কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৪৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22439 ۔۔۔ نافع کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی (مرد) نقاب کر کے نماز پڑھے (یعنی ڈھاٹا مار کر نماز پڑھنا بایں طور کہ منہ ناک چہرہ ڈھانپا ہو مکروہ ہے) رواہ عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ نوافل میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لینا جائز ہے اس فرض نماز میں ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
22439- عن نافع أن ابن عمر كان يكره أن يصلي الرجل وهو متلثم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22440 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نمازی کو (نماز میں) جب کوئی سلام کر دے تو اسے نہ کلام کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کا اشارہ کرنا چاہے چونکہ کلام اور اشارہ بھی سلام کے جواب کے حکم میں ہے (رواہ عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ بدائع الصنائع میں سترہ مقام ایسے بیان کیے گئے ہیں کہ جہاں سلام کرنا ممنوع ہے ان میں سے ایک جگہ یہ بھی ہے کہ جو آدمی نماز پڑھ رہا ہو اسے سلام نہ کیا جائے اور سلام کا جواب دینا خواہ کسی طرح بھی ہو کلام کے زمرہ میں آتا ہے اور نماز میں کلام کرنا جائز نہیں ہے۔
22440- عن قتادة قال: "سئل ابن عمر عن الاعتماد على الجدر في الصلاة" فقال: "إنا لنفعله وإن ذلك ينقص من الأجر". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22441: حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نمازی کو (نماز میں) جب کوئی سلام کردے تو اسے نہ کلام کرنا چاہیے اور نہ ہی کسی قسم کا اشارہ کرنا چاہے چونکہ کلام اور اشارہ بھی سلام کے جواب کے حکم میں ہے۔ رواہ عبدالرزاق۔
22441- عن ابن عمر قال: "إذا كان أحدكم في الصلاة فسلم عليه فلا يتكلمن وليشر إشارة فإن ذلك رده". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22442 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ نماز میں اونگھ کا آنا شیطان کی طرف سے ہے جب کہ دوران جنگ اونگھ کا آنا رحمت خدائے تعالیٰ ہے عبدالرزاق ، وعبدبن حمید وابن جریز وابن منذر وابن ابی حاتم و طبرانی)
22442- عن ابن مسعود قال: "النعاس في الصلاة من الشيطان، والنعاس في القتال أمنة من الله". "عب وعبد بن حميد وابن جرير وابن المنذر وابن أبي حاتم طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22443 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22443- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن السدل. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22444 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی بھی اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کشادہ جگہ ہو ۔ فائدہ :۔۔۔ یعنی آدمی سترہ دیوار یا ستون سے دور ہو کر کھڑا نہ ہو کہ اس کے آگے سے آدمی گزر جائے جو اس کی نماز میں خلل ڈٖال دے۔
22444- عن ابن مسعود قال: "لا يصلين أحدكم وبينه وبين القبلة فجوة" "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22445 ۔۔۔ حضرت عبدللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ستونوں کے درمیان صفیں مت بناؤ اور نہ ہی باتوں میں مشغول لوگوں کو امامت کراؤ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ یعنی مسجد میں صفیں بنانی ہوں تو پہلے صف کو مکمل کیا جائے پھر دوسری کو یوں نہ کیا جائے کہ صرف ستونوں کے درمیان درمیان صفیں بنالی جائیں اور آس پاس کی جگہ خالی پڑی رہے حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب باتوں میں مشغول ہوں کے تو نہ ہی تکبیر اولی کا اہتمام کریں گے اور نہ ہی نماز کے لیے اہتمام سے کھڑے ہوں گے اس لیے اس حالت میں نماز کھڑی کرنے سے منع فرمایا۔
22445- عن ابن مسعود قال: "لا تصفوا بين السواري ولا تأتموا بالقوم وهم يتحدثون". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22446 ۔۔۔ ” مسند سعد (رض) مصعب بن سعد (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے والد کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور رکوع میں ہاتھوں کو رانوں کے درمیان ٹکا لیا والد (رض) نے فرمایا : ہم پہلے ایسا کرتے تھے پھر ہمیں ایسا کرنے سے منع کردیا گیا (رواہ عبدالرزاق)
22446- "مسند سعد رضي الله عنه" عن مصعب بن سعد قال: صليت إلى جنب أبي وطبقت فنهاني أبي وقال: قد كنا نفعله فنهينا عنه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22447 ۔۔۔ مسند انس (رض) عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت انس (رض) کے ساتھ چنانچہ ہم ستونوں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور پھر پیچھے ہٹ گئے جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایسا کرنے سے بچتے تھے ۔ (عبدالرزاق ابو داؤد الترمذی وقال ھذا حدیث حسن)
22447- "مسند أنس رضي الله عنه" عن عبد الحميد بن محمود قال: "كنت مع أنس بن مالك فوقفنا بين السواري فتأخرنا،" فلما صلينا قال أنس: "إنا كنا نتقي هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب، د، ت: حسن"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات کے بیان میں :
22448 ۔۔۔ اسی طرح عبدالحمید بن محمود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت انس (رض) کے ساتھ تھا تو ہم ستونوں کے درمیان کھڑے ہوگئے جب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت انس (رض) نے فرمایا : ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایسا کرنے سے بچنے تھے (عبدالرزاق والترمذی وقال حسن صحیح)
22448- "أيضا" عن عبد الحميد بن محمود قال: "كنت مع أنس فوقفنا بين السواري،" فلما صلينا قال أنس: "كنا نتقي هذا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں التفات کرنے کا بیان :
22449 ۔۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ آدمی جب نماز میں ادھر ادھر توجہ (التفات) کرلیتا ہے تو اللہ عزوجل فرماتا ہے جس چیز کی طرف تو متوجہ ہورہا ہے میں اس سے بدرجہا بہتر ہوں ۔ اگر دوسری بار پھر متوجہ ہو تو پھر اللہ تعالیٰ یہی فرماتا ہے اور اگر تیسری بار پھر متوجہ ہوجائے تو اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے اعراض کرلیتا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22449- عن يحيى بن أبي كثير قال: "إن العبد إذا التفت في صلاته قال الله له: أنا خير لك ممن تلتفت إليه، فإن فعل الثانية قال له مثل ذلك، فإن فعل الثالثة أعرض عنه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں التفات کرنے کا بیان :
22450 ۔۔۔ حضرت ابو درواء (رض) فرماتے ہیں : اے لوگو : نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے اجتناب کرو چونکہ ادھر ادھر دیکھنے والے کی نماز نہیں ہوتی بالفرض نفلی نماز میں تمہاری توجہ بٹ جائے تو فرض نماز میں توجہ کو مت بٹنے دو (رواہ ابن ابی شیبہ)
22450- عن أبي الدرداء قال: "أيها الناس إياكم والإلتفات في الصلاة، فإنه لا صلاة للملتفت، وإن غلبتم على تطوع فلا تغلبوا على المكتوبة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں التفات کرنے کا بیان :
22451 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو فرماتے سنا ہے کہ نماز میں تم اپنے رب سے مناجات (سرگوشی) کر رہے ہوتے ہو اور رب تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے اور تمہارے ساتھ سرگوشی کررہا ہوتا ہے لہٰذا تمہیں ادھر ادھر توجہ نہیں دینی چاہیے ۔ عطاء کہتے ہیں ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ رب تعالیٰ فرماتے ہیں : اے ابن آدم تو کس کی طرف متوجہ ہے جس کی طرف تو توجہ کررہا ہے اس سے میں بدرجہا بہتر ہوں (رواہ عبدالرزاق)
22451- عن عطاء قال: "سمعت أبا هريرة يقول: إذا صلى أحدكم فلا يلتفت إنه يناجي ربه، وأن ربه أمامه وأنه يناجيه فلا يلتفت" قال: "وبلغنا أن الرب تبارك وتعالى يقول: يا ابن آدم إلى من تلتفت أنا خير لك ممن تلتفت إليه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں التفات کرنے کا بیان :
22452 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہمیں نماز میں دائیں بائیں دیکھنے سے منع کیا گیا ہے (رواہ ابن عساکر)
22452- عن أبي هريرة قال: "نهينا أن يتخصر الرجل في الصلاة". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں التفات کرنے کا بیان :
22453 ۔۔۔ ابو عطیہ کہتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے نماز میں دائیں بائیں توجہ کرنے کے متعلق پوچھا انھوں نے جواب دیا کہ نماز میں یہ شیطان کا ایک فریب ہے جو نمازی کے ساتھ کر گزرتا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22453- عن أبي عطية قال: "سألت عائشة عن الإلتفات فقالت: هو اختلاس يختلسه الشيطان من الصلاة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں التفات کرنے کا بیان :
22454 ۔۔۔ عطا کہتے ہیں نماز میں دائیں بائیں دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم ! تو کس چیز کی طرف متوجہ ہو رہا ہے حالانکہ میں اس چیز سے بہتر ہوں جس کی طرف تو توجہ دے رہا ہے۔
22454- عن عطاء قال: "نهي عن الالتفات في الصلاة قد بلغنا أن الرب تبارك وتعالى يقول: إلى أي شيء تلتفت يا ابن آدم أنا خير لك مما تلتفت إليه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22455 ۔۔۔ مجاہد کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اپنے ایک بیٹے کے پاس سے گذرے وہ نماز پڑھ رہا تھا اور اس نے سر پر بالوں کی چوٹی بنا رکھی تھی چنانچہ عمر (رض) نے اسے چوٹی سے پکڑ کر کھینچا حتی کہ اسے پچھاڑ دیا (رواہ عبدالرزاق)
22455- عن مجاهد قال: "مر عمر بن الخطاب على ابن له وهو يصلي ورأسه معقوص فجبذه حتى صرعه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22456 ۔۔۔ مجاہد (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اور حضرت حذیفہ (رض) ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ نماز مشغول تھا اور اس نے بالوں کی چوٹی بنا رکھی تھی چنانچہ ان دونوں حضرات نے اسے دیکھ کر سخت ناگواری کا اظہار کیا (رواہ ابن ابی شیبہ)
22456- عن مجاهد عن عمر بن الخطاب وحذيفة في الرجل يصلي وهو عاقص شعره فذكر حديثا غير أن معاناه أنهما كرهاه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22457 ۔۔۔ روایت ہے کہ حضرت علی (رض) مکروہ سمجھتے تھے کہ آدمی نماز پڑھے اور اس نے سر پر بالوں سے چوٹی بنا رکھی ہو یا وہ کنکریوں سے کھیلے یا سامنے یا دائیں طرف تھوکے ( رواہ عبدالرزاق)
22457- عن علي قال: "يكره أن يصلي الرجل ورأسه معقوص أو يعبث بالحصى أو يتفل قبل وجهه أو عن يمينه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22458 ۔۔۔ زید بن وھب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ایک آدمی کے پاس سے گزرے اور وہ سجدہ میں تھا اور اس نے سر پر بالوں سے چوٹی بنا رکھی تھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی چوٹی کھول دی جب نماز سے فارغ ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بالوں سے چوٹی مت بناؤ چونکہ تمہارے ساتھ تمہارے بال بھی سجدہ کرتے ہیں اور ہر بال کے لیے الگ سے اجر وثواب ہے اور تم نے بالوں کی چوٹی اس لیے بنائی ہے تاکہ بال مٹی سے آلودہ نہ ہوں حالانکہ بالوں کا مٹی میں آلودہ ہونا تمہارے لیے بہت بہتر ہے (رواہ عبدلرزاق)
22458- "مسند أبي رافع" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصلي الرجل ورأسه معقوص. "عب".
tahqiq

তাহকীক: