কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২১৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22197 ۔۔۔ مسند عمر (رض) ابو عبدالرحمن اسلمی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : گھٹنوں کو پکڑا کرو چنانچہ رکوع میں گھنٹوں کو پکڑنا سنت قرار دیا گیا ہے۔ یک روایت میں ہے کہ گھٹنے تمہارے لیے سنت قرار دے گئے ہیں لہٰذا رکوع میں گھٹنوں کو پکڑا کرو۔ (طبرانی ، عبدالرزاق ، ابن ابی شیبہ ) اور امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو حسن صحیح قرار دیا ہے۔ (وشاشی ، بغوی ، فی الجعدیات والطحاوی ، ابن حبان ، دارقطنی فی الافراد بیہقی و سعید بن منصور)
22199- عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: "كنا إذا ركعنا جعلنا أيدينا بين أفخاذنا فقال عمر: إن من السنة الأخذ بالركب". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22198 ۔۔۔ علقمہ (رض) اور اسود (رح) کہتے ہیں ہم نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے حفظ کیا ہے کہ آپ (رض) رکوع کے بعد گھٹنوں کو زمین پر رکھتے تھے جس طرح کہ اونٹ رکھتا ہے اور ہاتھوں سے پہلے گھٹنوں کو زمین پر رکھتے تھے ۔ (رواہ طحاوی)
22200- عن إبراهيم قال: "كان عمر يضع يديه على ركبتيه إذا ركع وكان عبد الله بن مسعود يطبق يديه ركبتيه إذا ركع قال إبراهيم الذي كان يصنع عبد الله شيء لا يصنع فترك والذي صنع عمر أحب إلي". "ابن خسرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22201 ۔۔۔ ابومعمر کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) جب رکوع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھتے تھے ۔ (رواہ ابن سعد)
22201- عن أبي معمر قال: "كان عمر إذا ركع وضع يديه على ركبتيه". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22202 ۔۔۔ ابراہیم (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) جب رکوع کرتے تو اونٹ کی طرح واقع ہوتے اور ان کے ہاتھ گھٹنوں پر ہوتے ۔ (رواہ ابن سعد)
22202- عن إبراهيم أن عمر كان إذا ركع يقع كما يقع البعير، ركبتاه قبل يديه على ركبتيه. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22203 ۔۔۔ علقمہ اور اسود کہتے ہیں : ہم نے حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کے ساتھ نماز پڑھی چنانچہ جب انھوں نے رکوع کیا تو ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان لٹکا لیا ہم نے بھی ایسا کیا کچھ عرصہ بعد ہماری سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے ملاقات ہوئی انھوں نے ہمارے ساتھ اپنے گھر میں نماز پڑھی ، جب انھوں نے رکوع کیا تو ہم نے حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی طرح ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان چھوڑے رکھا جب کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا جب نماز سے فارگ ہوئے تو پوچھا یہ کیا طریقہ ہے ہم نے انھیں حضرت عبداللہ (رض) کے حوالے سے خبر دی انھوں نے فرمایا : اس طریقہ پر بھی عمل کیا جاتا تھا پھر یہ چھوڑ دیا گیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22203- عن علقمة والأسود قالا: "صلينا مع عبد الله، فلما ركع طبق كفيه ووضعهما بين ركبتيه، وضرب أيدينا ففعلنا ذلك، ثم لقينا عمر بعد فصلى بنا في بيته، فلما ركع طبقنا كما أطبق عبد الله ووضع عمر يديه على ركبتيه، فلما انصرف" قال: "ما هذا فأخبرناه بفعل عبد الله"، قال: "كان ذاك شيء كان يفعل ثم ترك". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22204 ۔۔۔ ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) رکوع اور سجدہ میں سبحان اللہ وبحمدہ کے بقدر پانچ مرتبہ تسبیح کہتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22204- عن إبراهيم بن ميسرة أن عمر بن الخطاب كان يقول في ركوعه وفي سجوده قدر خمس تسبيحات سبحان الله وبحمده. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22205 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کہتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع کرتے تو (آپ کی پیٹھ اس قدر ہموار ہوتی کہ) اگر ان کی پشت پر پانی سے بھرا برتن رکھ دیا جائے تو وہ نہ گرنے پائے ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
22205- عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا ركع لو وضع قدح من ماء على ظهره لم يهراق". "حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22206 ۔۔۔ نعمان بن سعد مرفوعا حدیث بیان کرتے ہیں کہ انھیں رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے اس پر انھوں نے فرمایا : جب تم رکوع کرو تو اللہ تبارک وتعالیٰ کی تعظیم بیان کرلیا کرو اور جب سجدہ کرو تو دعا کیا کرو چونکہ یہ قبول کے زیادہ لائق ہے۔ (رواہ یوسف) کلام : ۔۔۔ مغنی میں لکھا ہے کہ نعمان بن سعد بن علی کوفی راوی ہے جو کہ مجہول ہے۔
22206- عن النعمان بن سعد علي رفعه أنه نهى أن يقرأ القرآن وهو راكع فقال: "إذا ركعتم فعظموا الله، وإذا سجدتم فادعوا، فقمن أن يستجاب لكم". "يوسف. - قال في المغنى: "النعمان بن سعد عن علي كوفي مجهول".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22207 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ کہتے تو اس وقت تک ہم میں سے کوئی آدمی بھی اپنے پیٹھ کو نہیں جھکاتا تھا جب تک کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں نہ جاتے پھر ہم سجدہ میں جاتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22207- "مسند البراء بن عازب" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قال: "سمع الله لمن حمده " لم يحن منا رجل ظهره حتى يقع النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا ثم نقع سجودا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22208 ۔۔۔ علی بن شیبان کی روایت ہے کہ ہم اپنے گھروں سے نکلے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ان کے دست اقدس پر بیعت کی اور پھر ان کے ساتھ نماز پڑھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز ہی میں دوران رکوع کنکھیوں سے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنی کمر کو رکوع اور سجدہ میں سیدھی نہیں رکھتا ۔ چنانچہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے جماعت مسلمین ! اس آدمی کی نماز نہیں جو رکوع اور سجدہ میں اپنی کمر کو سیدھا نہیں رکھتا ۔ (ابن ابی شیبۃ ، عن علی بن شیبان)
22208- "مسند علي بن شيبان" خرجنا حتى قدمنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعناه، وصلينا معه فلمح بمؤخر عينه إلى رجل لا يقيم صلبه في الركوع والسجود، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم الصلاة قال: "يا معشر المسلمين لا صلاة لمن لا يقيم صلبه في الركوع والسجود". "ش عن علي بن شيبان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22209 ۔۔۔ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رکوع قیام کے بقدر ہوتا تھا پھر کہتے : ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ اور سیدھے کھڑے ہوجاتے ۔ (راوہ ابن ابی شیبۃ)
22209- "مسند حذيفة بن اليمان" صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم فكان ركوعه نحوا من قيامه ثم قال: "سمع الله لمن حمده ثم قام طويلا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22210 ۔۔۔ ثعلبہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے اچانک ایک آدمی کو کہتے سنا : ” الحمد للہ حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یبغی لکرم وجہ ربنا عزوجل “۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : یہ کلمات کس آدمی نے کہے ہیں : بخدا ! میں نے بارہ فرشتوں کو دوڑتے دیکھا ہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غور کے ساتھ آنکھوں سے دیکھنے لگے حتی کہ پردے چھاگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کلمات قیامت کے دن تیرے لیے عمدہ خاتمہ بن جائیں گے ۔ (طبرانی فی الاوسط)
22210- "مسند ثعلبة" بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي إذا سمع رجلا يدعو الله الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه كما ينبغي لكرم وجه ربنا عز وجل، فلما انصرف رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "أيكم القائل كذا وكذا؟ لقد رأيت اثني عشر ملكا يبتدرونها ثم شخص رسول الله صلى الله عليه وسلم ببصره حتى توارت بالحجاب" قال: "هي لك بخاتمتها يوم القيامة ومثلها". "طس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22211 ۔۔۔ ابوجحیفہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور جب رکوع سے اوپر اٹھے کہا : ” سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ما شئت من شیء بعد لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد “۔ ور یہ کلمات بآواز بلند کہتے تھے ۔ ترجمہ : ۔۔۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تعریف کو سن لیا اے ہمارے رب تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ، بھرے آسمانوں اور زمین کے بقدر اور تیری بھر مشیت کے بقدر جس چیز کو تو عطا کرے اسے کوئی نہیں روکنے والا اور جسے تو روکے اسے کوئی نہیں عطا کرنے والا اور کسی دولتمند کو اس کی دولت پکڑ سے نہیں بچا سکتی ۔
22211- "مسند أبي جحيفة" أن النبي صلى الله عليه وسلم قام في الصلاة فلما رفع رأسه من الركوع قال: "سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض، وملء ما شئت من شيء بعد، لا مانع لما أعطيت، ولا معطي لما منعت، ولا ينفع ذا الجد منك الجد يمد بها صوته". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22212 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر مبارک اوپر اٹھاتے تو کہتے : ” اللہم ربنا ولک الحمد ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22212- "مسند أبي هريرة" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما رفع رأسه من الركعة قال: "اللهم ربنا ولك الحمد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22213 ۔۔۔ سعید بن ابو سعید کی روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو سنا درآں حالیکہ وہ لوگوں کو امامت کرا رہے تھے چنانچہ انھوں نے کہا : سمع لمن حمدہ “۔ پھر کہا ۔ ” اللہم ربنا لک الحمد “۔ (رواہ عبدالرزاق)
22213- عن سعيد بن أبي سعيد أنه سمع أبا هريرة وهو إمام للناس في الصلاة يقول: "سمع لمن حمده" قال: "اللهم ربنا لك الحمد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22214 ۔۔۔ عبدالرحمن بن ہرمزاعرج کہتے ہیں میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو کہتے سنا جس وقت کہ امام رکوع سے سر اٹھاتا ہے چنانچہ انھوں نے کہا ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ اس کے بعد ۔ ” ربنا لک الحمد “۔ کہا ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ اوپر اس مضمون کی اکثر احادیث گزر چکی ہیں جن سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ امام کو ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ اور۔ ” ربنا لک الحمد “۔ دونوں کلمات کہنے چاہئیں جب کہ تین چار احادیث کے بعد حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی حدیث آئے گی جس سے ظاہر ہوگا کہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ امام کو کہنا چاہیے اور ۔ ” ربنا لک الحمد “۔ مقتدی کو کہنا چاہیے چنانچہ اس مضمون کی احادیث بھی کثیر ہیں کتب فقہ میں فتوی اسی پر ہے کہ ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ وظیفہ امام ہے اور ” ربنا لک الحمد “۔ مقتدی کا وظیفہ ہے اس مسئلہ میں ائمہ کا اختلاف ہے تفصیل کے لیے کتب فقہ کو دیکھ لیا جائے ۔
22214- عن عبد الرحمن بن هرمز الأعرج قال: "سمعت أبا هريرة يقول: إذا رفع الإمام رأسه من الركوع، فقال: سمع الله لمن حمده"،قال: "ربنا لك الحمد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22215 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رکوع کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22215- عن أبي هريرة قال: "لا صلاة إلا بركوع". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22216 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع کرتے تو ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22216- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم ركع فوضع يديه على ركبتيه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22217 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز سکھائی ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور پھر رفع یدین کیا پھر رکوع میں گئے اور دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان لٹکا لیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ رکوع میں مسنون یہ ہے کہ ہاتھوں کی انگلیوں کو کھول کر گھٹنوں کو پکڑا جائے جب کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کا عمل یہ تھا کہ وہ ہاتھوں کو ملا کر گھٹنوں کے درمیان لٹکا لیتے تھے اور اس طرح کرنے کو اصطلاح میں طباق کہتے ہی، چنانچہ ماقبل کی احادیث سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ طریقہ منسوخ ہوچکا ہے پہلے معمول بہا تھا پھر متروک ہوچکا ہے
22217- "مسند ابن مسعود" علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة، فكبر ورفع يديه، ثم ركع فطبق يديه ركبتيه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رکوع اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22218 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب امام ” سمع اللہ لمن حمدہ کہے تو جو اس کے پیچھے ہو اسے چاہیے کہے : ” ربنا لک الحمد “۔
22218- عن ابن مسعود قال: "إذا قال الإمام: سمع الله لمن حمده فليقل من خلفه: ربنا لك الحمد". "عب".
তাহকীক: