কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২১৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22157 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ ہر وہ نماز جس میں ام الکتاب نہ پڑھی جائے وہ نماز ناقص ہے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم کتاب القراء ۃ)
22159- عن عبد الله بن رافع عن علي وجابر قالا: يقرأ الإمام ومن خلفه في الأوليين بفاتحة الكتاب وسورة، وفي الأخريين بفاتحة الكتاب. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22158 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ آدمی کو رکوع اور سجدہ میں قرات نہیں کرنی چاہیے ۔ (رواہ ابن جریر)
22160- "مسند أنس" أن النبي صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر وعثمان كانوا يستفتحون القراءة بالحمد لله رب العالمين. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22159 ۔۔۔ عبداللہ بن رافع سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت جابر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : امام اور مقتدی کو پہلی دو رکعتوں میں فاتحۃ الکتاب اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت ملا کر پڑھنی چاہیے اور آخری دو رکعتوں میں فاتحۃ الکتاب پڑھنی چاہیے ۔ (رواہ بیہقی)
22161- أيضا عن مالك بن دينار عن أنس قال: "صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان، فكانوا يفتتحون القراءة بالحمد لله رب العالمين ويقرأون مالك يوم الدين". "كر وسنده ضعيف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22160 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ، اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) قراءت ” الحمد للہ رب العالمین “۔ سے شروع کرتے تھے ۔ (عبدالرزاق ابن ابی شیبۃ)
22162- "مسند علي" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة في الركعة الأولى بالم تنزيل السجدة، وفي الركعة الثانية هل أتى على الإنسان حين من الدهر. "عق طس حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22161 ۔۔۔ مالک بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ، اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پیچھے نماز پڑھی چنانچہ یہ سارے حضرات قرات کو الحمد للہ رب العالمین سے شروع کرتے تھے اور مالک یوم الدین پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ فائدہ : ۔۔۔ مالک یوم الدین پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ سورت فاتحہ کی اس آیت میں سات آٹھ قرات ہیں لیکن یہ حضرات ” مالک یوم الدین “ کی قرات کو ترجیح دیتے تھے۔ تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر بیضاوی سورت فاتحہ آیت ” مالک یوم الدین “۔
22163- عن أبي سهيل بن مالك أن عمر بن الخطاب كان يجهر بالقراءة، وأن قراءته كانت تسمع عند دار أبي جهم بالبلاط. "مالك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22162 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کے دن فجر کی نماز میں پہلی رکعت میں ” الم تنزیل السجدۃ “۔ اور دوسری رکعت میں ” ھل اتی علی الانسان حین من الدھر “۔ پڑھتے تھے ۔ (عقیلی فی الضعفاء ، طبرانی فی الاوسط وابو نعیم فی الحلیہ)
22164- عن علي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم في السورتين جميعا. "قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22163 ۔۔۔ ابو سمیل بن مالک (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) جہرا قرات کرتے تھے اور ان کی قرات مقام بلاط میں ابو جہیم کے گھر کے پاس سنی جاتی تھی ۔ (رواہ مالک)
22165- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ ببسم الله الرحمن الرحيم في صلاته". "قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22164 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں سورتوں میں جہرا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھتے تھے ۔ (دارقطنی)
22166- عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يجهر في المكتوبات ببسم الله الرحمن الرحيم". "قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22165 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ پڑھتے تھے ۔ (دارقطنی)
22167- عن أبي الطفيل قال: "سمعت علي بن أبي طالب وعماراً يقولان: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم في فاتحة الكتاب". "قط طب حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22166 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرض نمازوں میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ جہرا پڑھتے تھے ۔ (دارقطنی)
22168- عن علي قال: "قال النبي صلى الله عليه وسلم كيف تقرأ إذا قمت إلى الصلاة؟ قلت: الحمد لله رب العالمين، قال: "قل بسم الله الرحمن الرحيم". "قط".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22167 ۔۔۔ ابو طفیل کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) اور حضرت عمار (رض) کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورت فاتحہ میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ جہرا پڑھتے تھے ۔ (دارقطنی ، طبرانی ، ابن حبان)
22169- "مسند جهر" عن الزهري عن عبد الله بن جهر عن أبيه جهر قال: "قرأت خلف النبي صلى الله عليه وسلم، فلما انصرف قال: "يا جهر أسمع ربك ولا تسمعني". "ابن منده وابن قانع طب، وأبو نعيم والعسكري وابن عبد البر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22168 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کیسے قرات کرتے ہو میں نے عرض کیا : ” الحمد للہ رب العالمین “۔ فرمایا کہ : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ بھی کہا کرو۔ (دارقطنی)
22170- "مسند أبي هريرة" قال: "في كل صلاة قراءة فلما أعلن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعلنا، وما أخفى أخفينا". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22169 ۔۔۔ زہری ، عبداللہ بن جہر سے ان کے والد جہر کی روایت نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے قرات کی چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو ارشاد فرمایا : اے جہر ! اپنے رب کو سناؤ مجھے نہ سناؤ ۔ (ابن مندہ ، ابن قانع ، طبرانی ، ابو نعیم ، عسکری وابن عدی)
22171- "أيضا" قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام من الليل يخفض طورا ويرفع طورا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22170 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں ہر نماز میں قرات ہے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب باآواز بلند قرات کرتے تو ہم بھی بلند آواز سے قرات کرتے اور جب آہستہ آواز سے قرات کرتے تو ہم بھی آہستہ آواز سے قرات کرتے ۔ (عبدالرزاق ، ابن ابی شیبۃ)
22172- "أيضا" كان النبي صلى الله عليه وسلم يؤمنا فيجهر ويخافت فجهرنا فيما جهر، وخافتنا فيما خافت. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22171 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کبھی آہستہ آواز سے قرات کرتے اور کبھی بلند آواز سے ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22173- "مسند أم هانئ" كنت أسمع قراءة النبي صلى الله عليه وسلم وأنا على عريشي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرات کے مخفی اور جہری ہونے کے بیان میں :
22172 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جہری نمازوں میں جہر کرتے اور سری نمازوں میں سر (آہستہ قرات) کرتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22174- "مسند أنس" صلت خلف النبي صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان فلم يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22173 ۔۔۔ حضرت ام ھانی (رض) کہتی ہیں کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرت سن لیتی تھی حالانکہ میں اپنے بستر پر ہوتی تھی ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22175- "الصديق" عن أنس بن مالك قال: "قمت وراء أبي بكر الصديق وعمر بن الخطاب وعثمان بن عفان فكلهم كان يقرأ بسم الله الرحمن الرحيم إذا افتتح الصلاة". "مالك ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22174 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض)، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ، سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) ، کے پیچھے نماز پڑھی ہے یہ حضرات ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا نہیں پڑھتے تھے ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22176- "مسند علي" عن أبي فاختة أن عليا كان لا يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم كان يجهر بالحمد لله رب العالمين. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22175 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، سیدنا حضرت حضرت عمر ابن خطاب (رض) ، سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے یہ سب حضرات ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے نماز شروع کرتے تھے ۔ (مالک و بیہقی)
22177- عن الشعبي قال: "رأيت علي بن أبي طالب وصليت وراءه فسمعته يجهر ببسم الله الرحمن الرحيم. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22176 ۔۔۔ ابو فاختہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا نہیں پڑھتے تھے ، اور ” الحمد للہ رب العالمین “ کو جہرا پڑھتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22178- عن جابر قال: "قال لي النبي صلى الله عليه وسلم "كيف تفتتح الصلاة يا جابر"؟ قلت: "بالحمد لله رب العالمين"، قال لي: "قل بسم الله الرحمن الرحيم". "ابن النجار".
তাহকীক: