কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৮৯৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22899 ۔۔۔ مسور بن یزید کاہلی (رض) کہتے ہیں ایک دفعہ میں صبح کی نماز میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک آیت پر رک گئے جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : اے ابی تم نے مجھے فتحہ (لقمہ) کیوں نہیں دیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
22899- عن المسور بن يزيد الكاهلي قال: "شهدت النبي صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فتعايا في آية" فلما فرغ قال: "يا أبي لم لم تفتح علي؟ " "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22900 ۔۔۔ مسور بن یزید اسدی (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور کچھ آیتیں چھوڑ دیں (جب نماز سے فارغ ہوئے تو) ایک آدمی اٹھا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فلاں فلاں آیتیں چھوڑ دی ہیں ، حکم ہوا تم نے مجھے (نماز ہی میں) کیوں نہیں یاد کرائیں ۔ (رواہ عبداللہ بن احمد وابن عساکر)
22900- عن المسور بن يزيد الأسدي قال: "صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وترك آية فقال له رجل: يا رسول الله تركت آية كذا وكذا" قال: "فهلا ذكرتنيها؟ " "عم كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22901 ۔۔۔ ” مسند ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) “۔ کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت میمونہ (رض) کے گھر پر تھا حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو اٹھے اور نماز پڑھنے لگے میں بھی اٹھ کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں طرف جا کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرا رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں سورت ” یا ایھا المزمل “۔ پڑھنے کے بقدر قیام لیا ۔ (رواہ عبدالرزاق، حضرت عبداللہ ابن عباس (رض))
22901- "مسند ربيعة بن كعب الأسلمي" كنت في بيت ميمونة فقام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فقمت معه على يساره فأخذ بيدي فجعلني عن يمينه، ثم صلى ثلاث عشرة ركعة حرزت قيامه كل ركعة قدر {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} . "عب عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22902 ۔۔۔ ” مسند حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) “ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : ایک رات میں نے (اپنی خالہ) حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے ہاں رات بسر کی چنانچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں بھی آپ کی دائیں طرف جا کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کنپٹی کے بالوں سے پکڑ کر دائیں طرف کرلیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22902- "مسند ابن عباس رضي الله عنهما" بت ذات ليلة عند ميمونة بنت الحارث فقام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فقمت عن يساره، فأخذ بذؤابة كانت لي أو برأسي فأقامني عن يمينه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22903 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ میں نے رات کو حضرت میمونہ (رض) کے ہاں قیام کیا چنانچہ رات کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور نماز پڑھنے لگے میں بھی آپ کی بائیں طرف جا کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کرلیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تیرا رکعتیں پڑھیں میں نے اندازہ کیا کہ ہر رکعت میں قیام آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورت ” یا ایھا المزمل “ پڑھ لینے کے بقدر کیا (حضرت عبداللہ ابن عباس (رض)) فرماتے ہیں : ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ (رض) کے ہاں بسر کی شام ہوجانے کے بعد حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : کیا اس لڑکے نے نماز پڑھی ہے ؟ اہل خانہ نے جواب دیا : جی ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے حتی کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور وضو کیا میں بھی اٹھا اور آپ کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا پھر اپنا ازار لپیٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں طرف (نماز پڑھنے) جا کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کان یا سر سے پکڑ کر گھمایا اور اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانچ یا سات رکعت وتر پڑھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرا ۔ (رواہ ابن جریر)
22903- "أيضا" كنت في بيت ميمونة فقام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فقمت معه على يساره فأخذ بيدي فجعلني عن يمينه، ثم صلى ثلاث عشرة ركعة حرزت قيامه في كل ركعة قدر {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ} . "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22904: حضرت سعید بن جبیر (رض) کی روایت ہے کہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ (رض) کے ہاں بسر کی شام ہوجانے کے بعد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : کیا اس لڑکے نے نماز پڑھی ہے ؟ اہل خانہ نے جواب دیا : جی ہاں آپ سو گئے حتی کہ رات کا کچھ حصہ گزر گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور وضو کیا میں بھی اٹھا اور آپ کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا پھر اپنا ازار لپیٹا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں طرف (نماز پڑھنے) جا کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کان یا سر سے پکڑ کر گھمایا اور اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا پھر آپ نے پانچ یا سات رکعت وتر پڑھے اور ان کے آخر میں سلام پھیرا۔ رواہ ابن جریر
22904- عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: "بت عند خالتي ميمونة فجاء النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما أمسى فقال: أصلى الغلام؟ فقالوا: نعم، فاضطجع حتى مضى من الليل ما شاء الله، ثم قام فتوضأ، فقمت فتوضأت بفضله، ثم اشتملت بإزاري، ثم قمت عن يساره وهو يصلي فأخذ بأذني أو رأسي فأدارني حتى أقامني عن يمينه، ثم صلى سبعا أو خمسا أوتر بهن لم يسلم إلا في آخرهن". "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22905 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ مجھے والد نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک کام کے لیے بھیجا ، میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا مجھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرنے کی جرات نہ ہوسکی ، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے اٹھتے ، نماز پڑھتے اور مسجد سے گھر واپس آجاتے چنانچہ (رات کو) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر میں داخل ہوئے پھر وضو کیا اور میں نے بھی وضو کیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں مشغول ہوگئے میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بائیں طرف جا کھڑا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے پکڑ کر گھمایا اور اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا اور نماز پڑھی پھر فجر کی دو رکعتیں پڑھیں اور پھر نماز کے لیے مسجد کی طرف تشریف لے گئے ۔ (رواہ الدارقطنی فی الافراد وابن عساکر)
22905- عن ابن عباس أن أباه بعثه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة فوجده جالسا مع أصحابه في المسجد، قال: "فلم أستطع أن أكلمه، فلما صلى قام فركع حتى إذا انصرف من المسجد انصرف إلى منزله، فدخل ثم توضأ فتوضأت، ثم ركع فأقبلت فقمت إلى ركنه الأيسر، فأدارني حتى أقامني على ركنه الأيمن فركع ثم ركع ركعتي الفجر، ثم خرج إلى الصلاة". "قط في الأفراد كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22906 ۔۔۔ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : صفوں کی دائیں طرف کھڑے ہوا کرو اور ستونوں کے درمیان کھڑا ہونے سے بچو اور پہلی صف کو اپنے اوپر لازم کرلو ۔ (رواہ عبدالرزاق)
22906- عن ابن عباس قال: "عليكم بميامن الصفوف، وإياكم وما بين السواري وعليكم بالصف الأول". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22907 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز میں اپنی دائیں طرف مجھے کھڑا کیا ۔ (رواہ ابن عساکر)
22907- عن أنس قال: "أقامني رسول الله صلى الله عليه وسلم في الصلاة على يمينه". "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22908 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کہتے ہیں : ایک مرتب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھ رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22908- "أيضا" أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يصلي فأقامني عن يمينه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯০৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22909 ۔۔۔ نیز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اور اہل خانہ کی ایک عورت کو نماز پڑھائی تو آدمیوں کو اپنی دائیں طرف اور عورت کو پیچھے کھڑا کیا۔ ابن ابی شیبہ
22909- "أيضا" أن النبي صلى الله عليه وسلم صلى بهم وامرأة من أهله فجعل اثنين عن يمينه والمرأة خلفه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22910: حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھوڑے سے گرگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دائیں پہلو پر چوٹ آئی ہم عیادت کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں بیٹھ کر نماز پڑھائی جب کہ ہم نے کھڑے ہو کر آپ کے پیچھے نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہمیں بیٹھنے کا ارشاد کیا اور پھر فرمایا : امام اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ اس کی اقتدا کی جائے سو جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو جب رکوع کرے تم بھی رکوع کرو جب سجدہ کرے تم بھی سجدہ کرو جب سمع اللہ لمن حمدہ کہے، تم اللہم ربنا ولک الحمد، کہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تم سب بیٹھ کر نماز پڑھو۔

رواہ عبدالرزاق، والطبرانی والامام احمد بن حنبل و ابن ابی شیبۃ والبخاری و مسلم ابوداؤد والترمذی والنسائی و ابن ماجۃ وابن حبان۔
22910- "أيضا" سقط النبي صلى الله عليه وسلم عن فرس فجحش شقه الأيمن فدخلنا عليه نعوده فحضرت الصلاة، فصلي بنا قاعدا وصلينا وراءه قياما، فأشار أن اقعدوا، فلما قضى الصلاة قال: "إنما جعل الإمام ليؤتم به فإذا كبر فكبروا وإذا ركع فاركعوا، وإذا سجد فاسجدوا،" وإذا قال: "سمع الله لمن حمده فقولوا: اللهم ربنا ولك الحمد، وإن صلى قاعدا فصلوا قعودا أجمعون". "عب، ط، حم، ش، خ 2، م، د ت، ن، هـ، حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آداب مقتدی اور اس کے متعلقات :
22911 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد عربی کی جان ہے اگر تم نے وہ کچھ دیکھا ہوتا جو میں نے دیکھا ہے تم ہنستے کم اور روتے زیادہ ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ ارشاد فرمایا : میں نے جنت اور دوزخ دیکھی ہے ، نیز حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو نماز پر ابھارا اور رکوع و سجدہ میں سبقت کر جانے سے منع کیا نیز یہ کہ امام سے قبل نماز سے جانے والے مت بنو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے فرمایا : میں تمہیں سامنے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں ۔ (رواہ ابن النجار)
22911- عن أنس قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: "والذي نفس محمد بيده لو رأيتم ما رأيت لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا؟ " قالوا: ما رأيت يا رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ " قال: "رأيت الجنة والنار، وحرضهم على الصلاة ونهاهم أن يسبقوه إذا أمهم بالركوع والسجود، وأن يتفرقوا قبل انصرافه من الصلاة" ثم قال لهم: "إني أراكم من أمامي ومن خلفي". "ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مکروھات مقتدی :
22912 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ایک مرتبہ گھر سے باہر تشریف لائے دراں حالیکہ لوگ کھڑے کھڑے نماز کی انتظار کر رہے تھے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وجہ ہے میں تمہیں سر اوپر اٹھائے ہوئے اور سینے باہر نکالے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں ۔ (رواہ ابو عبید)
22912- عن علي أنه خرج والناس ينتظرونه للصلاة قياما فقال: "مالي أراكم سامدين. 1 "أبو عبيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواقع اقتداء :
22913 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ امام اور مقتدی کے درمیان اگر نہر ہو یا ر دیوار ہو تو اس مقتدی کی اقتداء درست نہیں ہے۔ (رواہ عبدالرزاق، و ابن ابی شیبۃ)
22913- عن عمر أنه قال في الرجل يصلي بصلاة الإمام إذا كان بينهما نهر أو طريق أو جدار فلا يأتم به. "عب ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواقع اقتداء :
22914 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں کہ تیمم کرنے والا پانی سے طہارت حاصل کرنے والے کی امامت نہ کرے اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا کھلے ہوئے شخص کی بھی امامت نہ کرے ۔ (رواہ عبدالرزاق) کلام : ۔۔۔ یہ حدیث ضعیف ہے۔ دیکھے اللطیفۃ 28 ۔
22914- عن علي قال: "لا يؤم المتيمم المتطهرين، ولا المقيد المطلقين". "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مواقع اقتداء :
22915 ۔۔۔ قتادہ (رض) حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے نماز پڑھی آپ (رض) نے سورت آل عمران شروع کردی عمر (رض) اٹھے اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پاس آئے اور کہا : اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت کرے قریب ہے کہ آپ کے سلام پھیرنے سے قبل سورج طلوع ہوجائے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اگر سورج طلوع ہو بھی گیا تو ہمیں غافل نہیں پائے گا ۔ (رواہ ابن حبان والطحاوی)
22915- "مسند الصديق رضي الله عنه" عن قتادة عن أنس قال: "صليت خلف أبي بكر فاستفتح بآل عمران فقام إليه عمر فقال: يغفر الله لك لقد كادت الشمس تطلع قبل أن تسلم،" قال: "لو طلعت لألفتنا غير غافلين". "حب والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22916 ۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فجر کی نماز پڑھی اور اس کی دو رکعتوں میں سورت بقرہ تلاوت کی ۔ (رواہ الامام مالک وعبدالرزاق والبیہقی)
22916 عن عروة أن أبا بكر صلى الصبح فقرأ بالبقرة في الركعتين كلهما.

(مالك عب ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22917 ۔۔۔ ابو عبداللہ حنابحی کی روایت ہے کہ وہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) مدینہ منورہ آئے اور سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے پیچھے مغرب کی نماز پڑھی چنانچہ آپ (رض) نے پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور قصار مفصل میں سے ایک ایک سورت پڑھی اور تیسری رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد یہ آیت پڑھی ” ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب “۔ یعنی اے ہمارے رب ! ہمیں ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ ڈالنا اور ہمیں اپنی رحمتوں کے خزانوں سے مالا مال کر دے بیشک تو ہی عطا کرنے والا ہے۔ (رواہ الامام مالک وعبدالرزاق وابو داؤد والبیہقی)
22917 عن أبي عبد الله الصنابحي أنه قدم المدينة في خلافة أبي بكر الصديق ، فصلى وراء أبي بكر الصديق المغرب ، فقرأ أبو بكر في الركعتين الاولين (أم القرآن) وسورة من قصار المفصل ، ثم قرأ في الركعة الثالثة بأم القرآن وهذه الآية : (ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا وهب لنا رحمة إنك أنت الوهاب).

(مالك عب د ، ق).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22918 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورت بقرہ تلاوت کی ، سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) نے فرمایا : قریب تھا کہ سورج طلوع ہوجاتا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے جواب دیا :(بالفرض) اگر طلوع بھی ہوجاتا تو ہمیں غافل نہ پاتا ۔ (رواہ الشافعی وعبدالرزاق والضیاء المقدسی فی المختارہ و ابن ابی شیبۃ والبیہقی)
22918 عن أنس أن أبا بكر صلى بالناس الصبح فقرأ بسورة (البقرة) فقال عمر : كربت (1) الشمس أن تطلع فقال : لو طلعت لم تجدنا غافلين.

(الشافعي عب ض ش ق)
tahqiq

তাহকীক: