কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৬৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
22659 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز کی تعلیم دی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر کہی اور ساتھ رفع یدین کیا اور پھر رکوع کیا اور ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان لٹکا لیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ)
22659- "أيضا" علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة فكبر ورفع يديه، ثم ركع فطبق يديه بين ركبتيه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22660 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو پہلے تکبیر تحریمہ کہتے پھر یہ دعا پڑھتے ۔ ” انی وجھت وجھی للذی فطر السموات والارض حنیفا وما انا من المشرکین ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی للہ رب العالمین لاشریک لہ وبذالک امرت وانا من المسلمین اللہم انت الملک لا الہ الا انت ربی وانا عبدک ظلمت نفسی واعترفت بذ نبی فاغفرلی ذنوبی جمیعا انہ لا یغفر الذنوب الا انت واھدنی لا حسن الاخلاق لا یدھی لاحسنھا الا انت واصرف عنی سیئیھا لا یصرف عنی سیئھا الا انت لبیک وسعدیک والخیر کلہ فی یدیک والشرلیس الیک انا بک والیک تبارکت وتعالیت استغفرک واتوب الیک “۔ ” میں نے اپنے آپ کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے دراں حالیکہ میں حق کی طرف متوجہ ہونے والا اور دین باطل سے بیزار ہوں میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو شرک کرنے والے ہیں ، میری نماز ، میری عبادت ، میری زندگی اور میری موت خدا ہی کے لیے ہے جو دونوں جہانوں کا پالنے والا ہے جس کا کوئی شریک نہیں اسی کا مجھے حکم کیا گیا ہے اور میں فرمان بردار مسلمانوں میں سے ہوں یا اللہ تو بادشاہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہی میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں ۔ لہٰذا تو میرے سارے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی اور گناہوں کو نہیں بخش سکتا ،۔ اور بہترین اخلاق کی طرف میری راہنمائی کر چونکہ تیرے سوا بہترین اخلاق کی طرف کوئی راہنمائی نہیں کرسکتا اور بدترین اخلاق کو مجھ سے دور کر دے چونکہ بجز تیرے اور کوئی بداخلاقی سے مجھے نہیں بچا سکتا ہے میں تیرے حضور حاضر ہوں اور تیرا حکم بجا لانے پر تیار ہوں تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں اور برائی تیری جانب منسوب نہیں کی جاسکتی تیرے ہی سبب سے ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں تو بابرکت ہے اور بلند وعالی شان ہے میں تجھی سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ ” اللہم لک رکعت وبک امنت ولک اسلمت خشع لک سمعی وبصری ومخی وعظمی عصی “۔ یا اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا اور تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لیے اسلام لایا اور میری بینائی ، میرا دماغ میری ہڈیاں اور پٹھے تیرے ہی لیے جھکے ہوئے ہیں۔ ور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ للہم ربنا لک الحمد ملا السموات والارض وما بینھما وملا ماشئت من شیء بعد “۔ یا اللہ ! اے ہمارے رب تیرے ہی لیے آسمانوں اور زمین کے برابر حمد ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کے برابر اور اس چیز کے برابر جو تو بعد میں پیدا کرے ۔ ور جب سجدہ میں جاتے تو یہ دعا پڑھتے : ” اللہم لک سجدت ولک امنت ولک اسلمت سجد وجھی للذی حلقہ وصورہ وشق سمعہ وبصرہ تبارک اللہ احسن الخالقین “۔ ” یا اللہ ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لیے اسلام سے بہرہ ور ہوں ، میرے چہرہ نے اسی ذات کو سجدہ کیا جس نے اس کو پیدا کیا اس کو صورت دی اس کے کان کھولے اور اس کو آنکھ عطا فرمائی اللہ تعالیٰ بہت بابرکت اور بہت بہترین خالق ہے۔ ور پھر سب سے سے آخری دعا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) التحیات اور سلام پھیرنے کے درمیان کرتے وہ یہ ہے۔ ” اللہم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم باء منی انت المقدم وانت المؤخر لا الہ الا انت “۔ یا اللہ میرے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے اور ان گناہوں کو بخش دے جو میں نے پوشیدہ اور علانیہ کیے ہیں اور اس زیادتی کو بخش دے جو مجھ سے سرزد ہوئی ہے اور ان گناہوں کو بخش دے جن کا تو بخوبی علم رکھتا ہے تو ہی عزت و مرتبہ میں آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے ڈالا والا ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ۔ (رواہ الطبرانی وعبدالرزاق وابن ابی شیبہ ، والامام احمد بن حنبل ومسلم فی کتاب صلوۃ المسافرین والدارمی وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن خزیمہ والطحاوی وابن الح اور د وابن حبان فی صحیحہ والدارقطنی والبیہقی)
22660- عن علي رضي الله عنه قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة كبر،" ثم قال: "وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا وما أنا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك أمرت وأنا أول المسلمين، اللهم أنت الملك لا إله إلا أنت، أنت ربي وأنا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، واهدني لأحسن الأخلاق لا يهدي لأحسنها إلا أنت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا أنت، لبيك وسعديك والخير كله في يديك، والشر ليس إليك أنا بك وإليك تباركت وتعاليت أستغفرك وأتوب إليك،" وإذا ركع قال: "اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظمي وعصبي،" وإذا رفع قال: "اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد" وإذا سجد قال: "اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك الله أحسن الخالقين، ثم يكون من آخره ما يقول بين التشهد والتسليم: اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت وما أنت اعلم به مني أنت المقدم وأنت المؤخر لا إله إلا أنت". "ط عب ش حم م 1 والدارمي د ت ن وابن خزيمة والطحاوي وابن الجارود حب قط ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22661 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ ” سبحان ذی الملک والملکوت والجبروت والکبریآء والعظمۃ “۔ رواہ الھاشمی۔ پاک ہے وہ ذات جس کے لیے زمین و آسمان کی بادشاہت ہے اور جس کے لیے قدرت ہے ، بڑائی اور عظمت ہے۔
22661- عن علي أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقول "إذا سجد: سبحان ذي الملك والملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة". "الهاشمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22662 ۔۔۔ عاصم بن ضمرہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) رکوع میں یہ دعا پڑھتے ۔ للہم لک خشعت ولک رکعت ولک اسلمت وبک امنت وانت ربی وعلیک توکلت خشع لک سمعی ولحمی ودمی ومخی وعظمای وعصبی وشعری وبشری سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ “۔ یا اللہ میں تیرے ہی آگے جھکتا ہوں اور تیرے ہی لیے رکوع کرتا ہوں اور تیرے ہی لیے اسلام لایا ہوں تجھی پر ایمان لایا ہوں اور تو میرا رب ہے ، تجھ ہی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور تیرے ہی لیے میرے کان میرے گوشت پوست میرا خون میرا دماغ میری ہڈیاں میرے پھٹے میرے بال اور میری جلد جھکی ہوئی ہے اللہ پاک ہے اللہ پاک ہے اللہ پاک ہے۔ جب آپ سمع اللہ لمن حمدہ کہتے تو اس کے بعد اللہم ربنا لک الحمد کہتے جب سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ ” اللہم لک سجدت ولک اسلمت لک امنت وعلیک توکلت وانت ربی سجد لک سمعی وبصری ولحمی ودمی وعظامی وعصبی وشعری وبشری سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ “۔ یا اللہ ! میں نے تجھی کو سجدہ کیا اور تیرے ہی لیے اسلام لایا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھی پر بھروسہ کیا تو ہی میرا رب ہے اور تیرے ہی لیے میری قوت سماعت قوت بینائی میرے گوشت پوست میرے خون میری ہڈیوں میرے پٹھوں میرے بالوں اور میری جلد نے سجدہ کیا اللہ پاک ہے اللہ پاک ہے اللہ پاک ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22662- عن عاصم بن ضمرة قال: "كان علي يقول إذا ركع: اللهم لك خشعت ولك ركعت ولك أسلمت وبك آمنت وأنت ربي وعليك توكلت، خشع لك سمعي وبصري ولحمي ودمي ومخي وعظامي وعصبي وشعري وبشري سبحان الله سبحان الله سبحان الله،" فإذا قال: "سمع الله لمن حمده" قال: "اللهم ربنا لك الحمد،" فإذا سجد قال: "اللهم لك سجدت ولك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت، وأنت ربي سجد لك سمعي وبصري ولحمي ودمي وعظامي وعصبي وشعري وبشري سبحان الله سبحان الله سبحان الله". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22663 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم (جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) قیام و قعود (کھڑے رہنے کی حالت اور بیٹھنے کی حالت) میں دعا کرتے تھے جب کہ رکوع و سجدہ میں تسبیحات پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22663- "مسند جابر بن عبد الله رضي الله عنه" كنا ندعو قياما وقعودا ونسبح ركوعا وسجوداً. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22664 ۔۔۔ خالد بن طفیل بن مدرک غفاری (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے دادا مدرک کو مکہ بھیجا تاکہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے آئیں ۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع و سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے : ” اللہم انی اعوذ برضاک من سخطک واعوذ بعفوک من عقوبتک واعوذبک منک لا ابلغ ثناء علیک انت کما اثنیت علی نفسک “۔ ” یا اللہ میں تیری رضاء کے ذریعے تیرے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں تیری عفو و درگزر کے ذریعے تیری سزا سے پناہ مانگتا ہوں اور تیرے غضب سے تیری پناہ مانگتا ہوں میں تیری تعریف کو اس حد تک نہیں پہنچ سکتا جس حد تک تو نے اپنی تعریف کی ہے۔
22664- عن خالد بن الطفيل بن مدرك الغفاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث جده مدركا إلى ابنته يأتي بها من مكة قال: "وكان رسول الله عليه وسلم إذا سجد وركع قال: اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بعفوك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أبلغ ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك". "أبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22665 ۔۔۔ ” مسند رافع بن خدیج (رض) “۔ ربیعہ بن حارث کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” اللہم لک رکعت وبک امنت ولک اسلمت وانت ربی خشع لک سمعی وبصری ولحمی ودمی وعصبی وعظمی ومخی وما ستقلت بہ قدمای للہ رب العالمین ربنا لک الحمد ملء السموات والارض وما شئت من شیء بعد “۔ ” یا اللہ ! میں نے تیرے ہی لیے رکوع کیا اور تجھ پر ہی ایمان لایا اور تیرے ہی لیے اسلام سے بہرہ مند ہوا تو ہی میرا رب ہے اور تیرے ہی لیے میری قوت سماعت قوت بینائی میرے گوشت پوست میرا خون، میرے پٹھے ، میری ہڈیاں میرا دماغ اور میرے قدموں کا استقلال جھکتا ہے اللہ ہی کی ذات تمام جہانوں کی پالنہار ہے۔ رکوع سے اوپر سر اٹھاتے ہوئے سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لحمد کہتے ہوئے یہ دعا پڑھتے اے ہمارے رب آسمانوں اور زمین کے بقدر تیرے لیے حمد ہے اور ان کے بعد جس چیز کو تو وجود دے اس کے بقدر تیری حمد ہے۔ پھر جب سجدہ کرتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ ” اللہم لک سجدت ربک امنت ولک اسلمت وانت ربی سجد وجھی للذی خلقہ وصورہ وشق سمعہ وبصرہ تبارک اللہ رب العالمین “۔ یا اللہ میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا تجھ پر ایمان لایا اور تیرے ہی لیے اسلام لایا تو ہی میرا رب ہے میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا اسے صورت عطا کی اس میں کان پیدا کیے اور آنکھ عطا کی ۔ للہ تعالیٰ بہت برکت والا ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ (رواہ ابن عساکر)
22665- "مسند رافع بن خديج رضي الله عنه" عن ربيعة بن الحارث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا ركع في الصلاة قال: "اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي خشع لك سمعي وبصري ولحمي ودمي وعصبي وعظمي ومخي وما استقلت به قدماي لله رب العالمين" فإذا رفع رأسه قال: "سمع الله لمن حمده ربنا لك الحمد ملء السموات والأرض وما شئت من شيء بعد،" فإذا سجد قال: "اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك أسلمت وأنت ربي سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك الله رب العالمين". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22666 ۔۔۔ ” مسند ابن عباس (رض) “۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) کے یہاں رات گزاری چنانچہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سجدہ میں یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ۔ ” اللہم اجعل فی قلبی نورا واجعل فی سمعی نورا واجعل فی بصری نورا واجعل امامی نورا وجعل خلفی نورا ، واجعل من تحتی نورا و اعظم لی نورا “ ، (رواہ ابن ابی شیبۃ) یا اللہ میرے دل میں نور پیدا فرما میرے کانوں اور آنکھوں میں بھی نور پیدا فرما میرے آگے اور پیچھے نور ہی نور پھیلا دے میرے پاؤں تلے بھی نور رکھ دے اور میرے لیے نور کا ایک بڑا حصہ مقرر فرما ۔
22666- "مسند ابن عباس رضي الله عنهما" بت عند خالتي ميمونة فسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول في سجوده: "اللهم اجعل في قلبي نورا واجعل في سمعي نورا، واجعل في بصري نورا، واجعل أمامي نورا، واجعل خلفي نورا، واجعل من تحتي نورا، وأعظم لي نورا". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22667 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر اٹھا کر سیدھے کھڑے ہوتے تو یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ پھر کہتے ۔ ” اللہم ربنا ولک الحمد ملء السموات وملء الارض وملء ماشئت من شیء بعد ‘ (رض) ۔ ” اللہ تعالیٰ نے اپنی حمد کرنے والے کو سن لیا یا اللہ تو ہمارا رب ہے تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں آسمانوں اور زمین کے برابر ، اور ان کے بعد تو جو کچھ پیدا کرے اس کے برابر ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22667- "أيضا" أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا رفع رأسه من الركوع قال: "سمع الله لمن حمده" ثم يقول: "اللهم ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما شئت من شيء بعد". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22668 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بستر پر گم پایا میں آپ کو تلاش کرنے لگی کہ اتنے میرے ہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر پڑے دراں حالیکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدم مبارک کھڑے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جائے نماز پر محو سجدہ تھے اور یہ دعا پڑھ رہے تھے ۔ ” اللہم انی اعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک واعوذبک منک الا احصی ثناء علیک انت کما النیت علی نفسک “۔ ” یا اللہ ! میں تیری رضا کے ذریعے تیرے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری عفو درگزر کے ذریعے تیری عقوبت سے پناہ مانگتا ہوں میں تیرے غیظ وغضب سے تیری پناہ چاہتا ہوں میں اس طرح سے تیری ثناء نہیں کرسکتا ہوں جس طرح تو نے اپنی ثناء کی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ)
22668- عن عائشة قالت: "فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة في الفراش والتمسته فوقعت يدي على بطن قدميه وهو في المسجد وهما منصوبتان وهو" يقول: "اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وبمعافاتك من عقوبتك، وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك وفي لفظ: لا أبلغ مدحتك، ولا أحصي ثناء إلى آخره". "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22669 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گم پایا میں آپ کی تلاش میں لگ گئی میں سمجھی شاید آپ اپنی کسی باندی یہ بیوی کے پاس چلے گئے ہیں ، اچانک میں دیکھتی ہوں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں ہیں اور یہ دعا پڑھ رہے ہیں۔ ” اللہم اغفرلی ما اسررت وما اعلنت “۔ یا اللہ میرے وہ گناہ معاف فرما دے جو میں نے پوشیدہ طور پر کئے یا اعلانیہ کیے ۔
22669- عن عائشة طلبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة فلم أجده فظننت أنه أتى بعض جواريه أو نسائه، فرأيته وهو ساجد وهو يقول: اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22670 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع و سجدہ میں اکثر یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” سبحانک اللہم وبحمدک اللہم اغفرلی “۔ یا اللہ تو پاک ہے اور تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں یا اللہ میری مغفرت کر دے ۔
22670- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكثر أن يقول في ركوعه وسجوده: سبحانك اللهم وبحمدك اللهم اغفر لي يتأول القرآن يعني {إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ} . "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22671 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گم پا کر تلاش کرنا شروع کیا اتنے میں میرے ہاتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں پر لگے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں یہ دعا پڑھ رہے تھے ۔ ” سبحان ربی ذی الملکوت والجبروت والکبیریاء والعظمۃ اعوذ برضاک من سخطک وبمعافاتک من عقوبتک واعوذبک منک الا احصی ثناء علیک انت کما النیت علی نفسک “۔ ” پاک ہے میرا رب جو بادشاہت اور قدرت والا ہے بڑائی اور عظمت والا ہے میں تیری رضاء کے ذریعے تیرے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں اور تیری عفو درگزر کے ذریعے تیری عقوبت سے پناہ مانگتا ہوں میں تیرے غیظ وغضب سے تیری پناہ چاہتا ہوں میں اس طرح سے تیری ثناء نہیں کرسکتا ہوں جس طرح تو نے اپنی ثناء کی ہے۔
22671- عن عائشة قالت: "قمت ذات ليلة ألتمس النبي صلى الله عليه وسلم في جوف الليل فوقعت يدي على بطن قدم النبي صلى الله عليه وسلم وهو ساجد وهو يقول: سبحان ربي ذي الملكوت والجبروت والكبرياء والعظمة أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمغفرتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصى ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22672 ۔۔۔ ـحضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ میں یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” سبوحا وقدوسا رب الملائکۃ والروح “۔ یا اللہ تو پاک اور بزرگی والا ہے تو ہی فرشتون اور روح الامین ( جبرائیل ) کا رب ہے۔
22672- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول في سجوده وفي ركوعه: " سبوحا قدوسا رب الملائكة والروح". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22673 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” سمع المن حمدہ “ کہنے کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے ۔ ” اللہم ربنا لک الحمد ملء السموات والارض وملء ماشئت من شیء بعد “۔ ” یا اللہ ! اے ہمارے رب آسمانوں اور زمین کے بھرنے کے برابر تیرے لیے حمد ہے اور ان کے بعد تو جو پیدا کرے اس کے بھرنے کے برابر تیرے لیے حمد ہے۔ (رواہ البزار)
22673- عن ابن عباس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم" إذا قال: "سمع الله لمن حمده" قال: "اللهم ربنا لك الحمد ملء السموات والأرض وملء ما شئت من شيء بعد". "ز".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22674 ۔۔۔ ام الحسن کی روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ (رض) سجدہ میں یہ دعا پڑھتی تھیں۔ ” اللہم اغفر وارحم واھدنا السبیل الاقوم “۔ یا اللہ میری بخشش فرما اور مجھ پر رحم کر اور ہمیں سیدھی راہ دکھا۔
22674- عن أم الحسن أنها سمعت أم سلمة تقول في سجودها في صلاتها: اللهم اغفر وارحم، واهدنا السبيل الأقوم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22675 ۔۔۔ ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) رکوع میں ” سبحان ربی العظیم “۔ تین یا تین سے زیادہ مرتبہ کہتے اور جب سجدہ کرتے تو تین یا تین سے زیادہ مرتبہ ” سبحان ربی الاعلی وبحمدہ “۔ کہتے ابو عبیدہ کہتے ہیں کہ میرے والد کا بیان ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہی اذکار نماز میں پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22675- عن أبي عبيدة بن عبد الله بن مسعود أن ابن مسعود كان إذا ركع قال: "سبحان ربي العظيم ثلاثا فزيادة" وإذا سجد قال: "سبحان ربي الأعلى وبحمده ثلاثا فزيادة" قال أبو عبيدة: "وكان أبي يذكر أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقوله". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22676 ۔۔۔ مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ ایک صحابی نے رکوع سے سر اٹھایا تو کہا : ” ربنا لک الحمد حمدا کثیرا طیبا مبارکا فیہ “۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پوری کی تو فرمایا : یہ کلمات کس نے کہے ہیں ، وہ صحابی خاموش رہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : یہ کلمات کس نے کہے ہیں ؟ وہ صحابی (رض) بولے : یا رسول اللہ ! میں نے کہے ہیں : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بارہ فرشتے ان کلمات کو لکھنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جا رہے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22676- عن مجاهد قال: "قال رجل حين رفع رأسه من الركعة: ربنا لك الحمد حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، فلما قضى النبي صلى الله عليه وسلم صلاته" قال: "من القائل الكلمات؟ فسكت الرجل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "من قائلها؟ " فقال الرجل: أنا يا رسول الله،" قال النبي صلى الله عليه وسلم: "لقد ابتدرها اثنا عشر ملكا، كلهم يكتبها". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ارکان صلوۃ کے مختلف اذکار ۔۔۔ رکوع و سجود کے مسنون اذکار :
22677 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ” سمع اللہ لمن حمدہ “۔ کہنے کے بعد ” اللہم ربنا ولک الحمد اللہم بحولک وقوتک اقوم واقعد “۔ (یا اللہ اے ہمارے رب تمام تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں ، یا اللہ میں تیری ہی طاقت اور قوت سے کھڑا ہوتا ہوں اور بیٹھا ہوں) (رواہ عبدالرزاق، والبیہقی)
22677- عن علي أنه كان إذا قال: "سمع الله لمن حمده" قال: "اللهم ربنا ولك الحمد، اللهم بحولك وقوتك أقوم وأقعد". "عب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৬৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذکر بعد از نماز :
22678 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ ذکر کے ساتھ آواز بلند کرنا جس وقت کہ لوگ فرض نماز سے فارغ ہوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ہوتا تھا ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں جب لوگ نماز سے فارغ ہوتے تو میں اسے سنتا تو بخوبی جان لیتا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق، والبخاری فی کتاب الصلوۃ) فائدہ : ۔۔۔ اس ذکر سے وہ ذکر مراد نہیں جو ہندوستان وپاکستان میں بعض لوگوں نے رواج بنالیا ہے اور اسے ذکر بالجھر بعد از صلوۃ کا نام دیا گیا ہے اس ذکر کا بدعت ہونا دلائل سے ثابت ہوچکا ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے دور میں جو ذکر ہوتا تھا یا جس کا بیان حدیث بالا میں ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد ہلکی دھیمی آواز سے اللہ اکبر سبحان اللہ یا الحمد اللہ کہنا ہے۔
22678- عن ابن عباس أن رفع الصوت بالذكر حين ينصرف الناس من المكتوبة كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، قال ابن عباس: "كنت أعلم إذا انصرفوا بذلك إذا سمعته". "عب" [خ كتاب الصلاة 1/213] .
tahqiq

তাহকীক: