কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৪৭৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44723 جس شخص نے ایک درہم کے بدلہ میں عورت کو حلال کرلیا تو نکاح (یعنی ہمبستری) اس کے لیے حلال ہوگا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ عن ابی لبیبہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 5396
44723- من استحل بدرهم فقد استحل - يعني النكاح. "ش ق - عن أبي لبيبة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44724 جس شخص نے کسی عورت کا مہر مقرر کیا اور پھر اسے مہر سپرد نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا وہ (قیامت کے دن) اللہ سے زانی کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ جس شخص نے قرض لیا اور پھر پختہ ارادہ کرلیا کہ قرض نہیں ادا کرے گا وہ (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ سے چور کی حالت میں ملاقات کرے گا ۔ رواہ الطبرانی عن صھیب
44724- من أصدق امرأة صداقا وهو مجمع على أن لا يوفيها إياه لقي الله تعالى وهو زان، ومن ادان دينا وهو مجمع على أن لا يوفيه لقي الله عز وجل وهو سارق. "طب - عن صهيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44725 جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس نے نیت کرلی کہ وہ اسے مہر نہیں دے گا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے زانی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا۔ رواہ ابن مندہ عن میمون بن جابان الصردی عن ابیہ
44725- من تزوج امرأة وهو ينوي أن لا يعطيها الصداق لقي الله عز وجل وهو زان. "ابن منده - عن ميمون بن جابان الصردي عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44726 جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور اس کا کچھ مہر بھی مقرر کیا، پھر یہ ارادہ رکھے کہ اس کا مہر اسے نہیں دے گا وہ اللہ تعالیٰ سے زانی ہو کر ملے گا اور جس شخص نے کچھ مال بطور قرض لیا پھر اس نے ارادہ کیا کہ وہ قرض واپس نہیں کرے گا تو وہ شخص قیامت کے دن چور کی شکل میں آئے گا۔ رواہ الرافعی وابن النجار عن صھیب ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے المتناھیۃ 1027
44726- من تزوج امرأة بصداق لا يريد أن يؤديه جاء يوم القيامة زانيا، ومن تسلف ما لا يريد أن يؤديه جاء يوم القيامة سارقا. "الرافعي، وابن النجار - عن صهيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44727 جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی اور پھر اس نے نیت یہ کرلی کہ بیوی کا مہر لے اڑے گا (یعنی اسے نہیں دے گا) وہ اللہ تعالیٰ سے زانی ہو کر ملے گا۔ حتیٰ کہ توبہ نہ کرے اور جس شخص نے قرض لیا پھر ارادہ رکھا کہ وہ واپس نہیں کرے گا وہ اللہ تعالیٰ سے چور ہو کر ملے گا۔ حتیٰ کہ توبہ نہ کرے۔ رواہ ابن عساکر عن صیفی بن صھیب عن ابیہ
44727- من تزوج امرأة ومن نيته أن يذهب بصداقها لقي الله وهو زان حتى يتوب، ومن ادان دينا وهو يريد أن لا يفي به لقي الله سارقا حتى يتوب. "ابن عساكر - عن صيفي بن صهيب عن أبيه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44728 جس شخص نے کسی عورت سے شادی کی پھر وہ (بغیر ادائے مہر کے) مرگیا اور اس نے عورت کو مہر دینے کی نیت بھی نہیں کی تھی وہ زانی ہو کر مرا، اور جس شخص نے کسی سے قرض لیا پھر وہ مرگیا اور اس نے قرض واپس کرنے کی نیت نہیں کی تھی وہ چور ہو کر مرا۔ رواہ البیہقی عن صھیب
44728- من تزوج امرأة ثم مات وهو لا ينوي أن يعطيها مهرها مات وهو زان، ومن استعوض من رجل قرضا ثم مات وهو لا ينوي أن يعطيه مات وهو سارق. "هب - عن صهيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44729 جس شخص نے (نکاح کے بعد) عورت کا ستر کھولا اور اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھا گویا اس پر مہر واجب ہوگیا۔ رواہ البیہقی عن محمد بن ثوبان مرسلاً ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ 1019
44729- من كشف امرأة فنظر إلى عورتها فقد وجب الصداق. "ق - عن محمد بن ثوبان مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44730 جس شخص نے (نکاح کے بعد) عورت کے اعضاء مستورہ سے پردہ ہٹایا گویا اس پر مہر واجب ہوگیا۔ (رواہ ابونعیم عن المعرفۃ عن محمد بن عبدالرحمن مولی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابونعیم کہتے ہیں محمد بن عبدالرحمن کو ابوجعفر حضرمی نے صحابہ کرام (رض) میں شمار کیا ہے۔ جب کہ وہ میرے نزدیک غیر متصل ہے۔ یہی رائے ابن سلمانی کی ہے۔ میں کہتا ہوں : بیہقی کی روایت سے واضح ہوچکا ہے کہ وہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالرحمن بن ثوبان ہیں۔ )
44730- من كشف عورة امرأة فقد وجب عليه صداقها. "أبو نعيم في المعرفة - عن محمد بن عبد الرحمن مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال: ذكره أبو جعفر الحضرمي في الصحابة وهو عندي غير متصل أراه ابن السلماني، قلت: وقد تبين من رواية ق أنه محمد بن عبد الرحمن بن عبد الرحمن بن ثوبان".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44731 مہر میں (کمی کرکے) آسانی پیدا کرو چونکہ کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے کہ عورت کو مہر دے دیتا ہے لیکن اس کے دل میں عورت پر عداوت اور کینہ باقی رہ جاتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق والخطابی فی الغرائب عن ابن ابی حسین مرسلاً
44731- تياسروا في الصداق، فإن الرجل ليعطى المرأة حتى يبقى ذلك في نفسه عليها حسيكة. "عب، والخطابي في الغرائب عن ابن أبي حسين مرسلا".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44732 دس درہم سے کم مہر مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ رواہ الدارقطنی والبیہقی وضعفاہ عن جابر۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاباطیل 5330
44732- لا صداق أقل من عشرة دراهم. "قط، ق وضعفاه عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44733 تم میں سے جو شخص گواہوں کے ہوتے ہوئے نکاح کرلیتا ہے اسے پھر یہ چیز نقصان نہیں پہنچاتی کہ آیا اس نے کم مال پر نکاح کیا یا زیادہ پر۔ رواہ الدارقطنی وابن عساکرعن ابی سعید
44733- لا يضر أحدكم أبقليل من ماله تزوج أم بكثير بعد أن يشهد. "قط، كر - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44734 آدمی پر کوئی حرج نہیں کہ وہ قلیل مال پر شادی کرے یا کثیر مال پر جب وہ آپس میں راضی ہوں اور گواہوں کی موجودگی میں نکاح کریں۔ رواہ البخاری ومسلم عن ابی سعید
44734- ليس على الرجل جناح أن يتزوج بقليل أو كثير من ماله إذا تراضوا وأشهدوا. "ق - عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44735 نکاح ولی کے بغیر نہیں ہوتا اسی طرح دو گواہوں اور مہر کے بغیر بھی نکاح نہیں ہوتا خواہ مہر کم ہو یا زیادہ۔ رواہ الطبرانی عن ابن عباس
44735- لا يكون نكاح إلا بولي وشاهدين ومهر ما كان قل أو كثر. "طب - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44736 جس شخص نے اگر کسی عورت کو دونوں ہاتھ بھر کر غلہ بطور مہر دیا تو وہ عورت اس کے لیے حلال ہوگئی۔ رواہ احمد بن حنبل والدارقطنی والبخاری ومسلم و سعید بن المنصور عن جابر
44736- لو أن رجلا أعطى امرأة صداقا ملء يديه طعاما كانت له حلالا. "حم، قط، ق، ص - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44737 جتنا تمہیں قرآن مجید یاد ہے اس کی وجہ سے ہم نے اس عورت کے ساتھ تمہارا نکاح کردیا۔ رواہ مالک والبخاری ، کتاب النکاح باب الترویج علی القرآن عن سھل بن سعد
44737 - قد زوجناكها بما معك من القرآن. "مالك، خ - عن سهل بن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44738 جس شخص نے کسی عورت کو عطیہ دیا وہ اس عورت کے لیے صدقہ ہوگا۔ رواہ ابونعیم عن امیۃ الغمری وعائشۃ
44738- من أعطى امرأة عطية فهي له صدقة. "أبو نعيم - عن أمية الضمري وعائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44739 مہر یا صدقہ میں سے جس چیز کے ساتھ کسی عورت کی شرمگاہ کو حلال کرلیا جائے تو وہ چیز اس عورت کی ملکیت ہوگی اور عقد نکاح کے بعد جو چیز بطور اکرام عورت کے باپ یا بھائی یا ولی کو دی جائے وہ اس کی ملکیت ہوگی آدمی کا زیادہ حق ہے کہ وہ اپنی بیٹی یا اپنی بہن کا اکرام کرے۔ رواہ احمد بن حنبل والبیہقی عن عائشہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الضعیفۃ 1007
44739- ما استحل به فرج امرأة من مهر أو صدقة فهو لها، وما أكرم به أبوها أو أخوها أو وليها بعد عقد النكاح فهو له، وأحق ما أكرم به الرجل ابنته أو أخته. "حم، ق - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔محرمات نکاح کے بیان میں
44740 جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ نکاح کیا اس عورت کے ساتھ ہمبستر کی تو اس عورت کی بیٹی نکاح کرنے والے کے لیے حلال نہیں ہوگی، اگر اس عورت کے ساتھ ہمبستری نہیں کی تو اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے اور جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ نکاح کیا، اس عورت کے ساتھ خواہ ہمبستری کی یا نہ کی اس عورت کی ماں کے ساتھ نکاح حلال نہیں ہوگا۔ رواہ الترمذی عن ابن عمر۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الترمذی 191 و ضعیف الجامع 2247
44740- أيما رجل نكح امرأة فدخل بها فلا يحل له نكاح ابنتها، فإن لم يكن دخل بها فلينكح ابنتها، وأيما رجل نكح امرأة فدخل بها أو لم يدخل بها فلا يحل نكاح أمها. "ت - عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔محرمات نکاح کے بیان میں
44741 جس شخص نے دو حرمتیں پھلانگ ڈالیں اسے تلوار کے ساتھ درمیان سے کاٹ ڈالو۔ رواہ الطبرانی والبیہقی فی شعب الایمان عن عبداللہ بن ابی مطرف۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 5515
44741- من تخطى الحرمتين فخطوا وسطه بالسيف. "طب، هب - عن عبد الله بن أبي مطرف".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৭৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چوتھی فصل۔۔۔محرمات نکاح کے بیان میں
44742 حرم فعل حلال کو حرام نہیں کردیتا۔ رواہ ابن ماجہ عن ابن عمر والبیہقی فی السنن عن عائشۃ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابن ماجہ 439 و ضعیف الجامع 6231 فائدہ : حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حرام فعل کے ارتکاب سے حلال چیز حرام نہیں ہوتی۔ جیسے کوئی شخص بیوی کی بہن کے ساتھ زنا کر بیٹھے اس پر زنا کا گناہ ضرور ہوگا لیکن اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی۔ ازمترجم محمد یوسف
44742- لا يحرم الحرام الحلال. "هـ - عن ابن عمر، هق - عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক: