কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৪৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22460 ۔۔۔ حضرت ابو رافع (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے گزرے درآں حالیکہ میں سجدہ میں تھا اور اس میں نے بالوں کی چوٹی بنا رکھی تھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوٹی کھول دی اور مجھے ایسا کرنے سے منع فرمایا۔ نماز میں پیشاب یا پاخانے کو بتکلف
22459- عن أبي رافع قال: "مر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا ساجد قد عقصت شعري فحله ونهاني عن ذلك". "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22461 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نماز میں پیشاب وپاخانے کو زبردستی نہ روکے رکھو ۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ و سعید بن المنصور۔ فائدہ :۔۔۔ مطلب یہ کہ پیشاب یا پاخانے سے آدمی کو پہلے اچھی طرح سے فارغ ہو لینا چاہیے اور پھر نماز پڑھنی چاہیے اگر دوران نماز پیشاب کی حاجت پیش آجائے تو تکلف کر کے پیشاب کو نہیں روکنا چاہیے بلکہ نماز توڑ کر ناک پر ہاتھ رکھ کر مسجد سے باہر نکل جانا چاہیے اور قضائے حاجت سے فارغ ہو کر پھر نماز پڑھنی چاہیے ۔
22460- عن زيد بن وهب قال: "مر عبد الله بن مسعود على رجل ساجد ورأسه معقوص فحله،" فلما انصرف قال له عبد الله: "لا تعقص، فإن شعرك يسجد، وإن بكل شعرة أجرا" قال: "إنما عقصته لكي لا يتترب" قال: "إن يتترب خير لك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22462 ۔۔۔ زید بن اسلم کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا کہ کوئی آدمی بھی اس حالت میں نماز نہ پڑھے کہ اس نے اپنی سرینوں کو بتکلف جوڑا ہوا ہو (مالک (رح))
22461- عن عمر قال: "لا تعالجوا الأخبثين في الصلاة: الغائط والبول". "عب ش ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22463 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نماز میں پیشاب وپاخانے سے مدافعت مت کرو ۔ (رواہ الحارث)
22462- عن زيد بن أسلم أن عمر بن الخطاب قال: "لا يصلي أحدكم وهو ضام وركيه". "مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22464 ۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی بھی اس حالت میں نماز نہ پڑھے کہ وہ پیشاب اور پاخانے سے دفاع کررہا ہو مرواہ عبدالرزاق)
22463- عن عمر قال: "لا تدافعوا الأذى من البول والغائط في الصلاة". "الحارث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز میں بالوں کی چوٹی بنانے کا حکم :
22465 ۔۔۔” مسند عمر (رض) “ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں چند پسندیدہ شخصیات کے پاس تھا جن میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ شخصیت حضرت عمر (رض) ہیں چنانچہ ان تمام حضرات کا بیان تھا کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد تا غروب آفتاب اور فجر کے بعد سورج کے چمکنے تک نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے (الطبرانی والامام احمد بن حنبل والدارمی والبخاری ومسلم والترمذی وابو داؤد ابن ماجہ وابو یعلی وابن جریر وابن خزیمہ وابو عوانہ والطحاوی والبیھقی)
22464- عن ابن عباس قال: "لا يصلين أحدكم وهو يدافع بولا وطوفا يعني الغائط. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22466 ۔۔۔ حضرت عمر (رض) کہتے تھے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز مت پڑھو چونکہ طلوع آفتاب کے ساتھ ساتھ شیطان کے سینگ بھی طلوع ہوتے ہیں اور غروب آفتاب کے ساتھ اس کے سینگ بھی غروب ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) ان اوقات میں نماز پڑھنے پر لوگوں کو مارا کرتے تھے ۔ (رواہ مالک)
22465- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عباس قال: "شهد عندي رجال مرضيون وأرضاهم عندي عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس، وعن صلاة بعد الصبح حتى تشرق الشمس". "ط حم والدارمي خ م د ت ن هـ ع وابن جرير وابن خزيمة وأبو عوانة والطحاوي ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22467 ۔۔۔ سائب بن یزید کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ انھوں نے دیکھا کہ حضرت عمر (رض) منکدر کو عصر کے بعد نماز پڑھنے دیکھا چنانچہ عمر (رض) نے انھیں درے سے مارا اس پر تمیم (رض) نے کہا : اے عمر ! آپ مجھے اس نماز پر کیوں مارتے ہیں جسے میں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھ چکا ہوں ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے تمیم ! سب لوگ وہ کچھ نہیں جانتے جو تم جانتے ہو (الحارث وابو یعلی)
22466- عن عمر قال: "لا تتحروا بصلاتكم طلوع الشمس ولا غروبها، فإن الشيطان يطلع قرناه مع طلوع الشمس ويغربان مع غروبها، وكان يضرب الناس على تلك الصلاة". "مالك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22468 ۔۔۔ اسود کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) عصر کے بعد دو رکعات پڑھنے پر مارتے تھے ۔ (مسدد)
22467- عن السائب بن يزيد أنه رأى عمر بن الخطاب يضرب المنكدر في الصلاة بعد العصر. "مالك والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22469 ۔۔۔ وبرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے حضرت تمیم داری (رض) کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے انھیں درے سے مارا اس پر تمیم (رض) نے کہا : اے عمر (رض) آپ مجھے اس نماز پر کیوں مارتے ہیں جسے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھ چکا ہوں ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے تمیم ! سب لوگ وہ نہیں جانتے جو تم جانتے ہو ۔ (الحارث وابو یعلی)
22468- عن الأسود أن عمر كان يضرب على الركعتين بعد العصر. "مسدد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22470 ۔۔۔ عروہ بن زبیر (رح) کی روایت ہے کہ مجھے تمیم داری (رض) نے بتایا مجھے خبردی گئی ہے کہ تمیم داری (رض) نے عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں حالانکہ حضرت عمر (رض) قبل ازیں اس نماز سے منع کرچکے تھے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے انھیں درے کے ساتھ مارا تمیم (رض) نے نماز ہی میں بیٹھنے کا ارشاد کیا عمر (رض) بیٹھ گئے اور جب تمیم (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو کہا : اے عمر ! آپ نے مجھے کیوں مارا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا چان کہ تم نے عصر کے بعد دو رکعات پڑھی ہیں حالانکہ میں ان سے منع کرچکا ہوں تمیم (رض) نے کہا : میں یہ دو رکعتیں آپ سے بہتر ہستی یعنی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھ چکا ہوں حضرت عمر (رض) نے فرمایا تمہارے مجھے خوف نہیں ہے لیکن تمہارے بعد ایسے لوگ آنے والے ہیں جو (تمہیں دیکھ کر) عصر اور مغرب کے درمیان اسی طرح نماز پڑھیں گے جس طرح ظہر اور عصر کے درمیان پڑھتے ہیں (الطبرانی فی الاوسط)
22469- عن وبرة قال: "رأى عمر تميما الداري يصلي بعد العصر فضربه بالدرة،" فقال تميم: "لم يا عمر تضربني على صلاة صليتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " فقال عمر: "يا تميم ليس كل الناس يعلم ما تعلم". "الحارث ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22471 ۔۔۔ سوید بن غفلہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) اقامت کے بعد (فرض نماز کے علاوہ کوئی اور) نماز پڑھنے پر مارتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
22470- عن عروة بن الزبير قال: "أخبرني تميم الداري أو أخبرت أن تميما الداري ركع ركعتين بعد نهي عمر بن الخطاب عن الصلاة بعد العصر، فأتاه عمر فضربه بالدرة، فأشار إليه تميم أن اجلس وهو في صلاته، فجلس عمر ثم فرغ تميم من صلاته" فقال تميم لعمر: "لم ضربتني؟ " قال: "لأنك ركعت هاتين الركعتين وقد نهيت عنهما،" قال: "إني صليتهما مع من هو خير منك رسول الله صلى الله عليه وسلم" فقال عمر: "إنه ليس بي أنتم أيها الرهط ولكني أخاف أن يأتي بعدكم قوم يصلون ما بين العصر إلى المغرب حتى يمروا بالساعة التي نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصلوا فيها كما وصلوا ما بين الظهر والعصر". "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22472 ۔۔۔ فارسیوں کے آزاد کردہ غلام سائب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے اپنے دور خلافت میں زید بن خالد جبنی کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چل کر زید بن خالد کے پاس آئے اور انھیں درے سے مارنا شروع کیا لیکن وہ برابر نماز پڑھتے رہے جب نماز سے فارغ ہوئے تو کہا : اے امیر المؤمنین ! آپ مجھے مارتے رہیں میں ان دو رکعتوں کو نہیں گا چونکہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھ چکا ہوں ۔ پھر عمر (رض) ۔ پھر عمر (رض) زید (رض) کے پاس بیٹھے اور فرمایا : اے زید بن خالد ! اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ ان دو رکعتوں کو رات کی نماز کے لیے ایک طرح کی سیڑھی بنالیں گے میں ہرگز تمہیں نہ مارتا ۔ (رواہ عبدالرزاق فی مضنف)
22471- عن سويد بن غفلة قال: "كان عمر بن الخطاب يضرب على الصلاة بعد الإقامة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22473 ۔۔۔ طاوؤس (رح) کی روایت ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) حضرت عمر فاروق (رض) کی خلافت سے پہلے عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے اور جب حضرت عمر (رض) خلیفہ بنائے گئے تو انھوں نے یہ دو رکعات چھوڑ دیں ۔ جب عمر (رض) کی وفات ہوگئی تو ابو ایوب (رض) نے پھر سے دو رکعتیں پڑھنی شروع کردیں جب ان سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ حضرت عمر (رض) ان دو رکعتوں پر مارا کرتے تھے (عبدالرزاق)
22472- عن السائب مولى الفارسيين عن زيد بن خالد الجهني أنه رآه عمر بن الخطاب وهو خليفة يركع بعد العصر ركعتين، فمشى إليه فضربه بالدرة وهو يصلي كما هو، فلما انصرف قال زيد: "اضرب يا أمير المؤمنين فوالله لا أدعهما أبدا بعد إذ رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصليهما، فجلس إليه عمر" وقال: "يا زيد بن خالد لولا أني أخشى أن يتخذها الناس سلما إلى الصلاة حتى الليل لم أضرب فيهما". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22474 ۔۔۔ رافع بن خدیج (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے مجھے عصر کے بعد نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : کیا تم عصر کے بعد بھی نماز پڑھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : مجھ سے ایک نماز فوت ہوگئی تھی جسے اب پڑھ رہا ہوں ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم بعد میں پڑھ لیتے تو اچھا ہوتا ۔ (اخرجہ ابراھیم بن سعد بن نسختہ)
22473- عن طاووس أن أبا أيوب الأنصاري كان يصلي قبل خلافة عمر ركعتين بعد العصر، فلما استخلف عمر تركهما، فلما توفي ركعهما فقيل له: ما هذا؟ فقال: "إن عمر كان يضرب عليهما". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22475 ۔۔۔ مقدام بن شریح اپنے والد شریح اپنے والد شریح سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (رض) ظہر کی نماز کیسے تھے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھتے اور پھر اس کے بعد دو رکعت اور پڑھتے تھے ۔ پھر عصر کی نماز پڑھتے اور عصر کے بعد دو رکعتیں اور پڑھتے تھے ۔ میں نے عرض کیا : عصر کے بعد نماز پڑھنے پر حضرت عمر (رض) مارا کرتے تھے اور اس نماز سے منع کرتے تھے ۔ لیکن اہل یمن کے لوگ کمینے ہیں وہ ظہر کی نماز پڑھتے ہیں پھر ظہر اور عصر کے درمیان بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں اور پھر عصر پڑھتے ہیں اور پھر عصر اور مغرب کے درمیان بھی نماز پڑھتے رہتے ہیں۔ اور جو کچھ حضرت عمر (رض) کرتے تھے وہ بہت اچھا کرتے تھے ۔ (اخرجہ ابو العباس السراج فی مسندہ)
22474- عن رافع بن خديج قال رآني عمر وأنا أصلي بعد العصر فقال: "أتصلي بعدها؟ " قلت: "إني سبقت ببعض الصلاة،" فقال: "لو صليت بعدها لفعلت وفعلت". "إبراهيم بن سعد في نسخته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22476 ۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں دن اور رات کو نماز پڑھنے پر کسی کو بھی اپنی گرفت میں نہیں لوں گا بشرطیکہ جب تک غروب آفتاب اور طلوع آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھے سوائے اس کے کہ میں نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھتے دیکھا ہو۔ مابن مندہ فی التاسع من حدیثہ)
22475- عن المقدام بن شريح عن أبيه قال: "سألت عائشة عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم كيف كان يصلي الظهر؟ " قالت: "كان يصلي بالهجير ثم يصلي بعدها ركعتين، ثم يصلي العصر، ثم يصلي بعدها ركعتين،" قلت: "قد كان عمر يضرب وينهى عنهما ولكن قومك أهل اليمن قوم طغام يصلون الظهر، ثم يصلون ما بين الظهر والعصر ويصلون العصر، ثم يصلون ما بين العصر والمغرب وقد أحسن". "أبو العباس السراج في مسنده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22477 ۔۔۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! رات کا کون سا حصہ افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر رات کا وقت افضل وقت ہے۔ پھر فجر تک نماز مقبول ہوتی ہے پھر فجر کے بعد طلوع آفتاب تک کوئی نماز جائز نہیں ۔ پھر عصر تک نماز مقبول ہے (سوائے زوال کے وقت کے) پھر عصر کے بعد غروب آفتاب تک کوئی نماز جائز نہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! رات کو نماز کیسے پڑھی جائے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھی جائے میں نے عرض کیا : دن کو کیسے نماز پڑھی جائے ۔ ارشاد فرمایا : دن کو چار چار رکعت کر کے نماز پڑھی جائے پھر فرمایا کہ : جو نماز پڑھتا ہے اس کے لیے ایک قیراط ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور قیراط کی مقدار احد پہاڑ کے برابر ہے۔ آدمی جب وضو کے لیے تیاری کرتا ہے اور ہاتھوں کو دھوتا ہے اس کے گناہ ہاتھوں سے خارج ہوجاتے ہیں پھر جب کلی اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو اس کے گناہ ناک کے بانسے سے خارج ہوجاتے ہیں پھر جب چہرہ دھوتا ہے تو گناہ اس کے چہرے کانوں اور آنکھوں سے خارج ہوجاتے ہیں جب سر کا مسح کرتا ہے وت اس کے گناہ سر کے راستے سے نکل جاتے ہیں۔ جب پاؤں دھوتا ہے تو اس کے گناہ پاؤں کی طرف سے نکل جاتے ہیں اور پھر جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوا ہے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق وسندہ حسن)
22476- عن ابن عمر أن عمر قال: "لا آخذ على أحد يصلي الليل والنهار ما لم يصل عند غروب الشمس وعند طلوعها غير أني أصلي كما رأيت أصحابي يصلون". "ابن منده في التاسع من حديثه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22478 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے دراں حالیکہ سورج اچھی طرح چمک رہا ہو۔ مالامام احمد بن حنبل وابو داؤد والنسائی وابو یعلی وابن الجارود وابن خزیمہ وابن حبان و سعید بن المنصور)
22477- عن علي قال: "قلت يا رسول الله أي الليل أفضل؟ " قال: "جوف الليل الآخر، ثم الصلاة مقبولة إلى صلاة الفجر، ثم لا صلاة إلى طلوع الشمس ثم الصلاة مقبولة إلى صلاة العصر، ثم لا صلاة حتى تغرب الشمس،" قلت: "يا رسول الله كيف صلاة الليل؟ " قال: "مثنى مثنى،" قلت: "كيف صلاة النهار؟ " قال: "أربعا أربعا،" قال: "ومن صلى على صلاة كتب الله له قيراطا والقيراط مثل أحد، وإن العبد إذا قام يتوضأ فغسل كفيه خرجت ذنوبه من كفيه، ثم إذا مضمض واستنشق خرجت ذنوبه من خياشيمه، ثم إذا غسل وجهه خرجت ذنوبه من وجهه وسمعه وبصره ثم إذا غسل ذراعيه خرجت ذنوبه من ذراعيه، ثم إذا مسح برأسه خرجت ذنوبه من رأسه، ثم إذا غسل رجليه خرجت ذنوبه من رجليه، ثم إذا قام إلى الصلاة خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه". "عب وسنده حسن".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৪৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22479 ۔۔۔ بلال (رض) فرماتے ہیں کہ بجز طلوع آفتاب کے وقت میں نماز پڑھنے سے اور کسی وقت نماز پڑھنے سے نہیں منع کیا گیا چونکہ اس وقت سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
22478- عن علي قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بعد العصر الأول والشمس مرتفعة. "حم د ن ع وابن الجارود وابن خزيمة حب ص".
tahqiq

তাহকীক: