কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৫৬৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45664 مالک بن اوس بن حدثان کی روایت ہے کہ میرے پاس ایک بیوی تھی جو وفات پاگئی مجھ سے حضرت علی (رض) نے فرمایا : کیا اس عورت کی کوئی بیٹی بھی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں وہ طائف میں ہے فرمایا : وہ تمہاری پرورش میں تھی ؟ میں نے کہا نہیں ؟ فرمایا : اس سے نکاح کرلو میں نے کہا وہ کیسے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ وربائکم التی فی حجور کم اور تمہاری وہ پروردہ لڑکیاں یعنی وہ لڑکیاں جو بیوی کے پہلے خاوند سے ہوں جو تمہاری پرورش میں ہوں وہ تمہارے اوپر حرام کردی گئیں ہیں فرمایا : یہ لڑکی تو تمہاری پرورش میں نہیں ہے یہ حرمت تو تب ہوتی ہے جب لڑکی تمہاری پرورش میں ہو۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی حاتم
45664- عن مالك بن أوس بن حدثان قال: كانت عندي امرأة فتوفيت، فقال لي علي: لها ابنة؟ قلت: نعم وهي بالطائف، قال: كانت في حجرك؟ قلت: لا، قال: فانكحها، قلت: فأين قول الله: {وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ} قال: إنها لم تكن في حجرك، إنما ذلك إذا كانت في حجرك. "عب، وابن أبي حاتم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45665 حضرت علی (رض) کی روایت ہے جو شخص کسی عورت کے ساتھ نکاح کرے اور اس عورت میں برص، جنون، جذام، یاقرن کی بیماری ہو اس نے عورت کے ساتھ اپنے اختیار سے شادی کی ہو وہ چاہے اسے روکے رکھے یا چاہے تو طلاق دے دے ہاں اگر عورت سے ہمبستری کرلی پھر اس کے لیے پورا مہر ہوگا۔ چونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو اپنے لیے حلال سمجھا ہے۔۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
45665- عن علي قال: أيما رجل نكح امرأة وبها برص أو جنون أو جذام أن قرن فزوجها بالخيار ما لم يمسها، إن شاء أمسك، وإن شاء طلق، وإن مسها فلها المهر بما استحل من فرجها. "ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45666” مسندعلی “ خلاس کی روایت ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر کے کسی جز کی مالک بن گئی یہ معاملہ حضرت علی (رض) کے پاس اٹھایا گیا حضرت علی (رض) نے اس مرد سے کہا : کیا تم نے اس عورت کے ساتھ ہمبستری کی ہے ؟ کہا : نہیں : حضرت علی (رض) نے فرمایا : اگر تو نے اس کے ساتھ ہمبستری کی ہوتی میں تجھے سنگسار کرتا۔ پھر عورت کو مخاطب کرکے فرمایا : یہ اب تمہارا غلام ہے اگر تم چاہو اسے بیچ ڈالو چاہے اسے ھبہ کردو چاہو اسے آزاد کرو اور پھر اس سے شادی کرلو۔ رواہ البیہقی
45666- "مسند علي" عن خلاس أن امرأة ورثت من زوجها شقصا 1 فرفع ذلك إلى علي، فقال: هل غشيتها؟ قال: لا، قال: لو كنت غشيتها لرجمتك بالحجارة، ثم قال: هو عبدك إن شئت بعتيه، وإن شئت وهبتيه، وإن شئت أعتقيته وتزوجتيه. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حضرت زینب (رض) کی ابوالعاص کے پاس واپسی
45667” مسند علی (رض) “ عباداسدی حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جب دروازہ بند کردیا جائے پردے لٹکا دیئے جائیں اس وقت مہر اور عدت واجب ہوجاتی ہے۔۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
45667- "مسند علي" عن عباد الأسدي عن علي قال: إذا أغلق بابا وأرخى سترا فقد وجب الصداق والعدة. "ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلوت صحیح سے مہر واجب ہوجاتا ہے
45668” مسند علی (رض) “ اخنف بن قیس کی روایت ہے کہ حضرت علی اور حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : جب دروازہ بند کردیا جائے پردے لٹکالئے جائیں تو عورت کے لیے مہر واجب ہوجاتا ہے اور اس پر عدت گزارنا بھی واجب ہوجاتی ہے۔ رواہ البیہقی
45668- "مسند علي" عن الأحنف بن قيس أن عمر وعليا قالا: إذا أغلق بابا وأرخى سترا فلها الصداق وعليها العدة. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلوت صحیح سے مہر واجب ہوجاتا ہے
45669 مسند علی (رض) خلفائے راشدین مہدیین کا فیصلہ یہ ہے کہ جب دروازہ بند کردیا جائے پردے لٹکادیئے جائیں مہر اور عدت واجب ہوجاتی ہے۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
45669- "مسند علي" عن زرارة بن أوفى قال: قضاء الخلفاء الراشدين المهديين أنه من أغلق بابا وأرخى سترا وجب الصداق والعدة. "ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلوت صحیح سے مہر واجب ہوجاتا ہے
45670” ایضاً “ عطاء خراسانی کی روایت ہے کہ حضرت علی (رض) اور ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ جو شخص کسی عورت کے ساتھ شادی کرے اور عورت پر شرط لگادی جائے کہ فرقت کا اختیار اس کے ہاتھ میں ہے نیز جماع اور مہر بھی اس کے اختیار میں ہے دونوں حضرات نے فرمایا : تم سنت سے ناواقف ہو اور نااہل کو معاملہ سپرد کردیا ہے، مہر تمہارے ذمہ واجب ہوگا، جبکہ فرقت (طلاق) وجماع کا اختیار بھی تمہارے ہاتھ میں ہے۔ رواہ ابویعلی والضیاء
45670- "أيضا" عن عطاء الخراساني أن عليا وابن عباس سئلا عن رجل تزوج امرأة وشرطت عليه أن بيدها الفرقة والجماع وعليها الصداق، فقالا: عميت عن السنة ووليت الأمر غير أهله، عليك الصداق وبيدك الفراق والجماع. "ع، ض".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلوت صحیح سے مہر واجب ہوجاتا ہے
45671” ایضاً “ بحریہ بنت ھانی کہتی ہیں ! میں نے قعقاع سے شادی کرلی، اس نے مجھ سے مطالبہ کیا میرے لیے جواہر کا ایک صندوق (مہر کے طور پر) رکھا اس شرط پر کہ وہ میرے پاس ایک رات گزارے گا چنانچہ اس نے ایک رات گزاری میں نے خلوق (خوشبو) سے بھر ہوا خوشبودان اس کے پاس رکھا، چنانچہ جب وہ صبح کو اٹھا تو اس کا بدن خلوق کے رنگ سے آلوہ تھا قعقاع نے مجھ سے کہا : تو نے مجھے رسوا کردیا میں نے کہا : مجھ جیسے پوشیدہ ہی رہتی ہیں۔ جب میرے والد آئے ان پر حضرت علی (رض) غصہ ہوگئے، حضرت علی (رض) نے قعقاع سے فرمایا : کیا تو نے ہمبستری کرلی ہے ؟ جواب دیا : جی ہاں۔ حضرت علی (رض) نے یہ نکاح جائز قرار دیا۔ رواہ ابن ابی شیبہ
45671- "أيضا" عن بحرية ابنة هانئ قالت: تزوجت القعقاع بن شورق فسألني، وجعل لي مدهنا من جوهر على أن يبيت عندي ليلة، فبات فوضعت له تورا فيه خلوق، فأصبح وهو متضمخ بالخلوق، فقال لي: فضحتني، فقلت له: مثلي يكون سرا، فجاء أبي فاستعدى عليه عليا، فقال علي للقعقاع: أدخلت؟ قال: نعم، فأجاز النكاح. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباح نکاح
45672 ابوجعفر کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) کو ان کی بیٹی کے لیے پیغام نکاح دیا۔ حضرت علی (رض) نے جواب دیا کہ وہ (ابھی) چھوٹی ہے۔ حضرت عمر (رض) سے کسی نے کہا : حضرت علی (رض) نے یہ جواب دے کر بیٹی کے نکاح سے آپ کو منع کیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے اس کے متعلق بات کی۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں بیٹی کو آپ کے پاس بھیجوا دیتا ہوں۔ اگر آپ راضی ہوگئے تو وہ آپ کی بیوی ہوگی۔ حضرت علی (رض) نے بیٹی کو حضرت عمر (رض) کے پاس بھیجوادیا۔ حضرت عمر (رض) نے لڑکی کی پنڈلی سے کپڑا ہٹایا لڑکی بولی : کپڑا پنڈلی پر گرادو، اگر آپ امیر المومنین نہ ہوتے میں آپ کی آنکھوں پر طمانچہ مارتی۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور
45672- عن أبي جعفر قال: خطب عمر إلى علي ابنته، فقال: إنها صغيرة، فقيل لعمر: إنما يريد بذلك منعها فكلمه، فقال علي: أبعث بها إليك، فإن رضيت فهي امرأتك، فبعث إليه، فكشف عمر عن ساقها، فقالت له: أرسل، فلولا أنك أمير المؤمنين لصككت عينك. "عب، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباح نکاح
45673 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : اپنی نابالغ لڑکی کو باہر (ظاہراً ) چلنے پھرنے دو تاکہ اس کے چچا زاد اس میں رغبت کرسکیں۔ رواہ عبدالرزاق
45673- عن عمر قال: أبرزوا الجارية التي لم تبلغ، لعل بني عمها أن يرغبوا فيها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباح نکاح
45674 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی لڑکی کے ساتھ اچھا کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ لڑکی کے لیے سامان زیب زینت کا بند و بست کرے اور اس کے ساتھ مہربانی و شفقت کرے تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا رزق تمہارے پاس آئے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
45674- عن عمر قال: إذا أراد أحد منكم أن يحسن الجارية فليزينها وليطف بها يتعرض بها رزق الله. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباح نکاح
45675 ابن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) جب کوئی آواز سنتے یا دف بجنے کی آواز سنتے پوچھتے : یہ کیا ہے : لوگ جواب دیتے : شادی ہے یا ختنیں ہیں۔ آپ (رض) خاموش ہوجاتے اور اس امر کی تقریر فرماتے۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور ومسدد والبیہقی
45675- عن ابن سيرين أن عمر بن الخطاب كان إذا سمع صوتا أو دفا قال: ما هذا؟ فإن قالوا: عرس أو ختان، صمت وأقره. "عب، ص، ومسدد، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباح نکاح
45676 حضرت ابو ہریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نے انصار سے کسی عورت کے ساتھ شادی کرنا چاہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک نظر سے اس عورت کو دیکھ لو چونکہ انصار کی عورتوں کی آنکھوں میں کچھ ہے۔ رواہ سعید ابن المنصور
45676- عن أبي هريرة قال: تزوج رجل امرأة من الأنصار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "انظر إليها، فإن في أعين الأنصار شيئا. " ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45677 قبیصہ بن ذؤیب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) سے سوال پوچھا گیا کہ ایک ہی ملک میں دو باندیاں جو آپس میں سگی بہنیں ہوں جمع کی جاسکتی ہیں ؟ آپ (رض) نے فرمایا : میں دیکھتا ہوں کہ قرآن مجید کی ایک آیت اس مسئلہ کو حلال قرار دیتی ہے جبکہ دوسری آیت حرام قرار دیتی ہے لیکن مجھے ایسا کرنا کسی طرح پسند نہیں آپ (رض) کا یہ جواب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک صحابی کو پہنچا اس نے کہا، اگر مجھے مسلمانوں کے معاملات کسی حد تک سپرد ہوتے پھر میرے پاس یہ مسئلہ لایا جاتا میں اسے عبرت کا نشان بنادیتا۔ زہری کہتے ہیں میری دانست میں وہ حضرت علی (رض) ہی ہوسکتے ہیں۔۔ رواہ مالک والشافعی وعبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی شیبۃ ومسدد وابن جریر والدارقطنی والبیہقی
45677- عن قبيصة بن ذؤيب أن عثمان سئل عن الأختين الأمتين من ملك اليمين هل يجمع بينهما؟ فقال: أحلتهما آية وحرمتهما آية وما أحب أن أصنعه، فبلغ ذلك رجلا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "لو وليت شيئا من أمر المسلمين ثم جئت به جعلته نكالا - قال الزهري: أراه عليا. "مالك، والشافعي، عب، وعبد بن حميد، ش، مسدد، وابن جرير، قط، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45678 محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) لونڈی اور اس کی بیٹی کو ایک ہی مالک میں جمع ہونا مکرو سمجھتے تھے۔ رواہ عبدالرزاق
45678- عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان أن عثمان كره الأمة وابنتها في ملك اليمين. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45679 ابن جریج اسلمی، ابن ابی زناد، عبداللہ بن دینار اسلمی روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس ایک لونڈی تھی اور لونڈی کی ایک لڑکی بھی تھی۔ وہ دونوں میرے والد کی ملکیت میں تھیں، جب لڑکی میں دوشیزگی آگئی تو والد نے باندی کو چھوڑ دیا اور لڑکی کے ساتھ شب باشی کرنے لگے۔ حضرت عثمان (رض) کی خلافت میں ان سے اس کے متعلق بات کی گئی حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں تجھے اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے منع کرتا ہوں اور میں خود ایسا نہیں کروں گا۔ ابوزناد کہتے ہیں : مجھے عامر شعبی نے حدیث سنائی ہے کہ حضرت علی (رض) اس مسئلہ میں مذکور بالا کے علاوہ جواب دیتے تھے۔ رواہ عبدالرزاق
45679- أنبأنا ابن جريج والأسلمي عن أبي الزناد عن عبد الله بن دينار الأسلمي أن أباه استسر وليدة ولها ابنة، فلما ترعرت الجارية عزل أمها وأراد أن يستسرها، فكلم عثمان في ذلك في خلافته فقال: ما أنا بآمرك ولا ناهيك، وما كنت لأفعل - قال أبو الزناد: فحدثني عامر الشعبي عن علي بن أبي طالب أنه أفتى بهذا سواء. "....".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45680 ابوعمر شیبانی کی روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے پوچھا کہ ایک شخص اپنی بیوی کو ہمبستری سے قبل طلا دے دے کیا اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے ؟ ابن مسعود (رض) نے جواب دیا : جی ہاں ، چنانچہ اس شخص نے بیوی کو طلاق دے کر اس کی ماں کے ساتھ نکاح کرلیا اور بچہ بھی پیدا ہوگیا۔ اس کے بعد وہ شخص حضرت عمر (رض) کے پاس حاضرہوا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ (رض) نے دونوں کے درمیان فرقت کا حکم دیا، وہ شخص بولا : اب اس عورت سے تو اولاد بھی پیدا ہوچکی ہے ؟ فرمایا : اگرچہ دس بچے کیوں نہ پیدا ہوجائیں پھر بھی فرقت ہوگی۔ رواہ البیہقی
45680- عن أبي عمر الشيباني أن رجلا سأل ابن مسعود عن رجل طلق امرأته قبل أن يدخل بها أيتزوج أمها؛ قال: نعم، فتزوجها فولدت له، فقدم على عمر فسأله فقال: فرق بينهما، قال: إنها ولدت، قال: وإن ولدت عشرة ففرق بينهما. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45681 حضرت عمر (رض) سے منقول ہے کہ انھوں نے اپنے بیٹے کو ایک باندی ہبہ کردی اور بیٹے کو حکم دیا کہ اسے تم چھونے نہ پاؤ چونکہ میں اس کا ستر کھول چکا ہوں۔ رواہ مالک والبیہقی
45681- عن عمر أنه وهب لابنه جارية فقال له: لا تمسها، فإني قد كشفتها. "مالك، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45682 عبداللہ بن عتبہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) سے سوال کیا گیا کہ ایک ہی ملک میں باندی اور اس کی بہن کو رکھا جاسکتا ہے بایں طور کہ ایک کے بعد دوسری سے ہمبستری کی جائے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : مجھے پسند نہیں کہ میں دونوں کی اجازت دوں البتہ آپ (رض) نے منع فرمایا۔۔ رواہ مالک والشافعی وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ ومسدد و البیہقی
45682- عن عبد الله بن عتبة أن عمر بن الخطاب سئل عن الأمة وأختها في ملك اليمين هل توطأ إحداهما بعد الأخرى؟ فقال: ما أحب أن أجيزهما جميعا، ونهاه. "مالك، والشافعي، عب، ش، ومسدد، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৬৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرمات نکاح دو بہنوں سے ایک وقت وطی کرنا حرام ہے اگرچہ باندی ہوں
45683 عبداللہ بن سعید اپنے دادا اسے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر (رض) کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا چنانچہ آپ (رض) نے فرمایا : اے مسلمانو کی جماعت ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عجمیوں کے ممالک سے بہت سارا مال غنیمت سمیٹ کر تمہارے سامنے لا رکھا ہے عجمیوں کی عورتوں اور ان کی اولاد کو تمہارے سپرد کردیا ہے حالانکہ یہ غنیمت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) کے دور میں تمہیں نہیں ملی۔ میں جانتا ہوں کہ بہت سارے مردوں کو غنیمت میں عورتیں ملی ہیں جب تمہارے ہاں باندیاں اولاد جنم دے دیں تو پھر انھیں مت بیچو چونکہ وہ تمہارے امہات اولاد ہیں۔ چونکہ اگر تم ایسا کرو گے تو کیا بعید کہ دوسرا شخص اس کی حرمت سے ہمبستری کر بیٹھے اور اسے شعور تک بھی نہ ہو۔ رواہ البیہقی
45683- عن عبد الله بن سعيد عن جده أنه سمع عمر بن الخطاب على المنبر يقول: يا معشر المسلمين! إن الله قد أفاء عليكم من بلاد الأعاجم من نسائهم وأولادهم ما لم يفيء على رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا على أبي بكر وقد عرفت أن رجالا يسلمون بالنساء، وأيما رجل ولدت له امرأة من نساء العجم فلا تبيعوا أمهات أولادكم، فإنكم إن فعلتم أوشك الرجل أن يطأ حريمه وهو لا يشعر. "ق".
tahqiq

তাহকীক: