কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২২৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22239 ۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : مسنون ہے کہ نماز میں سجدوں کے دوران تمہاری ایڑیاں تمہاری سرینوں کو چھو رہی ہوں طاؤوس کہتے ہیں کہ میں نے عبادلہ یعنی عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) اور عبداللہ بن زبیر (رض) کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔ فائدہ : ۔۔۔ اصطلاح حدیث میں عبادلہ کا لفظ بولا جاتا ہے اور یہ لفظ مخفف ہے تین ناموں کا یعنی حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) اور عبداللہ بن زبیر کا ۔
22239- "مسند عبد الله بن عباس" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرى بياض إبطيه إذا سجد. "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22240 ۔۔۔ ” مسند حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) “ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22240- عن طاووس عن ابن عباس قال: "من السنة أن تمس عقبيك ألييك في الصلاة بين السجدتين"، قال طاووس: "ورأيت العبادلة يفعلونه: ابن عمر وابن عباس وابن الزبير". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22241 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ میں چہرہ مبارک کو کسی چیز سے بچایا ہو۔ (رواہ عبدالرزاق)
22241- عن عائشة ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم متقيا وجهه بشيء تعني في السجود. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22242 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑا ہوتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ لیتا تھا یعنی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں جاتے ۔ (رواہ ابن عساکر)
22242- عن ابن عباس قال: "استدبرت النبي صلى الله عليه وسلم وهو ساجد فرأيت بياض إبطيه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22243 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم سجدہ کرو تو اپنی ناک کو زمین کے ساتھ چپکا لیا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22243- عن ابن عباس قال: "إذا سجدت فألصق أنفك بالأرض". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22244 ۔۔۔ ” مسند عائشہ (رض) “۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھوں کو قبلہ رو رکھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22244- "مسند عائشة" كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سجد وضع يده وجاه القبلة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22245 ۔۔۔ ” مسند میمونہ (رض) “ حضرت میمونہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو پیچھے کھڑا آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ لیتا تھا (یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھتے حتی کہ پیچھے کھڑا آدمی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا تھا) (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22245- "مسند ميمونة" كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا سجد رأى من خلفه بياض إبطيه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22246 ۔۔۔ حضرت میمونہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو رانوں کو پہلوؤں سے دور رکھتے حتی کہ اگر بکری کا کوئی بچہ آپ کے بازوؤں کے نیچے سے گزرنا چاہتا تو آسانی کے ساتھ گزر جاتا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22246- عن ميمونة كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سجد تجافى حتى لو أن بهمة أرادت أن تمر تحت يده مرت. "عب" 1.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22247 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے ایک غلام جسے افلح کہا جاتا تھا کہ دیکھا کہ جب سجدہ کرتا ہے تو پھونک مارتا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے افلح ! اپنے چہرے کو خاک آلود کرو ۔ (ابونعیم ، ضعیف الترمذی)
22247- عن أم سلمة قالت: رأى النبي صلى الله عليه وسلم غلاما لنا يقال له: أفلح، ينفخ إذا سجد فقال: "يا أفلح ترب وجهك". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22248 ۔۔۔ طلحہ بن عبید اللہ (رض) کے آزاد کردہ غلام ابو صالح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ (رض) کے پاس تھا اتنے میں ام سلمہ (رض) کا ایک قریبی رشتہ دار آیا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگا چنانچہ جب وہ سجدہ کرتا تو جائے سجدہ پر پھونک مار دیتا اسے دیکھ کر ام سلمہ (رض) بولیں : ایسا مت کرو چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک کالے غلام سے فرمایا تھا کہ اے رباح ! اپنے چہرے کو خاک آلود ہونے دو ۔ (رواہ ابن عساکر)
22248- عن أبي صالح مولى لطلحة بن عبيد الله قال: "كنت عند أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم، فأتاها ذو قرابة لها فقام يصلي، فلما ذهب يسجد نفخ فقالت: لا تفعل فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول لغلام أسود "يا رباح ترب وجهك". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22249 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کے آزاد کردہ غلام مکرم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ سجدہ کرتے وقت اپنی ناک کو اوپر اٹھالیتی ہے چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو شدت سے ڈانٹا چونکہ آپ سجدہ میں ناک کو اٹھالینا اچھا نہیں سمجھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22249- عن عكرمة مولى ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم رأى امرأة تسجد وترفع أنفها فقال فيها قولا شديدا في الكراهة لرفع أنفها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22250 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ پیشانی سے عمامہ کو ہٹا لیا کرے ۔ (رواہ بیہقی )
22250- عن علي قال: "إذا كان أحدكم يصلي فليحسر العمامة عن جبهته". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22251 ۔۔۔ ” مسند احمر بن جزء سدوسی “ احمر بن جزء سدوسی (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آس پاس سے جگہ چھوڑ دیتے تھے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو بازوؤں کو پہلوؤں سے دور رکھتے تھے ۔ (احمد بن حنبل ، ابن ابی شیبۃ ، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، ابو یعلی ، ابو یعلی ، طحاوی، طبرانی ، دارقطنی فی الافراد والبغوی والباوردی ، وابن قانع وابو نعیم و سعید بن منصور) ۔ کلام : ۔۔۔ الالحاظ میں سجد کی بجائے صلی آیا ہے یعنی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھتے 87 محل کلام روایت ہے۔
22251- "مسند أحمر بن جزء السدوسي " إن كنا لنأوي لرسول الله صلى الله عليه وسلم مما يجافي يديه عن جنبيه إذا سجد. "حم ش د هـ ع والطحاوي، طب، قط في الأفراد، والبغوي والباوردي وابن قانع وأبو نعيم، ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22252 ۔۔۔ ” مسند انس (رض) “ ۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ہم شدید گرمی میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھتے تھے چنانچہ ہم میں سے کسی کے لیے زمین پر پیشانی رکھنا ممکن نہ ہوتا تو وہ کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا ۔ (ابن ابی شیبۃ ، الجامع المصنف 378)
22252- "مسند أنس" كنا نصلي مع النبي صلى الله عليه وسلم في شدة الحر، فإذا لم يستطع أحدنا أن يمكن وجهه من الأرض بسط ثوبه فسجد عليه. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22253 ۔۔۔ اسی طرح حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ بسا اوقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ اور رکعت سے سر اوپر اٹھاتے تو ان دونوں کے درمیان ٹھہر جاتے حتی کہ ہم کہتے کہ ممکن ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھول گئے ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22253- "أيضا" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ربما رفع رأسه من السجدة والركعة فيمكث بينهما حتى نقول: أنسي. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22254 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ جب نماز کا نقص سجدہ سہو سے پورا کرلیا جائے تو پھر نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ)
22254- عن عمر قال: "لا تعاد الصلاة يعني من السهو". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22255 ۔۔۔ عبداللہ بن حنظلہ بن راہب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی اور پہلی رکعت میں قرات بالکل نہیں کی اور جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو سورت فاتحہ اور ایک سورت پڑھی ۔ پھر اگلی رکعت میں بھی سورت فاتحہ اور سورت پڑھی پر سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کیے ۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ (رض) نے پہلے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن سعد والحارث و بیہقی)
22255- عن عبد الله بن حنظلة بن الراهب قال: "صلى بنا عمر بن الخطاب المغرب فلم يقرأ في الركعة الأولى شيئا: فلما قام في الركعة الثانية قرأ بفاتحة الكتاب وسورة، ثم عاد فقرأ بفاتحة الكتاب وسورة، ثم مضى فلما فرغ من صلاته سجد سجدتين بعد ما سلم - وفي لفظ: سجد سجدتين ثم سلم". "عب وابن سعد والحارث ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22256 ۔۔۔ ابو مسلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے اور قرات نہیں کرتے تھے ، جب نماز سے فارغ ہوتے اور انھیں اس بارے میں آگاہ کیا جاتا کہ آپ کہ آپ نے قرات نہیں کی تو آپ (رض) فرماتے ! رکوع اور سجدہ کا کیا حال تھا ؟ لوگ کہتے : رکوع اور سجدہ بہت اچھی حالت میں تھے، فرماتے تب کوئی حرج نہیں ، (مالک ، عبدالرزاق ، بیہقی)
22256- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أن عمر بن الخطاب كان يصلي بالناس المغرب، فلم يقرأ فيها، فلما انصرف قيل له: ما قرأت؟ قال: "فكيف كان الركوع والسجود؟ قالوا: حسنا، قال: فلا بأس إذا". "مالك عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22257 ۔۔۔ ابراہیم نخعی (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھائی اور قرات بالکل نہیں کی حتی کہ سلام پھیر دیا جب فارغ ہوئے تو ان سے عرض کیا گیا کہ آپ نے قرات نہیں کی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے شامل کی طرف ایک قافلہ تیار کیا اور منزل بہ منزل شام جا پہنچا اور وہاں سازوسامان کی خریدو فروخت کی حتی کہ میں بھی واپس لوٹ آیا اور قافلہ والے بھی ۔ (رواہ بیہقی)
22257- عن إبراهيم النخعي أن عمر بن الخطاب صلى بالناس صلاة المغرب، فلم يقرأ شيئا حتى سلم، فلما فرغ قيل له: إنك لم تقرأ شيئا، فقال إني جهزت عيرا إلى الشام فجعلت أنزلها منقلة منقلة حتى قدمت الشام فبعتها وأقتابها وأحلاسها وأحمالها فأعاد عمر وأعادوا. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22258 ۔۔۔ عکرمہ بن خالد ایک ثقہ راوی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جابیہ مقام میں لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور قرات بالکل نہیں کی حتی کہ فارغ ہوئے اور اپنے حجرہ میں داخل ہوگئے اتنے میں عبدالرحمن بن عوف (رض) اٹھے اور حجرے کے اردگرد چکر لگایا اور کھنکھارے تاکہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو ان کی آمد کا پتہ چل جائے نیز اس کا بھی انھیں علم ہوجائے کہ عبدالرحمن کو ان سے کوئی ضروری کام ہے۔ چنانچہ آپ (رض) نے فرمایا : یہ کون ہے ؟ جواب ملا ! میں عبدالرحمن بن عوف (رض) فرمایا : کیا آپ کو کوئی کام ہے حضرت عبدالرحمن (رض) نے اثبات میں جواب دیا ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اندر داخل ہونے کا حکم دیا چنانچہ حضرت عبدالرحمن اندر داخل ہوئے اور کہا مجھے خبر دیجئے کہ جو کچھ آپ نے ابھی ابھی (نماز میں) کیا ہے کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے یا پھر آپ نے اپنی طرف سے ایسا کیا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھلا میں نے کیا کیا ہے ؟ عرض کیا کہ آپ نے عشاء کی نماز میں قرات نہیں کی فرمایا : کیا واقعی میں نے قرات نہیں کی ؟ عرض کیا : جی ہاں آپ نے قرات نہیں کی ۔ فرمایا : میں بھول گیا ہوں چنانچہ میں نے شام سے ایک قافلہ تیار کیا حتی کہ میں مدینہ پہنچ گیا ۔ پھر آپ (رض) نے موذن کو حکم دیا اس نے دوبارہ نماز کھڑے کی اور آپ (رض) نے لوگوں کو دوبارہ نماز پڑھائی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا : جو آدمی نماز میں قرات نہیں کرتا اس کی نماز نہیں ہوتی بلاشبہ جو کچھ مجھ سے ابھی ابھی سرزاد ہوا وہ بھولے سے ہوا ۔ چنانچہ میں نے (نماز میں کھڑے کھڑے محض خیالات کی دنیا میں) شام سے سازوسامان سے لدا ہوا ایک قافلہ تیار کیا حتی کہ میں مدینہ پہنچ گیا اور وہاں سب کچھ تقسیم کردیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22258- عن عكرمة بن خالد عن الثقة أن عمر بن الخطاب صلى العشاء الآخرة للناس بالجابية، فلم يقرأ فيها حتى فرغ، فلما فرغ دخل فأطاف به عبد الرحمن بن عوف، وتنحنح له حتى سمع عبد الرحمن حسه وعلم أنه ذو حاجة فقال: من هذا؟ قال: "عبد الرحمن بن عوف، قال: ألك حاجة"؟ قال: "نعم"، قال: "ادخل فدخل" فقال: "أرأيت ما صنعت آنفا عهده إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم أم رأيته"؟ قال: "وما هو"؟ قال: "لم تقرأ في العشاء"، قال: "أو فعلت"؟ قال: "نعم"، قال: "فإني سهوت جهزت عيرا من الشام حتى قدمت المدينة، فأمر المؤذن فأقام الصلاة، ثم عاد فصلى العشاء للناس، فلما فرغ خطب" قال: "لا صلاة لمن لم يقرأ فيها، إن الذي صنعت آنفا أني سهوت، جهزت عيرا من الشام حتى قدمت المدينة فقسمتها". "عب".
তাহকীক: