কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৮৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22879 ۔۔۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی اور قصار مفصل کی مختصر ترین سورتیں پڑھیں ، (رواہ ابن ابی الدنیا)
22879- "أيضا" صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأقصر سورتين من المفصل. "ابن أبي الدنيا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22880 ۔۔۔ اسماعیل بن ابوالخالد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کے پیچھے نماز پڑھی آپ (رض) رکوع اور سجدہ پورے اہتمام سے کرتے تھے اور نماز مختصر پڑھتے تھے اس پر آپ (رض) سے پوچھا گیا کہ کیا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز بھی ایسی ہی ہوا کرتی تھی ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز بہت مختصر ہوا کرتی تھی ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22880- عن إسماعيل بن أبي خالد عن أبيه أنه كان يصلي خلف أبي هريرة قال: "وكان يتم الركوع والسجود ويتجوز، فقيل لأبي هريرة هكذا كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال: "نعم وأجوز". "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22881 ۔۔۔ سعید بن مسیب (رح) فرماتے ہیں : وہ نماز جو از روئے قیام کے مختصر ہو اجر وثواب میں عظیم تر ہوتی ہے۔ (رواہ شعب الایمان للبیہقی)
22881- عن سعيد بن المسيب قال: "إن أعظم الصلاة أجرا أخفها قياما". "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22882 ۔۔۔ عبدالرحمن بن سابط (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فجر کی پہلی رکعت میں ساٹھ آیتیں پڑھیں پھر دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے اتنے میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسری رکعت میں صرف تین آیتیں پڑھیں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22882- عن عبد الرحمن بن سابط قال: "قرأ النبي صلى الله عليه وسلم في الفجر في الركعة الأولى بستين آية، ثم قام في الركعة الثانية، فسمع صوت صبي فقرأ فيها ثلاث آيات". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22883 ۔۔۔ عطاء (رح) کی روایت ہے کہ جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان بن ابی العاص (رض) کو طائف کا امیر مقرر کیا تو انھوں حکم دیا کہ لوگوں کو مختصر ترین نماز پڑھاؤ چونکہ ان میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں ناتواں بھی ہوتے ہیں اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں۔ اور جب تم اکیلے ہو تو جتنی چاہو نماز لمبی پڑھو اور جب مؤذن تمہارے پاس آئے اور اس کا ارادہ اذان دینے کا ہو تو اسے اذان سے مت روکو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22883- عن عطاء قال: "لما أمر النبي صلى الله عليه وسلم عثمان بن أبي العاص على الطائف قال له في قول من ذلك: أقدر 2 الناس بأضعفهم فإن فيهم الكبير والضعيف وذا الحاجة، وإذا كنت وحدك فطول ما شئت، وإذا أتاك المؤذن يريد أن يؤذن فلا تمنعه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22884 ۔۔۔ عطاء کی روایت ہے کہ ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں نماز میں تخفیف کردیتا ہوں چونکہ مجھے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دیتی ہے مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ اس کی ماں کہیں آزمائش میں نہ پڑجائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22884- عن عطاء أنه بلغه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إني لأخفف الصلاة أن سمع بكاء الصبي خشية أن تفتتن أمه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22885 ۔۔۔ زہری کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جب میں کسی بچے کا رونا سنتا ہوں تو نماز مختصر کرلیتا ہوں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22885- عن الزهري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "إني لأتجاوز في صلاتي إذا سمعت بكاء الصبي". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22886 ۔۔۔ ابوجعفر (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں اپنے پیچھے بچے کا رونا سنتا ہوں تو نماز میں تخفیف کردیتا ہوں تاکہ اس کی ماں آزمائش کا شکار نہ ہوجائے ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22886- عن أبي جعفر قال: "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إني لأسمع صوت الصبي ورائي فأخفف الصلاة شفقا أن تفتتن أمه". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کے اختصار کا بیان :
22887 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز سے خفیف نماز نہیں پڑھی جس میں رکوع و سجدہ پورے اہتمام سے کیا گیا ہو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22887- عن أنس قال: "ما صليت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة أخف من صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في تمام لركوع وسجود". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات امام :
22888 ۔۔۔ غالب بن ھذیل کہتے ہیں ایک مرتبہ میں سعید بن جبیر (رح) کے ساتھ ایک مسجد میں گیا اور ہم نے مسجد میں موجود لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا امام نابینا شخص ہے نماز سے فارغ ہو کر لوگ اس (امام) کی ملامت کرنے لگے سعید بن جبیر (رح) نے فرمایا : اسی وجہ سے سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نابینے کی امامت اور اذان کو مکروہ سمجھتے تھے ۔ (رواہ سعید بن المنصور)
22888- عن غالب بن الهذيل قال: "دخلت مع سعيد بن جبير مسجدا فصلى معهم فإذا إمامهم أعمى؛ فجعلوا يلومونه فقال سعيد: من ثم كره عمر بن الخطاب الإمام أعمى والمؤذن أعمى". "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات امام :
22889 ۔۔۔ روایت ہے ایک مرتبہ کچھ لوگ ایک آدمی کو لے کر سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) کے پاس آئے اور بولے : یہ شخص ہماری امامت کرتا ہے حالانکہ ہم اسے ناپسند کرتے ہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا بلاشبہ بڑا بیوقوف آدمی ہے کیا تو ان لوگوں کا امام ہے حالانکہ یہ تجھے ناپسند کرتے ہیں۔ (رواہ ابو عبید)
22889- عن علي أنه أتاه قوم برجل فقالوا: إن هذا يؤمنا ونحن له كارهون، فقال علي: إنك لخروط أتؤم قوما هم لك
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروہات امام :
22890 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نقل کرتے ہیں کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امام کو موذن بننے سے منع فرمایا ہے۔ (رواہ ابو الشیخ فی الاذان) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے دیکھے الطیفہ 36 ۔
22890- "مسند جابر بن عبد الله" نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يكون الإمام مؤذنا. "أبو الشيخ في الأذان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22891 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں جو آدمی بھی امام سے پہلے رکوع یا سجدہ سے سر اٹھالے وہ اسی کے بقدر سر کو نیچے کرے (یعنی اس نے جتنی دیر سر اٹھایا ہے اتنی دیر سر نیچے کرے) ۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ)
22891- عن عمر قال: "أيما رجل رفع رأسه قبل الإمام في ركوع أو سجود فليضع رأسه بقدر رفعه إياه". "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22892 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں جب تم میں سے کسی آدمی کو گمان ہوجائے کہ امام نے سر اٹھا لیا ہے اور اس نے (یہی سمجھ کر) سر اٹھا لیا دیکھا تو امام نے ابھی سر نہیں اٹھایا تو وہ واپس لوٹ جائے اور جب امام سر اٹھائے تو یہ آدمی اپنا سر نہ اٹھائے چنانچہ جتنی دیر اس نے پہلے سر اٹھایا تھا اس کی بقدر سر جھکائے رکھے ۔ رواہ البیہقی)
22892- عن عمر قال: "إذا رفع أحدكم رأسه فظن أن الإمام قد رفع فليعد رأسه، فإذا رفع الإمام رأسه فليمكث قدر ما ترك". "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22893 ۔۔۔ ابراہم نخعی (رح) نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : چار چیزوں میں امام اخفاء کرے گا (یعنی آہستہ کہے جہر نہ کرے) وہ یہ ہیں۔ تعوذ ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “۔ آمین ، اور ” اللہم ربناولک الحمد “۔۔ (رواہ ابن جریر)
22893- عن إبراهيم قال: قال عمر: "أربع يخفين عن الإمام: التعوذ، وبسم الله الرحمن الرحيم، وآمين، واللهم ربنا ولك الحمد". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22894 ۔۔۔ ابو عبدالرحمن (رح) نقل کرتے ہیں سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) نے فرمایا : سنت میں سے ہے کہ جب امام تم سے لقمہ مانگجے تو تم اسے لقمہ دیدو، ابو عبدالرحمن (رح) سے کسی نے پوچھا : امام کا لقمہ مانگنا کیسے ہوتا ہے ؟ جواب دیا کہ جب امام خاموش ہوجائے ۔ (رواہ ابن منیع والحاکم فی المستدرک)
22894- "مسند علي رضي الله عنه" عن أبي عبد الرحمن قال: "قال علي: من السنة أن تفتح على الإمام إذا استطعمك، قيل لأبي عبد الرحمن: ما استطعام الإمام؟ " قال: "إذا سكت". "ابن منيع، ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22895 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ ہم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں طرف کھڑا ہونا پسند کرتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22895- "مسند البراء بن عازب" كنا نحب أو نستحب أن نقوم عن يمين رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22896 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ مجھے بہت پسند تھا کہ میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دائیں طرف نماز پڑھوں تاکہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سلام پھیریں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ اقدس میرے سامنے ہو ، یا کہا : تاکہ آپ ہم سے سلام کی ابتداء کریں ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22896- "أيضا" كان يعجبني أن أصلي مما على يمين النبي صلى الله عليه وسلم لأنه كان إذا سلم أقبل علي بوجهه أو قال: "يبدؤنا بالسلام". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22897 ۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کی روایت ہے کہ ہم غزوہ بطن بواط میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ محو سفر تھے اسی دوران آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون آدمی تیار ہے جو آگے جائے اور ہمارے لیے حوض مٹی سے پاٹ دے، خود بھی پیے اور ہمیں بھی پلائے ؟ جابر (رض) کہتے ہیں : میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تیار ہوں ۔ ارشاد فرمایا : جابر کے ساتھ دوسرا آدمی کون تیار ہے چنانچہ جبار بن صخر (رض) کھڑے ہوئے ، ہم حوض پر آئے اور مٹی سے اس کا منڈیر بنادیا ہمارے پاس سب سے پہلے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رونما ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حوض پر آئے وضو کیا اور پھر نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنی بائیں طرف کھڑا کردیا پھر ہم دونوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوگئے ۔ (رواہ ابونعیم فی الحلیۃ ۔ رواہ عبدالرزاق)
22897- عن جابر بن عبد الله قال: "سرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة بطن بواط فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من رجل يتقدم فيمدر 1 لنا الحوض ويشرب ويسقينا؟ " قال جابر: "فقلت هذا رجل يا رسول الله، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من رجل مع جابر"؟ فقام جبار بن صخر فأتينا الحوض، ثم مدرناه فكان أول طالع علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم جاء إلى الحوض فتوضأ منه وقام يصلي فجئت فقمت عن يسار رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بيدي فأدارني حتى أقامني عن يمينه، وجاء جبار فأقام عن يساره فدفعنا بيده جميعا حتى جعلنا وراءه". "أبو نعيم عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৮৯৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22898 ۔۔۔ جبار بن ضحر کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنی بائیں طرف کھڑا کردیا ۔ (راہ ابن مندہ وابو نعیم وابن النجار)
22898- عن جبار بن صخر قال: "صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم فأقامني عن يمينه". "ابن منده وأبو نعيم وابن النجار".
tahqiq

তাহকীক: