কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৪৯৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44924 اللہ تعالیٰ نے جس جان کو پیدا کرنا مقدر کردیا ہے وہ ضرور ہو کر رہے گا۔ رواہ احمد بن حنبل وابن ماجہ وابن حبان عن جابر
44924- ما قدر الله لنفس أن يخلقها إلا هي كائنة. "حم، هـ، حب - عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44925 رحم میں جس کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ ہوگا۔ رواہ البغوی عن ابی سعید الرزقی
44925- ما يقدر في الرحم يكن. "البغوي - عن أبي سعيد الزرقي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44926 آیا تم ایسا کرتے ہو ؟ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں کہ تم عزل نہ کرو چونکہ اللہ تعالیٰ نے جس جان کا پیدا کرنا لکھ دیا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ (رواہ البخاری ومسلم وابن ماجہ عن ابی سعید کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا۔ یہ حدیث ذکر کی)
44926- أو أنكم تفعلون ذلك؟ لا عليكم أن تفعلوا ذلك، فإنها ليست نسمة كتب الله أن تخرج إلا هي خارجة. "خ، م هـ عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن قال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44927 بلاشبہ تم ایسا کرو گے یعنی عزل کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس جان کو پیدا کرنا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ رواہ الطبرانی عن حذیفہ
44927- إنكم لتفعلون ذلك - يعني العزل! أولم تعلموا أن الله تعالى لم يخلق نسمة هو بارئها إلا وهي كائنة. "طب - عن حذيفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44928 کیا تم ایسا کرو گے ، اللہ تعالیٰ نے جس جان کو پیدا کرنے کا ارادہ کرلیا ہے کہ وہ مرد کی صلب سے نکلے وہ ضرور نکلے گا اگر چاہے ، یا چاہے ثوروک دے تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں کہ تم عزل نہ کرو۔ رواہ الطبرانی عن واثلۃ
44928- أو إنكم لتفعلون، ما من نسمة أراد الله أن تخرج صلب رجل إلا وهي خارجة إن شاء وإن أبى، فلا عليكم أن لا تفعلوا. "طب - عن واثلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44929 لونڈی کے مقدر میں جو لکھا جاچکا ہے وہ ہوگا۔ رواہ ابوداؤد والطحاوی والطبرانی عن جریر
44929- جاءها ما قدر لها - يعني الأمة يعزل عنها. "د، والطحاوي طب - عن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44930 اے چھوڑ دو (یعنی عزل چھوڑ دو ) چونکہ اور کسی شے کا فیصلہ کرلیا ہوتا وہ ہوچکی ہوتی۔ رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن انس
44930- دعوه، فإنه لو قضى شيء لكان. "الخرائطي في مكارم الأخلاق - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44931 اگر فیصلہ ہوچکا ہوتا تو وہ ہوجاتا یا ہوچکا ہوتا۔ رواہ الدارقطنی فی الافراد و ابونعیم فی الحلیۃ عن انس
44931- لو قضى لكان أو قد كان. "قط في الأفراد، حل - عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44932 یہ (عزل) تو بچوں کو زندہ درگور کرنا ہے۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم عن عائشۃ عن جذامۃ بنت وھب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا، یہ حدیث ذکر کی۔ کتاب النکاح باب جواز الغلیۃ)
44932- ذلك الوأد الخفي. "حم، م - عن عائشة عن جدامة بنت وهب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن العزل قال - فذكره كتاب النكاح - باب جواز الغيلة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44933 اگر تم عزل نہ کرو اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں چونکہ قیامت تک اللہ تعالیٰ نے سجے پیدا کرنا ہے وہ پیدا ہوگا۔ (رواہ احمد بن حنبل ومسلم عن ابی سعید کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا یہ حدیث ذکر کی)
44933- لا عليكم أن لا تفعلوا، فإن الله تعالى كتب من هو خالق إلى يوم القيامة. "حم، م - عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن العزل قال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44934 جو چاہو کرو اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کرلیا ہے وہ ہو کر رہے گا اور ہر پانی سے بچہ نہیں بنتا۔ رواہ احمد بن حنبل عن ابی سعید
44934- اصنعوا ما بدا لكم، فما قضى الله فهو كائن، وليس من كل الماء يكون الولد. "حم - عن أبي سعيد قال: سألنا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن العزل قال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44935 نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عزل کے بارے میں سوال کیا گیا آپ نے فرمایا : عزل مت کرو چونکہ اللہ تعالیٰ نے جس جان کو پیدا کرنا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گا۔ اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں کہ تم عزل نہ کرو۔ رواہ الحاکم فی الکنی عن واثلۃ
44935- لا تفعلوا، فإنه ليس من نسمة أخذ الله ميثاقها إلا وهي كائنة، فلا عليكم أن لا تفعلوا. "الحاكم في الكنى - عن واثلة أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل عن العزل قال - فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44936 تم میں سے کوئی شخص عزل کیوں کرے گا چونکہ جس جان نے پیدا ہونا ہے وہ پیدا ہو کر رہے گی۔ رواہ مسلم وابوداؤد عن ابی سعید
44936- ولم يفعل ذلك أحدكم، فإنه ليست نفس مخلوقة إلا الله خالقه. "م، د عن أبي سعيد؛ قال: ذكر العزل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فذكره".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44937 اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں کہ تم عزل نہ کرو چونکہ تقدیر میں سب کچھ لکھا جاچکا ہے۔ رواہ الطبرانی واحمد بن حنبل ومسلم کتاب النکاح، باب حکم العزل عن ابی سعید
44937- لا عليكم أن لا تفعلوا ذاكم، فإنما هو القدر. "ط، حم، م - كتاب النكاح - باب حكم العزل عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حصہ اکمال
44938 یہودی جھوٹ بولتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ نے کسی جان کو پیدا کرنے کا ارادہ کردیا ہے تم طاقت نہیں رکھتے ہو کہ اسے پھیر دو ۔ رواہ احمدبن حنبل ومسلم وابوداؤد عن ابی سعید
(44938 -) كذبت يهود ، لو أراد الله أن يخلقه ما استطعت ان تصرفه (حم ، م ، د - عن ابي سعيد)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔حقوق متفرقہ کے بیان میں حدیث ابوزرع
44939 ایک مرتبہ گیارہ عورتیں زمانہ جاہلیت میں مل بیٹھیں آپس میں معاہدہ کیا کہ ہاپنے اپنے خاوند کا پورا پورا حال سچا سچا بیان کردیں اور کچھ نہ چھپائیں۔ 1 ۔ ان میں سے ایک عورت بولی ! میرا خاوند ناکارہ اور لاغر اونٹ کے گوشت کی طرح ہے اور گوشت بھی سخت دشوار گزار پہاڑ کی چوٹی پر رکھا ہو پہاڑ پر چڑھنے کا راستہ آسان ہے اور ہ ہی وہ گوشت ایسا ہے کہ اس کے حصول کے لیے جان کھپائی جائے۔ 2 ۔ دوسری بولی : میں اپنے خاوند کے متعلق کیا کہوں مجھے خوف ہے کہ اس کے عیوب بیان کرنا شروع کروں تو ختم نہ ہونے پائیں گے اگر بیان کروں تو ظاہری اور باطنی عیوب سب ہی بیان کروں۔ 3 ۔ تیسری بولی میرا خاوند عڈھینگ ہے میں اگر بات کروں تو مجھے طلاق ہوجائے خاموش رہوں تو ادھر ہی لٹکی رہوں۔ 4 ۔ چوتھی بولی : میرا خاوند اگر کھاتا ہے تو سب نمٹا دیتا ہے جب پیتا ہے تو سب چڑھا دیتا ہے، لیٹتا ہے تو اکیلا ہی کپڑے میں لپٹ جاتا ہے میری طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا جس سے میری پراگندگی معلوم ہوسکے۔ 5 ۔ پانچویں کہنے لگی : میرا خاوند صحبت سے عاجز نامرد اور اتنا بیوقوف ہے کہ بات بھی نہیں کرسکتا دنیا کی ہر بیماری اس میں موجود ہے۔ اخلاقی حالت ایسی کہ میرا سر پھوڑ دے یا زخمی کردے یا پھر دونوں کام کر گزرے۔ 6 ۔ چھٹی کہنے لگی : میرا خاوند تہامہ کی رات کی طرح معتدل مزاج ہے، نہ گرم ہے نہ ٹھنڈا ہے اس سے نہ کسی قسم کا خوف ہی نہ ملال ہے۔ 7 ۔ ساتویں بولی : میرا خاوند عجیب ہے اگر گھر میں آتا ہے تو چیتا بن جاتا ہے اگر باہر جاتا ہے تو شیر بن جاتا ہے اور جو کچھ گھر میں ہوتا ہے اس کی تحقیقات نہیں کرتا۔ 8 ۔ آٹھویں بولی : میرا خاوند چھونے میں خرگوش کی طرح نرم ہے اور خوشبو میں زعفران کی طرح مہکتا ہے میں اس پر غالب رہتی ہوں اور وہ لوگوں پر غالب رہتا ہے۔ 9 ۔ نویں کہنے لگی : میرا خاوند بلند شان والا ہے دراز قدر ہے، مہمان نواز ہے اور زیادہ راکھ والا ہے اس کا مکان مجلس اور دارالمشورہ کے قریب ہے۔ 10 ۔ دسویں بولی : میرا خاوند مالک ہے، مالک کا کیا حال بیان کروں ؟ وہ ان تمام تعریفوں سے زیادہ قابل تعریف ہے اس کے اونٹ بکثرت ہیں جو گھر کے قریب بٹھائے جاتے ہیں اور چراگاہ میں چرنے کے لیے بہت ہی کم جاتے ہیں۔ وہ اونٹ جب باجے کی آواز سن لیتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ اب ہلاکت کا وقت آگیا۔ 11 ۔ گیارھویں کہنے لگی : (یہی ام زرع ہے) میرا خاوند ابوزرع ہے اور ابوزرع کی کیا تعریف کروں، اس نے زیورات سے میرے کان جھکادیئے چربی سے میرے بازو پر کردیئے مجھے ایسا خوش وخرم رکھا کہ میں خود پسندی میں اپنے آپ کو بھلی لگنے لگی اس نے مجھے ایسے غریب گھرانے میں پایا تھا جو محض چند بکریوں پر بری طرح گزر بسر کرتے تھے اور وہاں سے ایسے خوشحال گھرانہ میں لے آیا تھا جس کے ہاں گھوڑے اونٹ کھیتی کے بیل اور چھنا ہوا آٹا وافر تھا ان سب کے باوجود میں اس کے پاس بات کرتی وہ مجھے برا نہیں کہتا تھا، میں سوتی تو صبح دیر تک سوتی رہتی۔ کھانے پینے میں ایسی وسعت کہ میں سیر ہو کر چھوڑ دیتی تھی۔ ابوزرع کی ماں ابوزرع کی ماں کی کیا تعریف کروں ؟ اس کے بڑے بڑے برتن ہمیشہ بھر پور رہے تھے اس کا مکان نہایت وسیع تھا ابوزرع کا بیٹا بھلا اس کا کیا کہنا وہ ایسا دبلا پتلا پھر پرے بدن کا ہے کہ اس کے سونے کا حصہ (پسلی وغیرہ) تلوار کی طرح سے باریک ہے بکری کے بچے کا ایک دست اس کا پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہے، ابوزرع کی بیٹی بھلا اس کی کیا بات ماں کی تابعدار باپ کی فرمان بردار موٹی تازی سوکن کی جلن تھی۔ ابوزرع کی باندی کا کیا بتاؤں، ہمارے گھر کی بات کبھی بھی باہر جاکر نہ کہتی تھی کھانے تک کی چیز بھی بلااجازت خرچ نہیں کرتی تھی گھر میں کوڑا کباڑ نہیں ہونے دیتی تھی، مکان کو صاف شفاف رکھتی تھی، ہماری یہ حالت تھی لطف سے دن گزر رہے تھے ک ہایک دن صبح کے وقت جبکہ دودھ کے برتن بلوئے جارہے تھے ابوزرع گھر سے نکلا راستے میں ایک عورت پڑی ہوئی ملی جس کے کمرے کے نیچے چیتے جیسے دو بچے اناروں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ (چیتے سے تشبیہ کھیل کود کے اعتبار سے اور دواناروں سے مراد یا تو حقیقۃ انار ہی مراد ہیں یا عورت کے دوپستان مراد ہیں) وہ اسے کچھ ایسی پسند آئی کہ مجھے طلاق دے دی اور اس سے نکاح کرلیا اس کے بعد میں نے ایک اور سردار شریف آدمی سے نکاح کردیا جو شہسوار ہے اور سپہ گر ہے اس نے مجھے بڑی نعمتیں دیں اور ہر قسم کے جانور اونٹ ، گائے ، بکری میں سے مجھے جوڑا جوڑا دیا وار یہ بھی کہا : ام زرع ! خود بھی کھا اور اپنے میکے جو چاہے بھیج دے۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر میں اس کی سب عطاؤں کو جمع کروں ابوزرع کی چھوٹی سے چھوٹی عطا کو بھی نہیں پہنچ سکتیں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عائشہ ! میں تمہارے لیے ابوزرع کی طرح ہوں الایہ کہ ابوزرع نے طلاق دی ہے میں طلاق نہیں دوں گا۔ رواہ الطبرانی عن عائشۃ ورواہ البخاری والترمذی فی الشمائل موقوفاً الاقولہ : کنت لک کا بی زرع لام زرع فرفعہ قالوا : وھو یوند رفع الحدیث کلہ
44939- اجتمع إحدى عشرة امرأة في الجاهلية، فتعاقدن أن يتصادقن بينهن، ولا يكتمن من أخبار أزواجهن شيئا، فقالت الأولى، زوجي لحم جمل غث على رأس جبل وعر لا سهل فيرتقى، ولا سمين فينتقل ، قالت الثانية: زوجي لا أبث خبره، إني أخاف أن لا أذره ، إن أذكر عجره وبجره،.قالت الثالثة: زوجي العشنق ، إن أنطق أطلق وإن أسكت أعلق، قالت الرابعة: زوجي إن أكل لف ، وإن شرب اشتف ، وإن اضطجع التف ، ولا يولج الكف ليعلم البث، قالت الخامسة: زوجي عياياء وإن خرج أسد ، ولا يسأل عما عهد ، قالت الثامنة: زوجي المس مس أرنب ، والريح ريح زرنب ، وأنا أغلبه والناس يغلب. قالت التاسعة: زوجي رفيع العماد ، طويل النجاد ، عظيم الرماد قريب البيت من الناد ، قالت العاشرة: زوجي مالك، وما مالك؟ مالك خير من ذلك، له إبل قليلات المسارح ، كثيرات المبارك، إذا سمعن صوت المزهر أيقن أنهن هوالك ، قالت الحادية عشرة: زوجي أبو زرع، وما أبو زرع؟ أناس من حلي أذني وملأ من شحم عضدي وبحجني فبجحت إلى نفسي، وجدني في أهل غنيمة بشق فجعلني في أهل صهيل وأطيط ودائس ومنق فعنده أقول فلا أقبح ، وأرقد فأتصبح ، وأشرب فأتقمح ، أم أبي زرع، وما أم أبي زرع؟ عكومها رادح ، وبيتها فساح ، ابن أبي زرع، وما ابن أبي زرع، مضجعه كمسل شطبة ، وتشبعه زراع الجفرة ، بنت أبي زرع، وما بنت أبي زرع؟ طوع أبيها، وطوع أمها، وملء كسائها، وعطف ردائها، وزين أهلها وغيظ جارتها، جارية أبي زرع، وما جارية أبي زرع، لا تبث حديثنا تبثيثا ، ولا تنقث ميرتنا تنقيثا، ولا تملأ بيتنا تعشيشا ، قالت: خرج أبو زرع والأوطاب ، تمخض، فمر بامرأة معها ابنان لها كالفهدين يلعبان من تحت خصرها برمانتين ، فطلقني ونكحها، فنكحت بعده رجلا سريا ، ركب شريا وأخذ خطيا ، وأراح على نعما ثريا، وأعطاني من كل رائحة زوجا، فقال كلي أم زرع وميري أهلك، قالت فلو جمعت كل شيء أعطانيه، ما ملأ أصغر إناء من آنية أبي زرع. قالت عائشة؛ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا عائشة! كنت لك كأبي زرع لأم زرع، إلا أن أبا زرع طلق وأنا لا أطلق. "طب - عن عائشة، ورواه خ ت في الشمائل موقوفا إلا قوله: كنت لك كأبي زرع لأم زرع - فرفعه، قالوا : وهو يؤيد رفع الحديث كله".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔حقوق متفرقہ کے بیان میں حدیث ابوزرع
44940 شوہرپر عورت کا حق ہے کہ جب وہ کھانا کھائے اپنی بیوی کو بھی کھلائے جب خود (نئے) کپڑے پہنے اسے بھی پہنائے اس کے چہرے پر نہ مارے اسے برا بھلا نہ کہے اور نہ ہی اسے جھڑکے الایہ کہ گھر کی حد تک۔ رواہ الطبرانی والحاکم عن معاویہ بن جدۃ
44940- حق المرأة على الزوج أن يطعمها إذا طعم، ويكسوها إذا اكتسى ولا يضرب الوجه، ولا يقبح، ولا يهجر إلا في البيت. "طب، ك - عن معاوية بن حيدة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔حقوق متفرقہ کے بیان میں حدیث ابوزرع
44941 تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں۔ رواہ الترمذی عن عائشۃ وابن ماجہ عن ابن عباس والطبرانی عن معاویہ ۔ کلام : حدیث میں قدرے سلا کے اعتبار سے ضعف ہے دیکھو نسخہ عبیط 16
44941- خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي. "ت - عن عائشة، هـ - عن ابن عباس، طب - عن معاوية".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔حقوق متفرقہ کے بیان میں حدیث ابوزرع
44942 تم میں سے بہتر وہ ہے جو عورتوں کے لیے بہتر ہو۔ رواہ الحاکم عن ابن عباس
44942- خيركم خيركم للنساء. "ك - عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৯৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فصل سوم۔۔۔حقوق متفرقہ کے بیان میں حدیث ابوزرع
44943 تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہوں عورتوں کا اکرام صرف شریف ہی کرتا ہے اور عورتوں کو ذلیل صرف کمینہ ہی کرتا ہے۔ رواہ ابن عساکر عن علی ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف الجامع 2916
44943- خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي، ما أكرم النساء إلا كريم، وما أهانهن إلا لئيم. "ابن عساكر - عن علي".
tahqiq

তাহকীক: