কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৩৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنے کے بیان میں :
22379 ۔۔۔ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر اور عمر (رض) ایک ہی مرتبہ سلام پھیرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ )
22379- عن الحسن البصري قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر يسلمون تسليمة واحدة". "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنے کے بیان میں :
22380 ۔۔۔ روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) دائیں اور بائیں جانب سلام پھیرتے ہوئے ” السلام علیکم اور السلام علیکم کہتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، بیہقی)
22380- عن علي أنه كان يسلم عن يمينه وعن يساره السلام عليكم السلام عليكم. "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنے کے بیان میں :
22381 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف ایک سلام پھیرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22381- "مسند أنس رضي الله عنه" أن النبي صلى الله عليه وسلم سلم تسليمة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنے کے بیان میں :
22382 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں جانب اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے ۔ (اسماعیل فی معجمہ)
22382- عن علي رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يسلم عن يمينه وعن يساره. "الإسماعيلي في معجمه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں سلام پھیرنے کے بیان میں :
22383 ۔۔۔ اوس بن اوس ثقفی کی روایت ہے کہ ہم قبیلہ بنو ثقیف کے وفد میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس نصف مہینہ قیام کیا میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بخوبی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دائیں جانب اور بائیں جانب سلام پھیرتے تھے ۔ (ابوداؤد ، طیالسی ، طحاوی و طبرانی) فائدہ :۔۔۔ اس باب میں دو طرح کی احادیث روایت گئی ہیں چنانچہ بعض احادیث سے معلوم ہوتا کہ نماز میں صرف ایک ہی موتبہ سلام پھیرنا ہے اور اسی کو امام مالک (رح) نے اختیار کیا ہے جب کہ دوسری بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں دو یعنی دائیں اور بائیں سلام پھیرنے ہیں اسی مذہب کو امام ابوحنیفہ (رح) ، شافعی (رح) اور احمد بن حنبل (رح) نے اختیار کیا ہے چنانچہ دونوں جانب ، دو مرتبہ سلام پھیرنے کا عمل ہی آخری اور متفق علیہ اور مجمع علیہ ہے رہیں وہ احادیث جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں صرف ایک ہی سلام ہے اس کی تاویل علماء نے یوں کی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سلام بلند آواز سے پھیرتے تھے اور دوسرا سلام آہستہ پھیرتے تھے ۔ (واللہ اعلم)
22383- عن أوس بن أوس الثقفي قال: "قدمنا على النبي صلى الله عليه وسلم في وفد ثقيف فأقمنا عنده نصف شهر فرأيته يصلي ويسلم عن يمينه وعن شماله. "ط والطحاوي طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22384 ۔۔۔ عوف بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رات کو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے مسواک کیا پھر وضو کیا اور پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہوگیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت بقرہ شروع کی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بھی آیت رحمت پڑھتے ٹھہر جاتے اور دعا کرتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو بھی آیت عذاب پڑھتے تو اس پر ٹھہر جاتے اور عذاب سے پناہ مانگتے پھر قیام کے بقدر رکوع کرتے اور رکوع میں یہ تسبیح پڑھتے ۔ ” سبحان ذی الجبروت والملکوت والکبریاء والعظمۃ “۔ پاک ہے اللہ تعالیٰ قدرت اور بادشاہت والا بڑائی اور عظمت والا ۔ پھر سورت ” آل عمران “ پڑھی اور اس کے بعد اسی طرح ایک ایک سورت پڑھتے رہے۔ (ابن عساکر ، نسائی وابوداؤد)
22384- عن عوف بن مالك قال: "قمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة، فبدأ فاستاك، ثم توضأ، ثم قام فصلى، فقمت معه فبدأ فاستفتح من "البقرة" لا يمر بآية رحمة إلا وقف فسأل، ولا يمر بآية عذاب إلا وقف فتعوذ، ثم ركع فمكث راكعا بقدر قيامه يقول في ركوعه: سبحان ذي الجبروت والملكوت والكبرياء والعظمة، ثم قرأ "آل عمران" ثم سورة سورة يفعل مثل ذلك. "كر، ن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22385 ۔۔۔ حضرت وائل بن حجر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا تاکہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا مشاہدہ کرسکوں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انگوٹھوں کو کانوں کے برابر دیکھا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کرنا چاہا تو رفع یدین کیا پھر رکوع کیا اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا اور سجدہ کیا میں نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان یکساں رکھا ہوا ہے جس طرح کہ نماز کے شروع میں رفع یدین کرتے ہوئے ہاتھوں کو کانوں تک لے گئے تھے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دایاں پاؤں کھڑا کیا اور بائیں پاؤں کو پھیلا کر اس پر بیٹھ گئے (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22385- "مسند وائل بن حجر" قدمت المدينة فقلت: "لأنظرن إلى صلاة النبي صلى الله عليه وسلم، فكبر ورفع يديه حتى رأيت إبهاميه قريبا من أذنيه فلما أراد أن يركع رفع يديه، ثم ركع فوضع يديه على ركبتيه، فسجد فرأيت رأسه بين يديه على مثل مقداره حيث استفتح وجلس، فثنى اليسرى ونصب اليمنى". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22386 ۔۔۔ اسی طرح حضرت وائل بن حجر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں تکبیر کہتے ہوئے رفع یدین کیا پھر رکوع کرتے وقت بھی رفع یدین کیا پھر ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ کہا اور رفع یدین کیا پھر بایاں پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے اور دایاں ہاتھ گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھ لیا پھر شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور درمیان کی بڑی انگلی پر انگوٹھا رکھ کر حلقہ بنا لیا اور باقی انگلیوں کو ہتھیلی میں پکڑ لیا پھر سجدہ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ کانوں کے برابر تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22386- "أيضا" رمقت النبي صلى الله عليه وسلم فرفع يديه في الصلاة حين كبر، ثم حين ركع رفع يديه، ثم إذا قال: "سمع الله لمن حمده رفع يديه، ثم جلس فافترش رجله اليسرى، ثم وضع يده اليسرى على ركبته اليسرى ووضع ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى، ثم أشار بسبابته، ووضع الإبهام على الوسطى حلق بها، وقبض سائر أصابعه ثم سجد فكانت يداه حذو أذنيه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22387 ۔۔۔ حضرت وائل بن حجر (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی تاکہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو دیکھ کر یاد رکھ سکوں ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز شروع کی تو تکبیر کے بعد ہاتھ اٹھائے حتی کہ ہاتھوں کو کانوں کے برابر تک لے گئے پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا اور جب رکوع کیا تو شروع نماز کی طرح پھر رفع یدین کیا اور رکوع میں ہاتھوں سے گھٹنوں کو پکڑ لیا جب رکوع سے سر اٹھایا تو ایک بار پھر رفع یدین کیا جب تشہد کے لیے بیٹھے توبائیں پاؤں کو زمین پر پھیلایا اور اس پر بیٹھ گئے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھا اور دائیں کہنی کو دائین ران پر رکھا اور پھر انگلیوں کو بند کرکے انگوٹھے اور درمیان کی بڑی انگلی سے حلقہ بنا لیا پھر دوسرے ہاتھ سے دعا مانگنے لگے ۔
22387- عن وائل بن حجر قال: "صليت خلف النبي صلى الله عليه وسلم فقلت: لأحفظن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما افتتح الصلاة كبر ورفع يديه حتى دنتا من أذنيه، ثم أخذ شماله بيمينه، فلما كبر للركوع رفع يديه أيضا كما رفعهما لتكبير الصلاة، فلما ركع وضع كفيه على ركبتيه، فلما رفع رأسه من الركوع رفع يديه أيضا، فلما قعد يتشهد فرش قدمه اليسرى الأرض وجلس عليها، ووضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى ووضع مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى وعقد أصابعه وجعل حلقة بالإبهام والوسطى، ثم جعل يدعو بالأخرى". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22388 ۔۔۔ حضرت وائل بن حجر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے دیکھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز شروع کی اور ہاتھوں کو کاندھوں کے برابر تک اٹھایا رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد بھی رفع یدین کیا جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیٹھے تو بایاں پاؤں پھیلا کر اس پر بیٹھے اور دائیں پاؤں کو کھڑا کرلیا ، پھر دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر اور بائیں ہاتھ کو بائیں ران پر رکھ لیا اور دو انگلیوں کو ہتھیلی میں پکڑا اور تیسری انگلی سے حلقہ بنا لیا حضرت وائل بن حجر (رض) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے پاس تشریف لائے تھے انھوں نی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو دیکھا کہ وہ چادروں سے ہاتھ نکال کر رفع یدین کرتے تھے۔ (ضیاء المقدسی)
22388- عن وائل قال: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم افتتح الصلاة فرفع يديه حذو منكبيه وحين ركع وحين رفع رأسه من الركوع، ورأيته حين جلس فأضجع اليسرى فجلس عليها، ونصب اليمنى، ووضع يده على فخذه اليمنى، ويده اليسرى على فخذه اليسرى، وقبض اثنتين وحلق حلقة في الثالثة" قال: "فقدم عليهم فرآهم يرفعون أيديهم في البرانس". "ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22389 ۔۔۔ عبدالرحمن بن غنم کی روایت ہے کہ ابو مالک اشعری (رض) نے اپنی قوم سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ تاکہ میں تمہیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز پڑھاؤں پس ہم نے ابو مالک (رض) کے پیچھے صفیں درست کیں پھر انھوں نے تکبیر کہہ کر سورت فاتحہ پڑھی اور اتنی اونچی آواز سے پڑھی کہ ان کے پاس کھڑا آدمی سن سکے پھر تکبیر کہہ کر رکوع کیا اور تکبیر ہی کہہ کر رکوع سے سر اٹھایا اور پھر اپنی پوری نماز میں اسی طرح کیا ۔ (رواہ عبدالرزاق، عقیلی فی الضعفاء)
22389- عن عبد الرحمن بن غنم أن أبا مالك الأشعري قال لقومه: "قواموا حتى أصلي بكم صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فصففنا خلفه، وكبر ثم قرأ بفاتحة الكتاب، فسمع من يليه، ثم كبر فركع، ثم رفع رأسه فكبر، فصنع ذلك في صلاته كلها". "عب عق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22390 ۔۔۔ سالم بوار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت ابو مسعود انصاری (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا کہ ہمیں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز دکھا دیں چنانچہ ابو مسعود (رض) نے تکبیر کہی پھر رکوع کیا اور ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا پھر جب سجدہ کیا تو کہنیوں کو پہلوؤں سے دور رکھا اور ہاتھوں کو سر کے قریب رکھا اور پھر کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی طرح نماز پڑھائی (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22390- عن سالم البوار قال: "أتينا أبا مسعود الأنصاري فقلنا: أرنا صلاة النبي صلى الله عليه وسلم فكبر، ثم ركع فوضع يديه على ركبتيه فلما سجد جافى بمرفقيه ووضع كفيه قريبا من رأسه" ثم قال: "هكذا صلى بنا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22391 ۔۔۔ سالم بوار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت مسعود انصاری (رض) کی خدمت میں ان کے گھر میں حاضر ہوئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کے متعلق بتائیے چنانچہ آپ (رض) کھڑے ہوگئے اور ہمارے سامنے نماز پڑھنے لگے جب انھوں نے رکوع کیا تو ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا اور انگلیوں کو گھٹنوں سے نیچے کرلیا اور کہنیوں کو پہلو سے دور رکھا حتی کہ جس کے ہر عضو کو (کمر بازو اور ٹانگوں کو) بالکل سیدھا رکھا پھر سر اوپر اٹھایا اور ” سمع اللہ لمن حمدہ “ کہا اور بالکل سیدھے کھڑے ہوگئے پھر انھوں نے اسی طرح عمدگی سے سجدہ کیا اور یوں دو رکعتیں پڑھیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22391- عن سالم البوار قال: "أتينا أبا مسعود الأنصاري في بيته فقلنا له: حدثنا عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام يصلي بين أيدينا، فلما ركع وضع كفيه على ركبتيه، وجعل أصابعه أسفل من ذلك، وجافى مرفقيه حتى استوى كل شيء منه، ثم رفع رأسه،" ثم قال: "سمع الله لمن حمده، فقام حتى استوى كل شيء منه، ثم سجد ففعل مثل ذلك فصلى ركعتين، فلما قضاهما" قال: "هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22392 ۔۔۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) کی روایت ہے کہ جنگ جمل کے موقع پر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے ہمیں نماز پڑھائی جس سے ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یاد تازہ ہوگئی سو یا تو ہم اسے (نماز کو) بھول چکے ہیں یا ہم نے جان بوجھ کر اسے چھوڑ دیا ہے چنانچہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے اوپر نیچے اور اٹھتے بیٹھتے تکبیرکہی اور پھر دائیں اور بائیں سلام پھیرا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے چونکہ اس میں آخری جملہ زائد ہے جو قابل غور ہے۔ (ابن ماجہ ، 192)
22392- "مسند أبي موسى" صلى بنا علي يوم الجمل صلاة ذكرنا بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فأما أن يكون نسيناها أو تركناها عمدا، فكبر في خفض ورفع وقيام وقعود، ويسلم عن يمينه ويساره. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22393 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) عنہاـ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تکبیر سے اور قرات ” الحمد للہ رب العالمین “۔ سے شروع کرتے اور جب رکوع کرتے تو اپنا سر مبارک نہ تو (بہت زیادہ) بلند کرتے تھے اور نہ (بہت زیادہ) پست بلکہ درمیان درمیان میں رکھتے تھے (یعنی پیٹ اور گردن برابر رکھتے تھے) اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بغیر سیدھا کھڑے ہوئے سجدہ میں نہ جاتے تھے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو بغیر سیدھابیٹھے ہوئے دوسرے سجدہ میں نہ جاتے تھے اور ہر دو رکعتوں کے بعد التحیات پڑھتے تھے (اور (بیٹھنے کے لئے) اپنا بایاں پیر بچھاتے اور دایاں پیر کھڑا رکھتے تھے اور آپ شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے تھے اور مرد کو دونوں ہاتھ سجدہ میں اس طرح بچھانے سے منع کرتے تھے جس طرح درندے بچھا لیتے ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کو سلام پر ختم کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ ، ومسلم وابوداؤد)
22393- عن عائشة كان النبي صلى الله عليه وسلم يفتتح الصلاة بالتكبير والقراءة بالحمد لله رب العالمين، وكان إذا ركع لم يشخص رأسه ولم يصوبه ولكن بين ذلك، وكان إذا رفع رأسه من الركوع لم يسجد حتى يستوي قائما وكان إذا رفع رأسه من السجدة لم يسجد حتى يستوي جالسا، وكان يقول في كل ركعتين: التحية، وكان يفترش رجله اليسرى وينصب رجله اليمنى، وكان ينهي عن عقبة الشيطان، وينهى أن يفترش الرجل ذراعيه افتراش السبع، وكان يختم الصلاة بالتسليم. "عب ش م د".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22394 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! چند کلمات کے بارے میں آپ سے سوال کرنا چاہتا ہوں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ بیٹھ جاؤ(تھوڑی دیر کے بعد) قبیلہ بنی ثقیف کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! چند کلمات کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انصاری تم پر سبقت لے گیا ہے انصاری بولا : یہ آدمی غریب الوطن ہے اور بلاشبہ غریب الوطن کا احترام کرنا ہمارا حق ہے لہٰذا اسی سے ابتدا کیجئے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثقفی کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر تم چاہو تو میں خود ہی تمہیں بتلا دوں کہ تم کسی چیز کے متعلق دریافت کرنا چاہتے ہو ۔ اگر چاہو تو مجھ سے سوال کرو اور میں تمہیں جواب دوں گا ؟ ثقفی نے کہا یا رسول اللہ ! بلکہ آپ خود ہی میرے سوال کے متعلق مجھے آگاہ کر دیجئے ، ارشاد فرمایا : تم اس لیے آئے ہو تاکہ رکوع سجدہ ، نماز اور روزے کے متعلق سوال کرو ثقفی بولا : بخدا آپ نے میرے دل کی بات سے آگاہ کرنے میں ذرہ بربر بھی خطا نہیں کی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم رکوع کیا کرو تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھا کرو اور اپنی انگلیوں کو کھول کر رکھا کرو اطمینان سے رکوع کرو حتی کہ ہر عضو اپنے جوڑ میں پیوست ہوجائے اور جب سجدہ کرو تو پیشانی کو اچھی طرح سے زمین ٹکاؤ اور کوے کی طرح ٹھونکیں مت مارو نیزدن کے اول اور آخری حصہ میں نماز پڑھا کرو عرض کیا یا نبی اللہ ! اگر میں درمیان دن میں نماز پڑھوں ؟ فرمایا : تب تو تم پکے نماز ہوئے اور ہر مہینے کی تیرہ چودہ اور پندرہ تاریخوں کا روزہ رکھا کرو ثقفی اپنے سوالات کے جوابات سن کر کھڑا ہوگیا اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصاری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اگر تم چاہو تو میں خود تمہیں تمہارے سوالات سے آگاہ کر دو یا چاہو تو مجھ سے سوالات کرو اور میں جواب دوں ؟ عرض کی یارسول اللہ ! بلکہ آپ خود ہی مجھے آگاہ کردیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اس لیے آئے ہو تاکہ حاجی کے بارے میں سوال کرو کہ جب کوئی حج کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟ عرفات میں قیام ، رمی ، جمار ، سر منڈوانے اور بیت اللہ کے آخری طواف کرنے کا کیا حکم ہے ؟ انصاری نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! بخدا آپ نے میرے دل کی بات بتانے میں ذرہ بھی خطا نہیں کی ۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو آدمی حج کی غرض سے اپنے گھر سے نکلتا ہے اس کی سواری جو قدم بھی اٹھاتی ہے اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایک نیکی اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیتے ہیں اور اس کا ایک گناہ معاف کردیتے ہیں جب میدان عرفات میں حاجی قیام کرتے ہیں تو اللہ عزوجل آسمان دنیا پر جلوہ افروز ہوتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ میرے بندوں کو دیکھو (میرے لیے کیسے) پراگندہ حال اور غبار آلود ہیں (اے فرشتوں) گواہ رہو میں نے ان کے گناہ معاف کردیئے گو کہ ان کے گناہ آسمان سے برسنے والی بارش اور ریت کے ذروں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں ، حاجی جب رمی جمار (شیطان کو کنکریاں مارتا ہے) کرتا ہے تو کسی کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے لیے کتنی نیکیاں ہیں حتی کہ اللہ تعالیٰ اسے وفات دے دیتے ہیں اور جب آخری طواف کرتا ہے تو گناہوں سے ایسا پاک صاف ہوتا ہے جیسا کہ اس کی ماں نے اس گناہوں سے پاک جنم دیا تھا ۔ (بزار ، ابن حبان و طبرانی)
22394- عن ابن عمر قال: "جاء رجل من الأنصار إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله كلمات أسأل عنهن،" فقال: "اجلس"، وجاء رجل من ثقيف" فقال: "يا رسول الله كلمات أسأل عنهن،" فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "سبق الأنصاري،" فقال الأنصاري: "إنه رجل غريب، وإن للغريب حقا فابدأ به، فأقبل على الثقفي" فقال: "إن شئت أنبأتك عما كنت شئت تسألني عنه، وإن شئت تسألني وأخبرك؟ " فقال: يا رسول الله بل أنبئني بما كنت أسألك، قال: "جئت تسألني عن الركوع والسجود والصلاة والصوم" فقال: "لا والذي بعثك بالحق ما أخطأت مما كان في نفسي،" قال: "فإذا ركعت فضع راحتيك على ركبتيك، ثم فرج أصابعك، ثم اسكن حتى يأخذ كل عضو مأخذه، وإذا سجدت فمكن جبهتك ولا تنقر نقرا، وصل أول النهار وآخره،" فقال: "يا نبي الله، فإن أنا صليت بينهما" قال: "فأنت إذا مصل، وصم من كل شهر ثلاث عشرة وأربع عشرة وخمس عشرة"، فقام الثقفي، ثم أقبل على الأنصاري فقال: "إن شئت أخبرتك عما جئت تسألني، وإن شئت تسألني وأخبرك؟ " فقال: لا يا نبي الله أخبرني بما جئت أسألك" قال: "جئت تسألني عن الحاج ماله حين يخرج من بيته، وماله حين يقوم بعرفات، وماله حين يرمي الجمار، وماله حين يحلق رأسه، وماله حين يقضي آخر طواف البيت،" فقال: يا نبي الله والذي بعثك بالحق ما أخطأت مما كان في نفسي شيئا،" قال: "فإن له حين يخرج من بيته أن راحلته لا تخطو خطوة إلا كتب الله له بها حسنة، وحط عنه بها خطيئة، فإذا وقف بعرفة فإن الله ينزل إلى السماء الدنيا فيقول: انظروا إلى عبادي شعثا غبرا اشهدوا أني غفرت لهم ذنوبهم وإن كانت مثل عدد قطر السماء ورمل عالج، وإذا رمى الجمار لا يدري أحد ما له حتى يتوفاه الله يوم القيامة، وإذا قضى آخر طواف بالبيت خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه". "البزار حب طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22395 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ تکبیر نماز کی کنجی ہے اور سلام نماز میں ممنوع چیزوں کو حلال کردیتا ہے (رواہ ابن جریر)
22395- عن ابن مسعود قال: "مفتاح الصلاة التكبير، وانقضاؤها التسليم، وفي لفظ: وتحليلها التسليم". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22396 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ پہلی تکبیر نماز کی حد ہے۔ (رواہ ابن جبیر)
22396- عن ابن مسعود قال: "حد الصلاة التكبير الأول". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل ۔۔۔ ارکان صلوۃ کے بیان میں :
22397 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ اپنے شاگردوں کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا طریقہ بتایا چنانچہ حضرت انس بن مالک (رض) کھڑے ہوئے اور نماز پڑھنے لگے پھر رکوع کیا اور سر کونہ زیادہ بلند کیا اور نہ ہی زیادہ نیچے جھکایا بلکہ درمیان میں رکھا پھر اطمینان سے سیدھے کھڑے ہوئے حتی کہ ہم سمجھے کہ آپ (رض) کہیں بھول نہ گئے ہوں پھر اطمینان سے سجدہ کیا اور تسلی سے بیٹھ گئے حتی کہ ہم سمجھے کہ کہیں بھول نہ گئے ہوں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22397- "مسند أنس" وصف لنا أنس صلاة النبي صلى الله عليه وسلم قام يصلي فركع فرفع رأسه من الركوع فاستوى قائما حتى رأى بعضنا أنه قد نسي، ثم سجد فاستوى قاعدا حتى رأى بعضنا أنه قد نسي. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৩৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ معذور کی نماز کے بیان میں :
22398 ۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک دنیا سے رخصت نہیں ہوئے جب تک کہ بیٹھ کر نماز نہیں پڑھ لی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ اس حدیث کے مضمون کا ماحصل یہ ہے کہ جو آدمی کھڑے ہو کر نماز کی طاقت نہ رکھتا ہو یعنی قیام سے عاجز ہو تو وہ بیٹھ کر نماز پڑھ لے چونکہ آخری ایام میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز ادا کی تھی کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہونے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔
22398- "مسند جابر بن سمرة رضي الله عنه" ما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى صلى قاعدا. "ش".
tahqiq

তাহকীক: