কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৫৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22579 ۔۔۔ ” مسند حکم بن عمر وغفاری “ حسن کہتے ہیں حکم غفاری نے اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی اور انھوں نے اپنے سامنے نیزہ گاڑ رکھا تھا چانچہ لوگوں کے سامنے سے کتا یا گدھا گزرا تو حکم غفاری جب نماز سے فارغ ہوئے ساتھیوں سے کہا : اس جانور نے میری نماز تو نہیں توڑی لیکن تمہاری نماز توڑ دی ہے (رواہ عبدالرزاق)
22579- "مسند الحكم بن عمرو الغفاري" عن الحسن قال: "صلى الحكم الغفاري بأصحابه وقد ركز بين يديه رمحا، فمر بين أيديهم كلب أو حمار، فانصرف إلى أصحابه فقال: أما أنه لم يقطع صلاتي ولكنه قطع صلاتكم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22580 ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن صامت (رض) فرماتے ہیں ایک سفر میں حکم غفاری نے لوگوں کو نماز پڑھائی حکم غفاری نے اپنے سامنے نیزہ گاڑ رکھا تھا اتنے میں لوگوں (مقتدیوں) کے سامنے سے گدھے گزرے حکم غفاری نے دوبارہ نماز پڑھائی ، بعد میں لوگوں نے آپس میں باتیں کیں کہ حکم غفاری بھی ولید بن عقبہ کی طرح فجر کی چار رکعتیں پڑھنا چاہتے ہیں ، عبداللہ بن صامت (رض) کہتے ہیں میں حکم سے ملا اور اس کا تذکرہ کردیا حکم تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر گئے تھی کہ لوگ جب ان سے آملے تو کہا میں نے اس وجہ سے نماز کا اعادہ کیا ہے چونکہ سامنے سے گدھوں کا گزر ہوا تھا اور تم نے ابن ابی معیط کے ساتھ میری مثال بیان کردی اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تمہارا یہ سفر اچھا رکھے ، منزل مقصود تک تمہیں اچھی طرح پہنچا دے دشمن کے خلاف تمہیں فتح عطا فرمائے اور پھر میرے اور تمہارے درمیان جدائی کر دے لوگ یہ باتیں سن کر آگے چل پڑے اور اس کے بعد اپنے چہروں کے ان کے متعلق خوشی ہی محسوس کرتے رہے اور جب جنگ سے فارغ ہوئے تو حکم غفاری وفات پا گئے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22580- "أيضا" عن عبد الله بن الصامت قال: "صلى الحكم الغفاري بالناس في سفر وبين يديه عنزة، فمرت حمر بين يدي أصحابه فأعاد بهم الصلاة،" فقالوا: "أراد أن يصنع كما صنع الوليد بن عقبة إذ صلى بأصحابه الغداة أربعا،" ثم قال: "أزيدكم فلحقت الحكم فذكرت له ذلك فوقف حتى تلاحق القوم" فقال: "إني أعدت بكم الصلاة من أجل الحمر التي مرت بين أيديكم فضربتموني مثلا لابن أبي معيط وإني أسأل الله أن يحسن تسييركم، وأن يحسن بلاغكم، وأن ينصركم على عدوكم، وأن يفرق بيني وبينكم،" قال: "فمضوا فلم يروا في وجوههم ذلك إلا ما يسرون به، فلما فرغوا مات". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22581 ۔۔۔ حضرت ابو ثعلبہ (رض) کی روایت ہے ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو مکہ جاتے ہوئے راستے میں نماز پڑھا رہے تھے کہ اتنے میں ایک آدمی اپنے اونٹوں کو ہانکتا ہوا آیا (قریب تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گزر جاتا) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف اشارہ کیا کہ اونٹوں کو واپس کر لیکن وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اشارہ کو نہ سمجھ سکا اتنے میں سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے زور سے کہا : اے اونٹوں والے ! اپنے اونٹوں کو واپس کر چنانچہ اس آدمی نے اونٹوں کو واپس کیا جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : یہ کلام کس نے کیا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : عمر (رض) نے اپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابن خطاب ! تیری فقاہت کے کیا کہنے ! ۔ (رواہ عبدالرزاق، بن عبدالرحمن بن یزید بن اسلم عن ابیہ مرسلا)
22581- عن أبي ثعلبة بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بأصحابه بطريق مكة مر رجل يطرد شولا 1 له فأشار إليه النبي صلى الله عليه وسلم فلم يفطن فصرخ به عمر فقال: "يا صاحب الشول رد إبلك، فردها، فلما صلى النبي صلى الله عليه وسلم قال: من المتكلم؟ " قالوا: "عمر،" قال: "مالك فقها يا ابن الخطاب". "عبد الرزاق بن عبد الرحمن بن يزيد بن أسلم عن أبيه مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22582 ۔۔۔ ” مسند ابی جحیفہ “۔ ابو جحیفہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سامنے نیزہ یا اس جیسی کوئی لکڑی گاڑ کر اس کے پیچھے نماز پڑھی اور راستہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
22582- "مسند أبي جحيفة" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى إلى عنزة أو شبهها والطريق من ورائها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22583 ۔۔۔ حضرت ابو جحیفہ (رض) کی روایت ہے کہ میں نے بلال (رض) کو اذان دیتے ہوئے دیکھا چنانچہ انھوں نے دائیں بائین مائل ہو کر اذان دی اور اپنی انگلیوں کو کانوں میں ڈال کر اذان دے رہے تھے ، جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سرخ قبہ میں تشریف فرما تھے ۔ چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قبہ سے باہر تشریف لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک نیزہ تھا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کنکریالی جگہ گاڑا اور پھر اس کی طرف منہ کرکے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر اور عصر کی نماز پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے کتا گدھا اور عورت بھی گزری آپ نے سرخ رنگ کے کپڑے زیب تن کر رکھے تھے مجھے یوں لگتا ہے گویا کہ میں ابھی ابھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پنڈلیوں کی سفیدی کو دیکھ رہا ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22583- "أيضا" رأيت بلالا يؤذن يدور يتبع فاه ها هنا وها هنا وإصبعاه في أذنيه ورسول الله صلى الله عليه وسلم في قبة له حمراء، فخرج بلال بين يديه بالعنزة، فركزها في الأبطح فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم إليها الظهر والعصر يمر بين يديه الكلب والحمار والمرأة وعليه حلة له حمراء كأني أنظر إلى بريق ساقيه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22584 ۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) نے ایک آدمی سے فرمایا : تم اپنے بھائی کے سامنے سے گزرتے ہو جو نماز میں مشغول ہوتا ہے حالانکہ تم خود اپنے ایک یا دو سال کے عمل کو اکارت کر بیٹھتے ہو ۔ (ابن عساکر)
22584- عن أبي الدرداء أنه قال لرجل: "مررت بين يدي صلاة أخيك وهدمت من عملك بنيان سنة أو سنتين". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22585 ۔۔۔ عبداللہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ حضرت ابو ذر (رض) نے فرمایا : کالا کتا اور حائضہ عورت نماز کو توڑ دیتی ہے میں نے حضرت ابوذر (رض) سے عرض کیا : کتا کیوں نماز کو توڑ دیتا ہے انھوں نے جواب دیا : میں نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہی سوال پوچھا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کالا کتا شیطان ہے۔ (رواہ عبدالرزاق ومسلم وابو داؤد والترمذی)
22585- عن عبد الله بن الصامت قال: "قال أبو ذر يقطع الصلاة الكلب الأسود، والمرأة الحائض،" فقلت لأبي ذر: "فما بال الكلب الأسود؟ " قال: "أما إني قد سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك،" قال: "إنه شيطان". "عب م د ت".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22586 ۔۔۔ ابوہریرہ عبدی کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدری (رض) سے پوچھا نمازی کے سترہ کی کتنی مقدار ہونی چاہیے ؟ انھوں نے فرمایا : کجاوے کے پیچھے حصہ کے برابر ہونا چاہے سترہ کے طور پر پتھر بھی کافی ہے اور اگر نیزہ ہو تو وہ اپنے سامنے گاڑ لیا جائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22586- عن أبي هريرة العبدي قال: "قلت لأبي سعيد الخدري: ما يستر المصلي؟ " قال: "مثل آخرة الرحل، والحجر يجزيء ذلك، والسهم تغرزه بين يديك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22587 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جو آدمی نماز پڑھے وہ اپنے سامنے کوئی چیز نصب کرے اگر کسی چیز کو بھی نہ پائے تو اپنے سامنے ایک خط کھینچ لے چونکہ اس کے سامنے سے گزرنے والا اس کے آڑے نہیں آئے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق فی مصنفہ)
22587- عن أبي هريرة قال: "من صلى صلاة فلينصب بين يديه شيئا، فإن لم يجده فليخط بين يديه خطا، ولا يضر ما مر بين يديه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22588 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے سترہ ہو خواہ بال سے باریک ہی کیوں نہ ہو تو تمہارے آڑے آنے والی چیز کے لیے رکاوٹ بن جائے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22588- عن أبي هريرة قال: "لا يضرك إذا كان بين يديك ستره وإن كانت أدق من الشعرة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22589 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں سترہ جب کجاوے کے پچھلے حصہ کے بقدر ہو گو کہ بال کے برابر کیوں نہ ہو تو وہ کافی سمجھا جائے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22589- عن أبي هريرة قال: "إذا كان قدر آخرة الرحل وإن كان قدر الشعرة أجزأه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22590 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھلی فضا میں نماز پڑھی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سترہ نہیں تھا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ) فائدہ : ۔۔۔ ضروری نہیں کہ ہر حال میں سترہ ہو ہی ہو سترہ رکھنا مسنون ہے چھنگل کے بقدر اس کی موٹائی ہو اور ایک فٹ کم از کم لمبائی میں ہونا چاہیے ، یہ مقدار اس کی مستحب سمجھی گئی ہے حدیث بالا میں جو آیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدون سترہ کے نماز پڑھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی جگہ میں نماز پڑھی ہوگی جہاں کسی انسان یا حیوان کے گزرنے کا خدشہ نہیں ہوا ہو گا یا سترہ گاڑنا مسنون ہے جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمدار کبھی ترک بھی کردیا ہے۔
22590- "مسند عبد الله بن عباس" صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في فضاء ليس بين يديه شيء. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22591 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور فضل گدی پر سوار ہو کر آئے اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ہم گدھی سے نیچے اترے اور اسے وہیں چرنے چھوڑ دیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں فرمایا ۔ (ابن ابی شیبۃ)
22591- "أيضا" جئت أنا والفضل على أتان والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي بالناس، فمررنا على بعض الصف، فنزلنا وتركناها ترتع فلم يقل لنا شيئا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22592 ۔۔۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے اچانک بکری کا ایک بچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے سے گزرنے لگا چنانچہ کبھی آگے ہوجاتا اور کبھی پیچھے ہوجاتا بالآخر وہ چھلانگ لگا کر آگے سے گزر گیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22592- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي فجعل جدي يريد أن يمر بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم، فجعل يتقدم ويتأخر حتى نزا الجدي. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22593 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ میں حجۃ الوداع کے موقع پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں مشغول تھے ، میں اور فضل بن عباس (رض) گدھی پر سوار ہو کر آئے ہم نیچے اترے اور صف تک پہنچ گئے درآں حالیکہ گدھی وہیں نمازیوں کے سامنے گھومنے پھرنے لگی چنانچہ گدھی نے لوگوں کی نماز کو نہیں توڑا ۔
22593- "أيضا" جئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع أو قال: "يوم الفتح، وهو يصلي وأنا والفضل بن عباس مرتدفان، فقطعنا الصف ونزلنا عنها، ثم وصلنا الصف والأتان تمر بين أيديهم فلم تقطع صلاتهم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22594 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں نماز کو کتا ، خنزیر ، یہودی ، نصرانی ، مجوسی اور حائضہ عورت توڑ دیتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
22594- عن ابن عباس قال: "يقطع الصلاة الكلب والخنزير واليهودي والنصراني والمجوسي والمرأة الحائض". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22595 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حائضہ عورت اور سیاہ کتا نماز کو توڑ ڈالتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
22595- عن ابن عباس قال: "تقطع الصلاة المرأة الحائض، والكلب الأسود". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22596 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے ہوتے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے قبلہ رو لیٹی ہوتی تھی ۔ (رواہ عبدالرزاق، وذخیرہ الحفاظ 4078)
22596- عن عائشة كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وإني لمعترضة على السرير بينه وبين القبلة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22597 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نماز میں سامنے سے گزرنے والوں سے جہاں تک ہو سکے دفاع کرتے رہو اور کتوں کے آنے جانے کی جگہوں میں نماز پڑھنے سے شدت سے بچو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22597- عن ابن عباس قال: "ادرأوا عن صلاتكم ما استطعتم وأشد ما يتقى عليها مرابض الكلاب". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৫৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سترہ کا بیان :
22598 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں : اے اہل عراق تم نے ہمیں کتوں کے ساتھ ملا لیا حالانکہ کوئی چیز بھی نماز کو نہیں توڑتی لیکن بقدر استطاعت اپنے سامنے سے کسی کو گزرنے مت دو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22598- عن عائشة قالت: "قرنتمونا يا أهل العراق بالكلب والحمار إنه لا يقطع الصلاة شيء ولكن أدرأوا ما استطعتم". "عب".
tahqiq

তাহকীক: