কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২২৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22259 ۔۔۔ مسرۃ بن معبد لخمی کہتے ہیں کہ یزید بن ابی کبثہ نے ایک مرتبہ ہمیں عصر کی نماز پڑھائی پھر سلام پھیرنے کے بعد ہماری طرف متوجہ ہوئے اور ہمیں بتایا کہ انھوں نے مروان بن حکم کے پیچھے نماز پڑھی اور انھوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کیے تھے ، پھر مروان نے کہا تھا کہ میں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور انھوں نے بھی اسی طرح دو سجدے کئے تھے پھر مروان نے کہا : میں نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پیچھے نماز پڑھی تھی اور انھوں نے اسی طرح دو سجدے کیے تھے ۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے فرمایا : میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : یا نبی اللہ ! میں نے نماز پڑھی ہے اور مجھے علم نہیں آیا کہ میں نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین ، میں نے پھر نماز پڑھی مجھے پتہ نہیں کہ دو رکعتیں ہیں یاتین ، چنانچہ اس آدمی نے تین بار اسی طرح بیان کیا چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ اس سے بچا کرو کہ نماز میں شیطان تم سے کھیلا کرے لہٰذا تم میں سے جو آدمی نماز پڑھے اور اسے یاد نہ رہے کہ دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو اسے چاہیے کہ وہ دو سجدے کرے بلاشبہ اس کی نماز مکمل ہوجائے گی ۔ (احمد بن حنبل ، دارقطنی فی الافراد ، ابو داؤد ، ضیاء المقدسی ، وابو نعیم فی المعرفعۃ) کلام : ۔۔۔ ابو نعیم کہتے ہیں کہ اس حدیث میں سوار بن عمارہ رم کی مسرہ سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔ مغنی میں ہے کہ سمرہ بن معد لخمی منکر روایات نقل کرتا تھا ۔ میزان میں ہے ابن حبان کہتے ہیں کہ اس حدیث سے حجت نہیں پکڑے جائے گی ، جب کہ ابو حاتم کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ پہلی دو رکعت میں قرات بھول جائے :
22259- عن مسرة بن معبد اللخمي قال: "صلى بنا يزيد بن أبي كبشة العصر ثم انصرف إلينا بعد سلامه، فأعلمنا أنه صلى وراء مروان ابن الحكم فسجد بنا مثل هاتين السجدتين"، ثم قال مروان: "إني صليت وراء عثمان بن عفان فسجد بنا مثل هاتين السجدتين"، ثم قال عثمان: "إني كنت عند نبيكم صلى الله عليه وسلم فأتاه رجل" فقال: "يا نبي الله إني صليت فلم أدر أشفع أم وتر؟ ثم صليت فلم أدر أشفع أم وتر يقولها ثلاثا"، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم: "إياي وأن يتلاعب بكم الشيطان في صلاتكم، فمن صلى منكم فلم يدر أشفع أم وتر فليسجد سجدتين فإنهما تمام صلاته". "حم قط في الأفراد، د ض وأبو نعيم في المعرفة. – وقال: "تفرد به سوار بن عمارة الرملي عن مسرة. وفي المغنى: مسرة بن معبد اللخمي له مناكير عن يزيد بن أبي كبشة". وفي الميزان: قال "حب": "لا يحتج به". وقال أبو حاتم: "ما به بأس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22260 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جب کوئی آدمی ظہر یا عصر یا عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں قرات کرنا بھول جائے تو اسے چاہیے کہ آخری دو رکعتوں میں قرات کرلے اور یہ قرات اسے کافی ہوجائے گی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22260- عن علي قال: "إذا نسي الرجل أن يقرأ في الركعتين الأوليين من الظهر والعصر والعشاء فليقرأ في الركعتين الآخرتين وقد أجزأ عنه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22261 ۔۔۔ حبیب بن ابی ثابت کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا کہ جو آدمی فجر کی ایک رکعت میں قرات کرے اور ایک میں قرات چھوڑ دے اسے چاہیے کہ اس نے جس رکعت میں قرات نہیں کی اسے لوٹائے اور قراءت کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22261- عن حبيب بن أبي ثابت أن عليا قال في رجل صلى الفجر فقرأ في ركعة ولم يقرأ في الأخرى قال: "يعيد الركعة التي لم يقرأ فيها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22262 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تمہیں یاد نہ ہو کہ تم نے چار رکعتیں پڑھی ہیں یا تین رکعتیں تو جو بات تمہیں درست معلوم ہو اسے یقینی قرار دے کر اس پر بنا کرو اور پھر ایک رکعت اور پڑھ لو اور پھر دو سجدے کرلو چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ زیادتی پر عذاب نہیں دے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22262 عن علي قال : إذا كنت لا تدري أربعا صليت أم ثلاثا ؟ فتوخ الصواب ثم قم فاركع ركعة ، ثم اسجد سجدتين ، فان الله لا يعذب على الزيادات.

(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22263 ۔۔۔ مسیب ، حارث بن ہشام مخزومی (رح) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرنے سے پہلے سہو کے دو سجدے کے ۔ (رواہ ابونعیم)
22263- عن المسيب عن الحارث بن هشام المخزومي أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد سجدتي السهو قبل أن يسلم. "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22264 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ “ قتادہ (رح) روایت کرتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) نے مدائن میں تین رکعتیں پڑھیں پھر دو سجدے کیے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا ۔ (رواہ ابن جریر)
22264- "مسند حذيفة" عن قتادة أن حذيفة ركع بالمدائن ثلاث ركعات، ثم سجد سجدتي وفعل في الأخرى مثل ذلك. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22265 ۔۔۔ ” مسند رافع بن خدیج “ روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں بھول گئے ایک صحابی (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے یا آپ سے بھول ہوگئی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز میں کمی ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھول راہوں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ ان دونوں حضرت نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! ذوالیدین نے سچ کہا ہے ، چنانچہ رسول اللہ واپس لوٹ آئے اور لوگ بھی جمع ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے۔ (احمد بن حنبل و طبرانی ، عن ذی الیدین و بخاری بتغیر ما)
22265- "مسند رافع بن خديج" أقصرت الصلاة أم نسيت؟ فقال: "ما قصرت الصلاة وما نسيت، ثم أقبل على أبي بكر وعمر" فقال: ما يقول ذو اليدين؟ فقالا: صدق يا رسول الله، فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم وثاب الناس فصلى ركعتين، ثم سلم ثم سجد سجدتي السهو. "حم طب عن ذي اليدين".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22266 ۔۔۔ طاوؤس (رح) کی روایت ہے کہ ابن زبیر (رض) مغرب کی دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے پھر انھوں نے سہو کے دو سجدے کیے درآں حالیکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے ، چنانچہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اس کا تذکرہ کیا انھوں نے کہا ! ابن زبیر نے صحیح کیا ۔
22266- عن طاووس أن ابن الزبير قام في ركعتين من المغرب، ثم سجد سجدتين وهو جالس، فذكرت ذلك لابن عباس، فقال: "أصاب". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22267 ۔۔۔ ” مسند ابوہریرہ “ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ سلام اور کلام کرنے کے بعد دو سجدے کیے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی درآں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے ہوئے تھے پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہا ۔ پھر سجدہ کیا اور تکبیر کہی پھر سر اوپر اٹھایا اور تکبیر کہی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22267- "مسند أبي هريرة" أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد سجدتي السهو بعد ما سلم وتكلم وكبر وهو جالس، ثم رفع وكبر، ثم سجد وكبر، ثم رفع وكبر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22268 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر کر نماز ختم کردی ۔ اتنے میں ایک صحابی (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے جنھیں ذوشمالین کیا جاتا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے یا پھر آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا نماز میں کمی نہیں ہوئی اور نہ ہی مجھ سے بھول ہوئی عرض کیا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق مبعوث کیا ہے کچھ تو ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا : کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اثبات میں جواب دیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں ۔
22268- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم في ركعتين ثم انصرف فأدركه ذو الشمالين، فقال له: "يا رسول الله أنقصت الصلاة أم نسيت"؟ قال: "لم تنقص الصلاة ولم أنس"، قال: "بلى والذي بعثك بالحق فقال النبي صلى الله عليه وسلم "أصدق ذو اليدين"؟ قال: "نعم يا رسول الله فصلى بالناس ركعتين". "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22269 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ جب کسی آدمی کو یاد نہ رہے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار رکعتیں ؟ اسے چاہیے کہ جس بات پر اس کا غالب یقین ہو اس پر بنا کرلے اور اس پر سجدہ سہو نہیں ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22269- عن ابن عمر قال: "إذا شك الرجل في صلاة فلم يدر أثلاثا أم أربعا؟ فليبن على أتم ذلك في نفسه وليس عليه سجود". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22270 ۔۔۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور دو رکعتوں کے بعد بھول کر سلام پھیر دیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک آدمی جسے ذوالیدین کہا جاتا تھا کہنے لگا : کیا نماز میں کمی ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا ! انھیں پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری دو رکعتیں پڑھائیں اور سلام پھیر کر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22270- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بالناس ركعتين فسهى فسلم فقال له رجل يقال له ذو اليدين: "نقصت الصلاة؟ " فقال: لا، فصلى ركعتين أخراوين، ثم سلم، ثم سجد سجدتين، ثم سلم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22271 ۔۔۔ عبداللہ بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک نماز پڑھائی ہمارا گمان ہے کہ وہ عصر کی نماز تھی ، چنانچہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسری رکعت سے فارغ ہوئے تو بیٹھنے کی بجائے سیدھے کھڑے ہوگئے ۔ پھر سلام پھیرنے سے پہلے پہلے دو سجدے کرلیے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22271- "مسند عبد الله بن مالك" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى صلاة نظن أنها العصر، فلما كان في الثالثة قام قبل أن يجلس، فلما كان قبل أن يسلم سجد سجدتين. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22272 ۔۔۔ اسی عبداللہ بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوسری رکعت کے بعد سیدھے کھڑے ہوگئے اور بیٹھنا بھول گئے چنانچہ ہم نماز کے آخر میں سلام کی انتظار میں بیٹھ گئے اتنے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22272- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام في اثنتين من الظهر نسي الجلوس، حتى إذا فرغ من صلاته إلا أن يسلم سجد سجدتي السهو وسلم. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22273 ۔۔۔ اسی طرح عبداللہ بن مالک ہی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز میں بیٹھنے کی بجائے سیدھے کھڑے ہوگئے ، اور ہم نماز کے آخر میں سلام کے انتظار میں بیٹھ گئے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام سے قبل دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22273- "أيضا" صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إحدى صلاتي العشاء فقام في ركعتين، فلم يجلس، فلما كان في آخر صلاته انتظرنا أن يسلم علينا فسجد سجدتين قبل التسليم، ثم سلم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22274 ۔۔۔ عبداللہ بن مالک ہی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز میں بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہوگئے اور جب نماز مکمل کی تو بیٹھے بیٹھے سلام سے پہلے دو سجدے کیے اور ہر سجدہ کرنے سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدے کیے اور یہ سجدے بھولنے کی جگہ تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22274- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم قام في الظهر وعليه جلوس فلما أتم صلاته سجد سجدتين وهو جالس قبل أن يسلم يكبر في كل سجدة وسجدهما الناس معه مكان ما نسي من الجلوس. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22275 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر کی نماز میں پانچ رکعتیں پڑھ دیں بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کئے ۔ (ابن ابی شیبۃ ، بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی ، نسائی وابن ماجہ)
22275- "مسند ابن مسعود" صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر خمسا، فقيل له: "إنك صليت خمسا فسجد سجدتين بعد ما سلم". "ش خ م د ت ن هـ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22276 ۔۔۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلام کرنے کے بعد سہو کے دو سجدے کرلیے تھے ۔ (رواہ ، ابن ابی شیبۃ)
22276- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم سجد سجدتي السهو بعد الكلام. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22277 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر یا عصر کی نماز میں پانچ رکعتیں پڑھ لیں بعد میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ آپ نے پانچ رکعتیں پڑھیں ہیں ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سہو کے دو سجدے کرلیے پھر ارشاد فرمایا ، یہ دو سجدے اس آدمی کے لیے ہیں جسے گمان ہوجائے کہ اس نے نماز میں کمی یا زیادتی کردی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22277- "أيضا" صلى النبي صلى الله عليه وسلم الظهر أو العصر خمسا، فقيل له: "إنك صليت خمسا فسجد سجدتي السهو، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هاتان السجدتان لمن ظن أنه زاد منكم أو نقص". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২২৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22278 ۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ یا رسول اللہ ! آپ سے بھول ہوگئی یا کیا ہمارے لیے نماز میں تخفیف کی گئی ہے ؟ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نہ عرض کیا : جی ہاں وہ درست کہہ رہا ہے۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقیہ نماز ادا کی ۔ (دارقطنی وعبدالرزاق)
22278- عن طاووس قال: "صلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له رجل: نسيت يا رسول الله أم خففت عنا الصلاة"؟ قال: "ما قال ذو اليدين"؟ قالوا: "نعم، فعاد فصلى ما بقي". "قط عب".
tahqiq

তাহকীক: