কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২২৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22279 ۔۔۔ طاؤوس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چار رکعتی نماز آدھی پڑھاکر سلام پھیر دیا ، اس پر ذوالیدین (رض) نے کہا : یا نبی اللہ ! کیا ہمارے لیے نماز میں تخفیف کردی گئی ہے یا آپ سے بھول ہوگئی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے نماز میں کمی کی ہے ؟ عرض کیا جی ہاں پس آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں ادا کیں اور بیٹھے ہوئے دو سجدے کرلیے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22279- عن طاووس أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بعض الأربع، فسلم في سجدتين فقال له ذو اليدين: "أنسيت أم خففت عنا يا نبي الله"؟ قال: "أو فعلت"؟ قال: "نعم، فعاد وصلى ركعتين، ثم سجد سجدتين وهو جالس". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22280 ۔۔۔ عبید بن عمیر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی دو رکعتیں پڑھیں اور سلام پھیر کر اہل خانہ کے پاس واپس لوٹ گئے جب اس بارے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹ آئے اور ذوالیدین (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پالیا ۔ انھوں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا آپ بھول چکے ہیں یا نماز میں تخفیف کی جا چکی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیوں ؟ عرض کیا : چونکہ آپ نے عصر کی دو ہی رکعتیں پڑھی ہیں ، فرمایا : کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا جی ہاں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کی طرف دوبارہ بلاتے ہوئے فرمایا : حی علی الفلاح حی الفلاح قد قامت الصلوۃ پھر لوگوں کو دو رکعتیں اور پڑھائیں اور واپس لوٹ گئے ۔ (دارقطنی ، عبدالرزاق)
22280- عن عبيد بن عمير قال: "صلى النبي صلى الله عليه وسلم العصر ركعتين ثم سلم وانصرف إلى أهله، قيل وولى، قال وولى فأدركه ذو اليدين أخو بني سليم" قال: "يا نبي الله أنسيت أم خففت عنا الصلاة؟ " قال: "وما ذاك؟ " قال: "صليت العصر ركعتين"، قال: "أصدق ذو اليدين أخو بني سليم؟ " قال الناس: "نعم قال النبي صلى الله عليه وسلم حي على الفلاح حي على الفلاح قد قامت الصلاة، ثم صلى بهم ركعتين ثم انصرف". "قط عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22281 ۔۔۔ عطار کہتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ چار رکعتی نماز میں سے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا ، اتنے میں ایک آدمی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اٹھا اور کہنے لگا : یا نبی اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لیے نماز میں تخفیف کردی گئی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کیسے ؟ عرض کیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز میں تخفیف نہیں ہوئی ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھی اور سلام پھیر کر دو سجدے کیے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22281- عن عطاء قال: "أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى مرة بعض الأربع فصلى ركعتين، ثم سلم فقام إليه رجل فقال: أخففت عنا من الله يا نبي الله؟ " قال: "وما ذاك؟ " قال: "سلمت في ركعتين،" قال: "لا، ثم قام فركع ركعتين أوفى بها ولم يستقبل الصلاة وافية، فلما سلم سجد سجدتي السهو". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22282 ۔۔۔ ” مسند سعد “ قیس بن ابی حازم روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) ایک مرتبہ دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے سیدھے کھڑے ہوگئے پیچھے کھڑے لوگوں نے تسبیحات کہنی شروع کردی لیکن آپ (رض) نہ بیٹھے حتی کہ نماز مکمل کی اور دو سجدے کرلیے درآں حالیکہ آپ بیٹھے ہوئے تھے ۔
22282- "مسند سعد" عن قيس بن أبي حازم أن سعدا قام في الركعتين فسبحوا به، فلم يجلس حتى قضى صلاته سجد سجدتين وهو جالس. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22283 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ فرض نماز میں بھول گئے اور فرض کی بجائے نفل شروع کردیے آپ (رض) سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ (رض) بقیہ نماز مکمل کی اور دو سجدے کرلیے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22283- عن أنس أنه نسي ركعة من صلاة الفريضة حتى دخل التطوع، ثم ذكر فصلى بقية صلاة الفريضة، ثم سجد سجدتين وهو جالس. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22284 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نماز میں تسبیح مردوں کے لیے ہے اور تصفیق عورتوں کے لیے (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ تصفیق کا معنی ہے کہ ” آہستہ سے تالی بجا دینا “۔
22284- عن جابر قال: "التسبيح في الصلاة للرجال، والتصفيق للنساء". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22285 ۔۔۔ حضرت عمران بن حصین (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی تین رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھ کر چل دیئے اتنے میں ایک آدمی اٹھا جسے خرباق (رض) کہا جاتا تھا اور اس کے ہاتھ قدرے لمبے تھے ۔ اس نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے ؟ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصہ کی حالت میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے نکلے حتی کہ لوگوں تک پہنچے اور فرمایا : کیا یہ آدمی سچ کہتا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور ایک رکعت جو باقی رہتی تھی ادا کی پھر سلام پھیر کر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا (ابن ابی شیبۃ ، و طبرانی)
22285- عن عمران بن حصين قال: "سلم رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاث ركعات من العصر، فدخل فقام إليه رجل يقال له الخرباق، وكان طويل اليدين،" فقال: "أقصرت الصلاة يا رسول الله؟ فخرج مغضبا يجر رداءه حتى انتهى إلى الناس" فقال: "أصدق هذا؟ " فقالوا: نعم، فقام فصلى تلك الركعة، ثم سلم ثم سجد سجدتين، ثم سلم". "ش طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22286 ۔۔۔ حضرت معاویہ بن خدیج (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن نماز پڑھائی اور سلام پھیر کر واپس لوٹ گئے حالانکہ نماز کی ابھی ایک رکعت باقی تھی ، اتنے میں ایک آدمی نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آن لیا اور عرض کیا ! کیا آپ نماز میں سے ایک رکعت بھول چکے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واپس لوٹے مسجد میں داخل ہوئے اور بلال (رض) کو دوبارہ نماز کھڑی کرنے کا حکم دیا ، چنانچہ انھوں نماز کھڑی کی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی میں نے لوگوں کو اس کی خبر دی تو لوگوں نے کہا : کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو ۔ میں نے نفی میں جواب دیا اور یہ کہا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ وہ میرے پاس سے گزرا تھا ۔ میں نے کہا ! وہ یہ آدمی ہوسکتا ہے۔ لوگوں نے کہا : طلحہ بن عبید اللہ ہیں۔ ( رواہ ابن ابی شیبۃ)
22286- "مسند معاوية بن خديج" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوما فسلم وانصرف وقد بقي عليه من الصلاة ركعة، فأدركه رجل فقال: "نسيت من الصلاة ركعة، فرجع فدخل المسجد وأمره بلالا، فأقام الصلاة، فصلى بالناس ركعة، فأخبرت بذلك الناس، فقالوا: أتعرف الرجل؟ فقلت: لا، إلا أن أراه فمر بي فقلت: هو هذا، فقالوا: هذا طلحة بن عبيد الله". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22287 ۔۔۔ شعبی کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے پیچھے نماز پڑھی اور وہ دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے سیدھے کھڑے ہوگئے لوگوں نے تسبیحات کہنی شروع کردی مگر وہ نہ بیٹھے جب انھوں نے سلام پھیرا تو سجدے کیے اور کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں ہی کرتے دیکھا ہے۔ (عبدالرزاق ، ابن ابی شیبۃ ، و ترمذی)
22287- عن الشعبي قال: "صليت خلف المغيرة بن شعبة فقام في الثانية، فسبح الناس به فلم يجلس، فلما سلم وانفتل سجد سجدتين وهو جالس" ثم قال: "هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع". "عب ش ت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22288 ۔۔۔ ” مسند سہل بن سعد ساعدی “۔ ابو حازم کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) کے پاس تھا اچانک ان سے کسی نے کہا کہ قبلیہ بنو عمرو بن عوف اور اہل قباء کے درمیان کچھ ناچا کی ہے ، سہل بن سعد (رض) نے فرمایا : یہ پرانی ناچاقی ہے چنانچہ ایک مرتبہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انھیں بتایا گیا کہ اہل قباء کی آپس میں ناچاقی ہے۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اہل قباء کے پاس تشریف لے گئے تاکہ ان کی آپس میں صلح کروا دیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو واپسی میں تاخیر ہوگئی بلال (رض) نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے کہا : کیا میں نماز نہ کھڑی کر دوں ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جواب دیا : جیسے تمہاری مرضی چنانچہ بلال (رض) نے اقامت کہی اور لوگوں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو آگے بڑھا دیا اسی دوران وہ نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے اور صفوں کو چیر کر آگے بڑھنا شروع کردیا حتی کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے جا کر کھڑے ہوئے ، لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کردی جب کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی عادت مبارکہ تھی کہ نماز میں ادھر ادھر توجہ نہیں دیتے تھے لیکن جب لوگوں نے کثرت سے تالیاں بجائیں تو آپ (رض) نے التفات کیا کیا دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ (رض) کی طرف نماز جاری رکھنے کا اشارہ کردیا لیکن آپ (رض) پیچھے کھسک آئے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے بڑھ گئے اور نماز پڑھائی ، جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تمہیں کس چیز نے نماز جاری رکھنے سے روکا جبکہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا ؟ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : ابن ابی قحافہ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آگے بڑھنے کی جسارت کرے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز میں یہ تصفیق کیسی تھی ؟ حالانکہ مردوں کے لیے تو تسبیح ہے اور تصفیق تو عورتوں کے لیے ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22288- "مسند سهل بن سعد الساعدي" عن أبي حازم قال: "كنت عند سهل بن سعد الساعدي إذ قيل له: كان بين بني عمرو بن عوف وأهل قباء شيء" فقال: "قديم كان ذلك كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جيء فقيل له: إنه كان بين أهل قباء شيء، فانطلق النبي صلى الله عليه وسلم إليهم ليصلح بينهم، فأبطأ على الناس" فقال بلال لأبي بكر: "ألا أقيم الصلاة؟ " قال: "ما شئت، فأقام بلال فقدم الناس أبا بكر فبينا هو يصلي أقبل النبي صلى الله عليه وسلم فجعل يشق الصفوف حتى قام خلف أبي بكر، فجعلوا يصفقون، وكان لا يلتفت في الصلاة، فلما أكثروا التفت، فإذا النبي صلى الله عليه وسلم قائم خلفه، فأشار إليه النبي صلى الله عليه وسلم أن يصلي كما هو فنكص إلى ورائه، وتقدم النبي صلى الله عليه وسلم فصلى"، فلما فرغ قال: "ما منعك إذ أمرتك أن لا تكون قد صليت؟ " قال: "لا ينبغي لابن أبي قحافة أن يتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم"، ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم: "ما شأن التصفيق في الصلاة إنما التسبيح للرجال، والتصفيق للنساء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22289 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا : دوسی نوجوان کہاں ہے ؟ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ ہے مسجد کی آخر میں اور بخار میں مبتلا ہے پس حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس تشریف لائے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھ سے اچھی اچھی باتیں کیں اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : اگر میں نماز میں بھول جاؤں تو مردوں کو تسبیح کرنی چاہیے اور عورتوں کو تصفیق (تالی بجانا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھائی اور بھولے نہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اڑھائی صفیں مردوں کی اور دو صفیں عورتوں کی تھیں یا مردوں کی دو صفیں اور عورتوں کی کی اڑھائی صفیں تھیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22289- "مسند أبي هريرة" خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوما إلى المسجد فقال: "أين الفتى الدوسي؟ " فقيل: هو ذاك يا رسول الله يوعك في آخر المسجد فأتاني النبي صلى الله عليه وسلم فمسح على رأسي وقال لي معروفا، ثم أقبل على الناس فقال: "إن أنا سهوت في صلاتي فليسبح الرجال، ولتصفق النساء، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم ولم يسه في شيء من صلاته ومع النبي صلى الله عليه وسلم صفان ونصف من الرجال وصفان من النساء أو صفان من الرجال وصفان ونصف من النساء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22290 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر سلام پھیر دیا ، اتنے میں ذوالیدین (رض) اٹھے اور عرض کیا کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ذوالیدین (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ نہ کچھ ہوا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا : کیا ذوالیدین نے سچ کہا ؟ عرض کیا : جی ہاں ۔ پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بقیہ نماز مکمل کی اور بیٹھے بیٹھے سلام کے بعد دو سجدے کیے ۔ (رواہ عبدالرزاق، مسلم ، والنسائی)
22290- "أيضا" صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة العصر فسلم في ركعتين فقام ذو اليدين فقال: "أقصرت الصلاة أم نسيت؟ " فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "كل ذلك لم يكن،" قال: "قد كان بعض ذلك يا رسول الله، فأقبل النبي صلى الله عليه وسلم على الناس،" فقال: " أصدق ذو اليدين؟ " قال: "نعم فأتم النبي صلى الله عليه وسلم ما بقي من الصلاة، ثم سجد سجدتين وهو جالس بعد التسليم". "عب م ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ سہو اور اس کے حکم کے بیان میں :
22291 ۔۔۔ ابن شہاب ، ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ اور ابو سلمہ عبداللہ سے روایت نقل کرتے ہیں ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر یا ظہر کی دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عمرو کے بیٹے ذوالشمالین نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا نماز میں کمی کردی گئی ہے یا پھر آپ بھول چکے ہیں ؟ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہ نماز میں کمی ہوئی ہے اور نہ ہی میں بھولا ہوں ذوالشمالین (رض) نے عرض کیا : یا نبی اللہ کیوں نہیں : کچھ تو ہوا ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے پوچھا : کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : جی ہاں ۔ چنانچہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین ہوگیا تو نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22291- عن ابن شهاب عن أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة وأبي سلمة عبد الله عمن يقنعان بحديثه ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى ركعتين في صلاة العصر او صلاة الظهر، ثم سلم فقال له ذو الشمالين ابن عبد عمرو: "يا نبي الله أقصرت الصلاة أم نسيت؟ " فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لم تقصر ولم أنس،" فقال له ذو الشمالين: "بلى يا نبي الله قد كان بعض ذلك"، فالتفت النبي صلى الله عليه وسلم إلى الناس فقال: "أصدق ذو اليدين؟ " قالوا: "نعم يا نبي الله فأقام" الصلاة حين استيقن رسول الله صلى الله عليه وسلم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22292 ۔۔۔ اسود کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) سورت ” اذا السماء انشقت “ میں سجدہ تلاوت کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، وطحاوی)
22292- عن الأسود قال: "إن عمر وعبد الله بن مسعود سجدا في" {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} . "عب والطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22293 ۔۔۔ ربیعہ بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جمعہ کے دن سورت نحل منبر پر تلاوت کی حتی کہ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے نیچے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا دوسرے جمعہ پھر وہی سورت تلاوت کی اور جب آیت سجدہ پڑھی تو فرمایا : اے لوگو ہم آیت سجدہ پڑھ کر آگے بڑھ چکے ہیں۔ لہٰذا جس نے سجدہ کیا اس نے درست اور اچھا کیا اور جس نے سجدہ نہیں کیا اس پر کوئی گناہ نہیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے بھی سجدہ نہ کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق ، وابن خزیمہ و بیہقی)
22293- عن ربيعة بن عبد الله قال: "قرأ عمر بن الخطاب يوم الجمعة على المنبر سورة {النَّحْلِ} حتى إذا أتى السجدة نزل فسجد، وسجد الناس معه حتى إذا كان الجمعة القابلة قرأها حتى إذا جاء السجدة قال: "أيها الناس إنا نمر بالسجدة فمن سجد، فقد أصاب وأحسن، ومن لم يسجد فلا إثم عليه" قال: "ولم يسجد عمر". "عب وابن خزيمة ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22294 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ عزوجل نے ہمارے اوپر سجدے واجب نہیں کیے بجز اس کے کہ جب ہم چاہیں ۔ (رواہ بخاری)
22294- عن ابن عمر أن عمر قال: "إن الله لم يفرض علينا السجود إلا أن نشاء". "خ"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22295 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو منبر پر سورت ” ص “ تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ، چنانچہ آپ (رض) منبر سے نیچے اترے سجدہ کیا اور پھر منبر پر چڑھ گئے ۔ (رواہ عبدالرزاق، دارقطنی ، بیہقی)
22295- عن ابن عباس قال: "رأيت عمر قرأ على المنبر {ص} فنزل فسجد ثم رقي المنبر. "عب قط ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22296 ۔۔۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے صبح کی نماز میں ” اذا السماء انشقت “ پڑھی اور اس میں سجدہ کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق، مسدد وطحاوی ، طبرانی ، ابو نعیم و، ابن ابی شیبۃ) یہ حدیث صحیح ہے۔
22296- عن عمر بن الخطاب أنه صلى الصبح فقرأ {إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ} فسجد فيها. "عب ومسدد والطحاوي طب وأبو نعيم ش وهو صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22297 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا کہ مفصل سورتوں میں سجدہ نہیں ہے۔ (ابن ابی شیبۃ، ومسند) یہ صحیح روایت ہے۔
22297- عن عمر قال: "ليس في المفصل سجود". "ش ومسدد وهو صحيح".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২২৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ تلاوت کے بیان ہیں :
22298 ۔۔۔ عبداللہ بن ثعلبہ (رض) کہتے ہیں : میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو صبح کی نماز میں دیکھا کہ آپ (رض) نے سورت حج میں دو سجدے کیے ۔ (مسدد وطحاوی ، دارقطنی ، وحاکم فی المستدرک)
22298- عن عبد الله بن ثعلبة قال: "رأيت عمر سجد في الحج سجدتين في الصبح". "مسدد والطحاوي قط ك".
তাহকীক: