কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২১৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22138 ۔۔۔ حضرت عبادہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور جہرا قرات کی ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قرات کا التباس ہوگیا جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : کیا جہری قرات کے وقت امام کے پیچھے تم قرات کرتے ہو ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے جواب دیا : جی ہم جلدی میں پڑھ لیتے ہیں۔ ارشاد فرمایا : مجھے تعجب ہوا کہ نماز میں مجھ سے منازعت کیوں کی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ جب امام جہرا قرات کررہا ہو بجز ام القرآن (سورت فاتحہ) کے چونکہ ام القرآن کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ (بخاری ومسلم فی القراۃ)
22139- عن عبادة بن الصامت قال: "سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم "هل تقرأون القرآن معي وأنا في الصلاة؟ " قالوا: نعم يا رسول الله نهذه هذا" أو قال: "ندرسه درسا" قال: "فلا تفعلوا إلا بأم القرآن سرا في أنفسكم". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
جماعت کی نماز میں مقتدی قراءت نہ کرے :
22140- عن عبادة بن الصامت قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا صلاة لمن لم يقرأ بفاتحة الكتاب خلف الإمام". "ق فيه وقال إسناده صحيح والزيادة التي فيه صحيحة مشهورة من أوجه كثيرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22139 ۔۔۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے پوچھا : کیا تم میرے ساتھ نماز میں قرآن پڑھتے ہو ؟ ہم نے عرض کیا جی ہاں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم جلدی سے پڑھ لیتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسا مت کرو بجز ام القرآن کے وہ بھی دل دل میں پڑھو۔ (بخاری ومسلم فی القراۃ)
22141- عن أبي سعيد قال: "أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نقرأ بفاتحة الكتاب وما تيسر. "ق في القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22140 ۔۔۔ عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جو آدمی امام کے پیچھے فاتحہ الکتاب نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ (بخاری ومسلم فی القراۃ) امام بیہقی (رح) کہتے ہیں کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس میں جو زیادتی ہے وہ کئی وجوہ سے صحیح اور مشہور ہے۔
22142- "مسند أبي قتادة" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الركعتين الأوليين بفاتحة الكتاب وسورة وفي الأخريين بفاتحة الكتاب. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22141 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سورت فاتحہ کے ساتھ جو آسان لگے وہ پڑھ لیا کریں ۔ (بخاری ومسلم فی القراۃ)
22143- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي بنا الظهر، وربما أسمعنا الآية، وكان يطول الركعة الأولى من صلاة الفجر ويطول الركعة الأولى من صلاة الظهر، فظننا أنه يريد بذلك أن يدرك الناس الركعة الأولى. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22142 ۔۔۔ حضرت ابو قتادہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورت ملا کر پڑھتے اور دوسری رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22144- "مسند أبي ليلى" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الظهر والعصر في كلهن. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22143 ۔۔۔ حضرت ابو قتادہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ظہر کی نماز پڑھاتے تو بسا اوقات ایک آدھ آیت اونچی پڑھ کر ہمیں سنا دیتے تھے اور فجر وظہر کی پہلی رکعت کو طویل کرتے تھے حتی کہ ہمیں گمان ہوتا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلی رکعت کو اس لیے طویل کیا ہے تاکہ لوگ پہلی رکعت کو پالیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22145- عن أبي صالح مولى التؤمة أنه سمع أبا هريرة يفتتح ببسم الله الرحمن الرحيم في الصلاة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22144 ۔۔۔ ابولیلی کی مسند ہے “ کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر وعصر کی تمام رکعات میں قرات کرتے تھے ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22146- عن أبي هريرة قال: "يجزئ في الصلاة بفاتحة الكتاب، وإن زاد فهو أفضل". "هق في الصلاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22145 ۔۔۔ ابو صالح مولی تومہ کی روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو سنا کہ انھوں نے نماز ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ کے ساتھ شروع کی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22147- عن أبي هريرة قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يؤمنا فيجهر ويخافت" قال: "فجهرنا فيما جهر، ونخافت فيما خفت فيه، وسمعته يقول: لا صلاة إلا بقراءة فاتحة الكتاب". "ق في كتاب القراءة في الصلاة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22146 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نماز میں سورت فاتحہ کافی ہے اگر کچھ زیادہ کیا جائے تو افضل ہے۔ (بیہقی فی سننہ فی الصلوات)
22148- عن أبي هريرة قال: "أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أنادي أن لا صلاة إلا بقراءة فاتحة الكتاب فما زاد". "ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22147 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں امامت کراتے چنانچہ جہر بھی کرتے اور سر بھی کرتے ، جہری نمازوں میں جہر کرتے اور سری نمازوں میں آہستہ قرات کرتے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ نماز سورت فاتحہ پڑھے بغیر نہیں ہوتی ۔ (بخاری ومسلم کتاب القراء ۃ فی الصلوۃ)
22149- عن أبي هريرة قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إن في كتاب الله لسورة ما أنزل علي مثلها، فسأله أبي عنها" فقال: "إني لأرجو أن لا تخرج من الباب حتى تعلمها فجعلت أتباطأ فسأله أبي عنها" فقال: "كيف تقرأ إذا قمت في صلاتك"؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "والذي نفسي بيده ما أنزل في التوراة والإنجيل والقرآن" أو قال: "الفرقان مثلها إنها السبع المثاني والقرآن العظيم الذي أعطيته". "ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22148 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ میں یہ اعلان کروں کہ نماز سورت فاتحہ اور ساتھ کچھ اور ملانے کے بغیر نہیں ہوتی ۔ (بیہقی فی کتاب القراۃ)
22150- عن ابن عباس قال: "لا تصل صلاة إلا قرأت فيها من القرآن، فإن لم تقرأ ففاتحة القرآن". "ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22149 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ کتاب اللہ میں ایک ایسی سورت ہے کہ اس جیسی کوئی سورت مجھ پر نازل نہیں کی گئی ۔ ابی (رض) نے اس سورت کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ، مجھے امید ہے کہ تم دروازہ سے نکلنے سے پہلے پہلے جان لوگے ۔ میں نے ان کی طرف توجہ کرنی شروع کردی ، فرمایا : جب تم نماز میں کھڑے ہوتے ہو کیسے قرات کرتے ہو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس جیسی سورت توراۃ ، انجیل اور نہ ہی قرآن میں نازل ہوئی چنانچہ وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا ہوا ہے۔ (بخاری ومسلم کتاب القراء ۃ)
22151- عن سليمان بن عبد الرحمن بن سوار عن عبد الله بن سوادة القشيري عن رجل من أهل البادية عن أبيه وكان أبوه أسيرا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: "سمعت محمدا صلى الله عليه وسلم يقول: "كل صلاة لا يقرأ فيها بفاتحة الكتاب فهي خداج لم تقبل". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22150 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ تم کوئی بھی ایسی نماز نہ پڑھو جس میں تم قرآن مجید میں سے کچھ نہ پڑھو پس اگر تم قرات نہ کرو تو فاتحہ الکتاب (سورت فاتحہ) ضرور پڑھ لو ۔ (بخاری ومسلم)
22152- عن عبد الوارث عن عبد الله بن سوادة القشيري عن رجل من أهل البادية عن أبيه وكان أبوه أسيرا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "سمعت محمدا صلى الله عليه وسلم قال لأصحابه: تقرأون خلفي القرآن؟ فقالوا: يا رسول الله نهذه هذا، قال: لا تقرأوه إلا بفاتحة الكتاب". "ق فيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22151 ۔۔۔ سلیمان بن عبدالرحمن بن سوار عبداللہ سوادہ قشیری کے سلسلہ سند سے اہل بادیہ کا ایک آدمی اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ ان کے والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قیدی تھے وہ کہتے ہیں میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا کہ وہ فرما رہے تھے ہر وہ نماز جس میں فاتحۃ الکتاب نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے اور قبول نہیں کی جاتی ۔ (متفق علیہ)
22153- عن ابن عباس قال: "لا تصلين صلاة حتى تقرأ بفاتحة الكتاب وسورة ولا تدع أن تقرأ بفاتحة الكتاب في كل ركعة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22152 ۔۔۔ عبدالوارث ، عبداللہ بن سوادہ قشیری ، اہل دیہات کا ایک آدمی اپنے والد سے روایت کرتا ہے کہ ان کا والد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس قیدی تھا کہتے ہیں کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا کہ وہ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرما رہے تھے : کیا تم میری پیچھے نماز میں قرآن پڑھتے ہو ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا : ہم جلدی جلدی پڑھ لیتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سورت فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھا کرو ۔ (متفق علیہ)
22154- عن عبد الله بن شقيق العقيلي قال: "قلت لعائشة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين السور في كل ركعة؟ قالت: نعم المفصل". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22153 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : تم ہرگز کوئی نماز نہ پڑھو حتی کہ تم سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت نہ ملا کر پڑھ لو اور ہر رکعت میں سورت فاتحہ ضرور پڑھا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22155- "مسند أم الفضل زوجة العباس بن عبد المطلب" قالت: إن آخر ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في المغرب سورة {وَالْمُرْسَلاتِ} . "عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22154 ۔۔۔ عبداللہ بن شفق عقیلی کہتے ہیں میں نے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) سے پوچھا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر رکعت میں سورتیں جمع کرکے پڑھتے تھے ؟ انھوں نے کہا : جی ھاں ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22156- عن أبي وائل أن ابن مسعود كان يفتتح صلاته بالحمد لله رب العالمين. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22155 ۔۔۔ ام فضل زوجہ عباس بن عبدالمطلب کہتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری بار سنا کہ مغرب میں سورت ” والمرسلات “ پڑھی ۔ (عبدالرزاق ، ابن ابی شیبۃ)
22157- عن علي قال: "كل صلاة لم يقرأ فيها بأم الكتاب فهي خداج ذكر ذلك عن رسول الله صلى الله عليه وسلم". "ق في كتاب القراءة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২১৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22156 ۔۔۔ ابو وائل (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) اپنی نماز کو ” الحمد للہ رب العالمین “۔ سے شروع کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22158- عن علي قال: "لا يقرأ الرجل وهو راكع أو ساجد". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: