কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৭০২ টি
হাদীস নং: ২২৭৫৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22759 ۔۔۔ قتادہ کی روایت ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر اور عثمان (رض) اپنے ابتدائی دور خلافت میں مکہ اور مٹی میں دو رکعتیں پڑھتے تھے پھر عثمان (رض) چار رکعتیں پڑھتے تھے جب اس کی خبر ابن مسعود (رض) کو ہوئی تو انھوں نے (انا للہ وانا الیہ راجعون ) کہا اور پھر انھوں نے بھی چار رکعتیں پڑھیں ۔ جب ان سے کہا گیا کہ آپ (رض) نے تو (انا للہ وانا الیہ راجعون ) کہا تھا اور آپ خود چار رکعتیں پڑھنے لگے ہیں ؟ اس پر انھوں نے جواب دیا : امیر کی خلاف ورزی باعث شر ہے (رواہ عبدالرزاق)
22759- عن قتادة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبا بكر وعمر وعثمان صدرا من خلافته كانوا يصلون بمكة وبمنى ركعتين، ثم إن عثمان صلاها أربعا فبلغ ذلك ابن مسعود فاسترجع، ثم قام فصلى أربعا فقيل له: استرجعت ثم صليت أربعا قال: "الخلاف شر". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22760 ۔۔۔ عبدالرحمن بن مسعود کی روایت ہے کہ ہم نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) کے ساتھ ملک شام میں دو ماہ تک قیام کیا چنانچہ ہم پوری نماز پڑھتے جب کہ حضرت سعد (رض) قصر کرتے ہم نے آپ (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے جواب دیا ہم اس مسئلہ کو بخوبی جانتے ہیں (رواہ عبدالرزاق وابن جریر)
22760- "مسند علي" عن عبد الرحمن بن المسور قال: "كنا مع سعد بن أبي وقاص بالشام شهرين فكنا نتم، وكان سعد يقصر فقلنا له فقال: إنا نحن أعلم". "عب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22761 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ میں ظہدر کی نماز چار رکعت پڑھی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر پر نکل گئے اور مقام ذوالحلیفہ میں پہنچ کر عصر کی دو رکعتیں پڑھیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ جانا چاہتے تھے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22761- عن انس أنه صلى مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة الظهر أربعا، ثم خرج معه فصلى معه بذي الحليفة العصر ركعتين والنبي صلى الله عليه وسلم يريد مكة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22762 ۔۔۔ حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ہم رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ساتھ سفر پر نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قصر نماز پڑھتے رہے حتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ مکرمہ پہنچ گئے اور وہاں دس دن قیام کیا اور اس دوران قصر ہی کرتے رہے حتی کہ واپس لوٹ آئے ۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ)
22762- "أيضا" خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقصر الصلاة حتى جاء مكة فأقام بها عشرا يقصر حتى رجعنا. "حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھا باب ۔۔۔ صلوۃ مسافر کے بیان میں :
22763 ۔۔۔ انس بن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک (رض) نے (بحری سفر کے دوران ) کشتی میں چٹائی بچھا کر (قصر نماز پڑھی) مرواہ عبدالرزاق)
22763- "أيضا" عن أنس بن سيرين قال: "صلى بنا أنس بن مالك في السفينة على بساط وقصر الصلاة". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22764 ۔۔۔ عمرو بن شعیب عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقیم ہوتے ہوئے ہمارے لیے ظہر وعصر کی نماز جمع کر کے پڑھی حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسافر نہیں تھے اس کے بعد مغرب اور عشاء کی نماز بھی جمع کر کے پڑھی ایک آدمی نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت عذر میں کسی قسم کی حرج (تنگی) نہ محسوس کرے (روا عبدالرزاق) فائدہ :۔۔۔ حنفیہ کے نزدیک جمع بین الصلوتین کسی طرح جائز نہیں سوائے عرفات میں ظہر وعصر اور مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے اور جن احادیث میں جمع بین الصلوتین کا ذکر آیا ہے ان میں تاویل کی گئی ہے جیسا کہ احادیث میں آئے گا کہ جمع سے مراد جمع صوری ہے جمع حقیقی نہیں ۔ مثلا ظہر کی نماز بالکل آخری وقت میں پڑھی جائے اور عصر کی نماز بالکل ابتدائی وقت میں پڑھ لی جائے یوں اس طرح جمع بین الصلوتین ہوجائے گا جو کہ صورۃ جمع ہے حقیقۃ نہیں ۔
22764- عن عمرو بن شعيب قال: قال عبد الله: "جمع لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم مقيما غير مسافر بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء فقال رجل لابن عمر: لم ترى النبي صلى الله عليه وسلم فعل ذلك؟ " قال: "لأن لا يحرج أمته إن جمع رجل". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22765 ۔۔۔ ابو قتادہ عدوی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اپنے ایک گورنر کو خط لکھا کہ تین چیزیں کبیرہ گناہوں میں سے ہیں (1) با عذر جمع بین الصلوتین (2) جنگ سے بھاگ جانا (3) اور دوسرں کا مال چھین لینا ۔ (روا ابن ابی حاتم والبیھقی)
22765- عن أبي قتادة العدوي أن عمر كتب إلى عامل له؛ ثلاث من الكبائر الجمع بين الصلاتين إلا من عذر، والفرار من الزحف، والنهبي. "ابن أبي حاتم ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22766 ۔۔۔ صفوان بن سلیم کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے بارش والے ایک دن ظہر وعصر کی نماز جمع کر کے پڑھی ۔ مرواہ عبدالرزاق)
22766- عن صفوان بن سليم قال: "جمع عمر بن الخطاب بين الظهر والعصر في يوم مطير". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22767 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوران سفر ظہر وعصر کی نماز جمع کر کے پڑھی ۔ (رواہ ابن جریر) کلام : ۔۔۔ دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ : 321، 319)
22767- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين الصلاتين في السفر الظهر والعصر. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22768 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر ظہر اور عصر کی نماز جمع کی اور پھر مغرب عشاء کی نماز جمع ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22768- "أيضا" جمع النبي صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك بين الظهر والعصر، وبين المغرب والعشاء. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22769 ۔۔۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے کہ سورج غروب ہوگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقام صرف میں پہنچ کر مغرب و عشاء کی نماز جمع کر کے پڑھی ۔ (رواہ ابن جریر)
22769- عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم غربت له الشمس بمكة فجمع بينهما بسرف. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22770 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غروب شمس کے وقت مکہ سے چل پڑے حتی کہ مقام سرف میں پہنچ گئے سرف مکہ مکرمہ سے 9 (نو) میل کے فاصلہ پر ہے۔ (رواہ ابن جریر)
22770- عن جابر قال: "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة عند غروب الشمس حتى أتى سرف وهي بتسعة أميال من مكة". "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22771 ۔۔۔ جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھی جب کہ ایک مرتبہ اذان اور دو مرتبہ اقامت کہی گئی ۔ (رواہ ابن جریر)
22771- عن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم جمع بين الظهر والعصر بأذان وإقامتين. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22772 ۔۔۔ حضرت معاذ (رض) کی روایت ہے کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر وعصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ومسلم فی کتاب صلوۃ المسافرین وابو داؤد ، والنسائی وابن ماجہ وابن جریر) حبیب بن شہاب کی روایت ہے کہ ان کے والد شہاب حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کے ساتھ فتح فارس میں شریک تھے چنانچہ حضرت ابو موسیٰ (رح) ظہر وعصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز صبح کرکے پڑھتے تھے ۔۔ (رواہ ابن جریر)
22772- عن معاذ قال: "خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة تبوك فكان يصلي الظهر والعصر جميعا، والمغرب والعشاء جميعا". "ش م د، ن، هـ وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22773: حبیب بن شہاب کی روایت ہے کہ ان کے والد شہاب حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے ک ساتھ فتح فارس میں شریک تھے چنانچہ حضرت ابوموسی اشعری (رض) ظہر و عصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز صبح کرکے پڑھتے تھے۔ رواہ ابن جریر۔
22773- عن حبيب بن شهاب عن أبيه أنه صحب أبا موسى الأشعري في فتح فارس، فكان يجمع بين الصلاتين بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء. "ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22774 ۔۔۔ ” مسند ابن عباس (رض) “ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ میں آٹھ نمازیں جمع کرکے پڑھیں اور پھر سات نمازیں جمع کرکے پڑھیں ۔ (رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ ، والبخاری ، ومسلم وابوداؤد ، والنسائی)
22774- "مسند ابن عباس" قال: "صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم ثمانيا جميعا، وسبعا جميعا بالمدينة". "عب ش خ م د، ن".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22775 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں دو نمازیں ظہر ، عصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھتے تھے حالانکہ نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دشمن کا پیچھا کر رہے ہوتے تھے اور نہ ہی دشمن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیچھا کررہا تھا ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22775- عن ابن عباس قال: "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجمع بين الصلاتين في السفر الظهر والعصر، والمغرب والعشاء، وليس يطلب عدوا ولا يطلبه عدو". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22776 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوران سفر کس طرح نماز پڑھتے تھے ؟ چنانچہ اگر آپ گھر پر موجود ہوتے کہ سورج زائل ہوجاتا (یعنی زوال کا وقت گزر جاتا) تو آپ کوچ کرنے سے قبل ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھ لیتے اور اگر گھر میں زوال کا وقت نہ ہوچکا ہوتا تو کوچ کر جاتے حتی کہ جب عصر کا وقت (قریب) ہوتا تو اترتے اور ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھ لیتے اگر مغرب کا کا وقت ہوجاتا دراں حالیکہ آپ گھر پر ہی ہوتے (یا کسی ٹھکانے پر ہوتے) تو مغرب و عشاء کی نماز جمع کر کے پڑھ لیتے اور اگر گھر پر (ٹھکانے پر) ہوتے کہ مغرب کا وقت ابھی تک نہ ہوا ہوتا تو کوچ کر جاتے اور جب عشاء کا وقت قریب ہوتا تو نزول کرتے اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھ لیتے (رواہ عبدالرزاق، وابن جریر) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے ، دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 2204 وضعاف دارقطنی 339 ۔
22776- عن ابن عباس قال: "ألا أخبركم عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في السفر؟ كان إذا زاغت الشمس في منزله جمع بين الظهر والعصر قبل أن يركب، وإذا لم تزغ له في منزله ركب حتى إذا كانت العصر نزل فجمع بين الظهر والعصر وإذا حانت المغرب وهو في منزله يجمع بينها وبين العشاء، وإذا لم تحن له في منزله ركب حتى إذا حانت العشاء نزل فجمع بينهما". "عب وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22777 ۔۔۔ صالح مولی تومہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں ظہر وعصر کی نماز اور مغرب و عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھی جب کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سفر پر نہیں تھے اور نہ ہی اس دن بارش تھی صالح کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی تو انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت پر وسعت کرنا چاہتے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق)
22777- عن صالح مولى التؤمة أنه سمع ابن عباس يقول: جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء بالمدينة في غير سفر ولا مطر، قال: "قلت لابن عباس: لم تراه فعل ذلك؟ " قال: "أراد التوسعة على أمته". "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمع بین صلو تین کا بیان :
22778 ۔۔۔ سعید بن جبیر (رض) حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ منورہ میں ظہر وعصر کی نماز جمع کرکے پڑھی ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نہ سفر کا ارادہ تھا اور نہ ہی کسی قسم کا خوف تھا ۔ سعید بن جبیر (رض) کہتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ (رض) نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاہا کہ امت کے کسی فرد پر تنگی نہ ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 2204 وضعاف الدارقطنی 339 ارادہ تھا اور نہ ہی کسی قسم کا خوف تھا سعید بن جبیر (رح) کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) سے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ (رض) نے جواب دیا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاہا کہ رکعت کے کسی فرد پر تنگی (حرج) نہ ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22778- عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: "جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر بالمدينة في غير سفر ولا خوف" قال: "قلت لابن عباس: ولم تراه فعل ذلك؟ " قال: "أراد أن لا يحرج أحدا من أمته". "عب".
তাহকীক: