কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৬৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22699 ۔۔۔ عبداللہ بن مالک ازدی (رح) کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے ساتھ نماز پڑھی چنانچہ آپ (رض) نے مغرب اور عشاء کی نماز کو جمع کرکے پڑھا مغرب کی تین رکعتیں پڑھیں اور عشاء کی دو رکعتیں ۔ (رواہ ابن سعد)
22699- عن عبد الله بن مالك الأزدي قال: "صليت مع عمر بن الخطاب فجمع المغرب ثلاثا والعشاء ركعتين". "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22700 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ تین دن کی مسافت پر نماز قصر کی جائے گی ۔ (رواہ ابن جریر)
22700- عن عمر قال: "تقصر الصلاة في مسيرة ثلاث ليال". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22701 ۔۔۔ عبدالرحمن بن حمید (رح) کے آزاد کردہ غلام سالم روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے منی میں پوری نماز پڑھی اور پھر لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! سنت تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو صاحبین کی سنت ہے لیکن عام لوگوں نے نئی بات ایجاد کرلی ہے مجھے خوف ہے کہیں اسے سنت نہ بنالیں ۔ (رواہ البیہقی وابن عساکر)
22701- عن سالم مولى عبد الرحمن بن حميد أن عثمان بن عفان أتم الصلاة بمنى، ثم خطب الناس فقال: "أيها الناس إن السنة سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وسنة صاحبيه، ولكن حدث العام من الناس فخفت أن يستنوا". "ق، كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22702 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے منی میں پوری نماز پڑھی چونکہ اس سال اعراب (گنواروں) کی تعدادزیادہ تھی چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو چار رکعات پڑھائیں تاکہ اعراب کو پتہ چل جائے کہ فی الواقع ظہر کی چار رکعتیں ہیں ، (رواہ البیہقی)
22702- عن الزهري أن عثمان بن عفان أتم الصلاة بمنى من أجل الأعراب لأنهم كثروا عامئذ، فصلى بالناس أربعا ليعلمهم أن الصلاة أربع. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22703 ۔۔۔ قتادہ (رح) کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے اپنے گورنروں کو خط لکھا ہے کہ مقیم دیہاتی اور تاجر دو رکعتیں پڑھیں گے البتہ جس کے پاس زاد راہ ہو اور دور سے سفر کرکے آیا ہو وہ دو رکعتیں پڑھے گا (رواہ عبدالرزاق)
22703- عن قتادة كتب عثمان إلى بعض عماله أنه لا يصلي الركعتين المقيم ولا البادي ولا التاجر إنما يصلي الركعتين من معه الزاد والمزاد. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22704 ۔۔۔ ابو مہلب کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے خط لکھا ہے کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ کچھ لوگ بغرض تجارت یا وصولی ٹیکس یا اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے اپنے گھروں سے نکلتے ہیں تو وہ نماز میں قصر کرتے ہیں جب کہ قصر تو وہ آدمی کرے گا جو مسافر ہو یا دشمن کے مقابل ہو۔ (رواہ عبدالرزاق، وابو عبید فی الغریب والطحاوی)
22704- عن أبي المهلب قال: "كتب عثمان أنه بلغني أن قوما يخرجون إما لتجارة أو لجباية وإما لحشرية 1 يقصرون الصلاة وإنما يقصر الصلاة من كان شاخصا أو بحضرة عدو. "عب وأبو عبيد في الغريب والطحاوي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22705 ۔۔۔ ” مسند علی (رض) “۔ عاصم بن ضمرہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا کہ جو آدمی بھی ارض بیابان کی طرف نکلے اسے چاہیے کہ نماز کے وقت کا دھیان رکھے اور اپنے دائیں بائیں نظر دوڑا کر کسی اچھی اور عمدہ جگہ کو تلاش کرے جہاں وہ پڑاؤ کرکے نماز پڑھے چونکہ زمین کی ہر جگہ مسلمانوں کی تلاش میں ہوتی ہے اور ہر جگہ پسند کرتی ہے کہ اس میں اللہ عزوجل کا ذکر کیا جائے اب اس آدمی کو اختیار ہے چاہے تو اذان اور اقامت کہہ کر نماز پڑھے چاہے تو صرف اقامت کہہ کر نماز پڑھے (رواہ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ)
22705- "مسند علي رضي الله عنه" عن عاصم بن ضمرة عن علي قال: "أيما رجل خرج في أرض قي يعني قفرا فليتحين للصلاة ويرمي ببصره يمينا وشمالا فلينظر أسهلها موطنا وأطيبها لصلاة فإن البقاع تنافس الرجل المسلم، كل بقعة تحب أن يذكر الله فيها، فإن شاء أذن وأقام، وإن شاء أقام ويصلي". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22706 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسافر کی نماز دو دو رکعتیں پڑھی ہیں سوائے مغرب کے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مغرب کی تین رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ، وابن منیع والعدنی ومسدد البزار) کلام : ۔۔۔ بزار (رح) نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
22706- عن علي قال: "صلينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة المسافر ركعتين ركعتين إلا المغرب فإنه صلاها ثلاثا". "ش وابن منيع والعدني ومسدد والبزار وضعف".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22707 ۔۔۔ عاصم بن ضمرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے دوران سفر عصر کی دو رکعتیں پڑھیں پھر آپ (رض) خیمہ میں داخل ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں میں آپ (رض) کو دیکھ رہا تھا ۔ (رواہ مسدد)
22707- "أيضا" عن عاصم بن ضمرة قال: "صلى علي العصر في السفر ركعتين ثم دخل فسطاطا فصلى ركعتين وأنا أنظر". "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22708 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کا فرمان ہے کہ مسافر کی نماز دو رکعتیں ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
22708- عن علي قال: "صلاة المسافر ركعتان". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22709 ۔۔۔ ابو حرب بن ابواسود دولی کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) جب بصرہ کی طرف عازم سفر ہوتے اور گھاس پھونس کے بنے جھونپڑوں کو دیکھتے تو کہتے اگر جھونپڑے نہ ہوتے تو ہم دو رکعتیں پڑھتے ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن جریر)
22709- عن أبي حرب بن أبي الأسود الدؤلي أن عليا لما خرج إلى البصرة رأى خصا 1 فقال: لولا هذا الخص لصلينا ركعتين. "عب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22710 ۔۔۔ علی بن ابی ربعیہ اسدی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے ساتھ نکلے درآں حالیکہ ہم کوفہ کو دیکھ رہے تھے چنانچہ آپ (رض) نے دو رکعتیں پڑھیں ، پھر ہم واپس لوٹے تو آپ (رض) نے پھر دو رکعتیں پڑھیں ، حالانکہ ہم بستی کو دیکھ رہے تھے ہم نے عرض کیا : کیا آپ چار رکعتیں نہیں پڑھیں گے ؟ فرمایا نہیں تاوقتیکہ ہم شہر میں داخل ہو لیں ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن عدی فی الکامل)
22710- عن علي بن أبي ربيعة الأسدي قال: "خرجنا مع علي ونحن ننظر إلى الكوفة فصلى ركعتين، ثم رجعنا فصلى ركعتين وهو ينظر إلى القرية، فقلنا له: ألا تصلي أربعا؟ " قال: "حتى ندخلها". "عب عد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22711 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم کسی جگہ دس دن قیام کرو تو نماز کو پوری پڑھو اور اگر تم اس تردد میں رہے کہ آج یا کل یہاں سے نکل جاؤ گے تو دو رکعتیں پڑھو گے کہ تم مہینہ بھر اسی تردد میں گزار دو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22711- عن علي قال: "إذا أقمت بأرض عشرا فأتم، فإن قلت: أخرج اليوم أو غدا فصل ركعتين، وإن أقمت شهرا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22712 ۔۔۔ ثویر بن ابو فاختہ کی روایت ہے کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرض نماز سے پہلے نفل پڑھتے تھے اور نہ ہی بعد میں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22712- عن ثوير بن أبي فاختة أن عليا كان لا يتطوع في السفر قبلها ولا بعدها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22713 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبوک میں بیس دن قیام کیا اور اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں قصر کرتے رہے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22713- عن جابر قال: "أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بتبوك عشرين ليلة يقصر الصلاة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22714 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اٹھارہ دن تک قیام کیا اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو دو رکعتیں (یعنی نماز میں قصر کیا) پڑھتے رہے اور پھر اہل شہر سے کہہ دیتے کہ تم چار رکعتیں پڑھ لو چونکہ ہم مسافر لوگ ہیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22714- "أيضا" أقمت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام الفتح بمكة فأقام ثمان عشرة لا يصلي إلا ركعتين، ثم يقول لأهل البلد: صلوا أربعا فإنا قوم سفر. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22715 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک سفر میں ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تے چنانچہ ہم رات بھر محو سفر رہے حتی کہ رات کے آخری پہر میں ہم نے سفر موقوف کیا بلاشبہ اس طرح کا وفقہ مسافر کے نزدیک بڑا لذیذ ہوتا ہے الغرض ہم گہری نیند سوتے رہے اور ہمیں سورج کی تپش نے جگایا سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) تکبیر کہنے لگے ، اور جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو لوگوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گہری نیند سوتے رہنے کی شکایت کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کچھ ضرر کی بات نہیں (فی الحال) یہاں سے کوچ کرو چنانچہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین وہاں سے چل دیے اور تھوڑا آگے جا کر نزول کیا ، اذان دی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔ (رواہ ، ابن ابی شیبۃ)
22715- "أيضا" كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر، وإنا سرينا ليلة حتى إذا كان آخر الليل وقفنا تلك الوقفة ولا وقفة عند المسافر أحلى منها، فما أيقظنا إلا حر الشمس، فجعل عمر يكبر، فلما استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم شكا الناس إليه ما أصابهم، فقال: لا ضير فارتحلوا فساروا غير بعيد، ثم نزل فنودي بالناس فصلى بالناس". "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22716 ۔۔۔ ابو جحیفہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مقام ایطح میں عصر کی نماز (چار رکعت کی بجائے) دو رکعتیں پڑھیں ۔ (رواہ ابن النجار)
22716- عن أبي جحيفة قال: "صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بالأبطح صلاة العصر ركعتين. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22717 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک دمی نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سفر میں (چار رکعت والی نماز کی) دو رکعتیں پڑنی ہیں۔ (ابن جریر وصححہ)
22717- عن أبي هريرة أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن الصلاة في السفر؟ فقال: ركعتين. "ابن جرير: وصححه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22718 ۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا : کیا میں دوران سفر نماز میں قصر کرسکتا ہوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جی ہاں بلاشبہ اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اس کی دی ہوئی رخصت پر عمل کیا جائے جیسا کہ وہ اپنے فرائض پر عمل کرنا پسند فرماتا ہے۔ (رواہ ابن جریر وصححہ ۔
22718- عن أبي هريرة أن رجلا قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: "أقصر الصلاة في سفري؟ " قال: "نعم إن الله يحب أن يؤخذ برخصه كما يحب أن يؤخذ بفريضته". "ابن جرير: وصححه".
তাহকীক: