কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৬১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22619 ۔۔۔ ” ابی واقد “ ابو واقد (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے یہاں تشریف لائے اور مسجد بنی عبدالاشہل میں ہمیں نماز پڑھائی ، چنانچہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ جب آپ سجدہ کرتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ کپڑے میں ہوتے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22619- "مسند أبي واقد" جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى بنا في مسجد بني عبد الأشهل فرأيته واضعا يديه في ثوبه إذا سجد. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22620 ۔۔۔ عبداللہ بن عبدالرحمن محمد بن عباد بن جعفر کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ ایک شیخ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا اور روای نے مقام ابراہیم کی طرف اشارہ کیا ، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے قریب نماز پڑھی تھی ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22620- عن عبد الله بن عبد الرحمن عن محمد بن عباد بن جعفر عن شيخ منهم قال: "رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه وأشار إلى المقام". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22621 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ بسا اوقات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہاتھ داڑھی مبارک کے نیچے رکھ لیتے ، ایک روایت میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر کھیلنے کے ہاتھ داڑھی کے نیچے رکھ رلیتے تھے ۔ (رواہ ابن عدی فی الکامل وابن عساکر) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے تفصیل کے لیے دیکھے ذخیرۃ الحفاظ (1590) و ضعیف الجامع (4468)
22621- عن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان ربما يصنع - وفي لفظ - ربما يضع يده على لحيته في الصلاة من غير عبث. "عد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22622 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ آدمی نماز میں چہار زانو ہو کر بیٹھے اس سے بہتر ہے کہ انگاروں پر بیٹھ جائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22622- عن ابن مسعود قال: "لأن يجلس الرجل على الرضفتين خير من أن يجلس في الصلاة متربعا". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22623 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نماز میں قیام کے دوران حضرت حسین (رض) کو اٹھالیتے ، اور جب سجدہ کرتے تو انھیں نیچے رکھ دیتے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22623- عن عطاء قال: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يأخذ حسينا في الصلاة فيحمله قائما حتى إذا سجد وضعه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22624 ۔۔۔ اسامہ بن عمیر (رض) کی روایت ہے کہ پہلے نماز کھڑی کردی جاتی اتنے میں کوئی آدمی آتا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے کسی ضروری کام کے متعلق کرنے لگتا اور وہ آپ کے سامنے قبلہ رو کھڑا ہوتا اور برابر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باتیں کرتا رہتا بعض دفعہ میں نے یہ بھی دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کافی دیر کھڑے رہنے کی وجہ سے بعض لوگ اونگھنے لگے ۔
22624- "مسند أسامة بن عمير" كانت الصلاة تقام، فيكلم الرجل النبي صلى الله عليه وسلم في حاجة تكون له فيقوم بينه وبين القبلة فما يزال قائما يكلمه، فربما رأيت بعض القوم ينعس من طول قيام النبي صلى الله عليه وسلم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22625 ۔۔۔ اوس بن اوس یا ابن ابی اوس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جوتے پہنے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا ۔ (رواہ الطبرانی واحمد بن حنبل والطحاوی)
22625- عن أوس بن أوس أو ابن أبي أوس قال: "رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي في نعليه". "ط حم والطحاوي طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22626 ۔۔۔ حمید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو چار زانو بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے اور ٹیک لگا کر بھی نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22626- عن حميد قال: "رأيت أبا بكر يصلي متربعا ومتكئا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22627 ۔۔۔ عبدالرحمن بن اسود کہتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نماز میں جوں کو مار دیتے تھے حتی کہ آپ (رض) کے ہاتھ پر خون بھی نمایاں ہوتا۔ (ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
22627- عن عبد الرحمن بن الأسود قال: "كان عمر بن الخطاب يقتل القملة في الصلاة حتى يظهر دمها على يده". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22628 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : میں نماز میں بحرین کے جزیہ کا حساب کرتا رہتا ہوں ، (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22628- عن عمر قال: "إني لأحسب جزية البحرين وأنا في الصلاة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22629 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں : بسا اوقات میں نماز میں اپنے لشکروں کو تیار کررہا ہوتا ہوں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22629- عن عمر قال: "إني لأجهز جيوشي في الصلاة". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22630 ۔۔۔ عبداللہ بن عامر کہتے ہیں میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو ایک عمدہ قالین پر نماز پڑھتے دیکھا ہے۔ (عبدالرزاق وابو عبیدہ فی الغریب)
22630- عن عبد الله بن عامر قال: "رأيت عمر بن الخطاب يصلي على عبقري". "عب وأبو عبيدة في الغريب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22631 ۔۔۔ موسیٰ بن طلحہ کی روایت ہے کہ میں نے سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو سنا درآں حالیکہ آپ (رض) منبر پر تھے اور مؤذن نے نماز کھڑی کردی تھی اور آپ (رض) لوگوں کے حالات دریافت کر رہے تھے اور لوگوں کے مقرر کردہ نرخوں کے متعلق معلوم کر رہے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22631- عن موسى بن طلحة قال: "سمعت عثمان بن عفان وهو على المنبر، والمؤذن يقيم الصلاة، وهو يستخبر الناس عن أخبارهم وأسعارهم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22632 ۔۔۔ ابوجعفر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمار بن یاسر (رض) نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں مشغول تھے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں سلام کا جواب دیا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22632- عن أبي جعفر ان النبي صلى الله عليه وسلم سلم عليه عمار بن ياسر والنبي صلى الله عليه وسلم يصلي فرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم السلام. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22633 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ علقمہ بن ملانہ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے سری منگوائی اور ان کے ساتھ کھانے بیٹھ گئے اتنے میں بلال (رض) آئے اور نماز کا کہا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کچھ جواب نہ دیا ۔ بلال مسجد میں واپس لوٹ گئے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے ۔ بلال پھر آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! نماز کا وقت ہوچکا ہے بخدا صبح ہوچکی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ بلال پر رحم فرمائے اگر بلال نہ ہوتے تو ہم امید ظاہر کرتے کہ نماز طلوع شمس تک موخر کردی جائے سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : بالفرض اگر بلال (رض) قسم نہ اٹھاتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھانے میں برابر مشغول رہتے اور جبرائیل آکر انھیں کہتے کہ اپنا ہاتھ اٹھالیجئے ۔ (رواہ البزار) کلام : ۔۔۔ بزار نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22633- عن علي قال: "دخل علقمة بن علاثة على النبي صلى الله عليه وسلم فدعا له برأس، وجعل يأكل معه، فجاء بلال فدعا إلى الصلاة فلم يجبه، فرجع فمكث في المسجد ما شاء،" ثم رجع فقال: "الصلاة يا رسول الله قد والله أصبحت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رحم الله بلالا لولا بلال لرجونا أن يؤخر لنا ما بيننا وبين طلوع الشمس،" فقال علي: "لولا أن بلالا حلف لأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يقول له جبريل: ارفع يدك". "البزار وضعف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22634 ۔۔۔ ” مسند جابر بن عبداللہ بن رباب سلمی انصاری “۔ صلت بن مسعود جحدری ومحمد بن یحییٰ ابن ابی سمیہ ، علی بن ثابت جزرمی وازع بن نافع ابو سلمہ کے سلسلہ سند سے جابر بن رباب (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس سے گزرے میں نماز پڑھ رہا تھا وہ میری طرف ہنس دیئے اور میں بھی ان کی طرف مسکرا دیا ، جب کہ صلت بن مسعود (رض) کی حدیث میں ہے کہ میکائیل (علیہ السلام) میرے پاس سے گزرے اور ان کے پروں پر غبار کا اثر تھا میں نماز پڑھ رہا تھا چنانچہ وہ میری طرف ہنس دیئے اور میں بھی ان کی طرف ہنس دیا اور وہ دشمن کی طلب میں تھے ۔ (رواہ ابونعیم)
22634- "مسند جابر بن عبد الله بن رباب السلمي الأنصاري" عن الصلت بن مسعود الجحدري ومحمد بن يحيى بن أبي سمية قالا: حدثنا علي بن ثابت الجزري عن الوازع بن نافع عن أبي سلمة عن جابر بن رباب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "مر بي جبريل وأنا أصلي، فضحك إلي فتبسمت إليه،" وقال الصلت بن مسعود: "مر بي ميكائيل وعلى جناحه غبار فضحك إلي وأنا أصلي فضحكت إليه وهو راجع من طلب العدو". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباحات نماز :
22635 ۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سلام کا جواب دیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، ورواہ ابن جریر ، فی تھذیہ بلفظ فا وما بیدہ) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کے اشارے سے سلام کا جواب دیا ۔ فائدہ : ۔۔۔ نماز میں سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا ایک طرح کا کلام ہے اور نماز میں کلام ممنوع ہے خواہ جس طرح سے بھی ہو حدیث میں جو اشارے سے سلام کے جواب دینے کے بارے میں آیا ہے یا تو نفل نماز میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیا یا یہ عمل منسوخ ہے۔
22635- عن عمار بن ياسر قال: "أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فسلمت عليه فرد علي السلام. "ش: ورواه ابن جرير في تهذيبه بلفظ: فأومأ بيده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ٹھنڈا کرکے ، جلدی اور تاخیر سے پڑھنے کا بیان :
22636 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرکے پڑھو چونکہ گرمی کی شدت جہنم کی سخت تپش کی وجہ سے ہوتی ہے۔ (رواہ ، ابن ابی شیبۃ)
22636- عن عمر قال: "أبردوا بالظهر، فإن شدة الحر من فيح جهنم". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ٹھنڈا کرکے ، جلدی اور تاخیر سے پڑھنے کا بیان :
22637 ۔۔۔ ابن ابی ملیکہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو محذورہ (رض) کو (مسجد حرم کی) اذان کی ذمہ داری سونپی پھر سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) مکہ مکرمہ تشریف لائے اور ” دارالرومہ “ میں نزول فرمایا اسی اثناء میں ابو محذورہ (رض) نے اذان دی اور پھر عمر (رض) کے پاس آئے اور سلام بجا لایا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : اے ابو محذورہ تو کتنی اونچی آواز والا ہے ؟ کیا تو ڈرتا نہیں کہ شدت آواز کی وجہ سے کہیں تیر پیٹ پھٹ پڑے پھر فرمایا : اے ابو محذورہ ! تو ایسی سرزمین میں ہے جہاں شدید گرمی پڑتی ہے لہٰذا نماز کو ٹھنڈا کیا کرو اور پھر مزید ٹھنڈا کیا کرو پھر اذان دو اور پھر نماز کھڑی کرو تم اپنے پاس مجھے پاؤ گے ۔ (رواہ ابن سعد)
22637- عن ابن أبي مليكة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطى أبا محذورة الأذان، فقدم عمر مكة فنزل دار الرومة، فأذن أبو محذورة، ثم أتاه يسلم عليه، فقال عمر: "يا أبا محذورة ما أندى صوتك؟ أما تخشى أن تنشق مريطاؤك من شدة صوتك؟ " ثم قال: "يا أبا محذورة إنك بأرض شديدة الحر فأبرد عن الصلاة، ثم أبرد عنها، ثم أذن، ثم أقم تجدني عندك". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کو ٹھنڈا کرکے ، جلدی اور تاخیر سے پڑھنے کا بیان :
22638 ۔۔۔ ابراہیم بن عبدالعزیز کی روایت ہے کہ میرے دادا جان نے مجھے حدیث سنائی کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے انھیں کہا : اے ابو محذورہ ! بلاشبہ تم ایسی سرزمین میں ہو ، جہاں شدت کی گرمی پڑتی ہے اور مسجد میں بھی تیز دھوپ ہوتی ہے لہٰذا تم نماز کو ٹھنڈا کرو اور پھر مزید ٹھنڈا کرو پھر اذان دو اور دو رکعت نماز پڑھو اور نماز کھڑی کر دو میں خود تمہارے پاس آجاؤں گا تم میرے پاس نہ آنا ۔ (رواہ ابن سعد)
22638- عن إبراهيم بن عبد العزيز قال: "حدثني جدى عن أبيه أن عمر قال له: يا أبا محذورة إنك بأرض حارة ومسجد ضاح فأبرد، ثم أبرد، ثم أذن واركع ركعتين وأقم الصلاة آتيك لا تأتيني". "ابن سعد".
tahqiq

তাহকীক: