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ و نسائی)
22127- "مسند خباب بن الأرت" عن أبي معمر قال: "قلنا لخباب بن الأرت بأي شيء كنتم تعرفون قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر"؟ قال: "باضطراب لحيته". "عب ش وأبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22127 ۔۔۔ ابو معمر کہتے ہیں ہم نے حضرت خباب بن ارت (رض) سے عرض کیا : آپ لوگ ظہر اور عصر کی نمازوں میں کس چیز سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات کو پہچان لیتے تھے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ آپ ۔۔۔ کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ وابو نعیم)
22128- عن أبي أمامة قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في ركعتي الفجر في الأولى بالحمد، و {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} ، وفي الثانية بالحمد و {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} ، لا يتعداهن". "أبو محمد السمرقندي في فضائل {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} وفي سنده ضعفاء".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22128 ۔۔۔ حضرت ابو امامہ (رض) کہتے ہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی پہلی رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت کافرون پڑھتے اور دوسری رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت اخلاص پڑھتے تھے اور اس سے زیادہ تجاوز نہیں کرتے تھے ۔ (ابو محمد سمرقندی فی فضائل قل ھو اللہ احد) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند میں کچھ ضعفاء راوی بھی ہیں لہٰذا یہ حدیث ضعیف کے درجہ میں ہے۔
22129- عن أبي أمامة قال قائل: "يا رسول الله في كل صلاة قراءة"؟ قال: "نعم ذلك واجب". "عد ق في كتاب القراءة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22129 ۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی کہنے لگا : یا رسول اللہ ! کیا ہر نماز میں قرات ہوتی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی قرات واجب ہے۔ (ابن عدی فی الکامل و بیہقی فی کتاب القراۃ)
22130- "مسند زيد بن ثابت" كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في صلاة المغرب بطول الأوليين. "عب خ د، ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22130 ۔۔۔ حضرت زید بن ثابت (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں پہلی دو رکعتوں کو قدرے طویل کرتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق، بخاری ، ابو داؤد ، نسائی)
22131- عن أبي أيوب أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ في الصبح تبارك الذي بيده الملك. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22131 ۔۔۔ حضرت ابوایوب (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز میں (آیت)” تبارک الذی بیدہ الملک “۔ پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابو نعیم)
22132- عن أبي الدرداء قال: "أقرأ في الركعتين الأوليين من الظهر والعصر والعشاء الآخرة في كل ركعة بأم القرآن وسورة، وفي الركعة الآخرة من المغرب بأم القرآن". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22132 ۔۔۔ حضرت ابو درداء (رض) فرماتے ہیں کہ میں ظہر ، عصر اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملا کر پڑھتا ہوں جب کہ مغرب کی آخری رکعت میں صرف سورت فاتحہ پڑھتا ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22133- عن عبادة بن الصامت قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الفجر فثقلت عليه القراءة، فلما انصرف" قال: "إني أراكم تقرأون وراء إمامكم قلنا: أجل والله يا رسول الله هذا"، قال: "فلا تفعلوا إلا بفاتحة الكتاب فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها". "ق في القراءة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22133 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرات ثقیل (بھاری اور گراں) ہوگئی ، جب نماز سے فارغ ہوتے تو فرمایا : بلاشبہ میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قرات کر رہے ہو ۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ بخدا ہم ایسا کرتے ہیں۔ ارشاد فرمایا : ایسا مت کرو بجز سورت فاتحہ کے چونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ (بخاری ومسلم فی القراۃ)
22134- عن عبادة بن الصامت قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب إمام أو غير إمام". "ق فيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22134 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی سورت فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی برابر ہے کہ امام ہو یا غیر امام ۔ (بخاری ، مسلم فی القراۃ)
22135- عن عبادة بن الصامت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمنا يوما فانصرف إلينا، وقد غلط في بعض القراءة فقال: "هل قرأ معي منكم أحد؟ " قلنا: نعم"، قال: "قد عجبت من هذا الذي ينازعني القرآن. إذا قرأ الإمام فلا يقرأ معه أحد منكم إلا بأم القرآن، فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بها". "ق فيه كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22135 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں امامت کرائی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قرات میں کوئی غلطی ہوئی تھی ہمارے طرف متوجہ ہو کر فرمایا : کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قرات کی ہے ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں ۔ ارشاد فرمایا : مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو قرآن میں مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔ جب امام قرات کررہا ہو تو تم میں سے کوئی بھی بجز ام القرآن کے کچھ نہ پڑھے ۔ چونکہ اس کے بغیر نماز میں ہوتی ۔ بخاری و مسلم فی القراۃ وابن عساکر)
22136- عن عبادة بن الصامت قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض الصلوات التي يجهر فيها بالقراءة، فالتبست عليه القراءة، فلما انصرف قال "هل تقرأون معي"؟ قالوا: "نعم"، قال: "لا تفعلوا إلا بأم القرآن". "د، ق فيه وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22136 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک جہری نماز پڑھائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرات کا التباس ہوگیا چنانچہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا تم میرے ساتھ قرات کرتے ہو ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں : فرمایا بجز ام القرآن کے قرآن مت پڑھا کرو۔ (ابوداؤد ، بخاری و مسلم فی القراۃ) امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
22137- عن عبادة بن الصامت قال: "صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعض الصلاة التي كان يجهر فيها بالقراءة" وقال: "لا يقرأن أحد منكم إذا جهرت بالقراءة إلا بأم القرآن". "ق فيه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22137 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں قرات جہرا کی گئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس وقت نماز میں جہرا قرات کی جا رہی ہو تم میں سے کوئی بھی قرات نہ کیا کرے بجز ام القرآن کے ۔ (بخاری ومسلم فی القراۃ) کلام : ۔۔۔ امام نسائی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے دیکھے ضعیف النسائی 39 ۔
22138- عن عبادة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بنا فجهر بالقرآن، فلبست عليه القراءة، فلما انصرف قال: "هل تقرأون خلف الإمام إذا جهر؟ " قالوا: نعم نهذ هذا"، قال: "عجبت أنازع القرآن"، وقال: "لا تقرأوا إذا جهر الإمام إلا بأم القرآن، فإنه لا صلاة لمن لم يقرأ بأم القرآن". "ق فيه".
তাহকীক: