কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৪১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22419 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منادی کو پکارتے ہوئے سنا ہے کہ نشے میں دھت آدمی ہرگز نماز کے قریب بھی مت جائے ۔ (رواہ ابن جریر)
22419- عن عمر قال: "سمعت منادي النبي صلى الله عليه وسلم ينادي: لا يقربن الصلاة سكران". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22420 ۔۔۔ شیبہ بن مساور ، حکم بن مرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے ایک آدمی کو بری طرح سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ (رض) چل کر اس کے پاس گئے اور کہا نماز دوبارہ پڑھو (وہ آدمی بولا میں نماز پڑھ چکا ہوں فرمایا : نماز پڑھو اس نے پھر کہا : میں تو نماز پڑھ چکا ہوں ، چنانچہ آپ (رض) نے بارہا اسے نماز لوٹانے کا کہا اور فرمایا : بخدا تم ضرور نماز دوبارہ پڑھو اور کھلم کھلے اللہ تبارک وتعالیٰ کی نافرمانی مت کرو ۔ (رواہ ابو نعیم)
22420- "مسند الحكم بن مرة" عن شيبة بن مساور عن الحكم ابن مرة صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه رأى رجلا يصلي فأساء الصلاة، فانفتل فقال له: "صل،" فقال: "قد صليت،" قال: "صل،" قال: "قد صليت فأعاد عليه مرارا" فقال: "والله لتصلين والله لا تعصي الله جهارا". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22421 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نماز میں پھونک مارنا کلام کرنے کے مترادف ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22421- عن ابن عباس قال: "النفخ في الصلاة بمنزلة الكلام". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22422 ۔۔۔ زہد بن سلم روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نماز میں چھینک ماری اس کے پہلو میں ایک اعرابی (دیہاتی) کھڑا تھا کہنے لگا : ” رحمک اللہ “۔ (اللہ تجھ پر رحم کرے) اعرابی کہتا ہے لوگوں نے مجھے گھورنا شروع کردیا : میں نے کہا تعجب ہے یہ لوگ مجھے کیوں گھور رہے ہیں ؟ اس پر انھوں نے اپنی ہتھیلیاں رانوں پر ماریں چنانچہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز مکمل کی تو مجھے اپنے پاس بلایا : میرے ماں اور باپ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر قربان جائیں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہتر معلم کوئی نہیں دیکھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے جھڑکا اور نہ ہی مجھے برا بھلا کہا بلکہ ارشاد فرمایا : نماز میں کلام کرنا مناسب نہیں چونکہ نماز تو تسبیح ، تکبیر ، تہلیل اور قرات قرآن کا نام ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22422- عن زيد بن أسلم قال: "عطس رجل في الصلاة فقال له أعرابي إلى جنبه: رحمك الله،" قال الأعرابي: "فنظر إلي القوم،" فقلت: "واثكلاه" مالهم ينظرون إلي؟ فضربوا بأكفهم على أفخاذهم، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته، دعاني فقال الأعرابي: "بأبي هو وأمي ما رأيت معلما قط خيرا منه ما كهرني ولا شتمني فقال: "إن الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس، إنما هو تسبيح وتكبير وتهليل وقراءة القرآن."عب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22423 ۔۔۔ ابن جریج روایت کرتے ہیں کہ عطا (رح) کہتے ہیں : مسلمان شروع شروع میں نماز میں باتیں کرتے تھے جس طرح کہ یہود و نصاری نماز میں باتیں کرتے ہیں۔ حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی تو کلام ختم کردیا (آیت)” واذا قری القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا “۔ اور جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہو تو اسے خاموشی سے سنا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق، سعید بن منصور)
22423- عن ابن جريج عن عطاء قال: "بلغني أن المسلمين كانوا يتكلمون في الصلاة كما تتكلم اليهود والنصارى حتى نزلت: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا} ". "عب ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22424 ۔۔۔ ھشیم ، منصور ، ابن سیر بن خالد حفصہ کے سلسلہ سند سے ابو علاء (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک سامنے سے ایک نابینا آدمی آیا اور ایک کنویں کے اوپر سے گذرا جس پر کھجور کی ٹہنیاں وغیرہ پڑی ہوئی تھیں چنانچہ وہ آدمی کنویں میں گرپڑا اور اسے دیکھ کر بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہنس پڑے جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تم میں سے جو آدمی بھی ہنسا ہے وہ نماز بھی لوٹائے اور وضو بھی دوبارہ کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22424- حدثنا هشيم أنبأنا منصور عن ابن سيرين وأنبأنا خالد عن حفصة عن أبي العلاء قال: "بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي إذ أقبل رجل في بصره سوء فمر على بئر عليها خصفة فوقع في البئر فضحك بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته" قال: "من كان منكم ضحك فليعد الوضوء وليعد الصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22425 ۔۔۔ زہری (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے کپڑوں پر خون کا اثر دیکھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے واپس لوٹ گئے ۔ (ضیاء المقدسی)
22425- عن الزهري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى في ثوبه دما فانصرف من الصلاة. "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مفسدات متفرقہ :
22426 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز پڑھا رہے تھے کہ اچانک نماز سے واپس لوٹ گئے ۔ پھر جب تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! میں تمہارے ساتھ نماز میں کھڑا ہوچکا تھا اور پھر مجھے یاد آیا کہ میں حالت جنابت میں ہوں اور غسل نہیں کیا ہے۔ چنانچہ میں نماز سے واپس لوٹ گیا اور غسل کیا لہٰذا تم میں سے جس کو بھی یہ عارضہ پیش آجائے وہ غسل کرے اور پھر از سر نو نماز پڑھے ۔ (طبرانی فی الاوسط)
22426- عن علي قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قائما يصلي بهم، إذ انصرف ، ثم جاء ورأسه يقطر ماء ، فقال : إني قمت بكم ، ثم ذكرت أني كنت جنبا ولم أغتسل فاغتسلت فمن أصابه منكم مثل هذا الذي أصابني فليغتسل ، ثم ليأت فليستقبل صلاته.
(طس)
(طس)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مفسدات :
22427 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے نماز پڑھ لی اور بعد میں اس نے اپنے کپڑوں پر خون دیکھا یا احتلام کا اثر پایا تو اسے نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22427- عن ابن عباس قال: "من صلى وفي ثوبه دم أو احتلام علم به بعد فلا يعيد الصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مفسدات :
22428 ۔۔۔ عاصم بن ضمرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے لوگوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی پھر آپ (رض) نے ابن نباح کو حکم دیا کہ اعلان کرو کہ جس نے بھی امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی ہے وہ نماز کا اعادہ کرلے چونکہ انھوں نے بحالت جنابت نماز پڑھا دی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، بیہقی)
22428- عن عاصم بن ضمرة عن علي أنه صلى بالناس جنبا، ثم أمر ابن النباح فنادى من كان صلى مع علي أمير المؤمنين الصبح فليعد الصلاة فإنه صلى بالناس وهو جنب. "عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذیل مفسدات :
22429 ۔۔۔ قاسم بن ابوامامہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے لوگوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی چنانچہ انھوں نے تو نماز کا اعادہ کرلیا لیکن لوگوں نے نماز نہیں لوٹائی اس پر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : مناسب یہ تھا کہ آپ کے ساتھ جن لوگوں نے بھی نماز پڑھی ہے وہ بھی لوٹاتے چنانچہ لوگوں نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے فتوی پر عمل کیا قاسم کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے قول کی طرح ابن مسعود (رض) کا قول بھی ہے (عبدالرازق بیھقی)
22429- عن القاسم بن أبي أمامة قال: "صلى عمر بالناس وهو جنب، فأعاد ولم يعد الناس،" فقال له علي: "قد كان ينبغي لمن صلى معك أن يعيدوا فرجعوا إلى قول علي قال القاسم وقال ابن مسعود مثل قول علي". "عب ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22430 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ نماز میں اقعاء (کتے کی طرح بیٹھنا) شیطان کے بیٹھنے کا طریقہ ہے (رواہ عبدالرزاق)
22430- عن علي الإقعاء عقبة الشيطان. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22431 ۔۔۔”۔ مسند خالد بن ولید “ ابو عبداللہ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا اور وہ پوری طرح نہ رکوع کرتا تھا اور سجدے میں بھی کوے کی سی ٹھونکیں مار رہا تھا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کو اطمینان سے رکوع کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : اگر یہ آدمی اسی حالت پر مرگیا تو اس کی موت ملت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نہیں ہوگی پھر رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو آدمی اہتمام کے ساتھ رکوع نہیں کرتا اور سجدہ میں بھی کوے کی سی ٹھونکیں مار لیتا ہے اس کی مثال بھوکے کی سی ہے جو ایک یا دو کھجوریں کھا لیتا ہے جو اسے بھوک سے بےنیاز نہیں کرتیں ابو عبداللہ سے کہا گیا کہ تمہیں یہ حدیث رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کس نے سنائی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ : مجھے یہ حدیث لشکروں کے سپہ سالاروں نے سنائی ہے جن میں حضرت خالد بن ولید (رض) عمرو بن العاص (رض) یزید بن ابی سفیان (رض) شرجیل بن حسنہ (رض) شامل ہیں۔ ان سب حضرات نے یہ حدیث نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی تھی ۔ (بخاری فی تاریخہ وابو یعلی وابن خزیمہ وابن مندہ و طبرانی ابن عساکر)
22431- "مسند خالد بن الوليد" عن أبي عبد الله الأشعري قال: "نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل يصلي ولا يتم ركوعه وينقر في سجوده فأمره أن يتم ركوعه" وقال: "لو مات هذا على حاله هذه مات على غير ملة محمد صلى الله عليه وسلم" ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "مثل الذي لا يتم ركوعه وينقر في سجوده مثل الجائع يأكل التمرة والتمرتين لا يغنيان عنه شيئا" فقيل لأبي عبد الله: من حدثك بهذا الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال: أمراء الأجناد: "خالد بن الوليد، وعمرو بن العاص، ويزيد بن أبي سفيان، وشرحبيل ابن حسنة، كل هؤلاء سمعه من النبي صلى الله عليه وسلم". "خ في تاريخه ع وابن خزيمة وابن منده طب كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22432 ۔۔۔ ابو حجیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آدمی کے پاس سے گزرے اس نے نماز پڑھتے ہوئے اپنے اوپر کپڑا لٹکا رکھا تھا (یعنی سدل کیا ہوا تھا) چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کپڑے کو ایک طرف سے اس پر لپیٹ دیا (ابن نجار)
22432- عن أبي جحيفة قال: "مر النبي صلى الله عليه وسلم على رجل سادل ثوبه في الصلاة فعطفه عليه". "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22433 ۔۔۔ ” مسند ابوہریرہ (رض) ، حضرات ابوہریرہ (رض) نماز میں پہلو پر ؟ رکھنے سے منع فرماتے تھے ۔ (ابن ابی شیبہ ومسلم فی کتاب المساجد)
22433- "مسند أبي هريرة رضي الله عنه" نهى عن الاختصار في الصلاة. "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22434 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آدمی کو نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع فرماتے تھے (رواہ ابن ابی شیبہ)
22434- "أيضا" نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يصلي الرجل مختصرا "ش"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22435 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ رو تھوک دیکھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مٹی کے ڈھیلے سے یا کسی اور چیز سے تھوک صاف کی پھر فرمایا : کہ جب بھی تم میں سے کوئی آدمی نماز میں ہو وہ نہ اپنے سامنے کی طرف تھوکے اور نہ ہی دائیں طرف چونکہ (سامنے قبلہ ہے اور) دائیں طرف فرشتہ ہوتا ہے البتہ بائیں جانب تھوکے یا پاؤں کے نیچے تھوک لے (رواہ عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ یہ حکم اس وقت ہے جب مسجد میں مٹی ریت یا کنکریاں بچھائی ہوئی ہوں اور تھوکنے سے کسی دوسرے کو اذیت نہ پہنچتی ہو ورنہ عام طور پر مساجد میں قالین اور کا رپٹ بچھائے جاتے ہیں اور مساجد میں فرش کیا جاتا ہے اس حالت میں یا تو قالین آلودہ ہونے کا خدشہ ہے یا پختا فرش تھوک کے باقی رہنے کا اندیشہ ہے جس سے نمازیوں کو سخت اذیت پہنچ سکتی ہے لہٰذا اب یہ حکم نہیں رہا ہاں البتہ کسی کے پاس رومال ہے اس میں وہ تھوک اور بلغم کو صاف کرسکتا ہے۔
22435- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رأى نخامة في قبلة المسجد فحكها بمدرة أو بشيء، ثم قال: "إذا قام أحدكم إلى الصلاة فلا يتنخمن أمامه ولا عن يمينه فإن عن يمينه ملكا، ولكن يتنخم عن يساره أو تحت قدمه اليسرى". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22436 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی بھی دوران سجدہ پھونک مار کر گردو غبار ہٹانے کی کوشش نہ کرے اور نہ ہی نماز میں تو رک کر کے بیٹھے (رواہ عبدالرزاق)
22436- عن أبي هريرة قال: "لا ينفخ أحدكم حين يضع جبهته ولا يتورك أحدكم في صلاته". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22437 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ تم میں سے جو بھی نماز میں ہو وہ ہاتھوں کو پہلوؤں میں نہ رکھے چونکہ شیطان اپنے پہلوؤں میں ہاتھوں کو رکھ لیتا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22437- عن أبي هريرة قال: "إذا قام أحدكم إلى الصلاة فلا يجعل يده في خاصرته فإن الشيطان يحضر ذلك". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22438 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبلہ رو تھوک دیکھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : جب آدمی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کررہا ہوتا ہے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے سامنے ہوتے ہیں لہٰذا کوئی بھی قبلہ رو ہرگز نہ تھوکے اور نہ ہی اپنے دائیں جانب تھوکے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکڑی منگوا کر اس سے تھوک کھرچ ڈالی (رواہ عبدالرزاق)
22438- "مسند عبد الله بن عمر رضي الله عنهما" صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد فرأى في القبلة نخامة، فلما قضى صلاته قال: "إن أحدكم إذا صلى فإنه يناجي ربه، وإن الله يستقبله بوجهه، فلا يتنخمن أحدكم في القبلة، ولا عن يمينه، ثم دعا بعود فحكه، ثم دعا بخلوق فخضبه". "عب".
তাহকীক: