কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৪৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22480 ۔۔۔ ” مسند تمیم داری (رض) “ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھے تمیم داری (رض) نے حدیث سنائی ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں جب کہ قبل ازیں حضرت عمر (رض) منع کرچکے تھے چنانچہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ان کے پاس آئے اور انھیں درے سے مارا تمیم (رض) نے نماز ہی میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : ان دو رکعتوں کے پڑھنے پر حالانکہ میں ان سے منع بھی کرچکا ہوں تمیم (رض) نے کہا : میں یہ دو رکعتیں آپ سے بہتر ہستی یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑھ چکا ہوں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : تم لوگوں کی جماعت (جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) کا مجھے خوف نہیں ہے مجھے تو بعد میں آنے والے لوگوں کا خوف ہے کہ وہ عصر تا مغرب نماز پڑھتے رہیں گے حتی کہ اس گھڑی میں بھی نماز پڑھیں گے جس میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور پھر یہ لوگ کہیں گے ہم نے فلاں فلاں کو عصر کے بعد نماز پڑھتے دیکھا ۔ (رواہ ابن جریر)
22479- عن بلال قال: "لم ينه عن الصلاة إلا عند طلوع الشمس فإنها تطلع بين قرني الشيطان". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22481 ۔۔۔ حضرت عمرو بن عبسہ سلمی (رض) کی روایت ہے کہ میں چوتھے نمبر پر اسلام لایا ہوں ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کے کس حصہ میں دعا زیادہ قبول ہوتی ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : رات کا آخری تہائی حصہ پھر فجر کی نماز پھر جب سورج طلوع ہو رہا ہو تو نماز سے رک جاؤ چونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے چنانچہ اس وقت کفار نماز پڑھتے ہیں جب سورج طلوع ہو کر بلند ہوجائے تو اس کے بعد زوال تک نماز پڑھنے کا وقت ہے۔ جب زوال کا وقت ہوجائے تو نماز سے رک جاؤ چونکہ اس وقت دوزخ کی آگ پورے جوبن میں ہوتی ہے اور اس وقت اللہ تبارک وتعالیٰ دوزخ کے دروازے بھی کھول دیتے ہیں پھر غروب آفتاب تک نماز پڑھ سکتے ہو اور سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے اور یہ کفار کی نماز کا وقت ہے۔ رہی بات وضو کی سو جو آدمی بھی وضو کے پانی کے قریب ہو کر ہاتھ دھوتا ہے تو ہاتھوں کے پانی کے ساتھ ساتھ ہاتھوں کے گناہ بھی جھڑنے لگتے ہیں جب وہ کلی کرتا ہے اور ناک میں پانی ڈالتا ہے تو گناہ اس پانی کے ساتھ جھڑتے رہتے ہیں جب وہ چہرہ دھوتا ہے تو گناہ چہرے سے پانی کے ساتھ نکلنے لگتے ہیں ، جب سر کا مسح کرتا ہے تو سر سے گناہ جھڑ جاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کی طرف سے گناہ خارج ہوتے رہتے ہیں اس کے بعد اگر وہ اسی حالت میں مسجد کی طرف چل پڑتا ہے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ثناء پڑھتا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتا ہے تو وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوتا ہے جیسا کہ اس کی ماں نے اسے جنا تھا اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک باریا دو بار یا تین بار سن کر یاد نہ کی ہوتی تو میں یہ حدیث کسی کو نہ سناتا ۔ (رواہ الضیاء المقدسی)
22480- "مسند تميم الداري رضي الله عنه" عن عروة بن الزبير قال: "أخبرني تميم الداري أنه ركع ركعتين بعد العصر بعد نهي عمر بن الخطاب، فأتاه فضربه بالدرة، فأشار إليه تميم أن اجلس وهو في الصلاة، فجلس عمر حتى فرغ تميم،" فقال لعمر: "لم ضربتني؟ " قال: "لأنك ركعت هاتين الركعتين وقد نهيت عنهما،" قال: "فإني صليتهما مع من هو خير منك مع رسول الله صلى الله عليه وسلم" فقال عمر: "إنه ليس بي إياكم أيها الرهط ولكني أخاف أن يأتي بعدكم قوم يصلون ما بين العصر إلى المغرب حتى يمروا بالساعة التي نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يصلوا فيها، كما وصلوا ما بين الظهر والعصر، ثم يقولون قد رأينا فلانا وفلانا يصلون بعد العصر". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22482 ۔۔۔ حضرت کعب بن مرہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! رات کا کون سا حصہ افضل ترین ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رات کا آخری حصہ حتی کہ فجر طلوع ہوجائے پھر فجر کے بعد نماز پڑھنا جائز نہیں حتی کہ طلوع آفتاب ہوجائے اور ایک یا دو نیزے کے بقدر بلند ہوجائے تو پھر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ یہاں تک کہ سورج نیزے کی طرح کھڑا ہوجائے اور زوال شمس کے وقت نماز نہیں پڑ (علیہ السلام) ھی جاسکتی پھر جب زوال کا وقت ہوجائے تو اس کے بعد نماز پڑھی جاسکتی ہے پھر غروب آفتاب کے وقت نماز نہیں پڑھی جائے گی ۔ معبدالرزاق وابن جریر)
22481- "عن عمرو بن عبسة السلمي" قال: "لقد رأيتني وأنا رابع الإسلام" قلت: "يا رسول الله: أي الليل أسمع للدعاء؟ " قال: "ثلث الليل الآخر، ثم الصلاة مشهودة محضورة حتى تطلع الشمس، فإذا طلعت الشمس فأقصر عن الصلاة فإنها تطلع بين قرني الشيطان، وإنها صلاة الكفار، فإذا طلعت الشمس فالصلاة مشهودة محضورة حتى يكون الظل بقدره، فإذا كان كذلك فأقصر عن الصلاة، فإنها ساعة تسعر فيها جهنم، ويفتح الله فيها أبوابها، ثم الصلاة محضورة مشهودة حتى تغيب، فإنها تغيب بين قرني الشيطان، وهي صلاة الكفار، وأما الوضوء فما من عبد يقرب وضوءه فيغسل كفيه إلا تناثرت خطايا كفيه مع ذلك الماء، فإذا تمضمض واستنشق تناثرت خطايا فيه مع ذلك الماء، فإذا غسل وجهه تناثرت خطايا وجهه مع ذلك الماء فإذا غسل ذراعيه تناثرت خطايا ذراعيه مع ذلك الماء، فإذا مسح برأسه تناثرت خطايا رأسه مع ذلك الماء، فإذا غسل رجليه تناثرت خطايا رجليه مع ذلك، فإن أقام على ذلك كان له ذلك، فإذا مشى إلى مسجد من مساجد الله عز وجل فركع فيه ركعتين وأثنى على الله بما هو أهله وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم كان كيوم ولدته" أمه ولو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة أو مرتين أو ثلاثا أحفظه ما حدثت به أحدا". "ض".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22483 ۔۔۔ ابن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت ابو ایوب انصاری (رض) عصر کے بعد دو رکعتیں میں پڑھتے تھے انھیں حضرت زید بن ثابت (رض) نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا اس پر حضرت ابو ایوب (رض) نے کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ مجھے نماز پڑھنے پر عذاب نہیں دے گا لیکن نماز نہ پڑھنے پر عذاب دے گا زید بن ثابت (رض) نے کہا : بہرحال میں نے آپ کو عصر کے بعد نماز پڑھنے کا حکم بتادیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں تاہم یہ نماز پڑھنے کی وجہ سے آپ پر کوئی حرج نہیں لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کو لاعلم آدمی بتادیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ مجھ سے بہتر ہیں تاہم یہ نماز پڑھنے کی وجہ سے آپ پر کوئی حرج نہیں لیکن مجھے یہ خوف ہے کہ آپ کو لاعلم آدمی دیکھ لے گا اور پھر وہ عصر کے بعد نماز پڑھنا شروع کر دے گا حتی کہ وہ اس گھڑی میں بھی نماز پڑھے گا جس میں نماز پڑھنا حرام ہے (ابن جریر وابن عساکر)
22482- عن كعب بن مرة قال: "قلت يا رسول الله أي الليل أسمع؟ " قال: "جوف الليل الآخر. ثم الصلاة حتى يطلع الفجر، ثم لا صلاة حتى تطلع الشمس وتكون قيد رمح أو رمحين، ثم الصلاة مقبولة حتى يقوم الظل قيام الرمح ثم لا صلاة حتى تزول الشمس، ثم الصلاة مقبولة حتى تكون الشمس قيد رمح أو رمحين، ثم لا صلاة حتى تغرب الشمس". "عب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22484 ۔۔۔ ” مسند صفوان بن معطل سلمی “ حمید بن اسود ، ضحاک بن عثمان ، مقبری کے سلسلہ سند سے حضرت صفوان بن معطل (رض) کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یا نبی اللہ ! میں آپ سے ایک ایسی چیز کے متعلق پوچھتا ہوں جیسے آپ بخوبی جانتے ہیں حالانکہ میں اسے نہیں جانتا کیا دن اور رات میں کوئی ایسی گھڑی بھی ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو اس کے بعد نماز سے رک جاؤ حتی کہ آفتاب طلوع ہوجائے جب سورج طلوع ہوچکے تو پھر نماز پڑ سکتے ہو حتی کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح ہوجائے چنانچہ جب سورج تمہارے پر آجائے تو اس وقت نماز سے رک جاؤ چونکہ اس وقت میں دوزخ کو دہکایا جاتا ہے اور اس نے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جب سورج ڈھل چکے (یعنی زوال کا وقت گزر جائے) تو عصر تک نماز پڑھ سکتے ہو۔ (عبداللہ بن احمد بن حنبل وابو یعلی وابن عساکر)
22483- عن ابن سيرين أن أبا أيوب كان يصلي بعد العصر ركعتين فنهاه زيد بن ثابت فقال: "إن الله لا يعذبني على أن أصلي ولكن يعذبني على أن لا أصلي،" فقال: "إني آمرك بهذا وأنا أعلم أنك خير مني وما عليك بأس أن تصلي ركعتين بعد العصر، ولكن أخاف أن يراك من لا يعلم، فيصلي حتى يصلي في الساعة التي حرم فيها الصلاة". "ابن جرير كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22485 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صفوان بن معطل (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا نبی اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ دن اور رات میں کوئی ایسی گھڑی ہے جس میں نماز پڑھنا مکروہ ہو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جی ہاں ! جب تم صبح کی نماز پڑھ چکو تو اس کے بعد نماز چھوڑ دو حتی کہ سورج طلوع ہوجائے چونکہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد نماز پڑھو یہ نماز مقبول ہے حتی کہ سورج تمہارے سر پر نیزے کی طرح کھڑا ہوجائے تو اس وقت میں بھی نماز چھوڑ دو چونکہ اس وقت جہنم کو دھکایا جاتا ہے اور اس کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ حتی کہ جب سورج ڈھلنے لگے تو عصر تک نماز پڑھ سکتے ہو پھر عصر کے بعد غروب آفتاب تک نماز چھوڑ دو ۔ (ابن جریر وابن مندہ وقال ھذا حدیث صحیح عزیز غریب و بیہقی وابن عساکر)
22484- "مسند صفوان بن المعطل السلمي" عن حميد بن الأسود حدثنا الضحاك بن عثمان عن المقبري عن صفوان بن المعطل أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "يا نبي الله إني أسألك عما أنت به عالم وأنا به جاهل، هل من الليل والنهار ساعة تكره فيها الصلاة؟ " فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا صليت الصبح فأمسك عن الصلاة حتى تطلع الشمس، فإذا طلعت فصل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تعتدل على رأسك مثل الرمح، فإذا اعتدلت على رأسك مثل الرمح فأمسك فإن تيك ساعة تسجر فيها جهنم وتفتح فيها أبوابها حتى تزول عن حاجبك الأيمن فإذا زالت عن حاجبك الأيمن فصل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر". "عم ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22486 ۔۔۔ اسی طرح حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو وقتوں میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے عصر کے بعد حتی کہ آفتاب غروب ہوجائے اور فجر کے بعد حتی کہ آفتاب طلوع ہوجائے۔ (عبدلرزاق وابن جریر)
22485- عن أبي هريرة قال: "سأل صفوان بن المعطل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "يا نبي الله إني سائلك هل من ساعة من ساعات الليل والنهار تكره فيها الصلاة؟ " قال: "نعم إذا صليت الصبح فدع الصلاة حتى تطلع الشمس فإنها تطلع بقرني الشيطان، ثم صل فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تستوي الشمس على رأسك كالرمح، فإذا كانت على رأسك كالرمح فدع الصلاة فإن تلك الساعة التي تسجر فيها جهنم وتفتح فيها أبوابها حتى ترتفع الشمس على حاجبك الأيمن، فإذا زالت الشمس فإن الصلاة محضورة متقبلة حتى تصلي العصر، ثم دع الصلاة حتى تغيب الشمس". "ابن جرير وابن منده وقال: حديث صحيح عزيز غريب ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22487 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے طلوع آفتاب کے وقت غروب کے وقت اور نصف نہار کے وقت۔ (رواہ ابن جریر)
22486- "أيضا" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في ساعتين: "بعد العصر حتى تغرب الشمس، وبعد الصبح حتى تطلع الشمس". "عب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22488 ۔۔۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کو عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے دیکھا تو میں نے کہا یہ کون سی نماز ہے ؟ انھوں نے جواب دیا کہ حضرت عائشہ (رض) نے مجھے خبر دی ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے تھے چنانچہ میں حضرت عائشہ (رض) کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں ابن زبیر نے سچ کہا ہے میں نے عرض کیا : میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ عصر کے بعد نماز نہ پڑھی جائے حتی کہ آفتاب غروب ہوجائے اور فجر کے بعد بھی طلوع آفتاب تک نماز نہ پڑھی جائے پس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہی کچھ کرتے تھے جس کا انھیں حکم دیا جاتا تھا اور ہم بھی وہی کچھ کریں گے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22487- عن أبي هريرة قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في ثلاث ساعات حين تطلع الشمس، وحين تغيب حتى تغيب، ونصف النهار". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22489 ۔۔۔ حضرت حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ طلوع آفتاب کی تلاش میں مت رہو چونکہ شیطان کے سینگ طلوع آفتاب کے ساتھ طلوع ہوتے ہیں اور پھر آفتاب کے ساتھ غروب ہوجاتے ہیں چنانچہ حضرت عمر (رض) ان اوقات میں نماز پڑھنے پر لوگوں کو مارا کرتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
22488- عن أبي سعيد الخدري قال: "رأيت ابن الزبير يصلي بعد العصر ركعتين،" فقلت: "ما هذا؟ " فقال: "أخبرتني عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بعد العصر ركعتين، فذهبت إلى عائشة فسألتها فقالت: صدق فقلت: اشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا صلاة بعد العصر حتى تغرب الشمس ولا بعد الفجر حتى تطلع الشمس"، فرسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل ما أمر ونحن نفعل ما أمرنا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22490 ۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی بھی عصر کے بعد نماز نہیں پڑھتے دیکھا بجز ایک مرتبہ کے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ظہر کے بعد کچھ لوگ آئے تھے جن کی وجہ سے آپ کسی کام میں مشغول ہوگئے تھے اور ظہر کے بعد دو رکعتیں نہ پڑھ سکے پھر عصر کی نماز کی نماز پڑھی اور نماز کے بعد میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22489- عن ابن عمر قال: "لا تحروا طلوع الشمس ولا غروبها فإن الشيطان يطلع قرناه مع طلوعها ويغربان مع غروبها" قال: "وكان عمر يضرب عليها الرجال". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22491 ۔۔۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ (رض) مدینہ منورہ تشریف لائے اور انھوں نے کثیر بن صلت کو حکم دیا کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) کے پاس جاؤ اور ان سے عصر کے بعد کسی دو رکعتوں کے بارے میں سوال کرو چنانچہ کثیر بن صلت کے ساتھ میں بھی (ابو سلمہ) کھڑا ہوا اور کثیر نے ابن عباس (رض) اور عبداللہ بن حارث کو بھیجا چنانچہ یہ دونوں حضرت عائشہ (رض) کے پاس آئے اور ان سے پوچھا : حضرت عائشہ (رض) نے کہا میں نہیں جانتی اور جاؤ ام سلمہ (رض) سے پوچھو ہم حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس آئے اور ان سے پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف ایک دن عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھی تھی حالانکہ قبل ازیں میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دو رکعتیں پڑھتے نہیں دیکھا تھا تاہم میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ دو رکعتیں کیسی ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس قبیلہ بنو تمیم کا ایک وفد آیا تھا یا فرمایا کہ میرے پاس صدقے کا مال آگیا تھا جس کی وجہ سے میں ظہر کے بعد ، کی دو رکعتیں نہیں پڑھ سکا تھا جو اب پڑھ رہا ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22490- عن أم سلمة قالت: "لم أر رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى بعد العصر قط إلا مرة جاءه ناس بعد الظهر فشغلوه في شيء فلم يصل بعد الظهر شيئا، حتى صلى العصر، فلما صلى العصر، دخل بيتي فصلى ركعتين". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22492 ۔۔۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کے ساتھ حضرت معاویہ (رض) کے پاس گیا چنانچہ حضرت معاویہ (رض) نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کو اپنے قریب بیٹھایا اور پھر کہا : لوگ عصر کے بعد کیسی دو رکعتیں پڑھتے ہیں ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے جواب دیا : لوگوں کو ابن زبیر فتوی دیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت معاویہ (رض) نے ابن زبیر (رض) کے پاس قاصد بھیج کر ان دو رکعتوں کے متعلق پوچھا : انھوں نے جواب دیا مجھے حضرت عائشہ نے خبر دی ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھے تھے ۔ چنانچہ معاویہ (رض) نے قاصد کو حضرت عائشہ (رض) کے پاس بھیجا انھوں نے جواب دیا کہ اس بارے میں مجھے ام سلمہ (رض) نے بتایا ہے چنانچہ قاصد حضرت ام سلمہ (رض) کے پاس گیا اور ان سے عصر کے بعد کی دو رکعتوں کی حقیقت دریافت کی انھوں نے جواب دیا کہ : اللہ تبارک وتعالیٰ عائشہ (رض) پر رحم فرمائے میں نے تو انھیں یہ خبر دی تھی کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دو رکعتوں سے منع فرمایا تھا ۔ چنانچہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے گھر میں ظہر کی نماز کے لیے وضو کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مہاجرین کافی تعداد میں جمع تھے اور اس سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک عامل کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا تھا اور اس نے تاخیر کردی تھی اسی اثناء میں دروازے پر دستک ہوئی ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لے گئے اور ظہر کی نماز پڑھی نماز کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال تقسیم کرنے کے لیے بیٹھ گئے یہاں تک کہ عصر کے وقت فارغ ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بلال (رض) نے دیکھا تو انھوں نے اقامت کہہ کر عصر کی نماز کھڑی کردی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھی پھر میرے گھرپر تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان رکعتوں کے بارے میں دریافت کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ دو رکعتیں میں ظہر کے بعد پڑھتا تھا جنہیں میں نہیں پڑھ سکا ہوں اور اب عصر کے بعد پڑھ رہا ہوں مجھے ناگوار گزرا کہ میں یہ دو رکعتیں مسجد میں پڑھوں درآں حالیکہ لوگ مجھے دیکھ رہے ہوں لہٰذا میں نے تمہارے پاس آ کر پڑھی ہیں (رواہ ابن جریر)
22491- عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال: "قدم معاوية المدينة فقال: قم يا كثير بن الصلت إلى أم المؤمنين فاسألها عن الركعتين بعد العصر،" فقال أبو سلمة: "فقمت معه وأرسل ابن عباس عبد الله بن الحارث فأتيا عائشة، فقالت: لا أدري اسألوا أم سلمة، فأتينا أم سلمة فقالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فصلى ركعتين بعد العصر، لم أكن أراه يصليهما، فقلت يا رسول الله ما هاتان الركعتان؟ " قال: "قدم وفد من بني تميم" أو قال: "قدمت صدقة وكنت أصلي ركعتين بعد الظهر فلم أكن صليتهما فهما هاتان". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22493 ۔۔۔ عبداللہ بن شداد بن ھاد حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کے بعد میرے گھر میں دو رکعتیں پڑھیں میں نے عرض کیا یہ کیسی دو رکعتیں ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان دو رکعتوں کو میں عصر سے پہلے پڑھتا تھا ۔ (رواہ ابن جریر)
22492- عن عبد الله بن الحارث قال: "دخلت على معاوية مع ابن عباس، فأدناه وأجلسه معه،" ثم قال له: "ما ركعتان يصليهما الناس بعد العصر؟ " فقال له: "هذا مما يفتيهم ابن الزبير، فأرسل إلى ابن الزبير،" فقال: "أخبرتني بهذا عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاهما فأرسل إلى عائشة فقالت: أخبرتني بذلك أم سلمة، فانطلق الرسول إلى أم سلمة فقالت: يرحمهما الله ما أرادت إلى هذا قد أخبرتها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنهما، وبينما رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي إذا توضأ للظهر وكان كثر عنده المهاجرون، وكان بعث ساعيا فاستبطأه، فبينما هو كذلك إذا ضرب الباب فخرج إليه فصلى الظهر، ثم جلس يقسم ما جاء به، حتى فرغ عند العصر فرآه بلال فأقام الصلاة، وصلى العصر، ثم دخل بيتي فصلى ركعتين، فسألته عنهما" فقال: "هما ركعتان كنت أصليهما بعد الظهر فشغلني عما كنت فيه، فصليتهما بعد العصر فكرهت أن أصليهما في المسجد والناس يرونني، فصليتهما عندك". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22494 ۔۔۔ عبدالرحمن بن سابطہ (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابو امامہ (رض) سے پوچھا : آپ کیا ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : میں بنی ہوں عرض کیا : آپ کو کس کی طرف بھیجا گیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : سرخ و سیاہ (عرب وعجم) کی طرف عرض کیا : کس وقت میں نماز پڑھنا مکروہ ہے ؟ حکم ہوا کہ سورج کے زرد مائل ہونے سے غروب ہونے تک (رواہ عبدالرزاق)
22493- عن عبد الله بن شداد بن الهاد عن أم سلمة قالت: صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد العصر في بيتي ركعتين فقلت له: ما هاتان؟ فقال: "كنت أصليهما قبل العصر". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22495 ۔۔۔ عطاء کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ نفل نماز آدھے دن کے وقت مکروہ ہے حتی کہ سورج بلند نہ ہوجائے اور طلوع آفتاب و غروب آفتاب کے وقت بھی نفل پڑھنا مکروہ ہیں۔ عطاء کہتے ہیں مجھے حدیث پہنچی ہے کہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع اور غروب ہوتا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22494- عن عبد الرحمن بن سابط أن أبا أمامة سأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "ما أنت؟ " قال: "نبي،" قال: "إلى من أرسلت؟ " قال: "إلى الأحمر والأسود،" قال: "أي حين تكره الصلاة؟ " قال: "من حين تصلي الصبح حتى ترتفع الشمس قيد رمح ومن حين تصفر الشمس إلى غروبها"، فأي الدعاء أسمع؟ " قال: "شطر الليل الآخر، وإدبار المكتوبات،" قال: "فمتى غروب الشمس؟ " قال: "من أول ما تصفر الشمس حين يدخلها صفرة إلى أن تغرب الشمس". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22496 ۔۔۔ حضرت علی (رض) اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نصف نہار (آدھے دن) کے وقت نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ ہی عصر کے بعد سورج غروب ہونے تک پڑھتے تھے اور نہ ہی فجر کے بعد سورج کے طلوع ہونے تک پڑھتے تھے (رواہ ابن جریر)
22495- عن عطاء قال: "سمعنا أن صلاة التطوع تكره نصف النهار إلى أن ترتفع الشمس وحين تحين طلوع الشمس وحين تحين غروبها قال: بلغني أنها تطلع بين قرني شيطان وتغرب بين قرنيه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہ وقت کے بیان میں :
22497 ۔۔۔ محمد بن کعب قرظی کی روایت ہے ک حضرت ابو ایوب (رض) عموماً مروان کی مخالفت کرتے تھے اس پر مروان نے ان سے کہا کہ آپ (رض) ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : میں نے بلاشبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پنجگانہ ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر تم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موافقت کرو گے تو ہم بھی تمہاری موافقت کریں گے اور اگر تم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرو گے تم ہم بھی تمہاری مخالفت کریں گے مالرویانی وابن عساکر )
22496- عن علي وأنس قالا: "لا نصلي نصف النهار ولا بعد العصر حتى تغرب الشمس، ولا بعد الغداة حتى تطلع الشمس". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22498 ۔۔۔ حضرت ابو ذر (رض) کی روایت ہے کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے ابو ذر ! عنقریب میرے بعد کچھ ایسے امراء آنے والے ہیں جو نماز کو وقت پر نہیں پڑھیں گے لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھتے رہنا سو اگر تم نے نماز وقت پر پڑھی تمہارے لیے نماز کے علاوہ اضافی اجر وثواب بھی ہوگا ورنہ تمہارے لیے صرف نماز ہی کا ثواب ہوگا ۔ (رواہ مسلم والترمذی عن ابی ذر)
22497- عن محمد بن كعب القرظي قال: "كان أبا أيوب يخالف مروان، فقال له مروان: ما يحملك على هذا؟ " قال: "إني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي الصلوات الخمس، فإن وافقته وافقناك، وإن خالفته خالفناك". "الروياني كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22499 ۔۔۔ ابو عالیہ (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عبداللہ بن صامت (رض) جو کہ حضرت ابو ذر (رض) کے بھتیجے تھے سے امراء کے متعلق پوچھا جو کہ نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے چنانچہ انھوں نے میرے گھٹنوں پر مارا اور کہا کہ میں نے بھی ایسا سوال حضرت ابو ذر (رض) سے پوچھا تھا انھوں نے بھی میرے ساتھ ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ میں نے تیرے ساتھ کیا ہے (یعنی انھوں نے بھی مجھے گھٹنوں پر تھپڑ مارا تھا) ن چنانچہ انھوں نے فرمایا : نماز کو وقت پر پڑھو اور اگر تم ان امراء (کی اقتداء میں ان) کے ساتھ نماز کو پالو تو دوبارہ پڑھ لو اور مت کہو کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھوں گا (رواہ عبدالرزاق)
22498- عن أبي ذر قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا أبا ذر إنه سيكون بعدي أمراء يميتون الصلاة فصل الصلاة لوقتها، فإن صليت لوقتها، كانت لك نافلة وإلا كنت قد أحرزت صلاتك". "م، ت عن أبي ذر".
তাহকীক: