কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪৪ টি
হাদীস নং: ৪৫৬৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام نکاح
45644 عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے معاملہ نکاح میں ایک مرد کے ساتھ عورتوں کی گواہی جائز قرار دی ہے۔۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور والبیہقی وقال ھذا منقطع وفی سندہ الحجاج بن اطاۃ رلا یحتج بہ
45644- عن عطاء بن يسار أن عمر بن الخطاب أجاز شهادة النساء مع رجل واحد في النكاح. "عب، ص، ق وقال: هذا منقطع، وفي سنده الحجاج بن أرطاة لا يحتج به".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام نکاح
45645 ابن سیرین کی روایت ہے کہ اشعث بن قیس حضرت عمر کے پاس آئے اور کہا : میں ایک عورت پر عاشق ہوگیا ہوں۔ کہاں کہ یہ ایسی چیز ہے جو ہمارے قابو میں نہیں ہے پھر میں نے اس عورت کے حکم پر اس سے نکاح کرلیا پھر اس کے حکم سے قبل میں نے اسے طلاق دے دی حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس کا حکم کسی درجہ میں نہیں ہے۔ اس عورت کے لیے عام عورتوں کا طریقہ ہے۔ رواہ الشافعی والبیہقی
45645- عن ابن سيرين أن الأشعث بن قيس أتى عمر فقال: عشقت امرأة! قال: هذا مالا نملك، ثم تزوجتها على حكمها، ثم طلقتها قبل أن تحكم، فقال عمر: حكمها ليس بشيء، لها سنة نسائها. "الشافعي، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احکام نکاح
45646 عبدالرحمن بن غنم کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آپ (رض) کے پاس آیا اور کہا : اے امیر المومنین میں نے اس عورت کے ساتھ شادی کرلی ہے اور اسی کا گھر اس کے لیے مشروط کیا ہے۔ اور میں سوچ رہا ہوں کے فلاں جگہ کی طرف منتقل ہوجاؤں گا کہا : یہ اس کے لیے شرط ہے فرمایا : تب تو مرد ہلاک ہوگئے کوئی عورت نہیں چاہتی کہ وہ اپنے خاوند کو چھوڑے الایہ کہ وہ اسے چھوڑنے پر اتر آتی ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مسلمان جب اپنے حقوق منقطع ہوتے دیکھتے ہیں اس وقت اپنی شروط کا اعتبار کرنے لگتے ہیں۔۔ رواہ سعید بن المنصور
45646- عن عبد الرحمن بن غنم قال: كنت عند عمر فأتاه رجل فقال يا أمير المؤمنين! تزوجت هذه وشرطت لها دارها، وإني أجمع لشأني أن انتقل إلى أرض كذا وكذا، فقال: لها شرطها، فقال: هلكت الرجال إذن! لا تشاء امرأة أن تطلق زوجها إلا طلقت، فقال عمر: المسلمون عند شروطهم، عند مقاطع حقوقهم. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45647” مسند عمر “ سعید بن عبیدہ بن سباق کی روایت ہے حضرت عمر (رض) کے زمانے میں ایک مرد نے ایک عورت کے ساتھ شادی کرلی اور مرد نے یہ شرط لگادی کہ وہ عورت کو باہر نہیں نکالے گا۔ حضرت عمر (رض) نے یہ شرط معدوم قرار دی اور فرمایا : کہ عورت اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے۔۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
45647- "مسند عمر" عن سعيد بن عبيد بن السباق أن رجلا تزوج امرأة على عهد عمر بن الخطاب وشرط لها أن لا يخرجها فوضع عمر بن الخطاب عنه الشرط وقال: المرأة مع زوجها. "ص، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45648 عبدالرحمن بن غنم کی روایت ہے کہ میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں ایک عورت لائی گئی جس کے لیے شوہر نے اسی کا گھر شرط قرار دیا تھا آپ (رض) نے فرمایا : عورت کے لیے اس کی شرط ہے : وہ آدمی بولا : اے امیر المومنین ! تب تو یہ عورت ہمیں چھوڑدے گی۔ آپ (رض) نے فرمایا : حقوق کا انقطاع شروط کے وقت ہوجاتا ہے۔ رواہ سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ والبیہقی
45648- عن عبد الرحمن بن غنم قال: شهدت عمر أني في امرأة جعل لها زوجها دارها، فقال: لها شرطها، فقال رجل: يا أمير المؤمنين! إذا طلقتنا، قال: إن مقاطع الحقوق عند الشروط. "ص، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45649 عباد بن عبداللہ اسدی حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت کے ساتھ شادی کرلی اور عورت کے لیے اسی کا گھر مشروط کیا آپ (رض) نے فرمایا : عورت کی شرط سے قبل اللہ تعالیٰ کی شرط کا اطلاق ہوگا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ و سعید بن المنصور والبیہقی
45649- عن عباد بن عبد الله الأسدي عن علي في الرجل يتزوج امرأة فشرط لها دارها، قال: شرط الله قبل شرطها."ص، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45650 حارث بن قیس سن اسود اسری کی روایت ہے کہ جب انھوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ ان میں سے چار عورتیں اپنے لیے پسند کرلو۔ رواہ ابونعیم
45650- عن الحارث بن قيس بن الأسود الأسدي أنه أسلم وعنده ثمان نسوة، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يختار منهن أربعا. "أبو نعيم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45651 حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آزاد عورتوں سے حرام کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ نے لونڈیوں سے بھی حرام کیا ہے۔ الایہ انھیں کوئی مرد جمع کرے اور کہتا ہو : میں تو چار لونڈیوں سے زیادہ رکھوں گا۔
45651- عن عمار بن ياسر قال: ما حرم الله شيئا من الحرائر إلا قد حرمه الله من الإماء إلا يجمعهن رجل - يقول: يزيد على أربع في السراري. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45652” مسند ابن عباس “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی زینب کو دو سال کے بعد ابوالعاص کے پاس پہلے ہی نکاح میں واپس لوٹا دیا تھا۔ رواہ ابن ابی شیبہ
45652- "من مسند ابن عباس" أن النبي صلى الله عليه وسلم رد ابنته زينب على أبي العاص بعد سنتين بنكاحها الأول. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45653 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی زینب اسلام لائی اور اس کا خاوند ابی عاص بن ربیع مشرک ہی تھا پھر اس کے بعد وہ اسلام لایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان دونوں کو سابقہ نکاح پر برقرار رکھا۔ رواہ عبدالرزاق
45653- عن ابن عباس قال: أسلمت زينب بنت النبي صلى الله عليه وسلم وزوجها العاص بن الربيع مشرك ثم أسلم بعد ذلك، فأقرهما النبي صلى الله عليه وسلم على نكاحهما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت شوہر کے تابع ہوتی ہے
45654 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک عورت اسلام لے آئی کچھ عرصہ کے بعد اس کا پہلا شوہر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں تو اس عورت کے ساتھ اسلام لایا تھا اور اسے میرے اسلام لانے کا علم بھی تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے شوہر سے عورت چھین کر پہلے کے سپرد کردی۔ رواہ عبدالرزاق ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ضعیف ابی داؤد 491 والمعلۃ 165
45654- عن ابن عباس قال: أسلمت امرأة على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، ثم جاء زوجها الأول إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني قد أسلمت معها وعلمت بإسلامي معها، فنزعها النبي صلى الله عليه وسلم من زوجها الآخر وردها إلى زوجها الأول. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45655 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی زینب کو چھ سال کے بعد اس کے خاوند ابی العاص بن ربیع کے پاس پہلے ہی نکاں میں واپس لوٹادیا اور کوئی نیا کام نہیں کیا۔۔ رواہ ابن النجار
45655- عن ابن عباس قال: رد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابنته زينب على زوجها أبي العاص بن الربيع بعد ست سنين بالنكاح الأول لم يحدث شيئا. "ابن النجار".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45656 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ غیلان بن سلمہ جب اسلام لایا تو اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے حکم دیا کہ ان میں سے چار روک لو اور بقیہ کو علیحدہ کردو۔ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں جب صفوان بن امیہ اسلام لائے ان کے نکاح میں آٹھ عورتیں تھیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ چار عورتیں روک لو اور بقیہ چھوڑ دو ۔ رواہ ابن عساکر
45656- عن ابن عباس قال: أسلم غيلان بن سلمة وتحته عشر نسوة، فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يمسك أربعا ويفارق سائرهن قال: وأسلم صفوان بن أمية وعنده ثمان نسوة، فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يمسك أربعا ويفارق سائرهن. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45657 حضرت ابن عباس (رض) نے اس شخص کے متعلق فرمایا جو کسی عورت سے پہلے زنا کرے اور پھر اس سے نکاح کرے فرمایا کہ پہلے اس نے اپنا پانی فضول بہایا پھر نکاح کرلیا اس کا پہلا فعل حرام ہے اور دوسرا حلال ہے جان لو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے توبہ قبول کرنے والا ہے جس طرح الگ الگ ان سے توبہ قبول کرتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
45657- عن ابن عباس في الرجل يزني بالمرأة ثم ينكحها قال أوله سفاح وآخره نكاح، أوله حرام وآخره حلال، اعلم أن الله يقبل التوبة منهما جميعا كما يقبلها منهما متفرقة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45658 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ جب بیوی بیٹی با بہن کسی شخص کو اپنی لونڈی حلال قرار دے دے اور وہ اس سے ہمبستری کرے وہ اس کے لیے حلال ہے۔ رواہ عبدالرزاق
45658- عن ابن عباس قال: إذا أحلت امرأة الرجل أو ابنته أو أخته له جاريتها فليصبها وهي لها. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45659” مسند ابن عمر غیلان بن سلمہ جب اسلام لائے تو ان کے پاس اٹھارہ عورتیں تھیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں چار عورتیں اپنے پاس رکھنے کا حکم دیا۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ
45659- "مسند ابن عمر" إن غيلان بن سلمة أسلم وعنده ثمان عشرة نسوة، فأمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يختار منهن أربعا. "عب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45660 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ غیلان بن ثقفی جب اسلام لائے تو ان کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے کہا ان میں سے چار کا انتخاب کرلو حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں غیلان نے اپنی سب عورتوں کو طلاق دے دی اور مال اپنے بیٹوں کے درمیان تقسیم کردیا۔ اسی اثناء میں حضرت عمر (رض) سے اس کی ملاقات ہوئی آپ (رض) نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں کہ شیطان نے آسمانوں سے تیرے مرنے کی بات سن لی ہے اور وہ تیرے دل میں لاڈالی ہے شاید تو تھوڑے عرصہ زندہ رہے، خدا کی قسم یا تو اپنی بیویوں کو واپس لوٹایا اپنا مال واپس کر ورنہ جب تو مرجائے گا تیری بیویوں میں تیرا مال میراث تقسیم کروں گا اور لوگوں کو حکم دوں گا کہ وہ تیری قبر پر اس طرح پتھر برسائیں گے جس طرح ابورغال کی قبر پر ہمیشہ برساتے تھے۔ نافع کہتے ہیں غیلان اس کے بعد صرف سات دن زندہ رہا کہ وہ مرگیا۔ رواہ ابویعلی وابن عساکر
45660- عن ابن عمر أن غيلان بن سلمة الثقفي أسلم وتحته عشر نسوة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اختر منهن أربعا، فلما كان في عهد عمر طلق نساءه وقسم ماله بين بنيه، فلقيه فقال: إني أظن الشيطان فيما يسترق السمع سمع بموتك فقذفه في نفسك، ولعلك أن لا تمكث إلا قليلا، وايم الله لترجعن نساءك ولترجعن في مالك أو لأورثهن منك إذا مت ثم لآمرن بقبرك فيرجم كما يرجم قبر أبي رغال 1! قال نافع: فما مكث إلا سبعا حتى مات. "ع، كر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45661 شعبی کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیٹی زینب ابوالعاص کے پاس واپس لوٹا دی تھی جب وہ اسلام لایا تھا پہلے ہی نکاح میں تجدید نکاح نہیں کی تھی۔ رواہ الطبرانی وابن ابی شیبہ
45661- عن الشعبي أن النبي صلى الله عليه وسلم رد ابنته زينب على أبي العاص بن الربيع حين أسلم بنكاحها الأول ولم يجدد نكاحا. "طب، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45662 عکرمہ بن خالد کی روایت ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل فتح مکہ کے موقع پر بھاگ گئے تھے ان کی بیوی نے انھیں واپس آنے کا خط لکھا چنانچہ بیوی نے انھیں واپس کردیا اور اسلام قبول کرلیا جبکہ بیوی ان سے قبل اسلام لاچکی تھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں اپنے سابقہ نکاح پر برقرار رکھا۔۔ رواہ عبدالرزاق
45662- عن عكرمة بن خالد أن عكرمة بن أبي جهل فر يوم الفتح فكتبت إليه امرأته فردته فأسلم وكانت قد أسلمت قبل ذلك، فأقرهما النبي صلى الله عليه وسلم على نكاحهما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৬৭৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45663 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جس شخص نے کسی ایسی عورت کے ساتھ نکاح کیا جو مجنون تھی یا اسے جذام تھا یا برص کی بیماری تھی یا اسے قرن تھا وہ بدستور اس کی بیوی شمار ہوگی چاہے اسے اپنے پاس روکے رکھے چاہے اسے طلاق دے دے۔ رواہ سعید بن المنصور ومسدد والدارقطنی
45663- عن علي قال: أيما رجل تزوج امرأة وبها جنون أو جذام أو برص أو قرن فهي امرأته، إن شاء طلق وإن شاء أمسك. "ص، ومسدد، قط".
তাহকীক: