কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৭৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22739 ۔۔۔ سالم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) پورے ایک دن کی مسافت پر قصر نماز پڑھتے تھے ۔ فائدہ : ۔۔۔ احادیث مذکورہ بالا پر غور کیا جائے تو مقدار مسافت کے متعلق تین عدد سامنے آتے ہیں ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ پورے ایک دن کی مسافت پر قصر کیا جائے جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کرتے تھے ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ 4 برد کی مسافتح جو 48 میل بنتی ہے پر قصر کیا جائے ۔ جب کہ قبل ازیں ایک حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ تین دن کی مسافت پر قصر کیا جائے اب ان تمام احادیث میں تطبیق یوں ہوسکتی ہے کہ اگر پورا ایک دن یعنی 24 گھنٹے پیدا سفر کیا جائے تو 48 میل (4 برد) کا فاصلہ طے کیا جاسکتا ہے۔ جب کہ منزل بہ منزل دن دن کو سفر کیا جائے اور رات کو قیام کیا جائے تو اونٹ پر 48 میل کا سفر تین دین میں طے ہوگا اسی کو فقہاء کرام نے لیا ہے جب کہ 4 برد کا فاصلہ 48 میل کے برابر ہے گویا مرجع سب اعداد کا ایک ہی ہے ، رہی یہ بات کہ پیدل یا اونٹ پر پورے ایک دن میں 48 میل کا فاصلہ کیسے طے ہوسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ ممکن ہے چونکہ 8 اکتوبر کے زلزلہ کے دوران اس کا بخوبی مشاہدہ ہوا ہے چنانچہ آزاد کشمیر میں واقع سری نگر روڈ کو بالہ تاچناری چکوٹھی مکمل بند تھی ، ہمارے بہت قریبی عزیزوں نے ظہر کے وقت بھوکے پیٹ حالت روزہ میں کو ہالہ سے سفر شروع کیا اور دوسرے دن ظہر کے وقت سے پہلے ہٹیاں بالا اور چناری چکوٹھی پیدل چلتے ہوئے پہنچ گئے جب کہ انھیں سڑک سڑک پر ہی چلنا نہیں تھا بلکہ کہیں ٹیلے پر چڑھنا ہے کہیں سڑک میں سلائیڈنگ ہو رہی ہے تو متبادل راستہ اوپر نیچے سے اختیار کرنا ہے۔ جب کہ کو ہالہ تا بٹیاں بالا اور چناری چکوٹھی 60 (ساٹھ) میل (نوے کلومیڑ) سے زائد فاصلہ ہے لہٰذا حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے پورے ایک دن سفر 48 میل کیا 4 برد بھی 48 میل کے برابر ہیں اور یہی 48 میل کا فاصلہ اگر منزل بہ منزل معتدل چال سے طے کیا جائے تو تین دن میں طے ہوگا لہٰذا احادیث میں آنے والے مختلف اعداد میں کوئی فرق نہیں سب کا مرجع ایک ہی ہے واللہ اعلم بالصواب۔
22739- عن سالم أن ابن عمر كان يقصر الصلاة في مسيرة اليوم التام. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22740 ۔۔۔ نافع (رض) روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے فرمایا کہ جب تم کسی جگہ بارہ (12) دن قیام کا ارادہ کرلو تو نما پوری پڑھو گے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22740- عن نافع أن ابن عمر كان يقول: إذا أجمعت أن تقيم اثنتي عشرة ليلة، فأتم الصلاة. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22741 ۔۔۔ نافع (رض) کی روایت ہی کہ ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے آذر بیجان میں چھ (6) مہینہ تک قیام کیا اس دوران آپ (رض) نماز کی قصر کرتے رہے اور فرماتے تھے کہ جب میں قیام کا پختہ ارادہ کرلوں گا تو نماز پوری پڑھوں گا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22741- عن نافع أن ابن عمر أقام بآذربيجان ستة أشهر يقصر الصلاة وكان يقول: "إذا أزمعت إقامة فأتم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22742 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں کسی جگہ چلا جاؤں اور وہاں ٹھہرنے کا پختہ ارادہ نہ کرلوں تو میں دو رکعتیں پڑھوں گا گو کہ میں بارہ دن قیام کیوں نہ کرلوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22742- عن ابن عمر قال: "لو قدمت أرضا لصليت ركعتين ما لم أجمع مكثا 2 وإن أقمت اثنتي عشرة ليلة". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22743 ۔۔۔ ابومجلز کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے عرض کیا کہ اگر میں مقیمین کے ساتھ دو رکعتیں پا لوں اور میں مسافر ہوں تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : تم مقیمن کی نماز پڑھو گے ۔ یعنی بقیہ دو رکعتوں میں تم مسبوق کے حکم میں ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22743- عن أبي مجلز قال: "قلت لابن عمر: أدركت ركعتين من صلاة المقيمين وأنا مسافر" قال: "صل بصلاتهم". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22744 ۔۔۔ امیہ بن عبداللہ بن خالد بن اسید نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے پوچھا : ہم تو کتاب اللہ میں صلوۃ خوف کا حکم پاتے ہیں جب کہ صلوۃ مسافر کے متعلق کچھ نہیں پاتے ؟ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے جواب دیا : ہم نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جیسا کرتے پایا ہے ہم بھی ویسا ہی کریں گے (رواہ ابن جریر)
22744- عن أمية بن عبد الله بن خالد بن أسيد أنه قال لعبد الله بن عمر: "إنا نجد في كتاب الله عز وجل قصر صلاة الخوف ولا نجد قصر صلاة السفر فقال عبد الله: إنا وجدنا نبينا صلى الله عليه وسلم يعمل عملا عملنا به". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22745 ۔۔۔ وارد بن ابی عاصم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے منی میں ملاقات ہوئی میں نے ان سے سفری نماز کے متعلق دریافت کیا آپ (رض) نے فرمایا : سفر میں (چار رکعت والی نماز) دو رکعت پڑھی جائے گی ، میں نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے جب کہ ہم یہاں منی میں ہیں ؟ اس پر آپ (رض) نے مجھے ڈانٹتے ہوئے فرمایا : تیری ہلاکت ! کیا تو نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں سن رکھا ؟ میں نے کہا : جی ہاں سن رکھا ہے اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان بھی لایا ہوں ۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے فرمایا : بلاشبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب سفر پر نکلتے تو دو رکعتیں پڑھتے تھے لہٰذا تم بھی اگر چاہو تو دو رکعتیں پڑھو یا چھوڑو ۔ (رواہ ابن جریر)
22745- عن وارد بن أبي عاصم أنه لقي ابن عمر بمنى فسأله عن الصلاة في السفر، فقال: "ركعتين فقال: كيف ترى ونحن ها هنا بمنى فأخذته عند ذلك ضجرة فقال: ويحك هل سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: نعم، وآمنت به،" قال: "فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج صلى ركعتين، فصل إن شئت أو دع". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22746 ۔۔۔ سماک حنفی (رح) کی روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے صلوۃ سفر کے متعلق دریافت کیا : آپ (رض) نے فرمایا سفر میں دو رکعت نماز پڑھی جائے گی جو کہ پوری نماز ہے قصر نہیں بلاشبہ قصر تو صلوۃ خوف میں ہوتی ہے میں نے عرض کیا : صلوۃ خوف کیا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا وہ یہ کہ امام مقتدیوں کی دو جماعتیں بنا لے ایک جماعت خوف کے سامنے سینہ سپر رہے اور دوسری جماعت کو امام ایک رکعت پڑھائے پھر یہ جماعت مقام خوف پر چلی جائے اور وہاں کی جماعت آئے اور امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھ لے یوں اس طرح امام کی دو رکعتیں ہوجائیں گی اور ہر جماعت کی ایک ایک رکعت ہوجائے گی ۔ (رواہ ابن جریر)
22746- عن سماك الحنفي قال: "سألت ابن عمر عن صلاة السفر، فقال: ركعتان تمام غير قصر، إنما القصر صلاة المخافة، قلت: وما صلاة المخافة؟ " قال: "يصلي الإمام بطائفة ركعة، ثم يجيء إلى مكان هؤلاء ويجيء هؤلاء إلى مكان هؤلاء، فيصلي بهم ركعة فيكون للإمام ركعتين، ولكل طائفة ركعة ركعة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22747 ۔۔۔ ابو منیب جرشی کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) سے اس آیت کریم کے متعلق دریافت کیا گیا ، (آیت)” واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح “۔۔۔ الایۃ یعنی جب تم زمین میں محوسفر ہو تو تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں الایۃ ۔ کہ ہم تو حالت امن میں ہیں اور ہمیں کوئی خوف نہیں کیا ہم قصر نماز پڑھیں گے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : تمہارے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ (رواہ ابن جریر)
22747- عن أبي منيب الجرشي قال: "قيل لابن عمر قول الله: {وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ} ، الآية، فنحن آمنون لا نخاف فنقصر الصلاة؟ " فقال: "لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22748 ۔۔۔ سالم کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) جب مکہ مکرمہ تشریف لائے اور یہ فیصلہ نہ کر پاتے کہ کوچ کریں گے یا نہیں مقیم رہیں گے لہٰذا آپ (رض) پندرہ دن تک قصر کرتے رہتے اور جب قیام کا پختہ ارادہ کرلیتے تو پوری نماز پڑھتے ۔ (رواہ ابن جریر)
22748- عن سالم أن ابن عمر كان إذا قدم مكة فلم يدر أيظعن أم يقيم؟ قصر الصلاة خمس عشرة ليلة، فإذا عرف أنه يقيم أتم الصلاة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22749 ۔۔۔ نافع (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے آذر بیجان میں چھ (6) ماہ تک قیام کیا اس دوران آپ (رض) قصر کرتے رہے سردی کی وجہ سے آپ (رض) وہاں سے واپس نہ لوٹ سکے اور نہ ہی قیام کا پختہ ارادہ کیا۔ (رواہ ابن جریر)
22749- عن نافع أن ابن عمر أقام بآذربيجان ستة أشهر يقصر الصلاة ولم يستطع أن يخرج من البرد ولم يرد الإقامة. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22750 ۔۔۔ ابو زبیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کو دوران سفر بجز دو رکعتوں سے منع کرتے سنا ہے (رواہ ابن جریر)
22750- عن أبي الزبير قال: "سمعت ابن عمر نهى عن الصلاة في السفر إلا ركعتين". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22751 ۔۔۔ سالم (رح) کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) دو دن کی مسافت پر قصر نماز پڑھتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22751- عن سالم أن ابن عمر كان يقصر الصلاة في مسيرة ليلتين. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22752 ۔۔۔ سالم کی روایت کہ ابن عمر (رض) چار برد کی مسافت پر قصر کرتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22752- عن سالم أن ابن عمر قصر الصلاة في أربعة برد. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22753 ۔۔۔ نافع (رح) کی راویت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) مقام صرف (مدینہ کے قریب اک جگہ ہے) میں اپنے اہل خانہ کے پاس تشریف لاتے تو قصر نہیں کرتے تھے جب کہ خیبر میں اپنی زمین کی دیکھ بھال کے لیے آتے تو قصر کرتے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22753- عن نافع أن ابن عمر كان يأتي أهله بالجرف فلا يقصر، ويأتي أرضه بخيبر فيقصر. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22754 ۔۔۔ جویبر طلحہ بن سماح سے روایت کرتے ہیں کہ عبدی اللہ بن معمر قرشی نے حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) کو خط لکھا ار اس وقت عبداللہ بن عمر (رض) امیر فارس تھے ۔ چنانچہ انھوں نے لکھا کہ ہم نے یہاں قرار پکڑ لیا ہے اور ہمیں دشمن کا خوف بھی نہیں نیز ہمیں سات سال گزر چکے ہیں اور ہماری کافی ساری اولاد بھی پیدا ہوچکی ہے لہٰذا ہماری نماز کس قدر ہوگی ؟ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے جواب لکھا : تمہاری نماز دو رکعت ہے اس پر عبداللہ بن معمر (رض) نے کچھ تردد ظاہر کیا اور پھر خط لکھا ۔ حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) نے جواب لکھا : میں نے تمہاری طرف حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت لکھ بھیجی ہے اور میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو میری سنت پر چلا وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری سنت سے منہ موڑا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ۔ (رواہ ابن عساکر) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ۔ الاباطیل 423 ۔
22754- عن جويبر عن طلحة بن سماح قال: "كتب عبيد الله بن معمر القرشي إلى عبد الله بن عمر وهو أمير على فارس على خيل؛ إنا قد استقررنا فلا نخاف عدونا وقد أتى علينا سبع سنين وقد ولد لنا الأولاد فكم صلاتنا؟ فكتب إليه عبد الله؛ إن صلاتكم ركعتان، ثم أعاد الكتاب فكتب إليه ابن عمر، إني كتبت إليكم سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وسمعته يقول: من أخذ بسنتي فهو مني ومن رغب عن سنتي فليس مني". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22755 ۔۔۔ ایک آدمی نے سعید بن مسیب (رح) سے پوچھا : کیا میں دوران سفر پوری نماز پڑھوں اور روزہ بھی رکھوں ؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا ، وہ آدمی بولا ! میں ایسا کرنے کی قوت رکھتا ہوں ، فرمایا : حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تجھ سے زیادہ قوی تھے حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر میں قصر نماز پڑھی اور روزہ افطار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے جو سفر میں قصر نماز پڑھے اور روزہ افطار کرے ۔ یک روایت میں ہے کہ سعید (رح) نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ تم میں وہ آدمی بہترین ہے جو سفر میں قصر نماز پڑھے اور روزہ افطار کرے ۔ (رواہ ابن جریر)
22755- عن سعيد بن المسيب أن رجلا سأله أتم الصلاة وأصوم في السفر؟ فقال: لا، قال: "إني قوي على ذلك،" قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أقوى منك وكان يفطر في السفر ويقصر الصلاة،" وقال: "خياركم من قصر الصلاة، وأفطر في السفر" - وفي لفظ - وقال سعيد: إنه قال: "خيركم من قصر الصلاة في السفر وأفطر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22756 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو قصر کرتے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، و سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) بھی مکہ مکرمہ آتے تو قصر کرتے تھے اور سیدنا حضرت عثمان ذوالنورین (رض) بھی اپنے دور خلافت کے ابتدائی دور میں قصر کرتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22756- عن عطاء أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقصر ما أقام في مكة في سفره وأبو بكر وعمر وعثمان حتى كان بين ظهراني خلافته. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22757 ۔۔۔ عاصم بن ضمرہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے دوران سفر ہمارے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں اور پھر خیمہ میں داخل ہوئے تو دو رکعتیں مزید پڑھ لیں جب کہ ہم آپ (رض) کو دیکھ رہے تھے ۔ (رواہ ابن جریر)
22757- عن عاصم بن ضمرة قال: "رأيت عليا صلى بنا العصر ركعتين في السفر، ثم دخل فسطاطه فصلى ركعتين ونحن ننظر". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৭৫৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22758 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم مسافر جب تم مسافر ہو تو دو رکعتیں پڑھو اور جب واپس لوٹ رہے ہو تو پھر بھی دو رکعتیں پڑھو ۔ اور جب واپس لوٹ رہے ہو تو پھر بھی دو رکعتیں پڑھو ۔ مرواہ ابن جریر)
22758- عن علي قال: "إذا خرجت مسافرا فصل ركعتين، فإذا رجعت فصل ركعتين". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক: