কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৪৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22500 ۔۔۔” مسند عبادہ بن صامت (رض) “ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب کچھ ایسے امراء آنے والے ہیں جو مختلف امور میں مشغول ہوجائیں گے اور وقت پر نماز نہیں پڑھیں گے لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھنا ایک آدمی بولا : یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھ لوں ؟ حکم ہوا : جی ہاں ان کے ساتھ پڑھ لو ۔ معبدالرزاق فی مصنفہ)
22499- عن أبي العالية قال: "سألت عبد الله بن الصامت وهو ابن أخ أبي ذر عن الأمراء إذا أخروا الصلاة فضرب ركبتي وقال: سألت أبا ذر عن ذلك ففعل بي كما فعلت بك وضرب ركبتي فقال: صل الصلاة لوقتها فإن أدركتم معهم فصلوا ولا يقولهن أحدكم: إني قد صليت فلا أصلى". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22500 ۔۔۔” مسند عبادہ بن صامت (رض) “ حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : عنقریب کچھ ایسے امراء آنے والے ہیں جو مختلف امور میں مشغول ہوجائیں گے اور وقت پر نماز نہیں پڑھیں گے لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھنا ایک آدمی بولا : یا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں ان کے ساتھ نماز پڑھ لوں ؟ حکم ہوا : جی ہاں ان کے ساتھ پڑھ لو ۔ معبدالرزاق فی مصنفہ)
22500- "مسند عبادة بن الصامت رضي الله عنه" كنا جلوسا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "إنها ستجيء أمراء تشغلهم أشياء حتى لا يصلون الصلاة لميقاتها، فصلوا الصلاة لميقاتها" فقال رجل: "يا رسول الله ثم أصلي معهم؟ " قال: "نعم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22501 ۔۔۔ ابن عمرو (رض) فرماتے ہیں : آدمی کا وقت پر نماز پڑھ لینا اس کے اہل و عیال اور مال سے بدرجہا بہتر ہے (رواہ سعید بن منصور) کلام :۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف الجامع 455 ۔
22501- عن ابن عمر قال: "إن الرجل ليصلي الصلاة، ولما فاته من وقتها خير له من أهله وماله". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22502 ۔۔۔ عبدالرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ علقمہ اور اسود نے عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس داخل ہونے کی اجازت مانگی انھوں نے اجازت دے دی اور فرمایا : عنقریب کچھ ایسے امراء آنے والے ہیں ، جو نمازوں کو وقت سے مؤخر کرکے پڑھیں گے پھر عبداللہ (رض) کھڑے ہوئے اور ہمارے سامنے نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اسی طرح نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22502- عن عبد الرحمن بن الأسود قال: "استأذن علقمة والأسودعلى عبد الله فأذن لهما" وقال: "إنه سيكون أمراء يشتغلون عن وقت الصلاة فصلوها لوقتها ثم قام فصلى بيني وبينه" وقال: "هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22503 ۔۔۔ ابن سیرین (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے اپنے شاگردوں سے فرمایا : مجھے وقت کے متعلق تمہاری کوئی پروا نہیں اور پھر آپ (رض) نے اپنے شاگردوں سمیت زوال شمس کے بعد ظہر کی نماز پڑھی اور پھر فرمایا : عنقریب تمہارے اوپر کچھ ایسے لوگ حکمران ہوں گے جو نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے لہٰذا تم وقت پر نماز پڑھنا اگر تم ان کے ساتھ بھی نماز کو پالو تو پڑھ لو ۔ (رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ)
22503- عن ابن سيرين أن ابن مسعود قال لأصحابه يوما: "إني لا آلوكم عن الوقت فصلى بهم الظهر حين زالت الشمس،" ثم قال: "إنه سيكون عليكم أمراء يؤخرون الصلاة فصلوا الصلاة لوقتها، فإن أدركتم معهم فصلوا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22504 ۔۔۔ مہدی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) نے فرمایا : اے مہدی ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہارے خیال (افضل و بہترین) لوگوں کو پش پشت ڈال دیا جائے گا اور تمہارے اوپر نو عمر اور شریر لوگ حکمراں بن بیٹھیں گے اور نماز کو وقت پر نہیں پڑھا جائے گا ؟ میں نے عرض کیا : مجھے معلوم نہیں : آپ (رض) نے فرمایا : تم اس وقت لوگوں سے ٹیکس وصول نہ کرنا ، جاسوس نہ بننا ، شرطی (پولیس کا آدمی) نہ بننا اور نہ ہی سرکاری ڈا کیا بننا (یعنی کسی قسم کا کوئی بھی سرکاری عہدہ نہ لینا) اور تم نماز کو اپنے وقت پر پڑھتے رہنا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22504- عن مهدي قال: قال ابن مسعود: "كيف أنت يا مهدي إذا ظهر بخياركم واستعمل عليكم أحداثكم وأشراركم وصليت الصلاة لغير ميقاتها؟ " قلت: لا أدري، قال: "لا تكن جابيا ولا عريفا ولاشرطيا ولا بريدا، وصل الصلاة لميقاتها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22505 ۔۔۔ قاسم بن عبدالرحمن (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ ولید بن عقبہ نے نماز میں تاخیر کردی تو ابن مسعود (رض) نے موذن کو حکم دیا اس نے نماز کھڑی کرنے کا اعلان کردیا پھر ابن مسعود (رض) نے آگے بڑھ کر نماز پڑھا دی ، جب ولید بن عقبہ کو پتہ چلا تو اس نے ابن مسعود (رض) کو پیغام بھیجا کہ آپ نے یہ کیا کیا ؟ کیا آپ کے پاس امیر المؤمنین کا کوئی نیا حکم پہنچا ہے یا پھر آپ سے بدعت سرزد ہوگئی ہے ؟ ابن مسعود (رض) نے جواب دیا : اس میں سے کچھ بھی نہیں ہوا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم اپنی نماز میں تمہارا انتظار کریں درآں حالیکہ تم اپنے کام میں مشغول ہو ۔ (عبدالرزاق فی مصنفہ)
22505- عن القاسم بن عبد الرحمن قال: "أخر الوليد بن عقبة مرة فأمر ابن مسعود المؤذن فثوب بالصلاة، ثم تقدم فصلى فأرسل إليه الوليد ما صنعت أجاءك من أمير المؤمنين حدث أم ابتدعت؟ " قال ابن مسعود: "كل ذلك لم يكن ولكن أبى علينا الله ورسوله أن ينتظرك بصلاتنا وأنت في حاجتك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22506 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے وقت پر نماز نہ پڑھی ہو ۔ البتہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میدان عرفات میں ظہر اور عصر کی نماز کو جمع کر کے پڑھتے تھے اور مغرب عشاء کی نماز کو مزدلفہ میں جمع کرکے پڑھتے تھے اور اس دن فجر کی نماز وقت سے پہلے پڑھ لیتے تھے ۔ (عبدالرزاق فی مصنفہ)
22506- عن ابن مسعود قال: "ما رأيت النبي صلى الله عليه وسلم صلى الصلاة قط إلا لوقتها إلا أنه جمع بين الظهر والعصر بعرفة، والمغرب والعشاء بجمع وصلى الفجر يومئذ قبل وقتها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22507 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : بلاشبہ تمہارے اس زمانہ میں خطباء قلیل ہیں اور علماء کثیر ہیں جو نمازیں طویل (لمبی) پڑھتے ہیں اور مختصر خطبے دیتے ہیں جبکہ عنقریب تمہارے اوپر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں خطباء کثیر ہوں گے اور علماء قلیل ہوں گے اور وہ خطباء لمبی لمبی تقریریں کریں گے نماز کو تاخیر سے پڑھیں گے حتی کہ کہا جانے لگے گا کہ یہ تو شرف الموتی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ شرف الموتی کیا چیز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا : جب سورج بہت زیادہ زردی مائل ہوجاتے اسے شرف الموتی کہتے ہیں لہٰذا تم میں سے جو بھی اس زمانہ کو پائے وہ وقت پر نماز پڑھے اور جو جبرا نماز پڑھنے سے روک دیا جائے تو وہ انہی لوگوں کے ساتھ پڑھ لے اور اپنی پڑھی ہوئی نماز کو فرض شمار کرے اور ان (امراء حکمرانوں) کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز کو نفل شمار کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22507- عن ابن مسعود قال: "إنكم في زمان قليل خطباؤه، كثير علماؤه، يطيلون الصلاة، ويقصرون الخطبة، وإنه سيأتي عليكم زمان كثير خطباؤه، قليل علماؤه يطيلون الخطبة، ويؤخرون الصلاة حتى يقال: هذا شرق الموتى، قيل: وما شرق الموتى؟ " قال: "إذا اصفرت الشمس جدا فمن أدرك ذلك فليصل الصلاة لوقتها، فإن احتبس، فليصل معهم وليجعل صلاته وحده الفريضة، وصلاته معهم تطوعا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے مستحب اوقات کا بیان :
22508 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں : یقیناً نماز کا وقت مقرر ہے جس طرح کہ حج کا وقت مقرر ہے لہٰذا نماز کو وقت پر پڑھو۔ (رواہ عبدالرزاق)
22508- عن ابن مسعود قال: "إن للصلاة وقتا كوقت الحج فصلوا الصلاة لوقتها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباح جگہ
22509 ۔۔۔ مسند ابی سعید “۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ بسا اوقات حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چٹائی پر نماز پڑھ لیتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قالین دری اور چٹائی خواہ کسی قسم کی بھی ہو جب اس کے پاس ہونے کا یقین ہو وت اس پر نماز پڑھنا درست ہے۔
22509- "مسند أبي سعيد" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى على حصير. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22510 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے مجھے دیکھا درآں حالیکہ میں ایک قبر کی طرف منہ کرکے نماز پڑ رہا تھا آپ (رض) نے فرمایا تم نماز پڑھ رہے ہو حالانکہ تمہارے سامنے قبر ہے چنانچہ آپ (رض) نے مجھے ایسا کرنے سے منع فرمایا ۔ (عبدالرزاق و ، ابن ابی شیبۃ وابن منیع)
22510- عن أنس قال: "رآني عمر وأنا أصلي إلى قبر" فقال: "القبر أمامك فنهاني". "عب ش وابن منيع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22511 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض وفات میں مجھے حکم دیا کہ لوگوں کو اندر آنے کی اجازت دو چنانچہ جب لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس قوم پر لعنت کرے جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بیہوشی طاری ہوگئی جب افاقہ ہو تو حکم دیا کہ اے علی ! لوگوں کو اندر لاؤمیں لوگوں کو اندر لایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس قوم پر لعنت کرے جس نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا ، مرض وفات میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار یہی ارشاد فرمایا ۔ (البزار) فائدہ : ۔۔۔ یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خدشہ تھا کہ میرے بعد میری امت کہیں میری قبر کو سجدہ گاہ نہ بنائے تب ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض وفات میں اس خدشہ کو شدت سے ظاہر کیا۔
22511- عن علي قال: "قال لي النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه " ائذن للناس علي"، فأذنت للناس عليه،" فقال: "لعن الله قوما اتخذوا قبور أنبيائهم مسجدا"، ثم أغمي عليه، فلما أفاق" قال: "يا علي ائذن للناس"، فأذنت لهم فقال: "لعن الله قوما اتخذوا قبور أنبيائهم مسجدا" - ثلاثا - في مرض موته". "البزار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22512 ۔۔۔ ابو صالح غفاری کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا بابل (شہر) سے گزر ہوا آپ (رض) کے پاس موذن آیا اور عصر کی نماز کے لیے اجازت چاہی ، آپ (رض) خاموش رہے اور جب بابل سے گزر گئے تو موذن کو حکم دیا اور نماز کھڑی کی ، جب آپ (رض) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : میرے محبوب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے قبرستان میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور مجھے سرزمین بابل میں نماز پڑھنے سے بھی منع فرمایا ہے چونکہ بابل کی سرزمین پر اللہ تعالیٰ کی لعنت نازل ہوئی ہے۔ (ابو داؤد والبیہقی)
22512- "أيضا" عن أبي صالح الغفري أن عليا مر ببابل وهو يسير فجاءه المؤذن يؤذنه بصلاة العصر، فلما برز منها، أمر المؤذن فأقام الصلاة، فلما فرغ قال: "إن حبي رسول الله صلى الله عليه وسلم نهاني أن أصلي في المقبرة، ونهاني أن أصلي بأرض بابل فإنها ملعونة". "د ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22513 ۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ ’ حضرت براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز پڑھنے کے متعلق دریافت کیا گیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز مت پڑھو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بکریوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز پڑھنے کی متعلق دریافت کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بکریوں کے بیٹھے کی جگہ میں نماز پڑھ لیا کرو چونکہ ان میں برکت ہے۔ (ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ) فائدہ : ۔۔۔ یعنی بسا اوقات بکریوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز جائز ہے یہ مطلب نہیں کہ اس کے متبادل جگہ موجود ہوتے ہوئے بھی یہاں پڑھی جائے یا اہتمام کے ساتھ معمول بنا لیا جائے چونکہ ظاہر ہے کہ متبادل جگہ بکریوں کے باڑے سے بہتر ہے۔
22513- "مسند البراء بن عازب" سئل رسول الله صلى الله عليه سلم عن الصلاة في مبارك الإبل فقال: "لا تصلوا فيها، وسئل عن الصلاة في مرابض الغنم" فقال: "صلوا فيها فإنها بركة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22514 ۔۔۔ براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : کہ کیا ہم اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفی میں جواب دیا پوچھا گیا : کیا ہم بکریوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز پڑھ سکتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اثبات میں جواب دیا : پھر پوچھا گیا کیا ہم بکری کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نفی میں جواب دیا : پھر پوچھا گیا کیا اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اثبات میں جواب دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق و ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
22514- "أيضا" سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أنصلي في أعطان الإبل؟ قال: "لا،" قال: "فنصلي في مرابض الغنم؟ " قال: "نعم،" قال: "أنتوضأ من لحوم الغنم؟ " قال: "لا،" قال: "أنتوضأ من لحوم الإبل؟ " قال: "نعم". "عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22515 ۔۔۔ ” مسند جابر بن سمرہ (رض) “۔ جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم (جماعت صحابہ) بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے جب کہ اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22515- "مسند جابر بن سمرة" كنا نصلي في مرابض الغنم، ولا نصلي في أعطان الإبل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22516 ۔۔۔ جابر بن سمرہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کریں اور اونٹوں کے باڑے میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
22516- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا أن نصلي في مرابض الغنم، ولا نصلي في أعطان الإبل. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22517 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ بکریوں کے ساتھ اچھائی سے پیش آؤ اور بکریوں کی رینٹ وغیرہ بھی صاف کرلیا کرو اور ان کے باڑے میں نماز بھی پڑھا کرو چونکہ بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22517- عن أبي هريرة قال: "أحسن إلى غنمك، وامسح عنها الرغام، وصل في ناحيتها أو قال في مرابضها، فإنها من دواب الجنة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22518 ۔۔۔ عبید اللہ بن عبداللہ بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ مجھے حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے بتایا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مرض وفات میں چہرہ اقدس پر چادر کا پلو رکھ لیتے پھر جب افاقہ ہوتا تو کپڑا ہٹا کر فرماتے : اللہ تعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے چونکہ انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسا کرنے سے ڈراتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22518- عن عبيد الله بن عبد الله بن عباس قال: "أخبرتني عائشة وابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما حضرته الوفاة جعل يلقي على وجهه طرف خميصة له، فإذا اغتم كشفها عن وجهه وهو يقول: "لعنة الله على اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد"، وقالت عائشة: يحذر مثل الذي فعلوا". "عب".
tahqiq

তাহকীক: