কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৩৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22339 ۔۔۔ عبدالرحمن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس حاضر ہوا چنانچہ آپ (رض) منبر پر کھڑے لوگوں کو تشھد سکھلا رہے تھے اور فرما رہے تھے ۔ بسم اللہ خیر الاسماء التحیات للہ الزاکیات للہ الطیبات الصلوات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ للہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو تمام ناموں سے بہتر ہے تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ تمام اچھے اعمال اللہ ہی کے لیے ہیں اور تمام مالی اور بدنی عبادات بھی اللہ ہی کے لیے ہیں اے نبی تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلامتی ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “۔
22339 عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال : شهدت عمر بن الخطاب وهو على المنبر وهو يعلم الناس التشهد فقال : بسم الله خير الاسماء التحيات لله الزاكيات لله الطيبات الصلوات لله ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لاإله إلا الله وأشهد (1) اخرجه الحاكم في المستدرك كتاب الصلاة (1 / 266) وقال : صحيح.
أن محمدا عبده ورسوله.
(عب ق).
أن محمدا عبده ورسوله.
(عب ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22340 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ نماز تشہد کے بغیر کافی نہیں ہوتی اور جو آدمی تشہد نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی ۔ (عبدالرزاق ، ابن ابی شیبۃ ، مسدد وحاکم ، و بیہقی)
22340 عن عمر قال : لاتجزئ صلاة إلا بتشهد وقال : من لم يتشهد فلا صلاة له.
(عب ش ومسدد ، ك ق).
(عب ش ومسدد ، ك ق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22341 ۔۔۔ عروہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) لوگوں کو تشہد سکھایا کرتے تھے اور آپ (رض) منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے تھے چنانچہ فرمایا : جب تم تشہد پڑھنا چاہو تو یوں پڑھا کرو ۔ بسم اللہ خیر الاسماء التحیات للہ الزاکیات الصلوات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ للہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو خیر الاسماء ہے تمام تر عمدہ تعریفیں بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اے نبی تم پر اللہ تعالیٰ کی سلامتی اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ ہمارے اوپر اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ تبارک وتعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں “۔ س کے بعد سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اپنے آپ سے ابتداء کرو اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام بھیجو۔ (رواہ البیہقی)
22341 عن عروة أن عمر بن الخطاب كان يعلم الناس التشهد في الصلاة وهو يخطب الناس على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فيقول : إذا تشهد أحدكم فليقل : بسم الله خير الاسماء التحيات الزاكيات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله قال عمر : ابدأوا بأنفسكم بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وسلموا على عباد الله الصالحين.
(هق).
(هق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22342 ۔۔۔ عبدالرحمن بن قاری روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو سنا کہ آپ (رض) منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کھڑے ہو کر لوگوں کو تشھد کی تعلیم کر رہے تھے ۔ چنانچہ آپ (رض) فرما رہے تھے کہ جب تم تشھد پڑھنا چاہو تو یوں پڑھا کرو ۔ بسم اللہ خیر الاسماء التحیات للہ الزاکیات الصلوات الطیبات المبارکات للہ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ ‘، السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین السلام علی جبرائیل السلام علی میکائیل السلام علی ملائکۃ اللہ “۔ ے لوگو ! یہ چار کلمات ہیں اے لوگو تشہد سلام سے پہلے ہے اور تم میں سے کوئی آدمی بھی یوں نہ کہا کرے کہ یعنی سلام ہو جبرائیل پر سلام ہو میکائیل پر اور سلام ہو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرشتوں پر چنانچہ جب آدمی کہتا ہے ” السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین “۔ تو گویا اس نے زمین آسمان میں موجود ہر نیک بندے پر سلام بھیج دیا۔ (رواہ بیہقی)
22342 عن عبد الرحمن بن عبد القاري قال : سمعت عمر بن الخطاب يعلم الناس التشهد في الصلاة وهو على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : أيها الناس إذا جلس أحدكم ليسلم من صلاته أو يتشهد في وسطها فليقل : بسم الله خير الاسماء التحيات الصلوات الطيبات المباركات لله أربع أيها الناس
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله التشهد أيها الناس قبل السلام ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ، ولا يقول أحدكم : السلام على جبريل ، السلام على ميكائيل ، السلام على ملائكة الله إذا قال : السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فقد سلم على كل عبد لله صالح في السموات أو في الارض ثم ليسلم (هق).
أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله التشهد أيها الناس قبل السلام ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ، ولا يقول أحدكم : السلام على جبريل ، السلام على ميكائيل ، السلام على ملائكة الله إذا قال : السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين فقد سلم على كل عبد لله صالح في السموات أو في الارض ثم ليسلم (هق).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22343 ۔۔۔ ابو متوکل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے ابو سعید (رض) سے تشھد کے بارے میں سوال کیا تو آپ (رض) نے فرمایا تشھد یہ ہے : لتحیات الصلوات الطیبات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ پھر حضرت ابو سعید (رض) نے فرمایا : ہم بجز قرآن مجید اور تشہد کے اور کچھ نہیں لکھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22343 عن أبي المتوكل قال : سألنا أبا سعيد عن التشهد فقال : التحيات الصلوات الطيبات لله السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ، قال أبو سعيد : كنا لا نكتب شيئا إلا القرآن والتشهد.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
21344 ۔۔۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ مجھے فواتح الکلم خواتم الکلم اور جو ام الکلم عطا کیے گئے ہیں ہم (جماعت صحابہ) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اللہ عزوجل نے آپ کو جو کچھ سکھایا ہے ہمیں بھی سکھا دیجئے ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں تشہد سکھایا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22344 (مسند أبي موسى) قال النبي صلى الله عليه وسلم : أعطيت فواتح الكلم وخواتمه وجوامعه فقلنا : علمنا مما علمك الله ، فعلمنا التشهد (ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22345 ۔۔۔ ابن جریج عطاء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) اور ابن زبیر (رض) کو نماز میں تشہد کے بارے میں فرماتے سنا کہ : لتحیات المبارکات للہ الصلوات الطیبات للہ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ چنانچہ میں نے حضرت ابن زبیر (رض) کو منبر پر سنا کہ آپ (رض) لوگوں کو یہی تشہد کی تعلیم کر رہے تھے اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کو بھی اسی طرح سنا میں نے عرض کیا : کیا حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) اور ابن زبیر نے اختلاف نہیں کیا : جواب دیا نہیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22345 (مسند عبد الله بن الزبير) عن ابن جريج عن عطاء قال : سمعت ابن عباس وابن الزبير يقولان في التشهد في الصلاة : التحيات المباركات لله الصلوات الطيبات لله السلام على النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ، أشهد أن لا إله إلا الله ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ، قل : لقد سمعت ابن الزبير يقولهن على المنبر يعلمهن الناس ، ولقد سمعت ابن عباس يقولهن كذلك قلت فلم يختلف فيها ابن عباس وابو الزبير ؟ قال : لا (عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22346 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں تشہد اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح کہ قرآن مجید کی کوئی سورت ہمیں سکھاتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22346 (مسند ابن عباس) كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22347 ۔۔۔ ابو عالیہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے ایک آدمی کو نماز میں تشہد سے پہلے الحمد للہ کہتے ہوئے سنا تو ابن عباس (رض) نے اسے جھڑکا اور فرمایا تشہد سے ابتداء کیا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22347 عن أبي العالية قال : سمع ابن عباس رجلا حين جلس في الصلاة يقول : الحمد لله قبل التشهد فانتهره يقول : ابتدأ بالتشهد (عب)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22348 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تشھد میں بیٹھتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر رکھتے اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھتے اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ترپن (53) کا ہندسہ بناتے اور پھر دعا مانگتے ۔ (بزار فی مسندہ)
22348 عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا قعد في التشهد وضع يده اليمنى على ركبته اليمنى ، ووضع يده اليسرى على ركبته اليسرى ، وعقد ثلاثا وخمسين ثم يدعو (ز).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22349 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فواتح الکلم جوامع الکلم اور خاتم الکلم سکھائے ہیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں خطبہ صلواۃ خطبہ حاجت اور پھر تشہد سکھایا ہے۔ (عسکری فی الامثال)
22349 عن ابن مسعود قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا فواتح الكلم ، أو جوامع الكلم وفواتحه ، فعلمنا خطبة الصلاة ، وخطبة الحاجة ، ثم ذكر التشهد.
(العسكري في الامثال).
(العسكري في الامثال).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22350 ۔۔۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد سکھایا دراں حالیکہ میرا ہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں پیوست تھا مجھے تشہد اس طرح سکھایا جس طرح کہ قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے وہ یہ ہے۔ لتحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں اور مالی وبدنی عبادات بھی اللہ ہی کے لیے ہیں ، اے نبی تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ہمارے اوپر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوال کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
22350 (أيضا) علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم التشهد كفي بين كفيه كما يعلمني السورة من القرآن : التحيات لله والصلوات الطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22351 ۔۔۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح کہ ہمیں قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے ۔ (ابن ابی شیبہ)
22351 (أيضا) كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22352 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بجز استخارہ کی دعا اور تشہد کی احادیث کے کچھ نہیں لکھتے تھے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22352 (أيضا) ما كنا نكتب في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم من الاحاديث إلا الاستخارة والتشهد.
(ش).
(ش).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22353 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ہم (جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) نہیں جانتے تھے کہ تشہد میں کیا پڑھیں چنانچہ ہم یوں کہا کرتے تھے ” السلام علی اللہ ، السلام علی جبرائیل ، السلام علی میکائل یعنی اللہ پر سلام ہو جبرائیل اور میکائیل پر سلام ہو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سکھایا کہ یوں نہ کہا کرو والسلام علی اللہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی سلام ہے، لہٰذا جب تم دو رکعتوں کے بعد بیٹھا کرو تو کہو : لتحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین “۔ جب تم یہ کہہ لو گے تو یہ ہر نیک صالح بندے خواہ وہ آسمان میں ہو یا زمین میں اسے سلام پہنچ جائے گا ۔ یک روایت میں ہے کہ جب تم یہ کہہ لو گے تو ہر مقرب فرشتے ہر پیغمبر اور ہر صالح بندے کو پہنچ جائے گا ۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ (رواہ عبدلرزاق)
22353 (أيضا) كنا لا ندري ما نقول في الصلاة ، فكنا نقول : السلام على الله ، السلام على جبريل ، السلام على ميكائيل ، فعلمنا النبي صلى الله عليه وسلم فقال : لا تقولوا : السلام على الله ، إن الله هو السلام ، فإذا جلستم في الركعتين ، فقولوا : التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين إذا قلتها أصابت كل عبد صالح في الارض والسماء.
وفي لفظ : إذا قلتها أصابت كل ملك مقرب ، أو نبي مرسل أو عبد صالح ، أشهد أن لا إله الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
(عب).
وفي لفظ : إذا قلتها أصابت كل ملك مقرب ، أو نبي مرسل أو عبد صالح ، أشهد أن لا إله الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22354 ۔۔۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جوامع الخیر اور فواتح الخیر سکھائے ہیں ہم نہیں جانتے تھے کہ ہم تشہد میں کیا کہا کریں چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں سکھایا کہ یوں کہو : لتحیات للہ والصلوات والطیبات السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ واضح رہے کہ مذکورہ بالا روایت میں دو طرح کا تشہد روایت کیا گیا ہے چنانچہ اوپر کی دو روایتوں میں جو تشہد ذکر ہوا ہے یہی امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک راجح جب کہ ماقبل میں جو ذکر ہوا ہے اسے امام شافعی (رح) نے اپنا ہے تاہم چند وجوہ ترجیح کی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) نے اس تشہد کو راجح قرار دیا ہے تفصیل کے لیے کتب فقہ ہدایہ ، بدائع الصنائع اور بحر الرائق وغیرھا کو دیکھ لیا جائے ۔
22354 (أيضا) أن رسول الله صلى الله عليه وسلم علم فواتح الخير وجوامعه أو جوامع الخير وخواتمه ، وإنا كنا لا ندري ما نقول في صلاتنا حتى علمنا قال : قولوا : التحيات لله والصلوات والطيبات السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين ، أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22355 ۔۔۔ اسود کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) ہمیں اس طرح تشہد تعلیم کرتے تھے جس طرح کہ قرآن مجید کی کوئی سورت اور ہمیں الف اور واؤ کے ساتھ پڑھنے کی تلقین کرے تھے ۔ رواہ ابن نجار ۔
22355 عن الاسود قال : كان عبد الله يعلمنا التشهد كما يعلمنا السورة من القرآن ، فيأخذ علينا فيه الالف والواو.
(ابن النجار).
(ابن النجار).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22356 ۔۔۔ ابن جریج (رح) کہتے ہیں کہ ہمیں عطاء (رح) نے خبر دی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دنیا میں موجود ہوتے ہوئے یوں سلام بھیجتے تھے ” السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے رخصت ہوگئے تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یوں کہنے لگے ” السلام علی النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشہد سکھا رہے تھے ایک آدمی کہنے لگا ” واشھد ان محمدارسولہ وعبدہ “۔ (یعنی اس نے رسول کو عبد پر مقدم کرکے کہا) اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں رسول ہونے سے پہلے عبد (بندہ) تھا لہٰذا یوں کہا کرو ” واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ بعض لوگوں نے تشہد سے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حاضر وناظر ہونے پر استدلال کیا ہے لیکن یہ استدلال بےمعنی اور لغو ہے چونکہ حدیث بالا اور ماقبل کی تمام روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین یوں ہی تشہد پڑھتے رہے ہیں فی الواقع تشہد کے کلمات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دوران معراج عرش معلی پر اللہ رب العزت نے تحفہ وہدیہ پیش کیے تھے پھر یہی کلمات تشہد میں پڑھنے کا حکم ہوا لہٰذا اب جو کہا جاتا ہے کہ ’ السلام علیک ایھا النبی و رحمۃ اللہ وبرکاتہ “۔ یعنی صیغہ خطاب کے ساتھ یہ حکایۃ کہا جاتا ہے یا یہ مقام مشاہدہ ہے یہاں غیبوبت کو خطاب کے بمنزلہ اتار کر اس پر حکم لگایا جاتا ہے ، اس کا حاضر وناظر سے دور کا تعلق بھی نہیں ۔
22356 عن ابن جريرج قال : أخبرني عطاء أن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم كانوا يسلمون والنبي صلى الله عليه وسلم حي ، السلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته ، فلما مات قالوا : السلام على النبي ورحمة الله وبركاته قال عطاء : وبينا النبي صلى الله عليه وسلم يعلم التشهد ، فقال رجل : وأشهد أن محمدا رسوله وعبده فقال النبي صلى الله عليه وسلم : قد كنت عبدا قبل أن أكون رسولا ، قل وأشهد أن محمدا عبده ورسوله.
(عب).
(عب).
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22357 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) جب تشہد پڑھتے تو کہتے بسم اللہ وباللہ “۔ (بیہقی فی سن الکبری)
22357 عن علي أنه كان إذا تشهد قال : بسم الله وبالله.
(هق)
(هق)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد اور اس کے متعلقات کے بیان میں :
22358 ۔۔۔ بہزی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت حسین (رض) سے حضرت علی (رض) کے تشہد کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کا تشہد دراصل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تشہد ہی ہے وہ یہ ہے ۔” التحیات للہ والصلوات والغادیات والرائحات والزاکیات والناعمات المتابعات الطاھرت للہ “۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں اور تمام بدنی ومالی عبادتیں صبح کی اور شام کی عمدہ اور پاکیزہ اور لگاتار عبادتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔
22358 (أيضا) عن البهزي قال : سألت الحسين بن علي عن تشهد علي فقال : هو تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : التحيات لله والصلوات والغاديات والرائحات والزاكيات والناعمات المتتابعات الطاهرات لله.
(طس)
(طس)
তাহকীক: