কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৫৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22539 ۔۔۔ یسار بن نمیر جو کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے وزیر خزانہ تھے کہتے ہیں کہ کھانا اگر تیار ہوتا اور ادھر سے نماز کا بھی وقت ہوجاتا تو سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) ہمیں پہلے کھانا تناول کرنے کا حکم دیتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22539- عن يسار بن نمير خازن عمر بن الخطاب قال: "إن عمر كان يأمرنا إذا حضرت الصلاة ووضع الطعام أن نبدأ بالطعام". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22540 ۔۔۔ ابو عثمان نہدی کی روایت ہے کہ بسا اوقات نماز کھڑی کردی جاتی اور سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو کوئی آدمی پیش آجاتا اور آپ (رض) اس سے باتوں میں مشغول ہوجاتے حتی کہ کافی دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے بعض لوگ بیٹھ جاتے ۔ (ابو الربیع الزھرانی فی الجزء الثانی من حدیثہ)
22540- عن أبي عثمان النهدي قال: "إن كانت الصلاة لتقام فيعرض لعمر الرجل فيكلمه حتى ربما جلس بعضنا من طول القيام". "أبو الربيع الزهراني في الجزء الثاني من حديثه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22541 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ جب کوئی آدمی کھانے پر بیٹھا ہو اور ادھر نماز کھڑی کی جا چکی ہو تو اسے جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ آرام سے کھانے سے فارغ ہو لے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22541- عن جابر قال: "إذا كان أحدكم على عشائه ونودي بالصلاة فلا يعجل عنه حتى يفرغ". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22542 ۔۔۔ ” مسندحذیفہ بن یمان (رض) “ زید بن وھب (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ (رض) مسجد میں تشریف لائے اچانک دیکھتے ہیں کہ ایک آدمی نماز میں مشغول ہے لیکن نہ رکوع اہتمام سے کرتا ہے اور نہ ہی سجدہ جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو حذیفہ (رض) نے اس سے کہا تم کتنے عرصہ سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : چالیس سال سے آپ (رض) نے فرمایا : تب تو تم نے چالیس سال سے نماز ہی نہیں پڑھی ، بالفرض اگر اسی حالت پر تمہاری موت ہوگئی تو تمہاری موت سنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نہیں ہوگی جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قائم کیا تھا ۔ پھر آپ (رض) نے اس آدمی کو اہتمام کے ساتھ نماز پڑھنے کا طریقہ سمجھایا اور پھر فرمایا : بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو نماز تو خفیف (ہلکی سی) پڑھتے ہیں لیکن رکوع و سجدہ اہتمام سے کرتے ہیں۔ (عبدالرزاق ، ابن ابی شیبۃ ، والبخاری فی کتاب الصلوۃ والنسائی)
22542- "مسند حذيفة بن اليمان رضي الله عنهما" عن زيد بن وهب قال: "دخل حذيفة المسجد فإذا رجل يصلي لا يتم الركوع والسجود فلما انصرف قال له حذيفة: مذكم هذه صلاتك؟ " قال: "مذ أربعين سنة" فقال حذيفة: "ما صليت مذ أربعين سنة، ولو مت وهذه صلاتك مت على غير الفطرة التي فطر عليها محمد صلى الله عليه وسلم، ثم أقبل عليه يعلمه،" فقال: "إن الرجل ليخفف الصلاة ويتم الركوع والسجود". "عب ش خ ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22543 ۔۔۔ حضرت سلمان فارسی (رض) فرماتے ہیں کہ نماز تو ناپ تول کا پیمانہ ہے سو جو پورا پورا دیا جاتا ہے اور اگر کمی کر دے تو کمی کرنے والوں کے بارے میں تم جانتے ہو کہ ان کے لیے کیا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22543- عن سلمان الفارسي قال: "الصلاة مكيال، من أوفى أوفى به، ومن طفف فقد علمتم ما للمطففين". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22544 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضو قلب کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی بدون حضور قلب کے رات بھر کے قیام سے بدرجہا افضل ہیں۔ (رواہ ابن ابی الدنیا فی التفکر)
22544- عن ابن عباس قال: "ركعتان مقتصدتان خير من قيام ليلة والقلب ساه". "ابن أبي الدنيا في التفكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22545 ۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) فرماتے ہیں کہ نماز کو شیطان کے وسوسے ڈالنے سے پہلے پہلے ختم کرلو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22545- عن عمار بن ياسر قال: "احذفوا هذه الصلاة قبل وسوسة الشيطان". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22546 ۔۔۔ ابن سیرین کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان کی طرف نظر اٹھاتے تھے درآں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خشوع کا حکم ملتا اور آپ اپنی نظریں سجدہ کی جگہ پر جما لیتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22546- عن ابن سيرين قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يرفع بصره إلى السماء وهو يصلي فأمر بالخشوع فرمى ببصره نحو مسجده". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22547 ۔۔۔ ابن سیرین (رح) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آسمان کی طرف نظر اٹھالیتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں ہوتے حتی کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (آیت)” الذین ھم فی صلاتھم خاشعون “۔ وہ جو اپنی نماز میں خشوع کے ساتھ مصروف رہتے ہیں۔ س کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر مبارک کو نیچے کرلیا (یعنی نظریں سجدہ گاہ پر جھکا لیں) (رواہ عبدالرزاق)
22547- عن ابن سيرين قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع رأسه إلى السماء وهو يصلي حتى أنزل الله: {الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خَاشِعُونَ} ، أو غيرها فإن لم تكن تلك فلا أدري ما هي فصوب برأسه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز ۔۔۔ حضور قلب
22548 ۔۔۔ ابن سیریں (رح) کہتے ہیں کہ جب کوئی آدمی نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے نہ رکتا ہو تو اسے حکم دیا جائے گا کہ اپنی آنکھوں کو بند کرلے (رواہ عبدالرزاق)
22548- عن ابن سيرين قال: "كان الرجل إذا لم يصبر أن ينظر كذا وكذا يؤمر أن يغمض عينيه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22549 ۔۔۔ ” مسند ابن عمر (رض) “ مسرق کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرمایا کرتے تھے کہ نماز کو سکون اور اطمینان سے پڑھا کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22549- "مسند ابن عمر" عن مسروق قال: "قال عبد الله: ما دواء الصلاة يقول: اسكنوا واطمئنوا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22550 ۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) ایک آدمی سے گزرے جو نماز میں رکوع اور سجدہ اطمینان سے نہیں کررہا تھا تو آپ (رض) نے فرمایا : کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22550- عن أبي الدرداء أنه مر برجل لا يتم ركوعا ولا سجودا فقال: "شيء خير من لا شيء". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22551 ۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سی دعا افضل ہے جسے میں نماز میں کیا کروں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ دعا کیا کرو ۔ ” اللہم لک الحمد کلہ ولک الشکر کلہ ولک الملک کلہ ولک الخلق کلہ بیدک الخیر کلہ والیک یرجع الامر کلہ اسالک من الخیر کلہ وعوذبک من الشرکلہ “۔ یا اللہ تمام تر تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں اور شکر تیرے ہی لیے ہے بادشاہت صرف تیری ہے اور مخلوق بھی ساری تیری ہی ہے ساری بھلائی تیرے قبضہ قدرت میں ہے اور تیری ہی طرف تمام امور نے لوٹنا ہے میں ساری کی ساری بھلائی تجھی سے مانگتا ہوں اور سارے کے سارے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ (ابن ترکان فی الدعاء والدیلمی)
22551- عن أبي سعيد أن رجلا قال: "يا رسول الله أي الدعاء خير أدعو به في صلاتي؟ " قال: "قل اللهم لك الحمد كله، ولك الشكر كله ولك الملك كله، ولك الخلق كله، بيدك الخير كله، وإليك يرجع الأمر كله، أسألك من الخير كله، وأعوذ بك من الشر كله". "ابن تركان في الدعاء والديلمي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22552 ۔۔۔ حضرت ابو عبداللہ اشعری (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے دیکھا جو اطمینان سے نہ رکوع کررہا تھا اور سجدہ بھی کوے کی ٹھونکوں کی طرح کررہا تھا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر اسی حالت پر اسے موت آگئی تو ملت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس کی موت واقع نہیں ہوگی پھر ارشاد فرمایا : جب کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ اطمینان سے رکوع کرے اور کوے کی طرح سجدے میں ٹھونکیں نہ مارے اس آدمی کی مثال بھوکے کی سی ہے جو ایک دو کھجوریں کھالے یا اس کی مثال مرغ کی سی ہے جو خون میں چونچ مار لیتا ہے چنانچہ نہ وہ آدمی بھوک سے سیر ہو پاتا ہے اور نہ ہی مرغ ، (راوہ ابن عساکر)
22552- عن أبي عبد الله الأشعري قال: "نظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل يصلي لا يتم ركوعه وينقر في سجوده،" فقال: "لو مات هذا على هذه الحال مات على غير ملة محمد صلى الله عليه وسلم" ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا صلى أحدكم فليتم ركوعه ولا ينقر في سجوده، فإنما مثل ذلك كمثل الجائع يأكل التمرة والتمرتين، وكمثل الديك ينقر في الدم فماذا يغنيان عنه". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22553 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن سائب (رض) کی روایت ہے کہ میں فتح مکہ کے موقع پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کعبہ کی اگلی طرف نماز پڑھی اور جوتے اتار کر بائیں طرف رکھ لیے تھے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت ” المومنون “ شروع کردی اور جب موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانسی لگ گئی ، اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں چلے گئے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22553- عن عبد الله بن السائب قال: "حضرت النبي صلى الله عليه وسلم يوم الفتح، فصلى في قبل الكعبة فخلع نعليه، فوضعهما عن يساره، ثم استفتح سورة {الْمُؤْمِنِينَ} فلما جاء ذكر موسى أو عيسى أخذته سعلة فركع. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22554 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن سائب (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن نماز پڑھی اور نعلین مبارک اتار کر بائیں جانب رکھ دیں ، (رواہ عبدالرزاق، وابوداؤد ، والنسائی وابن ماجہ)
22554- "أيضا" صلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم الفتح فخلع نعليه فجعلهما عن يساره. "عب د ن هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22555 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن سائب (رض) ہی کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور سورت ” المؤمنون “ شروع کردی حتی کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) یا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر پر پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کھانسی لگ گئی اور قرات میں تخفیف کر کے رکوع کردیا ، (رواہ عبدالرزاق، سعید بن المنصور وابوداؤد والنسائی وابن ماجہ)
22555- "أيضا" صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبح بمكة، فاستفتح سورة {الْمُؤْمِنِينَ} حتى إذا جاء ذكر موسى وهارون أو عيسى أخذت النبي صلى الله عليه وسلم سعلة فخفف فركع. "عب ص د ن هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22556 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں جب کسی کو نماز میں جمائی آجائے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنا ہاتھ منہ پر رکھ لے چونکہ جمائی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22556- عن ابن عباس قال: "إذا تثاءب أحدكم في الصلاة فليضع يده على فيه فإنه من الشيطان". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22557 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک منقش چادر پر نماز پڑھی جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : یہ چادر ابو جہنم بن حذیفہ (رض) کے پاس لے جاؤ اور س سے انجانیہ (ایک قسم کی چادر) میرے پاس لیتے آؤ چونکہ اس (منقش چادر) نے مجھے نماز سے غافل کردیا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق، واخرجہ البخاری فی کتاب الصلوۃ ، 104)
22557- "مسند عائشة رضي الله عنها" صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في خميصة ذات أعلام، فلما قضى صلاته قال: "اذهبوا بهذه إلى أبي جهم ابن حذيفة وائتوني بأنبجانية أبي جهم فإنها ألهتني آنفا عن صلاتي". "عب"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22558 ۔۔۔ طاؤوس کہتے ہیں : فرشتے بنی آدم کے اعمال لکھتے رہتے ہیں اور پھر کہتے ہیں فلاں شخص نے اپنی چوتھائی نماز میں کمی کردی فلاں نے آدھی نماز میں کمی کردی اور فلاں نے اتنی نماز میں کمی کردی ۔ (رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ)
22558- عن طاووس قال: "إن الملائكة يكتبون أعمال بني آدم فيقولون: فلان نقص من صلاته الربع، ونقص فلان الشطر، ويقولون زاد فلان كذا وكذا". "عب".
তাহকীক: