কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৫১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22519 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ تم باغ ، حمام اور قبرستان میں ہرگز نماز مت پڑھو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22519- عن ابن عباس قال: "لا تصلين إلى حش ولا في الحمام ولا في المقبرة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22520 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) ایسے کنیسہ میں نماز پڑھنا مکروہ سمجھتے تھے جس میں مورتیاں رکھی ہوں (یا تصویریں بنی ہوں) (عبدالرزاق فی مصنفہ)
22520- عن ابن عباس أنه كان يكره أن يصلي في الكنيسة إذا كان فيها تماثيل. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22521 ۔۔۔ حسن بصری (رح) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبروں کے درمیان میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22521- عن الحسن البصري قال: "نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الصلاة بين القبور". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22522 ۔۔۔ حارث کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بدترین لوگ وہ ہیں جو قبروں کو سجدہ گاہ بنالیں ۔ (رواہ عبدالرزاق )
22522- عن الحارث عن علي وأحسب معمرا رفعه قال: "من شرار الناس من يتخذ القبور مساجد". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22523 ۔۔۔ ” مسند اسامہ بن زید “ حضرت اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مرض وفات میں فرمایا کہ میرے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو میرے پاس لاؤ چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے درآں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چہرہ اقدس پر معافری چادر ڈال رکھی تھی پھر آپ نے چہرہ اقدس سے کپڑا ہٹا کر فرمایا اللہ تبارک وتعالیٰ یہود و نصاری پر لعنت کرے انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ہے۔ (الطبرانی ، الامام احمد بن حنبل و ابونعیم فی المعرفہ و سعید بن المنصور واخرجہ مسلم فی کتاب المساجد)
22523- "مسند أسامة بن زيد" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في مرضه الذي مات فيه: "أدخلوا علي أصحابي" فدخلوا عليه وهو متقنع ببرد معافري فكشف القناع" ثم قال: "لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد". "ط حم طب أبو نعيم في المعرفة ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے :
22524 ۔۔۔ حضرت علی (رض) گزر گاہ (راستہ) میں نماز پڑھنے سے منع فرماتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22524- عن علي أنه كان ينهى أن يصلى على جواد الطريق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22525 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “۔ ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم کی روایت ہے ایک مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خشوع نفاق سے پناہ مانگو۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے پوچھا : یارسول اللہ ! خشوع نفاق کیا چیز ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خشوع بدن اور دل کا نفاق ۔ (الحکیم والعسکریہ فی الامثال والبیہقی فی شعب الایمان)
22525- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي بكر بن محمد ابن عمرو بن حزم قال: "خطب أبو بكر الصديق" فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "تعوذوا بالله من خشوع النفاق،" قالوا: "يا رسول الله وما خشوع النفاق؟ " قال: "خشوع البدن ونفاق القلب". "الحكيم والعسكري في الأمثال، هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22526 ۔۔۔ ابو حازم اپنی آزاد کردہ لونڈی عزہ سے روایت کرتے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک مرتبہ ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : پالان کے اوپر بچھائے جانے والی چادر یا کمبل پر نماز مت پڑھو (رواہ عبدالرزاق)
22526- عن أبي حازم عن مولاة له يقال لها عزة قالت: "خطبنا أبو بكر فنهانا أن نصلي على البرادع". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22527 ۔۔۔ عبدالرحمن بن زید بن خطاب کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں سجدہ کی جگہ سے ہاتھ سے کنکر یہاں ہٹانے لگا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22527- عن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب أنه صلى إلى جنب عمر فمسح الحصى فأمسك بيده. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22528 ۔۔۔ محمد بن عبداللہ قرشی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ایک نوجوان کو نماز پڑھتے دیکھا کہ اس نے سر جھکا رکھا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کیا حالت ہے اپنا سر اوپر اٹھاؤ اس طرح کی ظاہری عاجزی تمہارے دل کے خشوع میں اضافہ نہیں کرے گی سو جس آدمی نے بھی دل میں پائے جانے والے خشوع سے زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کی اس نے نفاق در نفاق کو ظاہر کیا ۔ (الدینوری)
22528- عن محمد بن عبد الله القرشي عن أبيه قال: "نظر عمر بن الخطاب إلى شاب قد نكس في الصلاة رأسه" فقال له: "ما هذا؟ ارفع رأسك فإن الخشوع لا يزيد على ما في القلب فمن أظهر للناس خشوعا فوق ما في قلبه فإنما أظهر نفاقا على نفاق". "الدينوري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22529 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے علی ! میں تمہارے لیے وہ چیز پسند کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ رکوع اور سجدہ میں قرات نہ کرنا سر پر بالوں سے جوڑا بنا کر مت نماز پڑھو چونکہ یہ شیطان کی عادت ہے شیطان کی طرح مت سجدہ میں بازوؤں کو مت پھیلاؤ اور سجدہ کی جگہ سے کنکریوں کی مت ہٹاؤ سجدوں کی درمیان کتے کی طرح مت بیٹھو امام کو لقمہ مت دو اور سونے کی انگوٹھی مت پہننا کتان اور حریر سے بنا ہوا کپڑا مت پہنو اور ریشم سے بنی ہوئی زین پر مت سواری کرو ۔ (الطبرانی ، والد ورقی والبیہقی) کلام : ۔۔۔ امام بیہقی (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22529- عن علي رضي الله عنه قال: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يا علي إني أحب لك ما أحب لنفسي، لا تقرأ وأنت راكع ولا أنت ساجد، ولا تصل وأنت عاقص شعرك، فإنه كفل الشيطان، ولا تقل مقيل الشيطان ولا تقع بين السجدتين، ولا تعبث بالحصى وأنت في الصلاة ولا تفرترش ذراعيك ولا تفتح على الإمام، ولا تختم بالذهب، ولا تلبس القسي 1، ولا تركب على المياثر 2. "ط والدورقي ق: وضعفه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22530 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو نماز میں داڑھی سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اس کے دل میں خشوع ہوتا تو اس کے اعضاء میں بھی خشوع ہوتا۔ (العسکری فی المواعظ) کلام : ۔۔۔ اس حدیث کی سند میں زیاد بن منذر ایک روای ہے جو متروک ہے۔
22530- عن علي قال: أبصر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يعبث بلحيته في الصلاة، فقال: "أما هذا لو خشع قلبه لخشعت جوارحه". "العسكري في المواعظ وفيه: زياد بن المنذر متروك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22531 ۔۔۔ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) سے باہر تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور سدل (کپڑے لٹکائے ہوئے) کیے ہوئے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ لوگ تو یوں لگتے ہیں گویا کہ یہود ہوں جو اپنی میلہ گاہوں کی طرف نکل آئے ہوں ۔ (رواہ ابو عبید)
22531- عن علي أنه خرج فرأى قوما يصلون قد سدلوا ثيابهم فقال: "كأنهم يهود خرجوا من فهرهم "أبو عبيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22532 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ انھوں نے کچھ لوگوں کو نماز میں سدل کیے ہوئے دیکھا تو فرمایا ان لوگوں نے یہود کی مشابہت کر رکھی ہے جو ابھی ابھی اپنے کنیسوں سے باہر آئے ہوں ۔ (عبدالرزاق فی مصنفہ)
22532- عن علي أنه رأى قوما سادلين فقال: "كأنهم اليهود خرجوا من فهورهم يعني كنائسهم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22533 ۔۔۔ ” مسند حذیفہ بن یمان (رض) “ شقیق کہتے ہیں میں ایک مرتبہ حضرت حذیفہ (رض) کے پاس تھا اچانک ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا اس نے نماز ہی میں اپنے سامنے تھوک دیا جب نماز سے فارغ ہوا تو حضرت حذیفہ (رض) نے اس سے فرمایا : نہ اپنے سامنے تھوک اور نہ ہی دائیں جانب چونکہ تمہارے دائیں جانب نیکیوں کو رکھنے والے فرشتے ہوتے ہیں بلکہ اپنی بائیں طرف تھوکو یا پیچھے تھوکو سو آدمی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے توجہ نہیں ہٹاتے جب تک کہ وہ خود اللہ کی طرف سے توجہ نہ ہٹا لے یا اس سے کوئی بری الذمہ نہ ہوجائے ۔ (ابن عساکر)
22533- "مسند حذيفة بن اليمان رضي الله عنهما" عن شقيق قال: "كنت أنا وحذيفة إذ جاء رجل يصلي فبزق بين يديه، فلما انفتل،" قال له حذيفة: "لا تبزقن بين يديك ولا عن يمينك، فإن عن يمينك كاتب الحسنات وابزق عن يسارك أو خلفك، فإن الرجل إذا قام يصلي استقبله الله عز وجل بوجهه فلا يصرفه حتى يكون هو الذي يصرفه أو يحدث حدث سوء". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات متفرقہ :
22534 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کو رکوع میں قرات کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابن جریر)
مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب : فائدہ : ۔۔۔ نماز میں حضور قلب کو وہ حیثیت حاصل ہے جو سر میں دماغ کو اور بقیہ اعضاء جسمانیہ میں دل کو چنانچہ دل یا دماغ فیل ہوجائے تو انسان چند گھڑی کا مہمان رہ جاتا ہے چنانچہ اسی طرح اگر نماز کی ظاہری صورت موجودہ ہو اور حضور قلب سے خالی ہو وہ نماز ذمہ سے تو ساقط ہوجائے گی لیکن تمام تر خوبیوں سے خالی ہوگئی نماز میں یہی حضور قلب تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے جسم تیروں سے چھلنی ہوجاتے مگر انھیں خبر تک نہ رہتی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے جسد اطہر میں نیزے کا پھل گھس گیا جو نماز میں نکالا گیا اسی حضور قلب کے متعلق درج ذیل میں احادیث لائی جارہی ہیں۔
مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب : فائدہ : ۔۔۔ نماز میں حضور قلب کو وہ حیثیت حاصل ہے جو سر میں دماغ کو اور بقیہ اعضاء جسمانیہ میں دل کو چنانچہ دل یا دماغ فیل ہوجائے تو انسان چند گھڑی کا مہمان رہ جاتا ہے چنانچہ اسی طرح اگر نماز کی ظاہری صورت موجودہ ہو اور حضور قلب سے خالی ہو وہ نماز ذمہ سے تو ساقط ہوجائے گی لیکن تمام تر خوبیوں سے خالی ہوگئی نماز میں یہی حضور قلب تھا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے جسم تیروں سے چھلنی ہوجاتے مگر انھیں خبر تک نہ رہتی سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے جسد اطہر میں نیزے کا پھل گھس گیا جو نماز میں نکالا گیا اسی حضور قلب کے متعلق درج ذیل میں احادیث لائی جارہی ہیں۔
22534- عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عليا عن القراءة وهو راكع وساجد. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22535 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “ ۔ حکم بن عبداللہ قاسم بن محمد ، اسماء بنت ابی بکر کے سلسلہ سند سے ام رومان کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ایک مرتبہ مجھے نماز میں دائیں بائیں جھکتے ہوئے دیکھا چنانچہ آپ (رض) نے مجھے شدت سے ڈانٹا قریب تھا کہ میں نماز توڑ دیتی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ جب تم لوگ نماز کے لیے کھڑے ہو تو سکون ووقار کے ساتھ کھڑے ہو اور یہودیوں کی طرح کاندھوں کو دائیں بائیں جھکایا نہ کرو۔ (رواہ ابن عدی فی الکامل وابو نعیم فی الحلیہ وابن عساکر)
22535- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن الحكم بن عبد الله عن القاسم بن محمد عن أسماء بنت أبي بكر عن أم رومان قالت: رآني أبو بكر أميل في الصلاة فزجرني زجرة كدت أنصرف من صلاتي، ثم قال: "سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إذا قام أحدكم في الصلاة فليسكن أطرافه ولا يميل ميل اليهود فإن تسكين الأطراف من تمام الصلاة". "عد، حل، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22536 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ جب شام کا کھانا (کھانے کے لئے) رکھ دیا جائے اور ادھر نماز بھی کھڑی کردی گئی ہو تو پہلے کھانا کھا لینا چاہیے ۔ (ابن ابی شیبہ وذخیرۃ الحفاظ 434، وکشف الخفاء 225)
22536- عن عمر قال: "إذا وضع العشاء وأقيمت الصلاة فابدأوا بالعشاء". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22537 ۔۔۔ یسار بن نمیر کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرمایا کرتے تھے کہ پہلے تناول کرکے نماز کے لیے اچھی طرح سے فارغ ہو لیا کرو۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22537- عن يسار بن نمير أن عمر بن الخطاب كان يقول: ابدأوا بطعامكم، ثم افرغوا لصلاتكم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22538 ۔۔۔ جعفر بن برقان کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میمون بن مہران نے ہمیں دعوت پر بلایا چنانچہ کھانا دسترخوان پر رکھ دیا گیا تھا کہ اتنے میں اذان ہوگئی ہم کھانا چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے میمون بن مہران بولے : بخدا ! سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے زمانہ میں ایسے ہی ہوتا تھا اور ہم پہلے کھانا کھاتے تھے ۔ (عبدالرزاق)
22538- عن جعفر بن برقان قال: "دعانا ميمون بن مهران على طعام ونودي بالصلاة فقمنا وتركنا طعامه،" فقال: "أما والله لقد كان نحو هذا على عهد عمر فبدأنا بالطعام". "عب".
তাহকীক: