কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৭১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22719 ۔۔۔ ” مسند ابن عباس (رض) “۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ سفر کرتے اور سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرتے تھے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (چار رکعت والی نماز میں قصر کرکے) دو رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق والترمذی وقال صحیح والنسائی وابن جریر ، وصححہ وایضا صححہ عبدالرزاق)
22719- "مسند ابن عباس" كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسافر من المدينة إلى مكة لا يخاف إلا الله فيصلي ركعتين. "عب ت وقال: صحيح ن وابن جرير وصححه أيضا عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22720 ۔۔۔ ابن جریر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حمید ضمیر (رض) نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے پوچھا : میں مسافر ہوں آیا کہ دوران سفر نماز میں قصر کروں یا نماز پوری پڑھوں ؟ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے فرمایا : تم قصر نہیں کرو گے بلکہ پوری نماز پڑھو گے ۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےخوف سفر پر نکلتے تھے اور سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے تھے آپ (چار رکعت والی نماز) دو رکعت پڑھتے تھے حتی کہ واپس لوٹ آتے پھر ان کے بعد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) سفر پر نکلتے تھے اور وہ بھی سوائے اللہ تبارک وتعالیٰ کے کسی سے نہیں ڈرتے تھے اور وہ بھی دو رکعتیں پڑھتے تھے حتی کہ سفر سے واپس لوٹ آتے ۔ پھر ان کے بعد سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بھی اور سوائے اللہ کے کسی سے نہیں ڈرتے تھے دوران سفر دو رکعتیں پڑھتے تھے حتی کہ واپس لوٹ آتے پھر ان کے بعد سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) اپنے دور خلافت کے ابتدائی تہائی حصہ میں ایسا ہی کرتے تھے لیکن اس کے بعد انھوں نے چار رکعتیں پڑھیں (قصر نہیں کی ) پھر بنوامیہ نے بھی اسی کو لے لیا (یعنی سفر میں قصر کی بجائے چار رکعتیں پوری پڑھنے لگے ) ابن جریج کہتے ہیں ہمیں خبر پہنچی کہ سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) نے صرف منی میں چار رکعتیں پڑھی ہیں چونکہ ایک اعرابی نے مسجد خیف میں بآواز بلند کہا تھا کہ اے امیر المؤمنین ! میں گزشتہ سال سے مسلسل دو دو رکعتیں پڑھتا چلا آ رہا ہوں چونکہ جو میں نے آپ کو دو رکعتیں پڑھتے دیکھا تھا ، لہٰذا سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کو اندیشہ لاحق ہوا کہ جاہل لوگ کہیں یہی نہ گمان کرلیں کہ نماز فی الواقع ہے ہی دو رکعتیں ۔ اس وجہ سے انھوں نے منی میں چار رکعتیں پڑھی تھیں۔ (رواہ الدارقطنی وعبدالرزاق)
22720- عن ابن جريج قال: "سأل حميد الضمري ابن عباس، فقال: إني أسافر فأقصر الصلاة في السفر أم أتمها؟ فقال ابن عباس: لست تقصرها ولكن تمامها وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم، خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم آمنا لا يخاف إلا الله فصلى اثنتين حتى رجع، ثم خرج أبو بكر لا يخاف إلا الله فصلى ركعتين حتى رجع، ثم خرج عمر آمنا لا يخاف إلا الله فصلى اثنتين حتى رجع، ثم فعل ذلك عثمان ثلثي إمارته أو شطرها ثم صلاها أربعا، ثم أخذ بها بنو أمية،" قال ابن جريج: "فبلغني أنه أوفى أربعا بمنى فقط من أجل ان أعرابيا ناداه في مسجد الخيف بمنى: يا أمير المؤمنين ما زلت أصليها ركعتين منذ رأيتك عام الأول صليها ركعتين فخشي عثمان أن يظن جهال الناس الصلاة ركعتين وإنما كان أوفاها بمنى". "قط عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22721 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے پوچھا : کیا میں عرفہ تک نماز میں قصر کروں یا منی تک ؟ انھوں نے جواب دیا : نہیں بلکہ تم طائف جدہ اور عسفان تک قصر کرو ، اور تم ایک دن قصر کرو اس کے علاوہ نہیں ۔ اور اگر تم اپنے اہل خانہ کے پاس جاؤ یا اپنی بکریوں کے پاس جاؤ تو پھر نماز پوری پڑھو کے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22721- عن عطاء قال: "سألت ابن عباس أقصر الصلاة إلى عرفة أو إلى منى؟ " قال: "لا ولكن إلى الطائف وإلى جدة وإلى عسفان، ولا تقصر الصلاة إلا في اليوم، ولا تقصر في ما دون اليوم، فإن قدمت على أهل لك أو ماشية فأتم الصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22722 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ مکرمہ میں سترہ دن تک قیام کیا اور اس دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قصر کرتے رہے حتی کہ حنین کی طرف کوچ کر گئے ۔ (رواہ عبدالرزاق، فی مصنفہ وابن ابی شیبہ ، فی مصنفہ)
22722- عن ابن عباس قال: "أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة حيث فتح مكة سبع عشرة ليلة يقصر الصلاة حتى سار إلى حنين". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22723 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر میں چالیس دن تک قیام کیا اور اس دوران نماز میں قصر کرتے رہے (رواہ عبدالرزاق) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 1249 ۔
22723- عن ابن عباس قال: "أقام رسول الله صلى الله عليه وسلم بخيبر أربعين ليلة يقصر الصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22724 ۔۔۔ موسیٰ بن سلمہ کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے پوچھا : جب میں مکہ میں ہوں اور امام کے پیچھے نہ ہوں تو میں کیسے نماز پڑھوں ؟ انھوں نے جواب دیا : دو رکعتیں پڑھو، اور یہی ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ (رواہ مسلم والنسائی ، وابن جریر)
22724- عن موسى بن سلمة قال: "سألت ابن عباس قلت: كيف أصلي إذا كنت بمكة إذا لم أصل مع الإمام؟ " قال: "ركعتين سنة أبي القاسم صلى الله عليه وسلم". "م ن وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22725 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے پوچھا : میں اگر عرفہ تک سفرسفر کروں تو نماز میں قصر کرسکتا ہوں فرمایا : نہیں عرض کیا بطن مرتک ؟ فرمایا نہیں ۔ کیا جدہ تک سفر کروں تو قصر کرسکتا ہوں ؟ فرمایا جی ہاں ، عرض کیا طائف تک کے سفر میں قصر کرسکتا ہوں ؟ فرمایا جی ہاں ۔ (رواہ ابن جریر)
22725- عن عطاء أن رجلا سأل ابن عباس قال: "أقصر الصلاة إلى عرفة؟ " قال: "لا،" قال: "إلى بطن مر؟ " قال: "لا،" قال: "إلى جدة؟ " قال: "نعم،" قال: "إلى الطائف؟ " قال: "نعم". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22726 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ایک دن اور ایک رات کی مسافت پر نماز میں قصر کیا جائے ۔ (رواہ ابن جریر)
22726- عن ابن عباس قال: "تقصر الصلاة في مسيرة يوم وليلة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22727 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ شروع میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دو رکعت نماز فرض کی تھی پھر مقیم کے لیے پوری کردی جب کہ مسافر کی نماز پہلے ہی فریضہ پر برقرار رہی ۔ (رواہ عبدالرزاق، وابن ابی شیبۃ)
22727- عن عائشة قالت: "فرض الله الصلاة أول ما افترضها ركعتين، ثم أتمها للحاضر وأقرت صلاة المسافر على الفريضة الأولى". "عب ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22728 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالت حضر میں چار رکعتیں مقرر فرمائی ہیں اور سفر میں دو رکعتیں ۔ (رواہ ابن عساکر)
22728- عن ابن عباس قال: "فرض رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة في الحضر أربعا، وفي السفر ركعتين". "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22729 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ جس نے سفر میں چار رکعتیں پڑھیں اس نے اچھا کیا اور جس نے دو رکعتیں پڑھیں اس نے بھی اچھا کیا ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ زیادتی پر عذاب نہیں دے گا لیکن کمی اور نقصان پر عذاب دے گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22729- عن عائشة قالت: "من صلى أربعا في السفر فحسن، ومن صلى ركعتين فحسن، إن الله لا يعذبكم على الزيادة ولكن يعذبكم على النقصان". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22730 ۔۔۔ حضرت عائشۃ صدیقہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں قصر بھی کرتے تھے اور اتمام بھی کرتے تھے ۔ (ابن جریر) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے ضعیف الجامع 4594 والکشف الالہی 714 ۔
22730- عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقصر في السفر ويتم. "ابن جرير في تهذيبه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22731 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منی میں دو رکعتیں پڑھی ہیں اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، و سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کے ساتھ بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں ، پھر بعد میں وہ چار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22731- عن ابن عمر قال: "صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين ومع أبي بكر ركعتين، ومع عمر ركعتين، ومع عثمان صدرا من خلافته، ثم صلاها أربعا". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22732 ۔۔۔ عبدالرحمن بن امیہ بن عبداللہ (رض) نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے پوچھا : ہم صلوۃ خوف ، صلوۃ مقیم تو قرآن میں پاتے ہیں جب کہ صلوۃ مسافر قرآن ہی نہیں پاتے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے جواب دیا اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا دراں حالیکہ ہم سرکش لوگ تھے ہم وہی کچھ کریں گے جو کچھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کرتے رہے (رواہ عبدالرزاق)
22732- عن عبد الرحمن بن أمية بن عبد الله أنه قال لابن عمر: "نجد صلاة الخوف وصلاة الحضر في القرآن، ولا نجد صلاة المسافر؟ فقال ابن عمر: بعث الله نبيه ونحن أجفى الناس، فنصنع كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22733 ۔۔۔ مورق عجلی کہتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے کسی نے سفری نماز کے متعلق دریافت کیا تو آپ (رض) نے فرمایا (چارکعت والی نماز) دو رکعت پڑھی جائے گی جس نے سنت کے خلاف کیا اس نے کفر کیا (رواہ عبدالرزاق)
22733- عن مورق العجلي قال: "سئل ابن عمر عن الصلاة في السفر فقال: ركعتين ركعتين، من خالف السنة كفر". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22734 ۔۔۔ نافع (رح) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) خیبر تشریف لے گئے اور نماز میں قصر کیا ۔ (رواہ مالک وعبدالرزاق)
22734- عن نافع أن ابن عمر خرج إلى خيبر فقصر الصلاة. "مالك عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22735 ۔۔۔ سالم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے ایک آدمی سے کوئی چیز خریدی میرا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ خریدا تھا چنانچہ آپ (رض) اسے (اونٹ یا جو چیز بھی تھی) دیکھنے تشریف لے گئے اور نماز قصر پڑھی یہ پورے دن کی مسافت تھی یا چار برد کے بقدر فاصلہ تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ ایک برد سولہ فرسخ کے برابر ہوتا ہے ایک فرسخ تین میل کے برابر ، تو گویا چطار برد 48 (اڑتالیس) میل کے برابر فاصلہ ہوا، بالفاظ دیگر ایک برد تقریبا 12 (بارہ) میل کے برابر فاصلہ ہوتا ہے اور چار برد 48 میل ہوئے ، یہی وہ شرعی فاصلہ ہے جو نماز کی قصر کے لیے مقرر کیا گیا ہے اور یہ 74 کلومیڑ کے برابر ہے۔ لہٰذا جو بھی 48 میل کا سفر کرے گا اس سفر کو شرعی سفر کہا جائے گا اور قصر کا حکم لاگو ہوگا گو کہ موٹر کار کے ذریعے ہو یا ہوائی جہاز کے ذریعے ۔
22735- عن سالم أن ابن عمر اشترى شيئا من رجل أحسبه ناقة فخرج ينظر إليها فقصر الصلاة وكان ذلك مسيرة يوم تام أو أربع برد "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22736 ۔۔۔ نافع (رض) کی روایت ہے کہ بسا اوقات حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) خیبر میں اپنے مال (مویشی جائیداد وغیرہ) کو دیکھنے جاتے اور نماز کی قصر کرتے تھے جب کہ آپ (رض) نہ حج کے لیے نکلے ہوتے نہ عمرہ کے لیے اور نہ ہی کسی غزوہ کے لیے نکلے ہوتے (رواہ عبدالرزاق)
22736- عن نافع أن ابن عمر كان يقصر الصلاة إلى مال له بخيبر يطالعه فليس الآن بحج ولا عمرة ولا غزوة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22737 ۔۔۔ نافع (رض) کی روایت کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کے ساتھ ایک برید کے برابر سفر کیا اس دوران آپ (رض) نے قصر نماز نہیں پڑھی ۔ (مالک و عبدالرزاق)
22737- عن نافع أنه كان يسافر مع ابن عمر البريد فلا يقصر فيه الصلاة. "مالك عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22738 ۔۔۔ نافع (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) چار برد کی مسافت کے فاصلہ پر قصر نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22738- عن نافع أن ابن عمر كان يقصر الصلاة في مسيرة أربع برد. "عب".
তাহকীক: