কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৫৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مستحبات نماز کے متعلقات :
22559 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی مرفوع حدیث ہے کہ جس آدمی نے فرض نماز میں اپنے ہاتھوں کو کھیلنے سے روکے رکھا تو اس کا اجر وثواب اتنا اور اتنا سونا صدقہ کرنے سے افضل ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، بیہقی) کلام : ۔۔۔ امام بیہقی (رح) کہتے ہیں اس حدیث میں دو راوی مجہول ہیں اور یہ غیر محفوظ حدیث ہے میزان میں ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔
22559- عن عمر بن الخطاب رفع الحديث قال: "من كف يده في صلاة مكتوبة فلم يعبث بشيء كان أفضل أجرا ممن تصدق بكذا وكذا من ذهب". "عب، ق وقال: فيه مجهولان وهو غير محفوظ؛ وقال في الميزان: هو منكر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22560 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ ابن جریج کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا گزر ایک نوجوان کے پاس سے ہوا جو نماز میں مشغول تھا ۔ آپ (رض) نے اس سے کہا : اے نوجوان ! ستون کی طرف آگے بڑھ جاؤ تاکہ تمہاری نماز سے شیطان نہ کھیلنے پائے اور یاد رکھ میں تمہیں یہ تاکید اپنی رائے سے نہیں کررہا ہوں بلکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22560- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن جريج قال: "مر عمر بن الخطاب بفتى وهو يصلي فقال عمر: يا فتى تقدم إلى السارية لا يتلعب الشيطان بصلاتك فلست برأي أقوله، ولكن سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب: وهو معضل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22561 ۔۔۔ اسحاق بن سوید کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے ایک آدمی کو قبلہ رو دیوار سے دور نماز پڑھتے دیکھا آپ (رض) نے فرمایا : آگے بڑھ جاؤ تاکہ کہیں تمہاری نماز نہ فاسد ہوجائے اور میں تم سے وہی بات کہہ رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن رکھی ہے۔ (رواہ الحارث) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث منقطع ہے۔
22561- عن إسحاق بن سويد أن عمر بن الخطاب أبصر رجلا يصلي بعيدا من القبلة فقال: "تقدم لا تفسد عليك صلاتك، وما قلت لك إلا ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله". "الحارث وفيه انقطاع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22562 ۔۔۔ قتادہ (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو اگر معلوم ہوتا کہ اس کے سامنے سے گزرنے پر کتنا گناہ ہے وہ سال بھر اس کی انتظار میں کھڑا رہتا اور یہ اس کے لیے افضل ہوتا بشرطیکہ نمازی کے آگے سترہ نہ ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق، فی مصنفہ)
22562- عن قتادة قال: "قال عمر بن الخطاب: لو يعلم المار بين يدي المصلي ما عليه كان يقوم حولا خير له من ذلك إذا لم يكن بين يدي المصلي سترة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22563 ۔۔۔ عبداللہ بن شفیق (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا گزر ایک آدمی پر سے ہوا جو بغیر سترہ کے نماز پڑھ رہا تھا تو آپ (رض) نے فرمایا : اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والے اور نمازی کو معلوم ہوا کہ ان پر کتنا گناہ ہے تو گزرنے والا قطعا نہ گزرے اور نمازی بغیر سترہ کے نماز نہ پڑھے ۔
22563- عن عبد الله بن شقيق قال: "مر عمر بن الخطاب برجل يصلي بغير سترة فقال: لو يعلم المار والممرور عليه ماذا عليهما ما فعلا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22564 ۔۔۔ ابن جریج (رح) کہت ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : نمازی اپنے سامنے سے کسی آدمی کو بھی نہ گزرنے دے چونکہ اس کے ساتھ اس کا شیطان ہوتا ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22564- عن ابن جريج قال: "حدثت عن عمر بن الخطاب أنه قال لا تدعه يمر بين يديك فإن معه شيطانه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22565 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا فرمان ہے جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے سترہ گاڑ لے تاکہ شیطان اس کے درمیان نہ حائل ہونے پائے (رواہ عبدالرزاق)
22565- عن عمر قال: "إذا صلى أحدكم فليصل إلى سترة لا يحول الشيطان بينه وبين صلاته". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22566 ۔۔۔ غضیف کہتے ہیں ایک مرتبہ میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا : ہم لوگ اپنے گھروں سے پورا سال باہر ہی رہتے ہیں چنانچہ میرا چھوٹا سا گھر ہے اگر میں نماز پڑھتا ہوں تو میری بیوی میرے بالکل مقابل میں آجاتی ہے (یعنی ساتھ کھڑی ہوجاتی ہے) اور اگر میں باہر اور اگر میں باہر نکل جاؤں تو سردی سے ٹھٹھر جاتا ہوں ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : تم اپنے درمیان کپڑا لٹکا لیا کرو اور پھر جیسے چاہے نماز پڑھو ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی طرف ملک شام سے آپ (رض) کے ایک گورنر نے خط لکھا کہ مقام سامرہ میں ہمارے کچھ پڑوسی ہیں وہ توراۃ کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں۔ (یا کہا کہ انجیل کا کچھ حصہ پڑھتے ہیں) لیکن مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان نہیں رکھتے اے امیر المؤمنین ! لہٰذا ان کے ذبیحوں کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے جواب لکھ بھیجا کہ اگر یہ لوگ ہفتے کے دن کا احترام کرتے ہیں اور توراۃ یا انجیل کا کچھ حصے پڑھتے ہیں تو ان کے ذبیحوں کا حکم اہل کتاب کے ذبیحوں کی طرح ہے۔ (رواہ عبدالرزاق ومسدد)
22566- عن غضيف قال: "أتيت عمر بن الخطاب فقلت له: إنا نخرج في الأبنية كل عام ولي بناء فيه صغير، فإن صليت فيه كانت المرأة بحذائي، وإن خرجت قررت" قال: "اقطع بينكما بثوب ثم صل كيف شئت،" قال: "وكتب إليه عامله بالشام؛ إن لنا جيرانا من السامرة فهم يقرأون بعض التوراة" أو قال: "بعض الإنجيل ولا يؤمنون بالبعث فماذا يرى أمير المؤمنين في ذبائحهم فكتب إليه، إن كانوا يسبتون ويقرأون بعض التوراة أو بعض الإنجيل فذبائحهم كذبائح أهل الكتاب". "عب ومسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22567 ۔۔۔ اسود کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بعض اوقات اپنے سامنے نیزہ گاڑ کر نماز پڑھنے لگ جاتے اور آپ کے سامنے سے پالانوں میں سوار عورتیں گزر جاتی تھیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22567- عن الأسود قال: "إن كان عمر ربما يركز العنزة 1 فيصلي والظعائن يمررن أمامه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22568 ۔۔۔ ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا ایک آدمی نے میرے سامنے سے گزرنا چاہا میں نے اسے روک لیا ، بعد میں میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے پوچھا تو آپ (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! تمہارا نماز کو نہ توڑنا تمہارے لیے باعث نقصان نہیں ہے۔ (یعنی تمہاری نماز ہوچکی) ۔ (رواہ مسددوالطحاوی)
22568- عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف قال: "كنت أصلي فمر رجل بين يدي فمنعته فسألت عثمان بن عفان" فقال: "يا ابن أخي لا يضرك أن لا يقطع صلاتك". "مسدد والطحاوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22569 ۔۔۔ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) فرماتے ہیں کہ بجز کلام اور حدث کے کوئی چیز بھی نماز کو نہیں توڑتی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22569- عن عثمان قال: "إن الصلاة لا يقطعها شيء إلا الكلام والأحداث". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22570 ۔۔۔ قتادہ (رح) سعید (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) فرماتے ہیں : مسلمان کی نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی اور جو بھی آگے سے گزرنے کی جسارت کرے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکنے کی کوشش کرو ، (البیہقی ، والمتناھیہ 761)
22570- عن قتادة عن سعيد أن عثمان وعليا قالا: لا يقطع صلاة المسلم شيء وادرأوهم ما استطعتم. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22571 ۔۔۔ امام مالک (رح) کی روایت ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے پاس ایک آدمی آیا اس کے ساتھ ایک اور آدمی بھی تھا اور اس کی ناک ٹوٹی ہوئی تھی پہلا آدمی بولا ، میں نماز پڑھ رہا تھا کہ یہ میرے سامنے سے گزرنے لگا میں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کا حکم سن رکھا ہے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے فرمایا : اے بھتیجے ! تم نے بہت برا کیا اپنی نماز بھی ضائع کی اور اس کی ناک بھی توڑ ڈالی (رواہ عبدالرزاق)
22571- "مالك" قال: "بلغني أن رجلا أتى عثمان بن عفان برجل كسر أنفه فقال له: مر بين يدي في الصلاة وأنا أصلي، وقد بلغني ما سمعته في المار بين يدي المصلي فقال له عثمان: فما صنعت شر يا ابن أخي ضيعت الصلاة، وكسرت أنفه". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22572 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : کوئی چیز بھی نماز کو نہیں توڑتی لہٰذا جو چیز بھی آگے سے گزرے اسے حسب استطاعت روکنے کی کوشش کرو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22572- عن علي قال: "لا يقطع الصلاة شيء، وأدرأ عن نفسك ما استطعت". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22573 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو تسبیحات میں مشغول ہوتے درآں حالیکہ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے (قبلہ کی طرف) لیٹی ہوئی ہوتیں۔ (رواہ الامام احمد بن حنبل والحارث وابن خزیمہ والقطعی فی القطعیات والطحاوی والدورفی)
22573- عن علي قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يسبح من الليل، وعائشة معترضة بينه وبين القبلة". "حم والحارث وابن خزيمة والقطعي في القطعيات والطحاوي والدورقي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22574 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ دوسرے آدمی کی طرف نماز پڑھ رہا ہے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے نماز لوٹانے کا حکم دیا : وہ آدمی بولا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نماز پڑھ رہا تھا اور آپ مجھے دیکھ رہے تھے ۔ (البزار) کلام : ۔۔۔ بزار نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22574- عن علي قال: "رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي إلى رجل فأمر بأن يعيد الصلاة، قال: "يا رسول الله إني قد صليت وأنت تنظر إلي". "البزار: وضعف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22575 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ مسلمان کی نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی آگے سے گزرنے والے کو حتی المقدور روکنے کی کوشش کرو (رواہ عبدالرزاق) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ۔ المتناھیہ 768 ۔
22575- عن جابر قال: "لا يقطع صلاة المسلم شيء، وادرأوا ما استطعتم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22576 ۔۔۔ ” مسند فضل بن عباس (رض) “۔ فضل بن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عباس (رض) سے ملنے آئے ہم اس وقت بادیہ (دیہات) میں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز پڑھنے کھڑے ہوئے جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ہماری ایک کتیا تھی اور ایک گدھا بھی چر رہا تھا اور آپکے سامنے ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو آپ کے اور ان جانوروں کے درمیان حائل ہوتی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22576- "مسند الفضل بن عباس رضي الله عنهما" زار النبي صلى الله عليه وسلم عباسا ونحن في بادية لنا، فقام يصلي العصر وبين يديه كلبة لنا وحمار يرعى ليس بينه وبينهما شيء يحول بينه وبينهما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22577 ۔۔۔ مطلب بن ابی وداعہ کی روایت ہے کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد حرام میں باب بنی سہم کے قریب نماز پڑھتے دیکھا درآں حالیکہ لوگ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور بیت اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان سترہ نہیں تھا اور لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے طواف کرتے ہوئے گزر جاتے ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابو داؤد والنسائی وابن ماجہ)
22577- "مسند مطلب بن أبي وداعة" رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في المسجد الحرام مما يلي باب بنى سهم والناس يطوفون بالبيت بينه وبين القبلة بين يديه ليس بينه وبينه سترة. "عب د ن هـ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22578 ۔۔۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کالا کتا شیطان ہے وہ نماز کو توڑ دیتا ہے (رواہ عبدالرزاق)
22578- عن معاذ بن جبل قال: "الكلب الأسود البهيم شيطان وهو يقطع الصلاة". "عب".
তাহকীক: