কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৩১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کے بیان میں :
22319 ۔۔۔ منصور کہتے ہیں مجھے خبر پہنچی ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے سجدہ شکر کیا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22319- عن منصور قال: "بلغني أن أبا بكر وعمر سجدا سجدة الشكر". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سجدہ شکر کے بیان میں :
22320 ۔۔۔ اسلم کہتے ہیں ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو لشکر اسلام کی فتح کی خوشخبری سنائی گئی تو انھوں نے سجدہ کیا ۔ (ابن ابی شیبہ ، و بیہقی)
22320- عن أسلم قال: "بشر عمر بفتح فسجد". "ش ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22321 ۔۔۔ مالک بن نمیر خزاعی بصری کہتے ہیں کہ ان کے والد نے انھیں بتایا کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا درآں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھا تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت کی انگلی اوپر اٹھائی ہوئی تھی اور قدرے جھکائی ہوئی تھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا مانگ رہے تھے ۔ (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف النسائی 68 ۔
22321- عن مالك بن نمير الخزاعي من أهل البصرة أن أباه حدثه أنه رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم قاعدا في الصلاة واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا أصبعه السبابة قد حناها شيئا وهو يدعو. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22322 ۔۔۔ حضرت ابوحمید ساعدی (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز میں پہلی دو رکعتوں پر بیٹھتے تو دایاں پاؤں کھڑا کرتے اور بایاں پاؤں پھیلا لیتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ، جب آخری دو رکعتوں کے بعد بیٹھتے تو سرینوں کو زمین سے لگا لیتے اور دایاں پاؤں کھڑا کرلیتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22322- "مسند أبي حميد الساعدي" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا جلس في الصلاة في الركعتين الأوليين نصب قدمه اليمنى، وافترش اليسرى وأشار بأصبعه التي تلي الإبهام، وإذا جلس في الأخريين أفضى بمقعده إلى الأرض ونصب قدمه اليمنى. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22323 ۔۔۔ حضرت سمرہ بن جندب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اعتدال کے ساتھ جلسہ کیا کریں اور جلد بازی سے کام نہ لیا کریں (رواہ ابن عساکر)
22323- عن سمرة بن جندب قال: "أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نعتدل في الجلوس ولا نستوفز" "كر"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22324 ۔۔۔ عکرمہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نماز میں اقعاء یعنی پاؤں کے بل بیٹھنا سنت ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22324- عن عكرمة عن ابن عباس قال: "الإقعاء في الصلاة هو السنة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22325 ۔۔۔ طاؤوس کہتے ہیں ہم نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے قدموں کے بل بیٹھنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ (رض) نے فرمایا : یہ سنت ہے۔ طاوؤس کہتے ہیں کہ ہم اسے پاؤں پر جفا کشی کرنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ س پر حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22325- عن طاووس قال: "قلنا لابن عباس في الإقعاء على القدمين" قال: "هي السنة"، فقال: "إنا لنراه جفاء بالرجل"، قال ابن عباس: "هي سنة نبيكم صلى الله عليه وسلم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22326 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب دو رکعتوں میں بیٹھتے تو یوں لگتا گویا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گرم پتھر پر بیٹھے ہیں ، حتی کہ فورا کھڑے ہوجاتے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22326- "مسند ابن مسعود" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا قعد في الركعتين الأوليين كأنه على الرضف حتى يقوم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القعدہ :
22327 ۔۔۔ ذیال بن حنظلہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے دادا حنظلہ (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ میں ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چار زانو بیٹھے ہوئے دیکھا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے ۔ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو محبوب تھا کہ آدمی کو اچھے سے اچھے نام یا اچھی کنیت سے پکاریں ۔ (رواہ ابونعیم)
22327- "مسند حنظلة بن حنيفة المالكي" عن ذيال بن حنظلة قال: "سمعت جدي حنظلة يقول: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فرأيته يصلي جالسا متربعا، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعجبه أن يدعو الرجل بأحب أسمائه إليه، وأحب كناه". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القعدہ :
22328 ۔۔۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے ایک آدمی کو زمین پر ہاتھ ٹیکے ہوئے دیکھا آپ (رض) نے فرمایا : یوں بیٹھنے کا طریقہ ایک قوم کا تھا جسے عذاب دیا گیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22328- عن ابن عمر أنه رأى رجلا جالسا معتمدا بيده على الأرض فقال: "إنك جلست جلسة قوم عذبوا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القعدہ :
22329 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں زمین پر ہاتھ ٹیک کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22329- "أيضا" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجلس الرجل في الصلاة وهو معتمد على يديه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل القعدہ :
22330 ۔۔۔ نافع روایت کرتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے ایک آدمی کو زمین پر ہاتھ ٹیک کر بیٹھے ہوئے دیکھا تو آپ (رض) نے فرمایا : تم نماز میں ان لوگوں کی طرح کیوں بیٹھتے ہو جن پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22330- عن نافع أن ابن عمر رأى رجلا جالسا معتمدا على يديه فقال: "ما يجلسك في صلاتك جلوس المغضوب عليهم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ کے مکروہات :
22331 ۔۔۔ ابو میسرہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں پاؤں کے بل بیٹھنے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ بیٹھنے کا یہ طریقہ ایسی قوم کا ہے جس پر اللہ تبارک وتعالیٰ غضب نازل ہوا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22331- "مسند بلال" عن أبي ميسرة كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول في وضع الرجل شماله إذا جلس في الصلاة: "هي قعدة المغضوب عليهم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ کے مکروہات :
22332 ۔۔۔ عمرو بن ثرید (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں پاؤں کے بل بیٹھنے کے متعلق فرمایا کہ یوں مغضوب علیہم کے بیٹھنے کا طریقہ ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22332- "مسند عمرو بن الشريد" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول في وضع الرجل شماله إذا جلس في الصلاة: هي قعدة المغضوب عليهم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ کے مکروہات :
22333 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے خلیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (نماز میں) بندر کی طرح بیٹھنے سے منع فرمایا ہے (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22333- "مسند أبي هريرة" نهاني خليلي رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقعي كإقعاء القرد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قعدہ کے مکروہات :
22334 ۔۔۔ روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نماز میں چار زانو بیٹھنے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22334- عن ابن عباس أنه كان يكره التربع في الصلاة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22335 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہمیں منبر پر کھڑے ہو کر اس طرح تشھد سکھلایا کرتے تھے جس طرح درسگاہ میں بچوں کو کوئی چیز سکھائی جاتی ہے۔ (مسدد، طحاوی)
22335- "الصديق" عن ابن عمر قال: "كان أبو بكر يعلمنا التشهد على المنبر كما يعلم المعلم الغلمان في المكتب". "مسدد والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22336 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے تشہد سکھایا اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ہاتھ بھی پکڑ کر تشہد سکھایا تھا اور وہ یہ ہے۔ ” التحیات للہ الصلوات الطیبات المبارکات للہ “۔ تمام تر تعریفیں اللہ تبارک وتعالیٰ کے لیے ہیں برکت والی بدنی اور مالی عبادتیں بھی اللہ ہی کے لیے ہیں۔ (حاکم فی المستدرک ودارقطنی) دارقطنی کہتے ہیں اس حدیث کی اسناد حسن ہے۔
22336- عن ابن عباس قال: "أخذ عمر بن الخطاب بيدي فعلمني التشهد ، وزعم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيده فعلمه التشهد : التحيات لله الصلوات الطيبات المباركات لله.

(قط وقال : هذا اسناد حسن ، ك (1).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22337 ۔۔۔ عون بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود کہتے ہیں کہ مجھے والد صاحب نے تشہد کے کلمات سکھائے جو انھیں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے سکھائے تھے وہ یہ ہیں۔ ” التحیات للہ والصلوات والطیبات المبارکات للہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین ، اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ تمام تعریفیں اور برکت بدنی ومالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہمارے اوپر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (طبرانی الاوسط)
22337 عن عون بن عبد الله بن عتبة بن مسعود قال : علمني أبي كلمات زعم أن عمر بن الخطاب علمه إياهن : التحيات لله الصلوات الطيبات المباركات لله السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.

(طس).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22338 ۔۔۔ عبدالرحمن بن قاری روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو تشہد سکھلاتے ہوئے فرمایا : کہو ! ” التحیات للہ الزاکیات للہ الطیبات الصلوات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ تمام تعریفیں ، اچھے عمال ، مالی اور بدنی عبادت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں اے نبی ! تم پر اللہ تعالیٰ کا سلام اس کی رحمت اور برکتیں نازل ہوں ہمارے اوپر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، (مالک و شافعی وعبدالرزاق وطحاوی والحاکم فی المستدرک و بیہقی)
22338 عن عبد الرحمن بن عبد القاري أنه سمع عمر بن الخطاب وهو على المنبر وهو يعلم الناس التشهد يقول : قولوا التحيات لله الزاكيات لله الطيبات الصلوات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ، أشهد أن لا إله إلا الله ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.

(مالك والشافعي عب والطحاوي ك ق).
tahqiq

তাহকীক: