কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৬৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لواحق صلوۃ۔
22679 ۔۔۔ ” مسند صدیق (رض) “۔ عبدالرزاق کی روایت ہے کہ اہل مکہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے نماز عطاء سے حاصل کی ہے ، عطاء نے ابن زبیر (رض) سے حاصل کی انھوں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور انھوں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اور میں نے ابن جریج سے زیادہ اچھی نماز پڑھتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ۔ (رواہ الامام احمد بن حنبل ، والدارقطنی فی الافراد وقال تفرد بہ عبدالرزاق عن ابن جریج ورواہ البیہقی)
22679- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن عبد الرزاق قال: "أهل مكة يقولون أخذ ابن جريج الصلاة من عطاء، وأخذها عطاء من ابن الزبير، وأخذها ابن الزبير عن أبي بكر، وأخذها أبو بكر من النبي صلى الله عليه وسلم ما رأيت صلاة أحسن من ابن جريج". "حم قط في الأفراد وقال: تفرد به عبد الرزاق عن ابن جريج". "ق" وزاد: وأخذها النبي صلى الله عليه وسلم عن جبريل وأخذها جبريل من الله تبارك وتعالى: قال عبد الرزاق: وكان ابن جريج يرفع يديه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
اور بیہقی (رح) نے ان الفاظ کی زیادتی بھی نقل کی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) سے حاصل کی اور حضرت جبرائیل امین (علیہ السلام) نے براہ راست اللہ عزوجل سے حاصل کی عبدالرزاق کہتے ہیں کہ ابن جریج نماز میں رفع یدین کرتے تھے ۔
22680- "مسند بلال" عن جبير بن مطعم كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر له فقال: "من يكلؤنا الليلة لا يرقد عن صلاة الفجر؟ " فقال بلال: "أنا فاستقبل مطلع الشمس فضرب على آذانهم حتى أيقظهم حر الشمس، ثم قاموا فقادوا ركابهم، ثم توضأوا وأذن بلال، ثم صلوا ركعتي الفجر، ثم صلوا الفجر". "حم ن والطحاوي طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22680 ۔۔۔ ” مسند بلال (رض) “۔ حضرت جبیر بن مطعم (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے چنانچہ ایک جگہ رات ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے لیے رات کا کون انتظار کرے گا تاکہ ہمیں نماز فجر کے لیے جگا دے ؟ بلال (رض) نے کہا یہ کام میں کروں گا چنانچہ بلال (رض) مطلع آفتاب کی طرف منہ کرکے لیٹ گئے لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ایسی گہری نیند سوئے کہ انھیں سورج کی تپش نے جگایا پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اٹھے اور اپنی سواریوں کو کھینچنے لگے پھر سب نے وضو کیا اور بلال (رض) نے اذان دی اور سب نے فجر کی دو سنتیں پڑھیں اور پھر دو فرض پڑھے ۔ (رواہ الامام احمد بن حنبل (رح) فی مسندہ والطحاوی والطبرانی)
22681- "مسند جندب بن عبد الله" سافرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم سفرا فأتاه قوم فقالوا: "يا رسول الله سهونا عن الصلاة فلم نصل حتى طلعت الشمس،" فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "توضأوا وصلوا" ثم قال: "إن هذا ليس بالسهو إن هذا من الشيطان، فإذا أخذ أحدكم مضجعه من الليل فليقل: بسم الله أعوذ بالله من الشيطان الرجيم". "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22681 ۔۔۔ ” مسند جندب بن عبداللہ (رض) “۔ جندب بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر کیا دوران سفر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم فجر کی نماز بھول گئے حتی کہ سورج طلوع ہوگیا (یعنی ہم سو گئے بیدار نہیں ہو سکے) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وضو کرکے نماز پڑھ لو پھر فرمایا : یہ بھول نہیں یہ تو شیطان کی وجہ سے ہے جب بھی تم بستر پر رات کو لیٹنے جاؤ تو یہ دعا پڑھ لیا کرو۔ ” بسم اللہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم “۔ رواہ الطبرانی۔
22682- "أيضا" لما نمنا عن الصلاة فاستيقظنا قلنا: يا رسول الله ألا نصلي كذا وكذا؟ قال: "أينهانا ربنا عن الربا ويقبله منا إنما التفريط في اليقظة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22682 ۔۔۔ حضرت جندب بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ جب ہم سو گئے اور نماز نہ پڑھ سکے اور جب بیدار ہوئے تو ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا ہم فلاں فلاں نماز نہ پڑھیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا ہمارا رب ہمیں اضافہ سے منع فرماتا ہے حالانکہ وہ قبول فرماتا ہے ، بلاشبہ زیادتی تو بیداری میں ہوتی ہے۔ (رواہ عبدالرزاق)
22683- "مسند حصين بن جندب" عن جندب بن أبي جندب عن أبيه حصين بن جندب قال: "كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فشكا إليه قوم" فقالوا: "إنما نمنا عن الصلاة حتى طلعت الشمس، فأمرهم أن يؤذنوا ويقيموا فإن ذلك من الشيطان ويتعوذوا بالله من الشيطان". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22683 ۔۔۔ مسند حصین بن جندب “۔ جندب بن جندب اپنے والد حصین بن جندب سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ کچھ لوگوں نے آکر شکایت کی کہ ہم صبح کو سوتے رہے نماز نہیں پڑھ سکے حتی کہ سورج طلوع ہوگیا ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ اذان دو اور پھر اقامت کہہ کر نماز پڑھو بلاشبہ یہ غفلت شیطان کی طرف سے ہوتی ہے اور شیطان مردود سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی پناہ مانگا کرو ۔ (رواہ ابو نعیم)
22684- "مسند أبي جحيفة" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفره الذي ناموا فيه حتى طلعت الشمس، ثم قال: "إنكم كنتم أمواتا فرد الله إليكم أرواحكم فمن نام عن صلاة أو نسي صلاة، فليصلها إذا ذكرها وإذا استيقظ". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22684 ۔۔۔ ابو جحیفہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک سفر میں تھے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سوتے رہے حتی کہ سورج طلوع ہوگیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بلاشبہ تم مردہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحوں کو واپس لوٹا دیا جو بھی سوتا رہے اور نماز رہ جائے یا نماز کو بھول جائے تو جب وہ بیدار ہو یا یاد آئے تو نماز پڑھ لے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22685- عن أبي جمعة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى المغرب ونسي العصر، فقال لأصحابه: هل رأيتموني صليت العصر؟ قالوا: "لا يا رسول الله فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤذن فأذن، ثم أقام فصلى العصر ونقض الأولى ثم صلى المغرب". "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22685 ۔۔۔ حضرت ابو جمعہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغرب کی نماز پڑھی اور عصر کی نماز بھول گئے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : کیا تم نے مجھے عصر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے آپ کو نہیں دیکھا : پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مؤذن کو حکم دیا اس نے اذان دی پھر اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز پڑھی جب کہ مغرب کی پہلی پڑھی ہوئی نماز توڑی اور پھر مغرب کی نماز پڑھی ۔ (رواہ ابونعیم)
22686- "مسند أبي قتادة" سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن في سفر ذات ليلة فقلنا: يا رسول الله لو عرست بنا؟ فقال: إني أخاف أن تناموا عن الصلاة فمن يوقظنا، فقال بلال: أنا يا رسول الله، فعرس بالقوم واضطجعوا، واستند بلال إلى راحلته فغلبته عيناه، واستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد طلع حاجب الشمس، فقال: يا بلال أين ما قلت لنا؟ فقال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق ما ألقيت علي نومة مثلها قط فقال: إن الله قبض أرواحكم حين شاء، وردها عليكم حين شاء، ثم أمرهم فانتشروا لحاجتهم وتوضأوا وارتفعت الشمس فصلى بهم الفجر". "ش وأبو الشيخ في الأذان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22686 ۔۔۔ ” ابوقتادہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ رات کو ہمارے ساتھ آرام فرما لیں ؟ حکم ہوا مجھے خوف ہے کہ تم سوتے رہو گے اور نماز فوت ہوجائے گی (سو اگر یہی بات ہے تو پھر) ہمیں جگائے گا کون بلال (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں جگاؤں گا ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سمیت رات کے پچھلے پہر میں آرام کیا اور لیٹ گئے جب کہ بلال (رض) نے اپنے کجاوہ کے ساتھ ٹیک لگالی اور ان پر نیند کا سخت غلبہ ہوا ، بالآخر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے دراں حالیکہ سورج طلوع ہوچکا تھا ، ارشاد فرمایا : اے بلال تمہاری بات کہاں ہوئی ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ! قسم اس ذات کی جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو برحق مبعوث کیا ہے مجھ پر نیند کا ایسا غلبہ کبھی نہیں ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا تمہاری روحوں کو قبض کرلیا اور جب چاہا تمہاری روحوں کو واپس لوٹا دیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ اپنی اپنی حاجت سے فارغ ہو لو اور وضو کرو اتنے میں سورج بلند ہوچکا تھا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو فجر کی نماز پڑھائی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، وابو الشیخ فی الاذان)
22687- "مسند مالك" عن يزيد بن أبي مريم عن أبيه قال: "نام رسول الله صلى الله عليه وسلم في وجه الصبح، فلم يستيقظ حتى طلعت الشمس فاستيقظ، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم المؤذن فأذن، ثم صلى ركعتين، ثم أمره فأقام فصلى الفجر". "البغوي كر. وقال البغوي: "ولا أعلم روى ابن أبي مريم غير ثلاثة أحاديث".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22687 ۔۔۔ یزید بن مریم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کو سوتے رہے اور طلوع شمس تک بیدار نہیں ہوئے پھر جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے اذان دی اور دو رکعتیں پڑھیں اور پھر فجر کی نماز (فرض) پڑھی۔ (رواہ البغوی وابن عساکر وقال البغوی : لااعلم روی ابن ابی مریم غیر ثلاثۃ احادیث) یعنی مجھے ابن ابی مریم کی تین احادیث کے سوا کوئی اور حدیث معلوم نہیں ہوئی ۔
22688- "مسند أبي هريرة" عرسنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فلم نستيقظ حتى آذتنا الشمس، فقال لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ليأخذ كل رجل منكم برأس راحلته، ثم ليتنح عن هذا المنزل، ثم دعا بماء فتوضأ فسجد سجدتين، ثم أقيمت الصلاة فصلى. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22688 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی راویت ہے کہ ایک رات ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ پڑاؤ کیا اور ہم سو گئے حتی کہ سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس جگہ سے کوش کرنے کا حکم دیا پھر (کچھ آگے جا کر) پانی منگوایا اور وضو کرکے دو رکعتیں پڑھیں پھر اقامت کہی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعتیں پڑھیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22689- عن عثمان بن موهب قال: "سمعت أبا هريرة وسأله رجل عن التفريط في الصلاة أن يؤخرها إلى الوقت التي بعدها، فمن فعل ذلك فقد فرط". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22689 ۔۔۔ عثمان بن موھب (رح) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا کہ تفریط فی الصلواۃ (نماز میں کمی زیادتی) کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جواب دیا کہ نماز کو اس کے وقت سے اتنا مؤخر کیا جائے کہ بعد کی نماز کا وقت آجائے سو جس نے بھی ایسا کیا وہ تفریط کا شکار ہوا ۔ (رواہ عبدالرزاق، فی مصنفہ)
22690- عن أبي هريرة قال: "إن خشيت من الصبح فواتا فبادر بالركعة الأولى الشمس فإن سبقت بها الشمس فلا تعجل بالآخرة أن تكملها". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22690 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں صبح کی نماز فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو طلوع شمس سے پہلے پہلے فجر کی ایک رکعت پڑھ لو بالفرض اگر سورج طلوع ہی ہوجائے تو دوسری رکعت پڑھنے میں جلد بازی سے کام مت لو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22691- "مسند ابن عباس رضي الله عنهما" كان النبي صلى الله عليه وسلم في سفر فعرس 1 بأصحابه فلم يوقظهم مع تعريسهم إلا الشمس، فقام فأمر المؤذن فأذن وأقام ثم صلى. "ش عنه عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تیسرا باب : ۔۔۔ قضائے صلوۃ کے بیان میں :
22691 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ ایک سفر میں تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سمیت رات کے پچھلے پہر نزول کیا اور سو گئے اور سوتے رہے حتی کہ سورج کی تپش نے انھیں جگایا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور موذن کو حکم دیا موذن نے اذان دی اور پھر اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر نماز پڑھی ، (رواہ ابن ابی شیبۃ ، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض))
22692- "مسند ابن مسعود" سرينا ذات ليلة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا: يا رسول الله لو أمستنا الأرض فنمنا ورعت ركابنا، قال: "فمن يحرسنا؟ قلت: أنا فغلبتني عيناي فلم يوقظنا إلا وقد طلعت الشمس ولم يستيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا بكلامنا، فأمر بلالا فأذن وأقام فصلى بنا". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22692 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ایک رات ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ محوسفر تھے ہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر آپ رات کو کسی جگہ نزول کریں تاکہ ہم سویں اور ہماری سواریوں کے جانور بھی چر لیں ؟ حکم فرمایا : ہمیں جگائے گا کون ؟ میں نے عرفض کیا میں جگاؤں ۔ چنانچہ مجھ پر نیند کا سخت غلبہ ہوا اور ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا جب ہم اٹھے تو ہماری باتوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بیدار کیا آپ نے بلال (رض) کو اذان کا حکم دیا پھر بلال (رض) نے اقامت کہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ فی مصنفہ) فائدہ : ۔۔۔ آپ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا سو جانا اور نماز کا فوت ہوجانا غفلت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ یہ حکمت خداوندی تھی تاکہ امت کو نماز کے فوت ہوجانے پر اس کی قضاء کی تعلیم ہوجائے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
22693- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن أبي العالية قال: "خطبنا أبو بكر الصديق" فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "للظاعن ركعتان وللمقيم أربع مولدي بمكة ومهاجري بالمدينة، فإذا خرجت مصعدا من ذي الحليفة صليت ركعتين حتى أرجع". "ابن جرير حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22693 ۔۔۔ ابو عالیہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے کہ مسافر دو رکعتیں پڑھے گا اور مقیم چار رکعتیں میرے جائے پیدائش مکہ ہے اور میں ہجرت کرکے مدینہ آچکا ہوں جب میں مکہ جا رہا ہوتا ہوں اور مقام ذوالحلیفہ پہنچ کر دو رکعت پڑھتا ہوں تاوقتیکہ واپس نہ لوٹ آؤں ۔ (رواہ ابن جریر ، و ابونعیم فی الحلیہ وذخیرۃ الحفاظ)
22694- "مسند عمر رضي الله عنه" عن شرحبيل بن السمط قال: "رأيت عمر بن الخطاب بذي الحليفة يصلي ركعتين فسألت فقال: إنما أفعل كما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل". "ش حم م ن وابن جرير، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22694 ۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “۔ شرجیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کو مقام ذوالحلفیہ میں دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہی میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ (رض) نے فرمایا : میں ویسا ہی کررہا ہوں جیسا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کرتے دیکھا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ، والامام احمد بن حنبل ، ومسلم والنسائی وابن جریر، والبیہقی)
22695- عن عمر قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة ركعتين". "ط والطحاوي حل ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22695 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ تمیم داری (رض) نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) سے سمندری سفر کے متعلق پوچھا (کہ آیا سمندر میں سفر کرنے والا قصر کرے گا یا نہیں) چنانچہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے انھیں قصر صلوۃ کا حکم دیا اور یہ آیت تلاوت کی ۔ ” ھوالذی یسیرکم فی البر والبحر “۔ ” اللہ وہ ذات ہے جو تمہیں خشکی اور تری میں سفر کی توفیق دیتا ہے۔ (رواہ البیہقی)
22696- عن ابن عمر أن تميما الداري سأل عمر بن الخطاب عن ركوب البحر، فأمره بتقصير الصلاة قال: "يقول الله: {هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ} ". "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22697 ۔۔۔ اسلم کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) خبیر جاتے ہوئے بھی قصر کرتے تھے ۔ (رواہ المالک وعبدالرزاق ، والبیہقی)
22697- عن أسلم أن عمر قصر الصلاة إلى خيبر. "مالك عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৬৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22698 ۔۔۔ اسلم کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو دو رکعتیں پڑھتے اور اعلان کرتے کہ اے اہل مکہ ! اپنی نمازوں کو پورا کرو چونکہ ہم مسافر لوگ ہیں۔ (رواہ مالک وعبدالرزاق وابن جریر والطحاوی والبیہقی)
22698- عن أسلم أن عمر بن الخطاب كان إذا قدم مكة صلى بهم ركعتين ثم قال: "يا أهل مكة أتموا صلاتكم فإنا قوم سفر". "مالك عب وابن جرير والطحاوي ق".
তাহকীক: