কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২১৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22177 ۔۔۔ شعبی کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو دیکھا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھی ہے چنانچہ آپ (رض) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو پڑھتے تھے ۔ (رواہ بیہقی)
22179- "مسند الحكم بن عمير الثمالي" عن موسى بن أبي حبيب عن الحكم بن عمير وكان بدريا قال: صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم فجهر في الصلاة ببسم الله الرحمن الرحيم في صلاة الليل، وصلاة الغداة، وصلاة الجمعة. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22178 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم نماز کو کیسے شروع کرتے ہو اے جابر ؟ میں نے عرض کیا : میں ” الحمد للہ رب العالمین “ سے نماز شروع کرتا ہوں مجھے حکم دیا : ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ بھی پڑھا کر۔ (رواہ ابن نجار)
22180- عن عمرو بن دينار أن ابن عباس وابن عمر كانا يفتتحان ببسم الله الرحمن الرحيم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22179 ۔۔۔ موسیٰ بن ابی حبیب ، حکم بن عمیر (رض) جو کہ بدری صحابی ہیں سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کی نماز میں صبح کی نماز میں اور جمعہ کی نماز میں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا پڑھتے تھے ۔ کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعاف دار قطنی میں ہے 242 ۔
22181- عن ابن عباس قال: "الجهر ببسم الله الرحمن الرحيم قراءة الأعراب". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22180 ۔۔۔ عمرو بن دینار کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) اور حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) دونوں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے نماز شروع کرتے تھے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22182- عن عبد الله بن أبي بكر بن حفص بن عمر بن سعد أن معاوية صلى بالمدينة للناس العتمة، فلم يقرأ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، ولم يكبر بعض هذا التكبير الذي يكبر لنا، فلما انصرف ناداه من سمع ذلك من المهاجرين والأنصار، فقالوا: "يا معاوية أسرقت الصلاة أم نسيت أين بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ والله أكبر حين تهوي ساجدا؟ فلم يعد معاوية لذلك بعد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22181 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا پڑھنا دیہاتیوں کی قرات ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22183- عن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فجهر ببسم الله الرحمن الرحيم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22182 ۔۔۔ عبداللہ بن ابی بکر بن حفص بن عمر بن سعد کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے مدینہ میں لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی چنانچہ انھوں نے ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ اور بعض تکبیریں نہ کہیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو ان کی قرات کو سننے والے بعض مہاجرین و انصار نے پکار کر کہا : اے معاویہ ! کیا آپ نے نماز میں سے چوری کی یا آپ بھول گئے ہیں ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ اور سجدہ میں جاتے وقت کی تکبیر کیا ہے ؟ چنانچہ حضرت معاویہ (رض) نے اس کے بعد ایسا نہیں کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22184- عن نافع أن ابن عمر كان لا يدع بسم الله الرحمن الرحيم يفتتح القراءة ببسم الله الرحمن الرحيم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22183 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو جہرا پڑھا۔ (رواہ ابن عساکر)
22185- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يفتتح القراءة ببسم الله الرحمن الرحيم. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تسمیہ کے بیان میں :
22184 ۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ کو نہیں چھوڑتے تھے چنانچہ آپ (رض) قرات کو ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے شروع کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22186- عن قيس بن عباية قال: "حدثني ابن عبد الله بن مغفل عن أبيه قال: "ولم أر رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كان أشد عليه حدث في الإسلام منه" قال: "سمعني وأنا أقرأ بسم الله الرحمن الرحيم" قال: "يا بني إياك والحدث 1، فإني صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر وعثمان فلم أسمع أحدا منهم يقول: ذلك إذا قرأت فقل: الحمد لله رب العالمين". "عب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القراء ۃ :
22185 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ عمر (رض) قرات ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ سے شروع کرتے تھے ۔ (رواہ ابن نجار) کلام : ۔۔۔ ذخیرۃ الحفاظ میں یہ حدیث قدرے تغیر الفاظ کے ساتھ آئی ہے چنانچہ اس میں قراءت کی بجائے صلوۃ کا لفظ ہے دیکھے (6180)
22187- عن ابن عباس أنه سئل أكان النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في الظهر والعصر؟ فقال: "لا" فقال: "لعله كان يقرأ سرا فيما بينه وبين نفسه"، فقال: "هذه شر من الأولى كان رسول الله صلى الله عليه وسلم عبدا مأمورا بلغ ما أرسل به وما اختصنا بشيء دون الناس ليس ثلاثا أمرنا أن نسبغ الوضوء ولا نأكل الصدقة، ولا ننزئ حمارا على فرس. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22186 ۔۔۔ قیس بن عباد کہتے ہیں ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام (رض) میں سے بدعت کے خلاف اپنے والد سے بڑھ کر کسی کو نہیں پایا۔ چنانچہ انھوں نے مجھے ایک مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم (جہرا) پڑھتے ہوئے سنا تو کہا : اے بیٹے ! بدعت سے بچو میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر اور عثمان (رض) کے پیچھے نماز پڑھی ہے میں نے اس سے کسی کو بھی یوں بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا جب تم قرات کرنا چاہو تو الحمدللہ رب العالمین سے کیا کرو ۔ (عبدالرزاق ابن ابی شیبہ)
22188- عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قال: "ولا الضالين" قال: "آمين يرفع بها صوته". "هـ وابن جرير وصححه وابن شاهين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22187 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ان سے کسی نے پوچھا : کیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر اور عصر کی نماز میں قرات کرتے تھے ؟ ابن عباس (رض) نے جواب دیا نہیں وہ آدمی بولا : عین ممکن ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دل دل میں آہستہ قرات کرتے ہوں ۔ فرمایا یہ پہلی صورت سے زیادہ باعث شر ہے چنانچہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تبارک وتعالیٰ کے مامور بندے تھے انھیں جو پیغام دیا جاتا وہ وہ ٹھیک ٹھیک ہم تک پہچاتے تھے نیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے سوا ہمیں کسی چیز میں خصوصیت نہیں بخشی بجز تین چیزوں کہ وہ کہ ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اچھی طرح سے وضو کریں اور یہ کہ ہم صدقہ نہ کھائیں اور یہ کہ ہم گدھے کو گھوڑی پر جفتی کے لیے نہ کدوائیں (رواہ ابن جریر) فائدہ :۔۔۔ گدھے کو گھوڑی پر کدوانے کا مطلب یہ ہے کہ جب ان دو مختلف الاجناس جانوروں سے جفتی کروائی جائے تو ان سے ایک تیسری مخلوط جنس یعنی خچر پیدا ہوتی ہے اور حدیث میں بھی خچر کی نسل بڑھانے سے منع کیا گیا ہے۔ علامہ خطابی کہتے ہیں جب گدھے کو گھوڑی پر کدوایا جائے گا تو تیسری نسل ان سے پیدا ہوگی اور یوں گھوڑوں کی نسل کے منقطع ہونے کا خدشہ ہے اور گھوڑوں کے منافع ختم ہوجائیں گے چونکہ گھوڑے سواری ، باربرداری ، جہاد ، مال غنیمت کے جمع کرنے کے کام آتے ہیں حالانکہ خچر میں یہ سارے منافع نہیں پائے جاتے اسی طرح شوافع کے نزدیک گھوڑوں کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے جب کہ خچر کا گوشت بالاتفاق حرام ہے (اتنی النھایہ 445) جب کہ بعض دوسری احادیث میں گدھے کو گھوڑی پر کدوانے کی اجازت آتی ہے اور اسی طرح بعض کتب فقہ میں اس امر کو مباح کہا گیا ہے حالانکہ اس حدیث میں ممانعت آئی ہے۔ واللہ اعلم ! اس شبہ کا ازالہ یوں کیا جاسکتا ہے کہ پوری شدومد کے ساتھ کلی طور پر رواج نہ پھیلا دیا جائے البتہ کبھی کبھار گدھے کو گھوڑی پر کدوانے کی اجازت ہے تاکہ کہ گھوڑوں کی نسل بھی منقطع نہ ہو اور خچر بھی ناپید نہ ہوں ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
22189- عن بلال بن أبي رباح أنه قال له النبي صلى الله عليه وسلم: "لا تسبقني بآمين". "أبو الشيخ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22188 ۔۔۔ حضرت علی (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ” ولاالضالین “ کہتے تو اس کے بعد ” آمین “ کہتے اور اونچی آواز سے کہتے ۔ (ابن ماجہ ابن جریر) ابن جریر نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ (وابن شاھین)
22190- "مسند وائل" صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم فلما قرأ فاتحة الكتاب جهر بآمين، وسلم عن يمينه وعن يساره حتى رأيت بياض خديه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22189 ۔۔۔ حضرت بلال بن ابی رباح (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کہ مجھ سے پہلے آمین نہ کہہ دیا کرو ۔ (ابو شیخ)
22191- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قال: "غير المغضوب عليهم ولا الضالين" قال: "آمين" حتى يسمعنا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22190 ۔۔۔ حضرت وائل (رض) کی روایت ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاتحہ الکتاب پڑھی تو باواز بلند آمین کہا اور پھر دائیں بائیں سلام پھیرا حتی کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رخساروں کی سفیدی دیکھ لی (ابن ابی شیبہ)
22192- عن وائل بن حجر قال: "صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم، فلما قرأ ولا الضالين"، قال: "آمين يمد بها صوته". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22191 ۔۔۔ اسی طرح وائلہ (رض) کی حدیث ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب غیر المغضوب علیھم ولا الضالین کہتے تو ہمیں سنانے کے لیے آمین کہتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22193- عن أبي عثمان أن بلالا كان يقول له النبي صلى الله عليه وسلم لا تسبقني بآمين. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22192 ۔۔۔ وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولا الضالین کہا تو اس کے بعد ” آمین “ کہا اور آواز کو لمبا کیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبہ) ۔
22194- عن أبي هريرة قال: "إذا وافقت آمين في الأرض آمين في السماء غفر للعبد ما تقدم من ذنبه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22193 ۔۔۔ ابو عثمان کی روایت ہے کہ بلال (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے کہ مجھ سے پہلے آمین مت کہا کرو ّسعید بن منصور)
22195- عن ابن سيرين أن أبا هريرة كان مؤذنا بالبحرين وأنه اشترط على الإمام أن لا يسبقه بآمين. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آمین کے بیان میں :
22194 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب اہل زمین کی آمین کے ساتھ موافق ہوجاتی ہے تو بندے کے اگلے پچھلے گناہ سب معاف کردیئے جاتے ہیں (رواہ عبدالرزاق)
22196- عن نافع أن ابن عمر كان إذا ختم أم القرآن قال: "آمين، لا يدع أن يؤمن إذا ختمها، ويحضهم على قولها" قال: "وسمعت منه في ذلك خبرا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22195 ۔۔۔ ابن سیرین (رح) کی روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) بحرین میں مؤذن تھے چنانچہ انھوں نے امام پر شرط لگا رکھی تھی کہ وہ ان پر آمین کہنے میں سبقت نہ لے جائے (سعید بن منصور)
22197- "مسند عمر" عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: قال عمر: "امسكوا بالركب فقد سنت لكم الركب - وفي لفظ -: إن الركب قد سنت لكم، فخذوا بالركب". "ط، عب، ش ت: حسن صحيح، ن والشاشي والبغوي في الجعديات والطحاوي، حب، قط في الأفراد، ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২১৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22196 ۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) جب سورت فاتحہ ختم کرتے تو آمین کہتے چنانچہ آپ (رض) سورت فاتحہ کے اختتام پر آمین کہنا نہیں چھوڑتے تھے اور مقتدیوں کو بھی آمین کہنے پر ابھارتے تھے نیز میں اس بارے میں ان سے ایک حدیث بھی سن رکھی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22198- عن علقمة والأسود قالا: "حفظنا عن عمر أنه خر بعد ركوعه على ركبتيه كما يخر البعير ووضع ركبتيه قبل يديه". "الطحاوي".
তাহকীক: