কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৭০২ টি

হাদীস নং: ২২৯১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22919 ۔۔۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے عید کے موقع پر نماز میں سورت بقرہ تلاوت کی حتی کہ ہم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا کہ وہ طول قیام کی وجہ سے جھکا جا رہا ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22919 عن أنس أن أبا بكر قرأ في يوم عيد بالبقرة حتى رأينا الشيخ يميد (2) من طول القيام (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22920 ۔۔۔ سیدنا حضرت عمر ابن خطاب (رض) کا فرمان ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے بندوں میں بغض مت ڈالو وہ اس طرح کہ تم میں سے کوئی امام ہو اور پھر وہ لمبی قرات کرے حتی کہ لوگوں کے دلوں میں بغض ڈال دے یا یہ کہ تم میں سے کوئی قاضی وہ اور فیصلے کو خواہ مخواہ طوالت دیتا رہے حتی کہ وہ اس کے بغض میں مبتلا ہوجائیں ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ، والصابونی فی الماتین وشعب الایمان للبیہقی)
22920 عن عمر قال : لا تبغضوا الله إلى عباده يكون أحدكم إماما فيطول عليهم حتى يبغض إليهم ما هم فيه ، ويكون أحدكم قاضيا فيطول عليهم حتى يبغض إليهم ما هم فيه.

ش والصابوني في المائتين ، هب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22921 ۔۔۔ زہری عبیداللہ بن ابو رافع سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) ظہر ، وعصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت ملا کر پڑھتے تھے جب کہ دوسری دو رکعتوں میں قرات نہیں کرتے تھے زہری کہتے ہیں کہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) ظہر عصر کی پہلی دو رکعتوں میں سورة شفاء اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت بھی پڑھتے تھے جب کہ دوسری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھتے تھے (رواہ عبدالرزاق)
22921 عن الزهري عن عبيد الله بن أبي رافع قال : كان علي يقرأ في الاوليين من الظهر والعصر بأم القرآن وسورة لا يقرأ في الاخريين قال الزهري : وكان جابر بن عبد الله يقرأ في الركعتين الاوليين من الظهر والعصر بأم القرآن وسورة وفي الآخريين بأم القرآن.

(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22922 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کہتے ہیں میں نے ایک مرتبہ سفر کے دوران رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عشاء کی نماز میں سورت ” والتین والزیتوں “ پڑھتے ہوئے سنا ہے (رواہ عبدالرزاق ابن ابی شیبہ )
22922 (مسند البراء بن عازب) سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرأ في صلاة العشاء : (والتين والزيتون) في السفر.

(عب ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22923 ۔۔۔ حضرت براء بن عازب (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں چھوٹی چھوٹی دو سورتیں تلاوت کیں جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوفہ ہو کر فرمایا : میں نے اس لیے جلدی کی ہے تاکہ بچے کی ماں فارغ ہو کر اپنے بچے کی خبر لے (رواہ ابن ابی داؤد فی المصاحف وسندہ صحیح)
22923 (أيضا) صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح فقرأ بأقصر سورتين في القرآن ، فلما فرغ أقبل علينا بوجهه فقال : إنما عجلت لتفرغ أم الصبي إلى صبيها.

(ابن أبي داود في المصاحف وسنده صحيح).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22924 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اور سورت پڑھی جائے اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورت فاتحہ پڑھی جائے چنانچہ ہم کہا کرتے تھے سورت فاتحہ اور اس کے ساتھ مزید کچھ پڑھنے کے بغیر نماز نہیں ہوتی ۔ سے مروی ہے مرواہ ابن ابی شیبہ والبیھقی فی کتاب القراۃ فی الصلوۃ )
22924 عن جابر قال : يقرأ في الركعتين الاوليين بفاتحة الكتاب وسورة ، وفي الاخريين بفاتحة الكتاب ، وكنا نتحدث أنه لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب فما زاد.

(ش ق في كتاب القراءة في الصلاة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22925 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ (رض) نے ایک قوم کو مغرب کی نماز پڑھائی ان کے پاس سے ایک انصاری لڑکا گزرا وہ دن بھر اونٹ لیکر کسی کام میں مشغول رہا تھا وہ بھی نماز میں شامل ہوگیا چنانچہ جب حضرت معاذ (رض) نے بہت لمبی کردی تو نماز کو وہیں چھوڑ کر اونٹ کی طلب میں چل پڑا جب اس واقعہ کی خبر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی گئی تو آپ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا تم لوگوں کو فتنہ میں مبتلا کرنا چاہتے ہو ؟ تم میں سے جو آدمی بھی مغرب کی نماز پڑھائے وہ صرف ” سبح اسم ربک الاعلی “۔ اور ” والشسم وضحاھا “۔ پڑھا کرے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ ومسلم فی صحیہ)
22925 (أيضا) قال : أم معاذ قوما في صلاة المغرب فمر به غلام من الانصار وهو يعمل على بعير له فأطال بهم معاذ ، فلما رأى ذلك الغلام ترك الصلاة وانطلق في طلب بعيره ، فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم ،

فقال : أفتان أنت يا معاذ ؟ لا يقرأ أحدكم في المغرب إلا بسبح اسم ربك الاعلى ، والشمس وضحاها.

(ش) (1).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22926 ۔۔۔ اسی طرح حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت معاذ (رض) نے اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں سورت بقرہ تلاوت کی اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کیا تم فتنے کا باعث بننا چاہتے ہو کیا تم فتنے کا باعث بننا چاہتے ہو ؟ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22926 (أيضا) أن معاذا صلى بأصحابه فقرأ بالبقرة ، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم أفتانا أفتانا ؟ (ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22927 ۔۔۔ حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری نوجوان اپنی اونٹنی کے لیے چارہ لایا اتنے میں حضرت معاذ بن جبل (رض) نے عشاء کی نماز کھڑی کردی نوجوان نے چارہ وہیں چھوڑا ، وضو کیا اور نماز میں حاضر ہوگیا حضرت معاذ (رض) نے سورت بقرہ شروع کردی نوجوان نے الگ سے اپنی نماز پڑھی ، حضرت معاذ (رض) کو وہیں چھوڑا اور اپنی اونٹنی کو چار دیے چل پڑا جب حضرت معاذ (رض) ان سے فارغ ہوئے تو نوجوان ان کے پاس آیا اور انھیں برا بھلا کہا ، پھر بولا بخدا میں ضرور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا اور تمہاری شکایت کروں گا حضرت معاذ (رض) نے کہا : میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤں گا اور تمہاری شکایت کروں گا ، چنانچہ صبح کو دونوں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے ، پہلے حضرت معاذ (رض) نے اپنا موقف بیان کیا پھر نوجوان بولا : ہم مصروف کار لوگ ہیں اور دن بھر کام کاج میں مشغول رہتے ہیں اور پھر اس نے ہمیں لمبی نماز پڑھائی اور سورت بقرہ شروع کردی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے معاذ ! کیا تم فتنے کا باعث بننا چاہتے ہو ؟ جب لوگوں کو امامت کراؤتو ” سبح اسم ربک الاعلی واللیل اذا یغشی واقرا باسم ربک ، والضحی “۔ ان جیسی دوسری سورتیں پڑھا کرو عبداللہ عبید اللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں پھر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نوجوان کو بلایا اور حضرت معاذ (رض) سے کہا : اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا مانگو چنانچہ حضرت معاذ (رض) نے دعا کی پھر نوجوان سے کہا : تم دعا مانگو اس نے جواب دیا : مجھے آپ کی بات سمجھ میں نہیں آئی لیکن بخدا ! دشمن سے میرا مقابلہ ہوگیا تو میں اللہ تبارک وتعالیٰ کو ضرور سچ کر دکھاؤں چنانچہ دشمن سے اس کا مقابلہ ہوگیا اور شہادت کی موت پائی اس پر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا اور اسے سچا کر دکھایا ۔ (رواہ عبدالرزاق، وھو صحیح)
22927 (أيضا) بينا فتى من الانصار قدم علف ناضحه وأقام معاذ بن جبل صلاة العشاء فترك الفتى علفه فقام فتوضأ وحضر الصلاة وافتتح معاذ بسورة البقرة فصلى الفتى ، وترك معاذا وانصرف إلى ناضحه فعلفه ، فلما انصرف معاذ جاء الفتى فسبه ونفقه ثم قال : لآتين النبي صلى الله عليه وسلم فأخبره خبرك ، فقال الفتى : أنا والله لآتينه فلاخبرنه خبرك فأصبحا فأجتمعا عند النبي صلى الله عليه وسلم فذكره له معاذ شأنه فقال الفتى : إنا أهل عمل وشغل فطول علينا ، استفتح بسورة البقرة ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : يا معاذ أتريد أن تكون فتانا ، إذا أممت الناس فاقرأ بسبح اسم ربك الاعلى ، والليل إذا يغشى ، واقرأ باسم ربك ، والضحى ، وبهذا النحو ، فقال عبد الله بن عبيد بن عمر : فدعا النبي صلى الله عليه وسلم الفتى فقال : يا معاذ ، ادع الله ، فدعا فقال للفتى ، ادع فقال : والله ما أدري طمطمتكما (1) هذه غير أني والله لئن لقيت العدو لاصدقن الله فلقي العدو ، فاستشهد ، فقال النبي صلى الله عليه وسلم : صدق الله فصدقه الله.

(عب وهو صحيح).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22928 ۔۔۔ قطبہ بن مالک ثعلبی (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور پہلی رکعت میں ” ق والقرآن المجید “۔ پڑھی حتی کہ پڑھتے پڑھتے آیت ” والنخل باسقات لھا نضید “۔ پر پہنچ گئے ۔ (رواہ عبدالرزاق و ابن ابی شیبۃ، ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ)
22928 عن قطبة بن مالك الثعلبي قال : صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرأ في الركعة الاولى من صلاة الفجر (ق والقرآن المجيد) حتى قرأ

(والنخل باسقات لها طلع نضيد).

(عب ش م ت ن ه).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22929 ۔۔۔ حزم بن ابی بن کعب (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل (رض) کے پاس سے گزرے دراں حالیکہ معاذ (رض) اپنی قوم کو مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے اور سورت بقرہ شروع کر رکھی تھی حزم (رض) نے الگ سے اپنی نماز پڑھی اور چلتے بنے ۔ صبح کو معاذ (رض) حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! حزم نے رات کو اپنی طرف سے ایک نئی بات گھڑی ہے مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیسے ؟ اتنے میں حزم (رض) آگئے اور عرض کیا : یا نبی اللہ ! میرا گذر معاذ (رض) کے پاس سے ہوا انھوں نے ایک لمبی سورت شروع کر رکھی تھی اور میں نے الگ اچھی طرح سے اپنی نماز پڑھ لی اور پھر میں چل پڑا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے معاذ ! فتنے کا باعث مت بنو بلاشبہ تمہارے پیچھے ناتواں بھی وہ سکتا تھا بوڑھا بھی ہوسکتا ہے اور حاجتمند بھی ہوسکتا ہے۔ (رواہ الرویانی والبغوی ، وابو نعیم و سعید بن المنصور) کلام : ۔۔۔ امام بغوی (رح) کہتے ہیں مجھے نہیں معلوم کہ اس حدیث کی اس کے علاوہ کوئی اور سند بھی ہو ۔
22929 عن حزم بن أبي بن كعب أنه مر بمعاذ بن جبل وهو يؤم قومه لصلاة المغرب فقرأ بالبقرة ، فصلى وانصرف فأصبحوا فأتى معاذ النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا نبي الله إن حزما ابتدع الليلة بدعة لا أدري ما هي ، فجاء حزم فقال : يا نبي الله صلى الله عليه وسلم مررت بمعاذ وقد افتتح سورة طويلة فصليت فأحسنت صلاتي ، ثم انصرفت فقال : يا معاذ لا تكن فتانا فان خلفك الضعيف والكبير وذا الحاجة.

(الروياني : والبغوي وقال : لا أعلم له غيره ، وأبو نعيم ص).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22930 ۔۔۔ معبد بن خالد (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رکعت میں سبع طوال (ابتدائی سات لمبی سورتیں) پڑھیں۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22930 عن معبد بن خالد قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالسبع الطوال في ركعة.

(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22931 ۔۔۔ ابوالاحوص کی روایت ہے کہ ایک صحابی (رض) کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ظہر اور عصر کی نمازوں میں حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قرات کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی داڑھی مبارک کے ہلنے سے پہچان جاتے تھے ۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ)
22931 عن أبي الاحوص عمن سمع النبي صلى الله عليه وسلم قال : كانوا يعرفون قراءته في الظهر والعصر باضطراب لحيته.


(ش).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22932 ۔۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضی (رض) فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ امام ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورت فاتحہ اور مزید کوئی اور سورت بھی پڑھے اور قرات سرا (آہستہ سے) کرے اور اس کے پیچھے مقتدی خاموش رہیں اور دل ہی دل میں قرات کرتے رہیں اور آخری دو رکعتوں میں سورت فاتحہ پڑھتے نیز استغفار اور اللہ کا ذکر بھی کرسکتا ہے ، عصر کی نماز میں بھی اسے ایسا ہی کرنا چاہے ۔ (رواہ البخاری ومسلم فی القراۃ)
22932 عن علي قال : من السنة أن يقرأ الامام في الركعتين الاوليين من صلاة الظهر بأم الكتاب وسورة سرا في نفسه وينصت

من خلفه ويقرأون في أنفسهم ، ويقرأ في الركعتين الاخريين بفاتحة الكتاب في كل ركعة ويستغفر الله ويذكره ويفعل في العصر مثل ذلك.

(ق في القراءة).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22933 ۔۔۔ حسن بصری (رح) نقل کرتے ہیں کہ حضرت سمرہ بن جندب (رض) لوگوں کو نماز پڑھایا کرتے تھے اور نماز میں دو سکتے کرتے تھے ۔ 1 ۔۔۔ نماز کے لیے تکبیر تحریمہ کہتے وقت ۔ 2 ۔۔۔ اور جب سورت فاتحہ کی قرات سے فارغ ہوتے ۔ یسا کرنے کی وجہ سے لوگ آپ کو عیب کی نظر سے دیکھتے چنانچہ آپ (رض) نے حضرت ابی بن کعب (رض) کو خط لکھا کہ ایسا کرنے پر لوگ مجھے عیب کی نظر سے دیکھتے ہیں : شاید حقیقت حال میں بھول چکا ہوں اور انھیں یاد ہو یا مجھے یاد ہے اور یہ بھول چکے ہیں ، حضرت ابی (رض) نے جواب لکھا کہ نہیں حقیقت حال آپ کو یاد ہے اور یہ لوگ بھول چکے ہیں۔ (رواہ عبدالرزاق) فائدہ : ۔۔۔ نماز میں سکتہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی دیر کے لیے وقفہ کرلیا جائے ۔
22933 (مسند أبي رضي الله عنه) عن الحسن قال : كان سمره ابن جندب يؤم الناس فكان يسكت سكتتين إذا كبر للصلاة ، وإذا فرغ من قراءة أم القرآن ، فعاب عليه الناس فكتب إلى أبي بن كعب في ذلك أن الناس عابوا علي ، ولعلي نسيت وحفظوا أو حفظت ونسوا ، فكتب إليه أبي بل حفظت ونسوا.

(عب).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22934 ۔۔۔ ازھر بن منقر (رض) کہتے ہیں میں نے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے نماز پڑھی چنانچہ میں نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” الحمد للہ رب العالمین “ سے قرات کی ابتداء کرتے ہیں اور نماز کے آخر میں دو مرتبہ سلام پھیرتے ہیں۔ (رواہ ابن مندہ وابن قانع وابو نعیم) کلام : ۔۔۔ ابن مندہ کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور اس کے علاوہ اس کا کوئی اور معروف طریق نہیں ہے ابن قانع کہتے ہیں اس حدیث کی سند میں علی بن قرین ہے جو اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ لیتا تھا ۔
22934 (مسند أزهر بن منقر) رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وصليت خلفه فسمعته يستفتح القراءة بالحمد لله رب العالمين ورأيته يسلم بتسليمتين.

(ابن منده وقال : غريب لا يعرف إلا من هذا الوجه ، وابن قانع وقال : في اسناده علي بن قرين كان يضع الحديث ، وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22935 ۔۔۔ حضرت اسامہ (رض) کی روایت ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر میں ” اذا الشمس کورت “ پڑھ لیتے تھے ۔ (رواہ الدارقطنی وقال تفرد بہ الواقدی عن ابن اخی الزھری)
22935 (سند أسامة رضي الله عنه) أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يقرأ في الفجر (إذا الشمس كورت).

(قط في الافراد وقال تفرد به الواقدي عن ابن أخي الزهري).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قراۃ امام کا بیان :
22936 ۔۔۔ اغر بن یسار (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صبح کی نماز میں سورت روم تلاوت کی (رواہ البزار والطبرانی و ابونعیم)
22936 (مسند الاغر بن يسار) أن النبي صلى الله عليه وسلم قرأ في الصبح بالروم.

(البزار طب وأبو نعيم).
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22937: مسند عمر (رض) یزید بن شریک سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) سے امام کے پیچھے قراءت کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو آپ (رض) نے فرمایا کہ سورة فاتحہ پڑھو میں نے عرض کیا، اگر آپ امامت کریں تو آپ کے پیچھے بھی سورة فاتحہ پڑھ سکتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا اگرچہ جہراً قراءت کر رہے ہوں آپ نے فرمایا جی ہاں۔ عبدالرزاق۔ دارقطنی، بیہقی
22937- "مسند عمر رضي الله عنه" عن يزيد بن شريك أنه سأل عمر عن القراءة خلف الإمام فقال: اقرأ بفاتحة الكتاب، قلت: وإن كنت أنت؟ قال: "وإن كنت أنا، قلت: وإن جهرت؟ " قال: "وإن جهرت". "عب قط ق وقالا: رواته ثقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتدی کی قرآءت کا بیان
22938: حارث بن سوید اور یزید بن تمیمی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے ہمیں امام کے پیچھے قراءت کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ عبدالرزاق۔

فائدہ : قراءت خلف الامام کو منازعۃ القرآن (جیسا کہ آگے روایت میں آ رہا ہے) قرار دیے جانے کے بعد صحابہ کرام (رض) نے قراءت خلف الامام کو ترک کردیا تھا اور علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں لکھا ہے ترک القراءۃ خلف الامام کا مسلک تقریبا اسی صحابہ کرام سے ثابت ہے جن میں سے متعدد صحابہ کرام اس سلسلہ میں بہت متشدد تھے یعنی خلفائے اربعہ، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زید بن ثابت، حضرت جابر، حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ درس ترمذی۔
22938- عن الحارث بن سويد ويزيد التميمي قالا: أمرنا عمر ابن الخطاب أن نقرأ خلف الإمام. "عب".
tahqiq

তাহকীক: